دوسرے کی بیوی

میرے دوستوں کی بیویوں کو مجھ سے یہ شکایت ہے کہ میں اپنی بیوی کو ان سے ملنے نہیں دیتا اور مجھے اپنے دوستوں کی بیویوں سے یہ شکایت ہے کہ وہ صرف ملنے کے لیے میری بیوی سے نہیں ملتی ہیں بلکہ اپنی امارت کا رُعب جھاڑنے کے لئے میری بیوی کو اپنے گھر بلاتی ہیں۔

میری بیوی جب کسی دوست کی بیوی سے مل کر گھر لوٹتی ہے تو اس کا پہلا جملہ یہی ہوتا ہے :
’’ایک تم بھی شوہر ہو اور ایک شیخ رحمت الٰہی بھی شوہر ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کی سالگرہ پر ایک ریفریجریٹر خرید کر دیا ہے۔‘‘
ہم ایک آہ سرد بھرکر بیوی کو سمجھتا ہیں :’’رحمت الٰہی پر رحمتِ الٰہی نازل نہ ہوگی تو کیا ابراہیم پر نازل ہوگی؟ ابراہم کا کام تو قربانی دینا ہے بیگم۔‘‘
بیوی چڑکر کہتی ہے : ’’تمہیں تو صرف باتیں بنانا آتا ہے اور تمہارے دوست ذاتی مکانات بناتے چلے جارہے ہیں۔ کل میں بیگم شجاعت علی کا نیا مکان دیکھنے گئی تھی۔ واہ مکان کیا ہے قصر سلطانی نظر آتا ہے!‘‘
ہم بیوی کو سمجھاتے ہیں : ’’کاش! تم یہ بھی جانتیں کہ شجاعت علی صاحب نے یہ قصر سلطانی بنا کر علامہ اقبال کی روح کو کتنا دکھ پہنچایا ہے۔
میں تو علامہ اقبال کی نصیحت پر چلوں گا۔‘‘
بیوی چڑکر کہتی ہے :’’اگر ایسے ہی علامہ اقبال کی نصیحت پر چلنے والے ہو تو پھر چلو کہ پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کریں، یہاں پیرِ الٰہی بخش کالونی کے کوارٹر میں کیوں پڑے رہیں۔‘‘
ہم ’’لاجواب‘‘ ہوجاتے ہیں تو بیوی کو ہم پر ترس آتا ہے، اور وہ کہتی ہے :
جو بھی ہو تم خدا کی قسم ’’لاجواب‘‘ ہو اور پھر ہمیں منانے کے لئے کہتی ہے، ’’اچھا چلو ، جو ہمارے مقدور میں ہے وہی ہمیں مل رہا ہے لیکن کم از کم ’’سوئی گیس کے چولھے‘‘ تو لگوادو۔ یہ نگوڑے پرانے ’’اسٹووں‘‘ میں پمپ لگاتے لگاتے بُرا حال ہوگیا ہے۔ کل میں خواجہ حسین کی بیگم سے ملنے گئی تھی، انہوں نے سوئی گیس کے چولھے لگا رکھے ہیں۔‘‘
ہم بیوی کو تسلی دیتے ہیں : ’’اچھا ہم بھی سوئی گیس کے چولھے لگوادیں گے۔‘‘
بیوی خوش ہوکر پوچھتی ہے : ’’ کب ؟‘‘
ہم جواب دیتے ہیں : ’’جب ہم ایک ذاتی مکان خرید لیں گے۔‘‘
بیوی اور زیادہ خوش ہوکر پوچھتی ہے : ’’ذاتی مکان کب خریدو گے؟‘‘
ہم جواب دیتے ہیں : ’’جب ہمارے پاس کم از کم ۲۵ہزار روپیہ ہوگا۔‘‘
بیوی بڑے اشتیاق سے پوچھتی ہے : ’’ہمارے پاس ۲۵ ہزار روپیہ کب تک جمع ہوجائے گا؟‘‘
ہم دُور مستقبل میں دیکھتے ہوئے جواب دیتے ہیں : ’’جب ہم وزیر ہوجائیں گے۔‘‘
بیوی خوشی سے اچانک تمتماتے چہرے سے پوچھتی ہے : ’’تم وزیر کب بنوگے؟‘‘
ہم نہایت معصومیت کے ساتھ جواب دیتے ہیں : ’’یہ تو ہم نہیں جانتے۔‘‘
ہماری بیوی کٹّر مومنہ ہے مایوسی کو کفر سمجھتی ہے۔
اس لئے سخت اسلامی لہجے میں پوچھتی ہے : ’’خدا نخواستہ اگرتم وزیر نہ بن سکے تو۔۔۔‘‘
تو ہم جواب دیتے ہیں : ’’تو کیا ؟ بس پھر ’’اسٹوو‘‘ میں پمپ مارتی بیٹھی رہو۔‘‘
یہ تلخ جواب سُن کر بیوی رونہاسی ہوجاتی تو ہم اس کٹّر مومنہ کو مایوسی کے کفر سے بچانے کے لئے مثالیں دیتے ہیں :
’’بیگم کل تم ہمارے پڑوسی ابراہیم خاں کی بیگم سے ملنے گئی تھیں اور تم نے کہا تھا کہ ان کے گھر میں ریڈیو تک نہیں ہے، جب کہ تمہارے گھر میں ریڈیو ہے۔‘‘
بیوی بیزار سی سے جواب دیتی ہے : ’’ان کے میاں کا نام بھی تو ابراہیم ہے۔‘‘
ہم جھینپ جاتے ہیں اور کہتے ہیں :
’’اچھا ! وہ مصطفیٰ علی کی بیگم۔ تم ہی نے کہا تھا کہ ان کے پاس صرف دو ساڑیاں ہیں۔ ایک پہنتی ہیں اور دوسری دھوکر سُوکھنے کے لئے ڈال دیتی ہیں۔‘‘
بیوی اتراکر کہتی ہے : ’’جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ ! مصطفی علی صاحب کی شادی ہی کہاں ہوئی ہے؟‘‘
ہم موضوع سے نہ ہٹنے کے لئے کہتے ہیں ،
’’چلو مصطفیٰ علی کی بیگم نہ سہی، استعفیٰ علی کی بیگم سہی۔ تم نے کسی نہ کسی کی بیگم کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے پاس صرف دو ساڑیاں ہیں!‘‘ بیوی کہتی ہے ،
’’لیکن تم ان کی بیگم سے میرا مقابلہ کیوں کر رہے ہو؟‘‘ ہم سمجھاتے ہیں۔
’’بیگم، آدمی اگر اس دنیا میں خوش رہنا چاہتا ہے تو اسے ہمیشہ اپنا مقابلہ اُس آدمی سے کرنا چاہئے جس کے مقابلے میں وہ زیادہ اچھی حالت میں ہے۔ اگر تم اپنے سے زیادہ خوشحال لوگوں سے اپنا مقابلہ کروگی تو زندگی بھر اسی طرح دُکھی اور مغموم رہوگی، اسی طرح روتی رہوگی۔ یہ نہ دیکھو کہ تمہارے پاس کیا کیا نہیں ہے اور دوسرے کے پاس کیا کیا ہے اور تمہارے پاس کیا کیا ہے؟ تب ہی تم خوش رہ سکتی ہو۔‘‘
بیوی ایک ٹھنڈی سانس بھرکر کہتی ہے : ’’جانے ہمارے گھر میں خوشی کب آئے گی!‘‘
ہم فوراً جواب دیتے ہیں، ’’جب تک تم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکتی رہوگی، خوشی کبھی تمہارے گھر میں داخل نہیں ہوگی۔ گھر سے نکلنا چھوڑ دو پھر تمہیں پتہ ہی نہ چلے گا کہ رحمت الٰہی کے گھر ریفریجریٹر ہے ، خواجہ حسین کے ہاں سوئی گیس کے چولھے ہیں۔ سلطان کے ہاں ریڈیو گرام ہے۔ نسیم کے پاس کار ہے وغیرہ وغیرہ۔‘‘

’’تمہارے اس وغیرہ وغیرہ پر لعنت ہے۔‘‘
بیوی کا حکم سر آنکھوں پر، لہٰذا وغیرہ وغیرہ ختم۔

ابراہیم جلیس
(معروف معروف پاکستانی افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور صحافی)
واٹس ایپ پر ایک دوست سے موصول شدہ ۔
 
اول تو کاپی پیسٹ ہی خطرناک عمل ہے چہ جائیکہ واٹس ایپ سے کاپی پیسٹ کیا جائے۔ ابراہیم جلیس بڑے کالم نویس تھے ان سے اس قسم کی اردو کی غلطیاں منسوب کرنا جو اس مضمون میں ہیں ظلم ہے۔ پہلے پیراگراف میں "میں" "میری" وغیرہ استعمال ہوئے اور آگے چل کر ہم کا صیغہ استعمال ہوا۔

کلجگ ہے صاحب!!!
 
Top