دعا۔۔الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے۔۔ از محمد ذیشان نصرؔ

متلاشی

محفلین
تمام یاران و اساتذانِ سخن کی خدمت میں اپنی تازہ دُعا پیشِ خدمت ہے ۔۔۔!​
دعا
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے​
جنوں کو تو مرے، مولا شکیبائی عطا کر دے​
بنوں رہبر دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو​
مجھے وہ معرفت ، ایماں، وہ مولائی عطاکردے​
مری بے نام منزل کو نشانِ راہ تُودے دے​
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے​
الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو​
تخیل کو مرے ایسی تو گہرائی عطا کردے​
نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے​
تو ان بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے​
معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے​
مری گفتار کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے​
زَمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو​
مرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے​
خیالوں کو ملے تصویر، خوابوں کو ملے تعبیر​
مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے​
اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، فضل سے تُو​
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے​
ترے در پر ندامت سے ،جھکی ہے پھر جبیں میری​
تمنائے حزیں کو اب، تو شنوائی عطا کر دے​
ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی​
نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے​
محمد ذیشان نصر​
 
بہت خوبصورت دعا ہے ذیشان بھائی۔ داد قبول فرمائیے۔

کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

خیالوں کو ملے تصویر، خوابوں کو ملے تعبیر​
مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے​

اگر اسے یوں کردیں تو؟
خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو​

اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، فضل سے تُو​
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے​
اس کے پہلے مصرعے کو دوبارہ کہہ لیجیے۔ یہاں پر ایک غلط مطلب بھی نکل رہا ہے۔
ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی​
نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے​
اس خوبصورت شعر کے دوسرے مصرعے کو اگر یوں کردیں تو؟
نصر کو آج وہ خلوت، وہ تنہا ئی عطاکردے

ایک بار پھر داد قبول کیجیے۔
 

متلاشی

محفلین
بہت خوبصورت دعا ہے ذیشان بھائی۔ داد قبول فرمائیے۔

کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

اگر اسے یوں کردیں تو؟
خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو​

اس کے پہلے مصرعے کو دوبارہ کہہ لیجیے۔ یہاں پر ایک غلط مطلب بھی نکل رہا ہے۔

اس خوبصورت شعر کے دوسرے مصرعے کو اگر یوں کردیں تو؟
نصر کو آج وہ خلوت، وہ تنہا ئی عطاکردے

ایک بار پھر داد قبول کیجیے۔

محترم خلیل الرحمٰن صاحب ۔۔۔ ! فقیر کی اس دعا پر اس قدر محبت سے تبصرہ کرنے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔!
آپ کی اصلاح پسند آئی ۔۔۔! استاذ محترم اعجاز عبید صاحب کی اصلاح بھی آ جائے تو اکھٹی ہی درستگیاں کر دوں گا۔۔۔! شکریہ۔۔۔!
 
محترم خلیل الرحمٰن صاحب ۔۔۔ ! فقیر کی اس دعا پر اس قدر محبت سے تبصرہ کرنے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔!
آپ کی اصلاح پسند آئی ۔۔۔

ذیشان بھائی! کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ اصلاح کرنے کا ہمارا منہ نہیں۔ یہ تو صلاح ہے۔
 

متلاشی

محفلین
ذیشان بھائی! کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ اصلاح کرنے کا ہمارا منہ نہیں۔ یہ تو صلاح ہے۔
نہ جی نہ ہم تو آپ مصلح و مربی ہی مانتے ہیں ۔۔۔آپ چاہے لاکھ انکار کریں ،،، لاکھ دفعہ کسرِ نفسی کا اظہار کریں ۔۔۔ مگر آپ کو ہمارے قول میں تضاد نہیں ملے گا۔۔۔۔ جی ہاں ۔۔۔۔! :p
 

الف عین

لائبریرین
مری بے نام منزل کو نشانِ راہ تُودے دے
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے
//دونوں مصرعوں میں ’دے‘ اچھا نہیں لگتا۔
نشانِ راہ تو رکھ دے مری بے نام منزل میں
بہتر ہو گا۔

الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو
تخیل کو مرے ایسی تو گہرائی عطا کردے
// تخیل کو مرے تو ایسی گہرائی عطا کردے
بہتر ہو گا۔

نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے
تو ان بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے
//مری بے نور آنکھوں کو۔۔۔۔۔ بہتر ہو گا

معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
مری گفتار کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے
یہ شعر سمجھ میں نہیں آیا، گفتار کو گویائی؟


اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، فضل سے تُو
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے
//یہاں ’فضل‘ کا تلفظ غلط ہے۔ درست ضاد پر سکون ہے۔
اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، کرم سے تُو

باقی سب درست ہی ہیں۔ وہ خلیل کی اصلاح بھی درست ہے۔ قبول کی جا سکتی ہے۔
 

متلاشی

محفلین
مری بے نام منزل کو نشانِ راہ تُودے دے
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے
//دونوں مصرعوں میں ’دے‘ اچھا نہیں لگتا۔
نشانِ راہ تو رکھ دے مری بے نام منزل میں
بہتر ہو گا۔

الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو
تخیل کو مرے ایسی تو گہرائی عطا کردے
// تخیل کو مرے تو ایسی گہرائی عطا کردے
بہتر ہو گا۔

نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے
تو ان بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے
//مری بے نور آنکھوں کو۔۔۔ ۔۔ بہتر ہو گا

معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
مری گفتار کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے
یہ شعر سمجھ میں نہیں آیا، گفتار کو گویائی؟


اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، فضل سے تُو
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے
//یہاں ’فضل‘ کا تلفظ غلط ہے۔ درست ضاد پر سکون ہے۔
اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، کرم سے تُو
باقی سب درست ہی ہیں۔ وہ خلیل کی اصلاح بھی درست ہے۔ قبول کی جا سکتی ہے۔

استاذ گرامی ذرا اب دیکھئے ۔۔۔!
دعا
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے​
جنوں کو تو مرے، مولا شکیبائی عطا کر دے​
بنوں رہبر دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو​
مجھے وہ معرفت ، ایماں، وہ مولائی عطاکردے​
مری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تو​
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے​
الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو​
تخیل کو مرے تو ایسی گہرائی عطا کردے​
نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے​
مری بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے​
معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
مری گفتار کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے
( استاذ گرامی میں نے اس شعار میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے اے اللہ میری گفتگو کرنے کے طریقہ کو تو بولنے کا صحیح ڈھنگ سکھا دے ۔ یعنی گفتار بمعنی بات چیت کا طریقہ اور گویائی اندازِبیاں کے مطلب میں لیا گیا ہے )​
زَمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو​
مرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے​
خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو​
مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے​
اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، کرم سے تُو​
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے​
ترے در پر ندامت سے ،جھکی ہے پھر جبیں میری​
تمنائے حزیں کو اب، تو شنوائی عطا کر دے​
ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی​
نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے​
محمد ذیشان نصر​
 

الف عین

لائبریرین
درست ہے نصر۔ بس میرے خیال میں گویائی والے شعر کی ضرورت نہیں۔ یہ واضح نہیں، تم کہاں کہاں تشریح دیتے پھرو گے؟
 

نور وجدان

لائبریرین
تمام یاران و اساتذانِ سخن کی خدمت میں اپنی تازہ دُعا پیشِ خدمت ہے ۔۔۔!

دعا
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے
جنوں کو تو مرے، مولا شکیبائی عطا کر دے

بنوں رہبر دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو
مجھے وہ معرفت ، ایماں، وہ مولائی عطاکردے

مری بے نام منزل کو نشانِ راہ تُودے دے
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے

الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو
تخیل کو مرے ایسی تو گہرائی عطا کردے

نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے
تو ان بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے

معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
مری گفتار کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے

زَمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو
مرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے

خیالوں کو ملے تصویر، خوابوں کو ملے تعبیر
مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے

اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، فضل سے تُو
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے

ترے در پر ندامت سے ،جھکی ہے پھر جبیں میری
تمنائے حزیں کو اب، تو شنوائی عطا کر دے

ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی
نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے

محمد ذیشان نصر​
یہ غزل پہلے کہیں سن رکھ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پتا نہیں تھا کہ ''وائرل'' ہوجانے والی یہ غزل آپ کی ہے ۔ آپ کی غزل بہت عمدہ ہے ۔
 

متلاشی

محفلین
یہ غزل پہلے کہیں سن رکھ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پتا نہیں تھا کہ ''وائرل'' ہوجانے والی یہ غزل آپ کی ہے ۔ آپ کی غزل بہت عمدہ ہے ۔
پسندیدگی کے لئے شکر گذار ہوں ۔۔۔۔
لوگوں بغیر شاعر کے نام اور کچھ اپنے نام کے ساتھ میری شاعری پوسٹ کر دیتے ہیں :(
 

نور وجدان

لائبریرین
پسندیدگی کے لئے شکر گذار ہوں ۔۔۔۔
لوگوں بغیر شاعر کے نام اور کچھ اپنے نام کے ساتھ میری شاعری پوسٹ کر دیتے ہیں :(
چلیں۔۔۔۔۔۔شاید ..آپ کا نام یہاں ہر حقیقی نہیں ہے اس لیے ...اصلی نام تو سید ذیشان نصر ہے .. اللہ تعالیٰ کریں زورِ قلم اور زیادہ ... ماشاء اللہ
 

متلاشی

محفلین
چلیں۔۔۔۔۔۔شاید ..آپ کا نام یہاں ہر حقیقی نہیں ہے اس لیے ...اصلی نام تو سید ذیشان نصر ہے .. اللہ تعالیٰ کریں زورِ قلم اور زیادہ ... ماشاء اللہ
نہیں بہنا مجھے سید ہونے کا شرف حاصل نہیں ۔۔۔ سید ذیشان بھائی اور ہیں جو محفل پر موجود ہوتے ہیں وہ بھی ماشاء اللہ بہت اچھے شاعرہیں ۔۔
میرا پورا نام محمد ذیشان نصر ہے ۔۔۔ والد گرامی جناب نصراللہ مہر صاحب ہیں جو کہ ایک انٹرنیشنل ایوارڈ ہولڈر خطاط ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی ہیں ۔۔۔۔ مطلب شاعری مجھے ورثے میں ملی ہے ۔۔۔۔ :)
 
Top