دسمبری دُکھڑا

حسن داور سراج نے 'پسندیدہ مزاحیہ تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 18, 2017

  1. حسن داور سراج

    حسن داور سراج محفلین

    مراسلے:
    141
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    رمضان سے پہلے اور عید کے بعد دھڑادھڑ شادیوں کا موسم ہوتا ہے اور ایسے ایسے بندے کی شادی ہوجاتی ہے کہ رب دیاں رب ای جانے کہنے کو دل کرتا ہے۔ ایسے ہی سردیوں کے بعد امتحانات کا موسم شروع ہوجاتا ہے جس میں ا سکولوں، کالجوں کے بچے اور بچیاں، اپنے اپنے سماجی رتبے کے مطابق پرچے، امتحان اور ایگزیمز وغیرہ دیتے ہیں۔ گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ، پِت اور آموں کا موسم ہوتاہے۔ اکتوبر، نومبر اجتماعی زچگیوں کا موسم ہوتاہے جو اگرچہ سارا سال ہی جاری رہتا ہے لیکن ان دو مہینوں کی فضیلت کچھ سِوا ہے۔

    ان سارے موسموں کے بعد دسمبر آجاتا ہے۔

    اور جناب عالی، یہ اجتماعی ۔۔۔ رونے کا موسم ہے۔ جن کی جون میں سپلیاں آئی تھیں، انہیں اب جا کے اس کی تکلیف شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ موسم مزے کا ہو چکا ہوتا ہے۔ بجلی آئے یا جائے کوئی پروا نہیں۔ بھوک ٹکا کے لگتی ہے۔ ملائی والی دودھ پتّی پی کے اور مونگ پھلی ٹونگتے ہوئے اگر پرانے دکھ یاد نہیں آنے تو کیا دردانہ بٹ یاد آنی ہے؟ جن کی ”سیٹ“ بچیوں کی شادی مارچ میں ہوچکی ہوتی ہے تو ان کا تو دسمبر میں سَیڈ ہونا بنتا ہی ہے کہ مہینے کے آخر تک انہیں ماموں بننے کی توقع بھی ہوتی ہے۔ مرے پہ سو دُرّے۔

    دسمبری سیڈنیس کی سب سے بڑی وجہ ڈائجسٹی وائرس ہے۔ اپنے وصی شاہ جی جیسے عظیم شعراء کی عظیم ترین شاعری ”آپ کی پسند“ میں بدّو ملہی سے شجاع آباد اور گوجرخان سے بھکر تک کی دوشیزائیں بذریعہ جوابی لفافے کے بھیجتی ہیں اور پھر خود ہی پڑھ پڑھ کے اپنی خوابوں کے شہزادے عرف آئیڈیل کی یاد میں آہیں بھر بھر کے پھٹّڑ ہوتی رہتی ہیں۔ یہ خوابوں کے شہزادے ان کےخوابوں میں تو بلاناغہ بالترتیب گھوڑے، سائیکل، موٹر سائیکل، کار وغیرہ میں آتے رہتے ہیں لیکن یہ خواب دیکھ دیکھ کے ان نمانیوں کے چھ چھ بچے ہوجاتے ہیں پر وہ نگوڑ مارے شہزادے اللہ جانے کہاں غرق ہوتے ہیں کہ پہنچتے ہی نہیں، پہنچتے ہی نہیں

    تو صاحبو دسمبر میں رات کو سارے کاموں سے فارغ ہوکے حتی کہ چھوٹے کا پیمپر بھی بدل کے جب بندی رضائی میں گھس کے ڈائجسٹ پھرولنا شروع کرتی ہے اور ”آپ کی پسند“ یا ”آپ کی بیاض“ والا صفحہ سامنے آجاتا ہے تو دسمبر تو دردیلا لگنا ہی ہے۔ یہ درد اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب رضائی کی دوسری طرف سے دھاڑ نما خرّاٹے بھی بلند ہونے لگیں۔ اب اس وقت ”خوابوں کا شہزادہ“ ہی یاد آئے گا ناکہ میلی بنیان اور شلوار میں خرّاٹے مارتا ہوا دھوش۔
    رہے نام اللہ کا۔



    بشکریہ …. جعفر حسین


    دسمبری دُکھڑا - ہم سب

     

اس صفحے کی تشہیر