فارسی شاعری در مدحِ سمرقند و بخارا - صدرالدین عینی

حسان خان

لائبریرین
(در مدحِ سمرقند و بخارا)

حبّذا شهرِ سمرقندِ بهشتی تمثال
جز بهشتش به طراوت نتوان یافت مثال

(بہشت جیسے شہرِ سمرقند کی کیا ہی بات ہے کہ طراوت کے لحاظ سے بہشت کے سوا اُس کی کوئی دوسری مثال نہیں پائی جا سکتی۔)

زر نثار است زمینش چو کفِ اهلِ کرم
فیض بار است هوایش چو دلِ اهلِ کمال

(اس کی زمین اہلِ کرم کے کف کی طرح زر نثار ہے جبکہ اس کی ہوا اہلِ کمال کے دل کی طرح فیض بار ہے۔)

سبزه زاری‌ست به هر سبزه عیان رنگِ طرب
چشمه ساری‌ست ز هر چشمه روان آبِ زلال

(یہ ایک ایسا سبزہ زار ہے کہ جس کے ہر سبزے میں رنگِ طرب عیاں ہے؛ یہ ایک ایسا چشمہ سار ہے کہ جس کے ہر چشمے سے آبِ زلال رواں ہے۔)

می‌رسد نکهتِ کیفیتِ اصحابِ یمین
گر وزد بادِ شمال از طرفِ باغِ شمال

(اگر سمرقند کے باغِ شمال سے بادِ شمال چلنے لگ جائے تو اصحابِ یمین یعنی اہلِ بہشت کی کیفیت کی خوش بو آنے لگتی ہے۔)

این سمرقند همان است، که خاقان تیمور
داد از این شهر به اورنگِ جهان زیبِ جمال

(یہ سمرقند وہی ہے جس شہر سے امیر تیمور نے دنیا کے اورنگ کو زیبِ جمال بخشا تھا۔)

این سمرقند همان است، که الوغ بیگ میرزا
زد از این خطه به دانش علمِ استقلال

(یہ سمرقند وہی ہے کہ اس خطے سے الوغ بیگ میرزا نے علم و دانش کی بدولت پرچمِ استقلال بلند کیا تھا۔)

این سمرقند همان است، که بولیثِ فقیه
کرد صیتِ شرفش تا عربستان ایصال

(یہ سمرقند وہی ہے کہ جہاں سے فقیہ ابولیث نے اپنے شرف کا شہرہ عربستان تک پہنچایا تھا۔)

غم زدای است سمرقند و طرب افزا لیک
نزداید غمِ هجرانِ بخارا ز خیال

(اگرچہ سمرقند غم زدا (غم مٹانے والا) اور طرب افزا ہے لیکن یہ ہجرِ بخارا کے غم کو ذہن سے نہیں محو کر پاتا۔)

گر به فردوس برندم نرود از خاطر
یادِ دروازۀ قرشی و هوای وگزال

(اگر مجھے فردوس میں لے جائیں تو بھی میرے ذہن سے دروازۂ قرشی کی اور وگزال کی آب و ہوا کی یاد نہیں جائے گی۔)
یہ شاید بخارا کے علاقوں کے نام ہوں گے۔

این همان ملکِ بخاراست، ز جهدِ اهلش
منبعِ علم به اسلام شده چندین سال

(یہ وہی ملکِ بخارا ہے کہ جس کے باشندوں کی کوششوں سے یہ شہر کئی سالوں تک اسلام کے لیے منبعِ علم بنا رہا تھا۔)

این همان ملکِ بخاراست، بخارای بزرگ
زد از این خطه به اطرافِ جهان کوسِ کمال

(یہ وہی ملکِ بخارا ہے جس خطے سے بخارائے بزرگ یعنی ماوراءالنہر و ترکستان نے اطرافِ جہاں میں اپنے کمال کا کوس بجایا تھا۔‌)

این همان ملکِ بخاراست، علی سینا را
رتبه‌ای داد که نادیده کسی تا این حال

(یہ وہی ملکِ بخارا ہے کہ جس نے ابنِ سینا کو وہ رتبہ دیا تھا جیسا تا حال کسی نے نہیں دیکھا ہے۔)

این همان ملک بخاراست، که سامانیان
بهرِ تزیینش به امصار نمودند جدال

(یہ وہی ملکِ بخارا ہے کہ جس کی تزئین کے لیے سامانی امیروں نے دوسرے شہروں سے جنگ و جدال کی تھیِ۔)

این همان ملکِ بخاراست، که عبدالله خان
کرد دستش به عماراتِ متین شهر مثال

(یہ وہی ملکِ بخارا ہے کہ جہاں ازبک شیبانی امیر عبداللہ خان کے ہاتھوں نے شہر جیسی عماراتِ متین بنانا شروع کی تھیں۔)

گرچه آن عزت و آن شوکت و آن دانش نیست
هست آن فطرت و آن آب و هوا بر یک حال

(اگرچہ اب وہ عزت، وہ شوکت اور وہ دانش موجود نہیں ہے لیکن وہ فطرت اور وہ آب و ہوا اُسی حال پر موجود ہے۔‌)

می‌توان رفت به آن مرتبه با کوشش و سعی
می‌توان رست از این مهلکه با کسبِ کمال

(اُس پرانے ارفع مرتبے پر کوشش و سعی سے دوبارہ پہنچا جا سکتا ہے اور کسبِ کمال کر کے موجودہ تباہی سے رہائی پائی جا سکتی ہے۔)

گرچه انواعِ ستم دیده از اینجا رفتم
به ولایش، که به دل نیست مرا هیچ ملال

(اگرچہ میں کئی طرح کے ستم سہہ کر یہاں سے گیا ہوں لیکن اس بخارا کی محبت کی قسم، کہ میرے دل میں کوئی ملال نہیں ہے۔)

مفخرِ عالمِ اسلام، امامِ سنت
همه دانند که بیرون شد از این جا به چه حال

(سب جانتے ہیں کہ عالمِ اسلام کا فخر اور امامِ سنت یہاں سے کس حال میں خارج ہوا تھا۔)

برّۀ خسته نخواهد که بخوابد برِ گرگ
مرغِ بی‌چاره بباید که گریزد ز شغال

(بھیڑ کا خستہ بچہ نہیں چاہتا کہ وہ بھیڑیے کے نزدیک سوئے؛ اور بے چارے مرغ کو لازم ہے کہ وہ گیڈر سے مجتنب رہے۔)

آدمی زادۀ بیچاره به یک روزه حیات
با بنی نوعِ خود آماده به میدانِ قتال

(بیچارہ انسان ایک روزہ حیات میں بھی اپنی ہی نوع کی اولاد کے ساتھ میدانِ قتال سجانے کے لیے آمادہ رہتا ہے۔)

مهر و شفقت به جهان نیست، اگر هست ریا
آدمیت به زمان نیست، اگر هست خیال

(اس جہاں میں مہر و شفقت نہیں ہے، اگر ہے تو ریا ہے؛ اس زمانے میں انسانیت نہیں ہے، اگر ہے تو صرف خیال ہے۔)

میل بر دیده گزارند و بگویند خموش
تیر بر سینه خلانند و بگویند منال

(لوگ آنکھوں پر سلائی پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاموش رہو؛ لوگ سینوں پر تیر گھونپ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نالہ و زاری مت کرو۔)

یارمندی به بنی نوع بدانند حرام
خونِ اسلام به اسلام بدانند حلال

(لوگ بنی نوعِ انسان کی مدد کرنا حرام سمجھتے ہیں لیکن اسلام کا اسلام سے خون کرنا حلال سمجھتے ہیں۔)

حاکمِ شرع مطیع است به امرِ اوباش
مفتیِ شرع اسیر است به دستِ ارذال

(حاکمِ شرع اب امرِ اوباش کا مطیع ہے جبکہ مفتیِ شرع رذیلوں کے ہاتھوں اسیر ہے۔)

حکمِ تکفیرِ مسلمان بستانند به زور
امرِ تطهیر ز عصیان بفروشند به مال

(اب مسلمان کی تکفیر کا حکم بہ زور لے لیا جاتا ہے جبکہ گناہوں سے تطہیر کا امر مول بیچا جاتا ہے۔‌)

پرده این بی‌خبران چند بپوشند به کار
که خبیر است و بصیر است خدای متعال

(یہ بے خبر لوگ کب تک اپنے کام پر پردہ ڈالتے رہیں گے کہ خدائے متعال تو خبیر و بصیر ہے۔)

حالِ ما سخت پریشان شده ای فخرِ رسل
دستگیری نکنی زود، یقین است زوال

(اے فخرِ رسل! ہمارا حال سخت پریشان ہو گیا ہے، اگر آپ نے جلد دستگیری نہ فرمائی تو زوال یقینی ہے۔)

چشمِ لطفی طرفِ عالمِ اسلام فکن
دستِ مهری به سرِ امتِ مظلوم بمال

(عالمِ اسلام پر ایک چشمِ لطف ڈالیے اور امتِ مظلوم کے سر پر ایک شفقت کا ہاتھ پھیریے۔‌)

(صدرالدین عینی)
۱۹۱۹ء
× صدرالدین عینی بخارائی کو بابائے ادبیاتِ تاجک کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے بیسویں صدی عیسوی میں جدید تاجک نظم و نثر کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کا شمار کشورِ تاجکستان اور ملتِ تاجک کے قومی ادبی قہرَمانوں (ہیروؤں) میں سے ہوتا ہے۔
307.jpg
 
آخری تدوین:
جزاکم اللہ حسان بھائی، بہترین کلام ہے۔

مفخرِ عالمِ اسلام، امامِ سنت
همه دانند که بیرون شد از این جا به چه حال

اس شعر میں اغلبا امام بخاری کی جانب اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ :) :)
 

حسان خان

لائبریرین
این ھمین ملک بخاراست، کہ روزی خواھم رفت
گر کہ رفتم، برنمی گردم ز نجا چندین سال

من هم همینطور!
در کراچی اقامت دارم ولی طایر روحم همواره بر فراز ماوراءالنهر و خراسان و فارس و آذربایجان پرواز می‌کند. دلم خیلی می‌خواهد که به جایی کوچ کنم که در آنجا مردم به زبان فارسی صحبت می‌کنند.
میں کراچی میں اقامت رکھتا ہوں لیکن میری روح کا پرندہ ہمیشہ ماوراءالنہر و خراسان و فارس و آذربائجان کی بلندیوں پر پرواز کرتا رہتا ہے۔ میرا دل بہت چاہتا ہے کہ کسی ایسی جگہ کوچ کر جاؤں جہاں مردم زبانِ فارسی میں گفتگو کرتے ہیں۔
 
آخری تدوین:
Top