دعا زہراہ کا معاملہ - دعوتِ فکر

ایک آخری بات جو کہ بہت دُکھی دِل کے ساتھ ضبط تحریر میں لا رہا ہوں کہ
دُعا زہرا کے والدین کا دُکھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو والدین ہیں اور اپنی اولاد اور ان کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔
مطلب وہ اپنی اولاد کو اور خود کو دُعا زہرا اور اُس کے والدین جیسے حالات میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
باقی معذرت کے ساتھ جو آج کل کے لونڈے لپاڑے بلکہ لونڈیاں لپاڑیاں ہیں وہ دُعا زہرا اور ظہیر کو سپورٹ کر رہے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔
کیونکہ ایسا کرنے سے ایک غلط روایت جنم لے بیٹھے گی کہ جب دِل چاہا کسی بھی لڑکی نے ڈیڑھ چھٹانک کے لڑکے کی ورچوئل محبت میں اپنی والدین کی ساری زندگی کی محنت کو صفر سے ضرب دے ڈالی۔ اُس ماں کی جس نے نو مہینے پیٹ میں رکھا‘ اور پیدائش کے کٹھن عمل سے خود کو گزارا جس میں بہت سی عورتوں کی جان چلی جاتی ہے‘ مطلب عورت کو دوسری زندگی ملتی ہے۔ پھر پرورش کے دوران آدھی رات کو بار بار جاگ کر بچے کو چیک کرنا‘ اور بچے کی گیلی جگہ پر ماں خود کو رکھ دیتی ہے اور بچے کو سوکھی جگہ پر سلا دیتی ہے تاکہ بچے کی نیند خراب نہ ہو۔ وہ باپ جو زمانے کی گرمی سردی برداشت کرکے بچوں کے لیے رزق کماتا ہے‘ اُس کی سختیوں کا یہ صلہ قطعاً مناسب نہیں کہ پینتالیس پچاس سال کی عمر میں دُعا زہرا جیسی بیٹی کے ہاتھوں ماں باپ عدالتوں اور پولیس تھانوں میں دھکے کھاتے پھریں۔
 
ایک آخری بات جو کہ بہت دُکھی دِل کے ساتھ ضبط تحریر میں لا رہا ہوں کہ
دُعا زہرا کے والدین کا دُکھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو والدین ہیں اور اپنی اولاد اور ان کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔
مطلب وہ اپنی اولاد کو اور خود کو دُعا زہرا اور اُس کے والدین جیسے حالات میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
باقی معذرت کے ساتھ جو آج کل کے لونڈے لپاڑے بلکہ لونڈیاں لپاڑیاں ہیں وہ دُعا زہرا اور ظہیر کو سپورٹ کر رہے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔
کیونکہ ایسا کرنے سے ایک غلط روایت جنم لے بیٹھے گی کہ جب دِل چاہا کسی بھی لڑکی نے ڈیڑھ چھٹانک کے لڑکے کی ورچوئل محبت میں اپنی والدین کی ساری زندگی کی محنت کو صفر سے ضرب دے ڈالی۔ اُس ماں کی جس نے نو مہینے پیٹ میں رکھا‘ اور پیدائش کے کٹھن عمل سے خود کو گزارا جس میں بہت سی عورتوں کی جان چلی جاتی ہے‘ مطلب عورت کو دوسری زندگی ملتی ہے۔ پھر پرورش کے دوران آدھی رات کو بار بار جاگ کر بچے کو چیک کرنا‘ اور بچے کی گیلی جگہ پر ماں خود کو رکھ دیتی ہے اور بچے کو سوکھی جگہ پر سلا دیتی ہے تاکہ بچے کی نیند خراب نہ ہو۔ وہ باپ جو زمانے کی گرمی سردی برداشت کرکے بچوں کے لیے رزق کماتا ہے‘ اُس کی سختیوں کا یہ صلہ قطعاً مناسب نہیں کہ پینتالیس پچاس سال کی عمر میں دُعا زہرا جیسی بیٹی کے ہاتھوں ماں باپ عدالتوں اور پولیس تھانوں میں دھکے کھاتے پھریں۔
سو فیصد متفق والدین کا یہ مقام نہیں ہے کہ اولاد انہیں ایسی آزمائش میں ڈالے۔ قوانین کی تبدیلی ہم آہنگ قانون سازوں کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ہمارے معاشرے میں شعور کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہ سب بے سکونیاں لوٹ کر آنے والی ہیں ۔ آج گندم بیجیں گے تو چاول کبھی نہیں اگیں گے
 
Top