دل میں بڑھتی ہوئی، کسک دیکھوں !۔۔ غزل اصلاح کے لئے۔

کافی دن سے ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کرنا چاہ رہا تھا ۔ لیکن اس غزل میں اب تک تو مطلع اور مقطع کہہ نہیں پایا ۔
کیا کیا جائے ؟ اس کی قسمت ہی شاید ایسی ہے! اس گنجی غزل کو پھر بھی اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں۔
بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن
استاد محترم جناب الف عین سر سےبطورِ خاص اصلاح کی درخواست ہے دیگر احباب کے مشوروں اور تبصروں کا بھی منتظر ہوں۔؎
*******............********............********
اس کی معصوم اجنبیت سے
دل میں بڑھتی ہوئی، کسک دیکھوں !

حسنِ فطرت کے معترف سب ہیں
میں چمن زارِ قلب تک دیکھوں !

دکھ کے ریزے رگوں میں ہیں اتنے
طنز کے تیر بے جھجھک دیکھوں !

میری منطق نے پا لیا چہرہ
اپنی آواز میں لپک دیکھوں !

آئینہ توڑ دوں، تو پھر کس میں؟
اپنے ہر غم کو مشترک دیکھوں !

ایک آغاز گھات میں ہے مری
موڑ پر، گھومتی سڑک دیکھوں !

اُف، خیالوں کا کربِ پیدائش !
اٹھتے دامن کو آنکھ تک دیکھوں !

زندگی تُو ہی دوستی کر لے!
موت کا رستہ کب تلک دیکھوں !
*******............********............********
شکریہ۔
 

الف عین

لائبریرین
اف یہ غزلوں کا درد زہ، توبہ
اٹھتے دامن کو آنکھ تک دیکھوں!!!
مذاق سے قطع نظر، کرب پیدائش سے زیادہ درست درد زہ لگتا ہے۔ اور خیالات سے زیادہ اشعار کا درد!! چاہو تو یہ مصرع قبول کر لو میری طرف سے!!
اب باقی اشعار

اس کی معصوم اجنبیت سے
دل میں بڑھتی ہوئی، کسک دیکھوں !
۔۔محض اجنبیت سے کسک کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔ اجنبیت کے لہجے سے، یا اجنبیت جتانے کے احساس سے ممکن ہے، محض اجنبیت کے باعث کسک دور از کار ہے۔

حسنِ فطرت کے معترف سب ہیں
میں چمن زارِ قلب تک دیکھوں !
۔۔یہاں قلب کی جگہ ’دل‘ استعمال کرنا بہتر ہے۔ عربی قلب عجیب سا لگتا ہے

دکھ کے ریزے رگوں میں ہیں اتنے
طنز کے تیر بے جھجھک دیکھوں !
۔۔ درست

میری منطق نے پا لیا چہرہ
اپنی آواز میں لپک دیکھوں !
÷÷ابلاغ نہیں ہوا۔

آئینہ توڑ دوں، تو پھر کس میں؟
اپنے ہر غم کو مشترک دیکھوں !
÷÷اچھا شعر ہے، کس میں‘ کی بجائے ’کیسے‘ پر بھی غور کرو۔

ایک آغاز گھات میں ہے مری
موڑ پر، گھومتی سڑک دیکھوں !
۔÷÷ یہاں بھی ابلاغ کی کمی ہے۔ محض گھومتی سڑک سے بات ادھوری محسوس ہوتی ہے


زندگی تُو ہی دوستی کر لے!
موت کا رستہ کب تلک دیکھوں !
۔۔روانی کی خاطر
موت کی راہ کب تلک دیکھوں
 
آخری تدوین:
اف یہ غزلوں کا درد زہ، توبہ
اٹھتے دامن کو آنکھ تک دیکھوں!!!
مذاق سے قطع نظر، کرب پیدائش سے زیادہ درست درد زہ لگتا ہے۔ اور خیالات سے زیادہ اشعار کا درد!! چاہو تو یہ مصرع قبول کر لو میری طرف سے!!
اب باقی اشعار

اس کی معصوم اجنبیت سے
دل میں بڑھتی ہوئی، کسک دیکھوں !
۔۔محض اجنبیت سے کسک کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔ اجنبیت کے لہجے سے، یا اجنبیت جتانے کے احساس سے ممکن ہے، محض اجنبیت کے باعث کسک دور از کار ہے۔

حسنِ فطرت کے معترف سب ہیں
میں چمن زارِ قلب تک دیکھوں !
۔۔یہاں قلب کی جگہ ’دل‘ استعمال کرنا بہتر ہے۔ عربی قلب عجیب سا لگتا ہے

دکھ کے ریزے رگوں میں ہیں اتنے
طنز کے تیر بے جھجھک دیکھوں !
۔۔ درست

میری منطق نے پا لیا چہرہ
اپنی آواز میں لپک دیکھوں !
÷÷ابلاغ نہیں ہوا۔

آئینہ توڑ دوں، تو پھر کس میں؟
اپنے ہر غم کو مشترک دیکھوں !
÷÷اچھا شعر ہے، کس میں‘ کی بجائے ’کیسے‘ پر بھی غور کرو۔

ایک آغاز گھات میں ہے مری
موڑ پر، گھومتی سڑک دیکھوں !
۔÷÷ یہاں بھی ابلاغ کی کمی ہے۔ محض گھومتی سڑک سے بات ادھوری محسوس ہوتی ہے


زندگی تُو ہی دوستی کر لے!
موت کا رستہ کب تلک دیکھوں !
۔۔روانی کی خاطر
موت کی راہ کب تلک دیکھوں
شکریہ سر۔
 
Top