دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

افسر خان

محفلین
10300704_10154159304125515_6921182448057886477_n.jpg
 

شیزان

لائبریرین
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
کیا مزا ہوتا ، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک

گردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دل
ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک

مجھ کو ارزانی رہے ، تجھ کو مبارک ہو جیو
نالۂ بُلبُل کا درد اور خندۂ گُل کا نمک

شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آج
گِردِ ساحل ہے بہ زخمِ موجۂ دریا نمک

داد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی ، واہ واہ !
یاد کرتا ہے مجھے ، دیکھے ہے وہ جس جا نمک

چھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہے
دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک

یاد ہیں غالب ! تُجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میں
زخم سے گرتا ، تو میں پلکوں سے چُنتا تھا نمک

غالب

چھڑک
 

شیزان

لائبریرین
برگِ گُل کے دامن پر رنگ بن کر جمنا کیا
اِس فضائے گُلشن میں موجۂ صبا ہوجا

تُو ہے جب پیام اُس کا پھر پیام کیا تیرا
تُو ہے جب صدا اُس کی، آپ بے صدا ہوجا

اصغرگونڈوی

دامن
 

جاسمن

لائبریرین
عشق
اِس عالمِ عشق ومستی میں ہم عاشق کیا حیران بنے
کبھی میر بنے،کبھی درد بنے،کبھی غالب کا دیوان بنے
(ساجد امجد)
دیوان
 

شمشاد

لائبریرین
تمھیں تو فخر تھا شیرازہ بندیء جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے
(جمال احسانی)

بکھرنا
 

شمشاد

لائبریرین
اُس کی نگاہِ ناز کی کیا بات ہے فراق
دامن میں ہوش ہے تو گریباں میں مستیاں
(رگھو پتی سہائے فراق گھورکھپوری)

گریباں
 

شمشاد

لائبریرین
بھئی یہ دو دو الفاظ دینے کی نہیں ہو رہی۔
-----------------------------------------

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
(جون ایلیا)

دشمن
 
Top