سیماب اکبر آبادی دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں۔۔۔سیماب اکبر آبادی

قرۃالعین اعوان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 13, 2012

  1. قرۃالعین اعوان

    قرۃالعین اعوان لائبریرین

    مراسلے:
    8,969
    موڈ:
    Lurking
    دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں
    اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

    صبر آہی جائے گر ہو بسر ایک حال میں
    امکاں اک اور ظلم ہے قیدِ محال میں

    آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سے
    جی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں

    تنگ آکے توڑتا ہوں طلسمِ خیال کو!
    یا مطمئن کرو کہ تمہیں ہو خیال میں!

    دنیا ہے خواب،حاصلِ دنیا خیال ہے
    انساں خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

    بجلی گری اور آنچ نہ آئی کلیم پر
    شاید ہنسی بھی آگئی ان کو جلال میں

    عمرِ دو روزہ واقعی خواب وخیال تھی
    کچھ خواب میں گزر گئی، باقی خیال میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,732
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. قرۃالعین اعوان

    قرۃالعین اعوان لائبریرین

    مراسلے:
    8,969
    موڈ:
    Lurking
    شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. مدیحہ گیلانی

    مدیحہ گیلانی محفلین

    مراسلے:
    2,282
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    صبر آہی جائے گر ہو بسر ایک حال میں
    امکاں اک اور ظلم ہے قیدِ محال میں
    واہ ۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. قرۃالعین اعوان

    قرۃالعین اعوان لائبریرین

    مراسلے:
    8,969
    موڈ:
    Lurking
    شکریہ اپیا!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خوب ۔۔۔۔۔۔۔
    دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں
    اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. قرۃالعین اعوان

    قرۃالعین اعوان لائبریرین

    مراسلے:
    8,969
    موڈ:
    Lurking
    شکریہ!
     
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مکمل غزل
    دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں
    اِک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں


    فطرت سے چُوک ہوگئی میرے خیال میں
    ہلکا سا رنگِ عشق بھی ہوتا جمال میں

    صبر آہی جائے گر ہو بسر ایک حال میں
    امکاں اِک اور ظلم ہے قیدِ محال میں

    دنیا کرے تلاش نیا کوئی جامِ جم
    اس کی جگہ نہیں مِرے جامِ سفال میں

    پھر طُور کی نمود ہے خاکِ کلیم سے
    پھر تیرا انتظار ہے بزمِ جمال میں

    آزردہ اس قدر ہوں سرابِ خیال سے
    جی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں

    مٹی کے ٹھیکرے پہ نہ جا میرا ظرف دیکھ
    کونین جذب ہے اسی جامِ سفال میں

    تنگ آکے توڑتا ہوں طلسمِ خیال کو
    یا مطمئن کرو کہ تمہیں ہو خیال میں

    اب تک ہے ناز حُسن کو تاریخِ طُور پر
    اے عشق کاش تو کبھی آتا جلال میں

    دنیا ہے خواب حاصلِ دنیا خیال ہے
    انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

    یادش بخیر پھر نہ ملا رات کا سکوں
    اِک دن سحر ہوئی تھی حریمِ جمال میں

    بجلی گری اور آنچ نہ آئی کلیم پر
    شاید ہنسی بھی آگئی ان کو جلال میں

    عُمرِ دو روزہ واقعی خواب و خیال تھی
    کچھ خواب میں گزر گئی باقی خیال میں

    دنیا نے جس کو شعلۂ ایمن سمجھ لیا
    تھا اعترافِ شوق زبانِ جمال میں

    سیمابؔ اجتہاد ہے حُسنِ طلب مِرا
    ترمیم چاہتا ہوں مذاقِ جمال میں

    (سیمابؔ اکبر آبادی)
     

اس صفحے کی تشہیر