دل بھی سینے میں سنبھالا نہ گیا

نوید ناظم

محفلین
بحرِ رمل
۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ بھرتا ہے یہ نالہ نہ گیا
دل بھی سینے میں سنبھالا نہ گیا

یہ محبت وہ عجب مسئلہ ہے
کوئی حل جس کا نکالا نہ گیا

کون کرتا ہے وفا کون جفا
ہم سے باتوں کو اچھالا نہ گیا

تیری یاد آئی جونہی رات پڑی
یوں اندھیرے سے اجالا نہ گیا

آنسو آنکھوں کا بنایا اس کو
جو غم اشعار میں ڈھالا نہ گیا

نقش ہے بابِ جفا میں اس طرح
آج تک اُس کا حوالہ نہ گیا

کوئی رہتا تو ہے میرے دل میں
بارھا جس کو نکالا، نہ گیا !
 

La Alma

لائبریرین
عمدہ غزل ہے ۔
مطلع کا مصرعِ اول ابلاغ کے لحاظ سے مزید توجہ کا متقاضی ہے۔
تیری یاد آئی جونہی رات پڑی
یوں اندھیرے سے اجالا نہ گیا
بہت خوب! "پڑی" کو اگر "ہوئی" سے بدل دیں تو شاید زیادہ بہتر ہو۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اس کے افاعیل کیا ہیں؟میری ناقص معلومات کے حساب سے تو ایک دو مصرعے دونوں بحور میں تقطیع ہوتے ہیں،اور دونوں رمل کے تحت آتی ہیں۔ یعنی
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
اور
فاعلاتن فعلاتن فعلن
اگر پہلی بحر کے افاعیل ہیں تو مجھےردیف میں ’نہُ‘ کے دو حرفی استعمال پراعتراض ہے۔
اور اگر دوسری ہے، تو مکمل غزل درست ہے، لیکن یہ مصرع فعلاتن فعلن والی بحر میں نہیں آتا
نقش ہے بابِ جفا میں اس طرح
ہ تو فارم کے لحاظ سے میری رائے ہو گئی،
اب مفہوم کے لحاظ سے:
مطلع واضح نہیں ہوا۔ آہ اور نالہ تقریباً ایک ہی بات ہے!
اس کے علاوہ یہ اشعار
آنسو آنکھوں کا بنایا اس کو
جو غم اشعار میں ڈھالا نہ گیا
÷÷÷پہلے مصرع میں آنسو‘ کی واؤ کا اسقاط مصرع کو کمزور بنا رہا ہے۔ یوں کہو تو
اسے آنکھوں کا بنایا آنسو

نقش ہے بابِ جفا میں اس طرح
آج تک اُس کا حوالہ نہ گیا
۔۔۔ بحر کے علاوہ یہ واضح بھی نہیں

کوئی رہتا تو ہے میرے دل میں
بارھا جس کو نکالا، نہ گیا !
۔۔۔’رہتا تو‘ میں ت کی تکرار ہے، اور یوں بھی ’تو‘ کی یہاں کیا ضرورت؟
کوئی یوں رہتا ہے میرے دل میں
بہتر ہوشاید
 

نوید ناظم

محفلین
اس کے افاعیل کیا ہیں؟میری ناقص معلومات کے حساب سے تو ایک دو مصرعے دونوں بحور میں تقطیع ہوتے ہیں،اور دونوں رمل کے تحت آتی ہیں۔ یعنی
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
اور
فاعلاتن فعلاتن فعلن
اگر پہلی بحر کے افاعیل ہیں تو مجھےردیف میں ’نہُ‘ کے دو حرفی استعمال پراعتراض ہے۔
اور اگر دوسری ہے، تو مکمل غزل درست ہے، لیکن یہ مصرع فعلاتن فعلن والی بحر میں نہیں آتا
نقش ہے بابِ جفا میں اس طرح
ہ تو فارم کے لحاظ سے میری رائے ہو گئی،
اب مفہوم کے لحاظ سے:
مطلع واضح نہیں ہوا۔ آہ اور نالہ تقریباً ایک ہی بات ہے!
اس کے علاوہ یہ اشعار
آنسو آنکھوں کا بنایا اس کو
جو غم اشعار میں ڈھالا نہ گیا
÷÷÷پہلے مصرع میں آنسو‘ کی واؤ کا اسقاط مصرع کو کمزور بنا رہا ہے۔ یوں کہو تو
اسے آنکھوں کا بنایا آنسو

نقش ہے بابِ جفا میں اس طرح
آج تک اُس کا حوالہ نہ گیا
۔۔۔ بحر کے علاوہ یہ واضح بھی نہیں

کوئی رہتا تو ہے میرے دل میں
بارھا جس کو نکالا، نہ گیا !
۔۔۔’رہتا تو‘ میں ت کی تکرار ہے، اور یوں بھی ’تو‘ کی یہاں کیا ضرورت؟
کوئی یوں رہتا ہے میرے دل میں
بہتر ہوشاید
بہت شکریہ سر۔۔۔

اس کے افاعیل کیا ہیں؟میری ناقص معلومات کے حساب سے تو ایک دو مصرعے دونوں بحور میں تقطیع ہوتے ہیں،اور دونوں رمل کے تحت آتی ہیں۔ یعنی
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
اور
فاعلاتن فعلاتن فعلن
اگر پہلی بحر کے افاعیل ہیں تو مجھےردیف میں ’نہُ‘ کے دو حرفی استعمال پراعتراض ہے۔
اور اگر دوسری ہے، تو مکمل غزل درست ہے،

جی، اس کے افاعیل فاعلاتن فعلاتن فَعِلن/ فِعلن ہی ہیں۔


مصرع فعلاتن فعلن والی بحر میں نہیں آتا
نقش ہے بابِ جفا میں اس طرح

سر تقطیع ملاحظہ ہو۔۔
نقش ہے با = فاعلاتن
ب ج فا میں = فعلاتن
اس طر = فعلن
ح تو ساکن ہے اور ایک ساکن کی تو اجازت ہے آخر میں۔

مطلع واضح نہیں ہوا۔ آہ اور نالہ تقریباً ایک ہی بات ہے!

اس طرح کر دیا سر۔۔۔
کم نصیب ایسا کہ نالہ نہ گیا
دل بھی سینے میں سنبھالا نہ گیا


÷÷÷پہلے مصرع میں آنسو‘ کی واؤ کا اسقاط مصرع کو کمزور بنا رہا ہے۔ یوں کہو تو
اسے آنکھوں کا بنایا آنسو

جی بہتر۔

کوئی رہتا تو ہے میرے دل میں
بارھا جس کو نکالا، نہ گیا !
۔۔۔’رہتا تو‘ میں ت کی تکرار ہے، اور یوں بھی ’تو‘ کی یہاں کیا ضرورت؟
کوئی یوں رہتا ہے میرے دل میں
بہتر ہوشاید
سر ایسے کر دیا ہے۔۔۔

کوئی رہتا ہے مرے دل میں نوید
بارھا جس کو نکالا، نہ گیا !
 
Top