دہشت گردی اور خود کش حملوں کے موضوع پر پریس کانفرنس

فرخ

محفلین
بہت شکریہ نظامی بھائی
مگر آپ شائید میرے اشارے کو نظر انداز کر گئے ہیں۔ یہ بیانات دیگر علماء اکرام بھی دیتے رہے ہیں ۔ مگر میرا اشارہ خاص طور پر الگ سے ایک فتویٰ جاری کرنا تھا، جو کہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ گو کہ بہت دیر سے دیا، جبکہ ایسے فتاوٰی جات پہلے بھی جاری کیئے گئے۔
مگر یہ ایک کرپٹ گورنمنٹ کے کرپٹ حکمران کی اپیل پر کیا گیا، جو کہ خود اسلام کے بڑے دشمن امریکہ جو کہ اسرائیل کا ساتھی ہے کے پٹھو ہیں ۔ میرا اختلاف ہے ہی یہی کہ ایک کرپٹ حاکم کے کہنے پر کیوں؟ پہلے خود کیوں نہیں‌کیا؟ اور ڈاکٹر صاحب نے ایسے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف بھی کچھ نہیں کہا؟
یہ جنگ جو کہ ہماری کبھی بھی نہیں‌تھی، ہمارے ان کرپٹ حکمرانوں نے اپنی کہہ کر امریکہ سے پیسے بھی لیئے، اس ملک کو بھی لوٹا اور اپنے ہی لوگ مروائے۔ کیا ڈاکٹر صاحب کو یہ کھلی دھشت گردی نظر نہیں آئی؟ کیا 12 مئی کے واقعات ڈاکٹر صاحب کو نظر نہیں آئے؟

میں پھر یہی کہوں‌گا، کہ اگر یہ فتوٰی اس حکومت کی اپیل پر نہ دیا گیا ہوتا تو پھر بات اچھی لگتی۔

آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ اس سے قبل کئی مرتبہ ڈاکٹر طاہر القادری دہشت گردی کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔
یہ ملاحظہ کیجیے
دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں یہ انسانیت کے قاتل ہیں : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری

دہشت گرد انسانیت کے بد ترین دشمن ہیں : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام ’’قومی امن کانفرنس‘‘ سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ٹیلی فونک خطاب


قومی امن کانفرنس، مشترکہ اعلامیہ کی منظوری

اسلام امن و محبت کا دین ہے اس میں نفرت انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی کسی بھی شکل و صورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کنونشن اسلام کے نام پر ہونے والی جملہ دہشتگردانہ کارروائیوں کی پرزور مذمت کرتا ہے اور انہیں خلاف اسلام قرار دیتا ہے۔ تحفظ پاکستان علماء و مشائخ کنونشن

تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اسلام آباد میں وفاقی مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا کوئی مذہب نہیں۔ اسلام انتہاء پسندی اور ہر سطح کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ ایسے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں۔


تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ڈیرہ اسماعیل خان بم دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے بد ترین دشمن ہیں اور ان کا کوئی مذہب نہیں۔ اسلام انتہا پسندی اور ہر سطح کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ ایسے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں

تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں قومی امن کانفرنس کا دوسرا اجلاس

اسلام تو غیر مسلموں کو بھی امن اور مکمل حقوق دیتا ہے مگر مٹھی بھر شر پسند عناصر کے عمل سے پاکستان کا پرامن امیج دنیا کے سامنے دھندلا گیا ہے۔ تنگ نظر اور محدود فکر کو شریعت کے نام پر مسلط کرنے والوں نے وطن عزیز کو بدامنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا اور جنوبی ایشیاء میں اس کی مؤثر اور مضبوط حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی سازشیں عروج پر ہیں اور بندوق کے زور پر اپنی نام نہاد فکر کو 17 کروڑ عوام پر مسلط کرنے کے لیے ملک کا امن تاراج کیا جارہا ہے۔ فتنہ پرور پاکستان کے امن سے کھیل کر عالمی استعمار کی سازش کو کامیاب کرنے پر تلے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری انوار اختر ایڈووکیٹ نے کہا ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مل کر پالیسی تشکیل دینی چاہیے اور ایڈہاک اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر قومی پالیسی تشکیل نہ دی گئی اور حالات کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تو پاکستان دشمن طاقتوں کے لیے ماحول سازگار ہو گا کہ وہ پاکستان کے خلاف مزید منفی پروپیگنڈے کر کے اسکی سالمیت اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لیے اقدامات کر سکیں
 

الف نظامی

لائبریرین
بہت شکریہ نظامی بھائی
مگر آپ شائید میرے اشارے کو نظر انداز کر گئے ہیں۔ یہ بیانات دیگر علماء اکرام بھی دیتے رہے ہیں ۔ مگر میرا اشارہ خاص طور پر الگ سے ایک فتویٰ جاری کرنا تھا، جو کہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ گو کہ بہت دیر سے دیا، جبکہ ایسے فتاوٰی جات پہلے بھی جاری کیئے گئے۔
مگر یہ ایک کرپٹ گورنمنٹ کے کرپٹ حکمران کی اپیل پر کیا گیا، جو کہ خود اسلام کے بڑے دشمن امریکہ جو کہ اسرائیل کا ساتھی ہے کے پٹھو ہیں ۔
جہاں تک آپ نے حکومت کے اسرائیل کے پٹھو ہونے کی بات کی تو اس ضمن میں آپ کے پاس جو معلومات ہیں ایک علیحدہ تھریڈ میں ضرور لکھیے۔ البتہ اسرائیل کے بارے میں تحریک منہاج القرآن کیا سوچتی ہے وہ پیش کیے دیتا ہوں:

یکجہتی کشمیر و فلسطین سیمینار

مغربی طاقتیں مسئلہ کشمیر حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، جب تک مغرب کی سرپرستی کا ہاتھ اسرائیل پر ہے مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا۔


غزہ کانفرنس میں شریک جماعتیں 5 فروری کو ’’یوم کشمیر و فلسطین‘‘ منائیں گی : ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

منہاج القرآن انٹرنیشنل ستاونگر کے زیراہتمام اسرائیلی جارحیت کیخلاف مظاہرہ

تحریک کے زیر اہتمام متاثرین غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے غزہ کانفرنس اتوار کو ہوگی

منہاج القرآن انٹرنیشنل مانچسٹر کے زیراہتمام اسرائیلی دہشت گردی کیخلاف مظاہرہ

اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف اور فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہزاروں افراد کی پرامن ریلی


اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے : ڈاکٹر طاہرالقادری

ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن متاثرین غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے قومی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس سےخطاب کریں گے

تحریک کے زیر اہتمام متاثرین غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے غزہ کانفرنس اتوار کو ہوگی


غزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت کیلئے منہاج القرآن کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقاتیں


تحریک منہاج القرآن کی ’’غزہ کانفرنس‘‘ کل (25 جنوری) ہوگی، فلسطینی سفیر جیسر احمد مہمان خصوصی ہونگے۔

قاتل اسرائیل عالمی ضابطوں کو پامال اور انسانیت کی توہین کر رہا ہے، مسلم حکمران ہوش کے ناخن لیں۔

اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کیخلاف پاکستان عوامی تحریک کا مظاہرہ 16جنوری بوقت 3:30 بجے لاہور پریس کلب تا پنجاب اسمبلی ہال ہو گا۔

منہاج القرآن ایجوکیشن سوسائٹی کے زیراہتمام سینکڑوں بچوں کا اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ

مسلم ممالک سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کو آئندہ حملے نہ کرنے کا پابند بنائیں : پروفیسر ذوالفقار علی


شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 50 لاکھ روپے سے فلسطین کے نہتے مسلمانوں کی امداد کیلئے فنڈ کا آغاز کر دیا۔


بڑی طاقتیں، یو این اور سلامتی کونسل دہرے معیار ختم کرکے اسرائیلی دہشت گردی ختم کرائیں : پاکستان عوامی تحریک

پاکستان عوامی تحریک ویمن ونگ اور یوتھ ونگ کا اسرائیلی بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

تحریک منہاج القرآن پنجاب کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اسرائیلی بربریت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

غزہ پر اسرائیلی بربریت انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزی ہے : فیض الرحمن درانی خان


پوپ بینڈکٹ کا جاری کردہ بیان انتہائی قابل مذمت ہے: امیر تحریک منہاج القرآن

اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک کا پر امن احتجاجی مظاہرہ

اسرائیل کی بربریت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک آج پر امن احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔

اسرائیل کو جنگی مجرم ڈکلیئر کر کے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں: ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

اسرائیل درندہ ہے اسے جنگی مجرم قرار دیکر پابندیاں عائد کی جائیں۔

اسرائیل دنیا کا بد ترین دہشت گرد ہے: شیخ زاہد فیاض

لبنان وفلسطین کے معصوم اور نہتے شہریوں پر اسرائیلی جارحیت پر ہر مسلم دل گرفتہ اور غمگین ہے۔

اسرائیل کی معصوم اور نہتے لبنانی شہریوں پر روا جارحیت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

گستاخانہ خاکوں کے خلاف تیار کیا گیا دنیا کا طویل ترین احتجاجی بینر اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا گیا۔

منہاج القرآن یوتھ لیگ کے تحت عوامی دستخط مہم میں احتجاجی بینر پر 7000سے زائد وکلاءاور ججز نے دستخط کیے : بلال مصطفوی
 

arifkarim

معطل
یہ جنگ جو کہ ہماری کبھی بھی نہیں‌تھی، ہمارے ان کرپٹ حکمرانوں نے اپنی کہہ کر امریکہ سے پیسے بھی لیئے، اس ملک کو بھی لوٹا اور اپنے ہی لوگ مروائے۔ کیا ڈاکٹر صاحب کو یہ کھلی دھشت گردی نظر نہیں آئی؟ کیا 12 مئی کے واقعات ڈاکٹر صاحب کو نظر نہیں آئے؟
یہ جنگ تو امریکہ کی بھی نہیں‌ہے۔ بلکہ ایک خود ساختہ بیوقوفانہ جنگ ہے!
 

آبی ٹوکول

محفلین
کیا قادری صاحب کا یہ فتویٰ وزیر داخلہ رحمان ملک کی اپیل کا جواب ہے؟ کیونکہ رحمان ملک نے فوراً ہی انہیں‌خراج تحسین بھی پیش کردیا۔(اس پوسٹ کے مطابق: http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=27001)
ورنہ یہ فتویٰ تو دیگر علماء اکرام تقریباً اسی وقت سے دے چُکے ہیں جب سے مسلمانوں‌پر خود کُش حملے شروع کیئے گئے ہیں۔ طاہر القادری صاحب کے الگ سے فتویٰ جاری کرنے کی وجہ کچھ سمجھ نہیں‌آئی اور وہ بھی اتنی دیر سے ؟؟؟؟؟؟ پہلے کیا کر رہے تھے جب باقی علماء اکرام یہ فتویٰ جاری کر رہے تھے؟

آپ کی اتنی لمبی بھڑاس کا اصل مطلب صر ف ایک ہی پرانی رٹ ہے۔ حکومت میں موجود لوگوں کی چاپلوسی اور یہ ایم کیو ایم کا ہی وطیرہ ہے۔ورنہ اس رحمان ملک کے کرتوتوں سے پوری قوم واقف ہے اور آپ کو موقع ملنے کی دیر تھی اور اسکی کرپٹ کی بھی حمایت شروع کردی۔
میرا پوائینٹ بہت واضح ہے۔ طالبان کی دھشت گردیوں کے خلاف فتوٰی اور انہیں‌حرام قرار دیا جانا بہت پہلے ہی کیا جا چُکا۔ اب اتنی مدت بعد آکر مولانا طاہرالقادری صاحب کو یہ یاد آیا اور وہ ابھی اس کرپٹ رحمان ملک کی اپیل پر؟
سوال یہ ہےپہلے انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا جب باقی علماء اکرام اس فتنے کے خلاف بول رہے تھے چاہے دیوبند کے ہوں یا کہیں اور کے؟

اگر طاہر القادری صاحب موجودہ کرپٹ حکومت کے اپیل سے پہلے یا اسکے علاوہ از خود یہ فتوٰی صادر فرماتے تو بہت بات بنتی۔ مگر معذرت کے ساتھ اب اس سے صرف حکومتِ وقت چاپلوسی کی بو محسوس ہوتی ہے۔

مجھے حیرت اس بات پر بھی ہے، کہ طاہر القادری صاحب نے اس حکومت کے کالے کرتوتوں کے خلاف اب تک کوئی فتوٰی جاری کیوں نہیں کیا؟

بہت شکریہ نظامی بھائی
مگر آپ شائید میرے اشارے کو نظر انداز کر گئے ہیں۔ یہ بیانات دیگر علماء اکرام بھی دیتے رہے ہیں ۔ مگر میرا اشارہ خاص طور پر الگ سے ایک فتویٰ جاری کرنا تھا، جو کہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ گو کہ بہت دیر سے دیا، جبکہ ایسے فتاوٰی جات پہلے بھی جاری کیئے گئے۔
مگر یہ ایک کرپٹ گورنمنٹ کے کرپٹ حکمران کی اپیل پر کیا گیا، جو کہ خود اسلام کے بڑے دشمن امریکہ جو کہ اسرائیل کا ساتھی ہے کے پٹھو ہیں ۔ میرا اختلاف ہے ہی یہی کہ ایک کرپٹ حاکم کے کہنے پر کیوں؟ پہلے خود کیوں نہیں‌کیا؟ اور ڈاکٹر صاحب نے ایسے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف بھی کچھ نہیں کہا؟
یہ جنگ جو کہ ہماری کبھی بھی نہیں‌تھی، ہمارے ان کرپٹ حکمرانوں نے اپنی کہہ کر امریکہ سے پیسے بھی لیئے، اس ملک کو بھی لوٹا اور اپنے ہی لوگ مروائے۔ کیا ڈاکٹر صاحب کو یہ کھلی دھشت گردی نظر نہیں آئی؟ کیا 12 مئی کے واقعات ڈاکٹر صاحب کو نظر نہیں آئے؟

میں پھر یہی کہوں‌گا، کہ اگر یہ فتوٰی اس حکومت کی اپیل پر نہ دیا گیا ہوتا تو پھر بات اچھی لگتی۔
خدا کا خوف کرو فرخ بھائی یہ کیا لایعنی اور بھونڈے اعتراضات کررہے ہو آپ کو ہزاروں بے گناہوں مردوں اور عورتوں اور معصوم مسلمان بچوں کا قتل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ؟؟؟؟؟؟؟ ہمارا ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے آئے دن سینکڑوں بے گناہوں کے خون کے ساتھ دہشت گرد ہولی کھیل رہے ہیں اور آپ ہیں کہ ہر بات میں ایک منفی طرز عمل اپنا کر اسکو گھٹیا سیاست کی بھینٹ چڑھاتے چلے جارہے ہیں ارے یار لعنت بھیجو سیاست پر اور تمام سیاسی جماعتوں پر اور خدارا ہوش کے ناخن لو کتنا ظلم ہو رہا ہے ہماری قوم کے ساتھ چاہے جس کسی کا بھی اس کے پیچھے ہاتھ ہو مگر ملوث اس میں ہم ہی لوگ ہیں ہمارے ہی لوگ ان بیرونی عناصر کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں مگر آپ کو سوائے ایم کیو ایم اور طاہر القادری اور موجودہ حکومت کے تعصب کے اور کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا ؟؟؟ ہر بات کو تروڑ مروڑ کے گندی سیاست کی طرف لے جارہے ہیں آپ ؟؟؟؟؟'
مجھے بھی ایم کیو ایم سے اختلافات ہیں مجھے بھی طاہر القادری سے اختلافات ہیں اور ہم سب کو ہی موجودہ حکومت سے بھی اختلافات ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کوئی اگر کوئی صحیح قدم بھی اٹھائے تو اس کی فقط اس بنیاد پر نفی کردی جائے کہ ہمیں اس سےاختلاف ہے ۔ ۔ ۔
ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے ایسے میں حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر سطح پر ہر ممکن اقدامات اٹھائے اور ایسے میں مشیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے رحمان ملک کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ بھی اس دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اقدام اٹھائے اور ایسے میں اگر اس نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے علمائے کرام سے اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مشترکہ فتوٰی کی گزارش کی ہے تو اس میں کیا قباحت آگئی ؟؟؟؟ اصل مسئلہ اس دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے علماء کا کردار ادا کرنا یا رحمان ملک کا اس کے لیے اپیل کرنا؟؟؟؟؟ اور یہ کردار تو علماء کو پہلے بھی اور اب بھی ادا کرنا چاہیے تھا بلکہ اب تو بہت ہی ضروری ہوگیا ہے اور اگر ایسے میں اگر چند علماء نے رحمان ملک کی اپیل پر لبیک کہا ہے تو اپنا فرض پورا کیا ہے نہ کسی حکومت کی چاپلوسی ؟؟؟؟؟؟؟
رحمان ملک نے اپنی ڈیوٹی اد اکی کہ علماء سے اپیل کی اور علماء نے اپنا فرض نبھایا کہ ان دہشت گردانہ اقدامات کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ۔ ۔ ۔
اس وقت پوری قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے مگر ہم ہیں کہ اپنے اپنے تعصبات میں ہی گھرے ہوئے ہیں یااللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ہمارے سروں سے اس عذاب کو معطل کردے آمین
 

فرخ

محفلین
عابد بھائی،
جو باتیں آپ کر رہے ہو، مجھے بھی دکھا ئی دے رہی ہیں۔ اور مجھے آپکی تمام باتوں سے مکمل اتفاق ہے۔

ابھی کل ہی کی اخبار میں یہ خبر بھی ملی کہ مسلک اھلحدیث کے بھی کافی علماء نے ایسا ہی فتویٰ جاری کیا ہے۔

مگر ذرا غور سے دیکھئے، اس قومی یکجہتی، اتحاد و یگانگت وغیر ہ وغیرہ جیسے خوبصورت اور حوصلہ افزاء نعروں کا فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟ قوم کو ان نعروں پر لگا کر اپنے اپنے بنک اکاؤنٹ کون بھر رہا ہے؟ اس طرح کے نعرے لگا کر کون اپنی اپنی مفادات پورے کر رہا ہے؟
یہ لاشوں کی سیاست کی جا رہی ہے بھائی۔ اور یہ سب تماشے یہ لوگ صرف اپنی ذاتی مفادات کے لئے کر رہے ہیں (میرا اشارہ رحمان ملک اور دیگر حکومتی اتحادیوں کی طرف ہے)۔ غور سے دیکھیں، مر کون رہا ہے، عوام اور فوج۔ یہ حرام کھانے والے، رشوت خور ، جرائم کر کے معاف کروانے والے، ملک کو کھا جانے والے اور پتا نہیں‌کیا کیا جرائیم گنواؤں انکے، آج یکجہتی کی بات کرتے ہیں۔؟؟؟؟ جنہوں‌نے دشمنانِ پاکستان اور دشمنانِ اسلام سے دوستیاں بڑھا رکھی ہیں اور انکی خوشی کے لئے اپنے ہی ملک کا خون کرنے میں انکے مدد گار ہیں۔
کبھی دیکھا ہے کہ یہ خود کتنی عیاشیوں میں زندگی گزارتے ہیں؟ کتنی مہنگی سیکیورٹی اور گاڑیوں‌میں گھومتے ہیں؟ بیرون ملک کے دوروں پر کتنے پیسے خرچ کرتے اور کس قسم کی عیاشی کرتے ہیں؟ اور عوام کو ٹیکسوں،مہنگائی ، بجلی، پانی، گیس، چینی اور دیگر سہولیات سے محروم کر رکھا ہے۔۔۔۔
کیا علماء اکرام ان جیسے لوگوں کی اپیلیں ماننے لگ گئے؟ کیا ان جیسے کرپٹ حکمرانوں کے پیچھے چلتے ہوئے آج فتوٰی جاری ہورہے ہیں جو پہلے ہی جاری شُدہ ہیں؟
کیا علماء اکرام اور خاص طور پر جناب طاہر القادری صاحب اور اھلحدیث علماء کو اس حکومت کے کالے کرتوت نظر نہیں آئے؟ ہونا تو یہ چاہئیے تھا، فتویٰ پہلے ایسے حکمرانوں کے کرتوتوں کے خلاف لگتا تو پتا چلتا کہ ظالم حکمرانوں‌کے سامنے کلمہ حق کہنا کیسے جہاد ہوتا ہے۔

ایسے حکمرانوں کے ساتھ یکجہتی اور اتحاد کرنا دراصل انہیں مزید سپورٹ کرنے کے برابر ہے۔

اور فتوٰی جاری کرنے کے کیا ہوتا ہے؟ صرف اپنی مارکیٹنگ!!!!!!!!!! ورنہ یہ باتیں لوگوں کو پہلے سے ہی پتا ہیں کہ یہ خود کش حملے اور بم دھماکے کون کروا رہا ہے؟ اگر طاہر القادری صاحب اور اھلحدیث علماء یہ فتویٰ نہ بھی جاری کرتے، تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔کیونکہ ایسے فتوٰی جات پہلے سے ہی موجود ہیں اور یہ فتویٰ نہ تو کوئی تبدیلی لا سکتا ہے، اور نہ ہی موجودہ فتنوں‌کو روک سکتا ہے، سوائے اسکے کہ رحمان ملک صاحب کو خوش کر دیا اور ان سے خراج تحسین وصول کر لی گئی۔

معذرت کے ساتھ، علماء اکرام کا ایسے منافق اور کرپٹ حکمرانوں‌کی کال پر لبیک کہنے کا مطلب میرے نزدیک کوئی اچھا نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف اور صرف ان حکمرانوں کو سپورٹ دینا اور موجودہ حالات کی بنیا د پر سیاست کرنا ہے۔ اور بس۔۔۔۔۔
ورنہ ان کے فتوے سے بہت پہلے ہی یہ ڈکلیئر ہو چُکا تھا کہ یہ کفر ہے۔ ہمارے ہاں‌اب یہ رواج عام ہے، کہ ایسے باتوں کے خلاف صحیح بات بھی اپنا خاص لیبل لگا کر لوگوں تک پہنچائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

غور سے دیکھئے، کیا یہ لعنتیں اور عذاب ہم پر اس لئے نہیں پڑ رہا کہ ہم لوگوں ایسے کرپٹ لوگوں کی حکمرانی کو کئی اشکال میں سپورٹ دیتے ہیں؟
کیا ہم نے" نیکی کا حُکم کرنا اور برائی سے روکنا چھوڑ نہیں دیا؟"
کیا ہم نے قرآن کو ترک نہیں کر رکھا؟
کیا ہم نے کئی بہانوں‌سے اپنے گھروں میں فتنوں کو جگہ نہیں دے رکھی؟
کیا ہم نے اپنے مسلمان گھرانوں میں بت پرستوں اور شرک کرنے والوں‌کے کلچر کو نہیں گھسا رکھا؟
کیا ہمارے ہاں شراب ، زنا، جوا، اغوا، اور نہ جانے کیا کیا برائیاں پیدا نہیں ہوچُکی اور کیا ہم نے انہیں خود روکا یا چھوڑ دیا ہے؟

آپ جتنی مرضی نام نہاد یکجہتی کا مظاہرہ کر لیں، جتنا مرضی ان کرپٹ حکمرانوں کی اپیلوں پر لیبیک کہتے ہوئے فتوے جاری کریں اور انہیں خوش کر لیں۔ جتنا مرضی دنیا کو دکھائیں کہ ہم متحد ہیں اور ایسی دھشت گردی کے خلاف ہے،
جب تک اللہ کے دین کو نہیں‌پکڑتے اور نافذ نہیں‌کرتے اور ایسے کرپٹ حکمرانوں کو سزا نہیں دیتے۔ اور اپنے کرتوت ٹھیک نہیں کرتے۔اور امریکہ، برطانیہ اور دیگر دشمنان اسلام کی غلامی ترک نہیں کرتے۔عذاب اور لعنت اسوقت تک نہیں ٹلنے کی۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر۔
اور یہ ذلالت و خواری اسی لئے ہم سے چمٹا دی گئی ہے ، کہ ہم نے رحمتیں‌حاصل کرنے والے کاموں کی بجائے، لعنتیں حاصل کرنے والے کام شروع کر رکھے ہیں۔

اللہ تعالٰی ہمیں‌سیدھی راہ دکھائے، اور ہمیں اور علماء اکرام کو ایسے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف جہاد کی ہمت دے ۔ آمین

خدا کا خوف کرو فرخ بھائی یہ کیا لایعنی اور بھونڈے اعتراضات کررہے ہو آپ کو ہزاروں بے گناہوں مردوں اور عورتوں اور معصوم مسلمان بچوں کا قتل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ؟؟؟؟؟؟؟ ہمارا ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے آئے دن سینکڑوں بے گناہوں کے خون کے ساتھ دہشت گرد ہولی کھیل رہے ہیں اور آپ ہیں کہ ہر بات میں ایک منفی طرز عمل اپنا کر اسکو گھٹیا سیاست کی بھینٹ چڑھاتے چلے جارہے ہیں ارے یار لعنت بھیجو سیاست پر اور تمام سیاسی جماعتوں پر اور خدارا ہوش کے ناخن لو کتنا ظلم ہو رہا ہے ہماری قوم کے ساتھ چاہے جس کسی کا بھی اس کے پیچھے ہاتھ ہو مگر ملوث اس میں ہم ہی لوگ ہیں ہمارے ہی لوگ ان بیرونی عناصر کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں مگر آپ کو سوائے ایم کیو ایم اور طاہر القادری اور موجودہ حکومت کے تعصب کے اور کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا ؟؟؟ ہر بات کو تروڑ مروڑ کے گندی سیاست کی طرف لے جارہے ہیں آپ ؟؟؟؟؟'
مجھے بھی ایم کیو ایم سے اختلافات ہیں مجھے بھی طاہر القادری سے اختلافات ہیں اور ہم سب کو ہی موجودہ حکومت سے بھی اختلافات ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کوئی اگر کوئی صحیح قدم بھی اٹھائے تو اس کی فقط اس بنیاد پر نفی کردی جائے کہ ہمیں اس سےاختلاف ہے ۔ ۔ ۔
ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے ایسے میں حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر سطح پر ہر ممکن اقدامات اٹھائے اور ایسے میں مشیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے رحمان ملک کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ بھی اس دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اقدام اٹھائے اور ایسے میں اگر اس نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے علمائے کرام سے اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مشترکہ فتوٰی کی گزارش کی ہے تو اس میں کیا قباحت آگئی ؟؟؟؟ اصل مسئلہ اس دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے علماء کا کردار ادا کرنا یا رحمان ملک کا اس کے لیے اپیل کرنا؟؟؟؟؟ اور یہ کردار تو علماء کو پہلے بھی اور اب بھی ادا کرنا چاہیے تھا بلکہ اب تو بہت ہی ضروری ہوگیا ہے اور اگر ایسے میں اگر چند علماء نے رحمان ملک کی اپیل پر لبیک کہا ہے تو اپنا فرض پورا کیا ہے نہ کسی حکومت کی چاپلوسی ؟؟؟؟؟؟؟رحمان ملک نے اپنی ڈیوٹی اد اکی کہ علماء سے اپیل کی اور علماء نے اپنا فرض نبھایا کہ ان دہشت گردانہ اقدامات کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ۔ ۔ ۔
اس وقت پوری قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے مگر ہم ہیں کہ اپنے اپنے تعصبات میں ہی گھرے ہوئے ہیں یااللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ہمارے سروں سے اس عذاب کو معطل کردے آمین
 

زین

لائبریرین

اسلام بے گناہ شہریوں کے قتل عام، بازاروں، کاروباری اداروں، مساجد، قومی تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات پر بم دھماکوں یا خود کش حملے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ جبکہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے افراد اور گروہ اسلامی تعلیمات سے صریح انحراف اور شرعی طور پر بغاوت و محاربت، اجتماعی قتل انسانی اور فساد فی الارض کے مرتکب ہیں۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے فوجی جوان و افسر اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے معصوم شہری از روئے شرع قطعی طور پر شہید ہیں۔ اس بات کا اعلان تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ و چیئرمین پاکستان عوامی تحریک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ٹورانٹو کینیڈا سے بذریعہ ویڈیو کانفرنس ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب میں اپنا تفصیلی فتوی جاری کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے یہ واضح کیا کہ ان کا یہ فتوی نہ تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت ہے اور نہ ہی ان کے توسیع پسندانہ عزائم اور اقدامات کی کسی بھی طرح تائید۔ اسی طرح یہ حکومت پاکستان کی متنازعہ پالیسیوں، غیر مقبول طرز حکومت اور غیر جمہوری رویوں کی توثیق بھی نہیں ہے۔ یہ فتوی انہوں نے قرآن و حدیث اور کتب تفسیر اور عقائد و فقہ کی روشنی میں دہشت گردی کی حیثیت کو واضح کرنے اور اسلام کا کیس پوری دنیا کے سامنے صحیح طور پر اجاگر کرنے کے لئے دیا ہے۔

بحوالہ تحریک منہاج القرآن

قادری صاحب کو خودکش حملے حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسلام دشمن قوتوں سے تعاون کے خلاف بھی فتویٰ جاری کرنا چاہیئے تھا یا پھر انہیں‌ رحمان ملک کی اپیل کا انتظار ہے
 

غازی عثمان

محفلین
ایک جملہ کی کمی ہے۔

اس قسم کے بیانات اس لیے دئیے جاتے ہیں کہ طالبان کی تشکیل میں جماعتیوں کا جو کردار ہے وہ سامنے نہ آجائے اور انہیں منہ نہ چھپانا پڑے۔

برادر الف نظامی ،،
لکھنے سے پہلے اگر ایک چھوٹا سا کام کرلیا جائے تو ایسی چیزیں ذبان قلم سے نہیں نکلتیں جن کا کوئی سرپیر نا ہو ،، اس چھوٹے سے کام کا نام ہے تحقیق۔۔

صرف ذاتی عناد کی بناء پر اس کی ٹوپی اس کے سر کررہے ہیں آپ
 

غازی عثمان

محفلین
جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر اور دوسرے حساس مقامات پر منظم انداز سے حملے کرنا اتنا آسان نہیں ، نہ ہی کسی ’’بڑی طاقت‘‘ کی مدد کے بغیر ممکن ہے۔
جنگ ذدہ علاقوں سے باہر فوج پر ہونے والے زیادہ تر حملوں میں خود فوج کے ہی لوگ ملوث رہے ہیں،،، ( جیسے جی ایچ کیو پر حملہ اور ایس ایس جی میس پر حملہ (
 

الف نظامی

لائبریرین
برادر الف نظامی ،،
لکھنے سے پہلے اگر ایک چھوٹا سا کام کرلیا جائے تو ایسی چیزیں ذبان قلم سے نہیں نکلتیں جن کا کوئی سرپیر نا ہو ،، اس چھوٹے سے کام کا نام ہے تحقیق۔۔

صرف ذاتی عناد کی بناء پر اس کی ٹوپی اس کے سر کررہے ہیں آپ
یہ بات میرے نزدیک محقق ہے۔ جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی پٹھو بن کر رہی تھی جب تک جہاد سے نوٹ بن رہے تھے اور جب جہاد فرقہ وارنہ فساد میں بدلا تو ووٹ بچانے کے لیے جماعت اسلامی ہر خود کش حملے پر یہی کہتی ہے کہ حملہ کرنے والے مسلمان نہیں ۔۔۔

تو کیا دھریے ہیں۔۔۔ :rolleyes:
 

الف نظامی

لائبریرین
جنگ ذدہ علاقوں سے باہر فوج پر ہونے والے زیادہ تر حملوں میں خود فوج کے ہی لوگ ملوث رہے ہیں،،، ( جیسے جی ایچ کیو پر حملہ اور ایس ایس جی میس پر حملہ (
جی ایچ کیو پر حملہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے طالبان تحریک کی پنجاب شاخ نے کیا،ترجمان طالبان اعظم طارق
پشاور:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان اعظم طارق نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ بیت اللٰہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے کیا گیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ حملہ طالبان تحریک کی پنجاب شاخ نے کیا ۔ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ ہم پاکستان میں کسی بھی جگہ حملہ کر سکتے ہیں ہم مزید کئی اہم جگہوں کو ٹارگٹ کریں گے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پشاور اور صدر اور خیبر بازار میں ہونے دھماکوں میں بلیک واٹر ملوث ہے اس میں تحریک طالبان ملوث نہیں۔


کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ تحریک کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بدلے میں کیا گیا ہے۔

تنظیم کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے پیر کو بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے تمام حملہ آوار ان کے ساتھی تھے۔


شرم تم کو مگر نہیں آتی!
 

الف نظامی

لائبریرین
امریکہ اور طالبان دونوں ہی دہشت گردی کا کینسر ہے اور پاکستانی سرزمین سے دونوں کا اکھاڑ پھینکنا جائے گا! ان شا اللہ
 
Top