دل ہی دلبستگی کے درپے ہے

دوستی دشمنی کے درپے ہے
ہر کوئی ہی کسی کے درپے ہے

ڈھونڈتی ہے خدائے بے ہمتا
آذری بت گری کے درپے ہے

یوں مچلتا ہے چھوٹ جاتا ہے
دل ہی دلبستگی کے درپے ہے

مجھ حزیں کو نہیں ہے خدشۂ غم
خود خوشی ہی خوشی کے درپے ہے

آئنے میں ہے آئنے کا عکس
آئنہ کیوں کسی کے درپے ہے؟

ہے یہی نغمہ بر زبانِ شمع
'زندگی زندگی کے درپے ہے'

یوں تو ریحان شخص ہے معقول
جانے کیوں شاعری کے درپے ہے
 

صفی حیدر

محفلین
دوستی دشمنی کے درپے ہے
ہر کوئی ہی کسی کے درپے ہے

ڈھونڈتی ہے خدائے بے ہمتا
آذری بت گری کے درپے ہے

یوں مچلتا ہے چھوٹ جاتا ہے
دل ہی دلبستگی کے درپے ہے

مجھ حزیں کو نہیں ہے خدشۂ غم
خود خوشی ہی خوشی کے درپے ہے

آئنے میں ہے آئنے کا عکس
آئنہ کیوں کسی کے درپے ہے؟

ہے یہی نغمہ بر زبانِ شمع
'زندگی زندگی کے درپے ہے'

یوں تو ریحان شخص ہے معقول
جانے کیوں شاعری کے درپے ہے
نہایت عمدہ ۔۔۔۔ اختصار کا اعجاز باکمال ہے ۔۔۔۔۔۔
 

محمداحمد

لائبریرین
یوں مچلتا ہے چھوٹ جاتا ہے
دل ہی دلبستگی کے درپے ہے
مجھ حزیں کو نہیں ہے خدشۂ غم
خود خوشی ہی خوشی کے درپے ہے
یوں تو ریحان شخص ہے معقول
جانے کیوں شاعری کے درپے ہے

کیا کہنے!

عمدہ اشعار!
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب ریحان! اچھے اشعار ہیں ! اچھی غزلیں کہہ رہے ہیں آپ! بہت داد!
چوتھے مصرع میں ٹائپو درست کرلیجئے ۔ پڑھنے کا مزا کرکرا ہوجاتا ہے ٹائپو سے ۔
 
Top