خوف زدہ لوگوں کے درمیان! روزن دیوار سے - عطاء الحق قاسمی

فرخ منظور

لائبریرین

خوف زدہ لوگوں کے درمیان!,,,,روزن دیوار سے … عطاء الحق قاسمی

1/4/2009
میں نے ملک صاحب سے کہا”ملک صاحب!آج کل لوڈ شیڈنگ سے عوام بہت پریشان ہیں ، ایک گھنٹے کے لئے بجلی آتی ہے اور پھر کئی گھنٹوں کے لئے چلی جاتی ہے، عوام اس صورتحال کی وجہ سے ذہنی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں“۔ اس پر ملک صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے”پتہ نہیں تم کن عوام کی بات کررہے ہو، میں تو بالکل نارمل ہوں، کیا تمہیں میرے چہرے پر کوئی پریشانی نظر آرہی ہے؟“۔میں نے جواب دیا ”نہیں“، کیونکہ آپ کے پاس 32کے وی کا جنریٹر ہے جس سے کئی گھر روشن کئے جاسکتے ہیں“۔ ملک صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری ، انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ”یہ کوئی دلیل نہیں، میں اگر پریشان ہونا چاہوں تو مجھے کون روک سکتا ہے؟دراصل تم لوگ پریشانیوں سے محبت کرنے لگ گئے ہو“۔ میں نے عرض کی ”ملک صاحب!اتنی سنگدلی کا مظاہرہ نہ کریں لوگ مسائل کے ہاتھوں عاجز آئے ہوئے ہیں، مہنگائی نے ان کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے“۔ ملک صاحب نے یہ سن کر ایک بار پھر قہقہہ لگایا اور بولے”کون سی مہنگائی؟میں کل بازار گیا تھا اور قیمتیں سن کر حیران رہ گیا اس قدر کم قیمتیں؟یقین کرو اٹلی کا بنا ہوا سوٹ صرف ڈیڑھ لاکھ میں مل رہا تھا“۔اس وقت میری دسترس میں کوئی اینٹ نہیں تھی جس سے میں اپنا یا ملک صاحب کا سر پھوڑ سکتا، چنانچہ میں نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ”ملک صاحب!آپ اپنی بات نہ کریں، آپ امیر آدمی ہیں، میں غریب لوگوں کی بات کررہا ہوں،جن کے لئے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہورہی ہے“۔یہ سن کر ملک صاحب نے رونی آواز میں کہا”کیوں میری غربت کا مذاق اڑاتے ہو، میں ستر کروڑ روپے کا مقروض ہوں“۔ میں نے عرض کی ”اخبار میں خبر شائع ہوئی تھی کہ آپ کے یہ ستر کروڑ روپے حکومت نے معاف کردئیے ہیں“۔اس پرملک صاحب نے میری بے خبری پر سر پیٹ لیا اور بولے”یہ ستر کروڑ ابھی معاف نہیں ہوئے ، وہ پچاس کروڑ معاف ہوئے ہیں جس کی خبر تم نے پڑھی ہوگی“۔
مجھے ملک صاحب کی ”غربت“پر ترس آنے لگا تھا تاہم میں نے اس ”مقروض“ شخص سے کہا”وہ تو ٹھیک ہے لیکن پھر بھی آپ ان لوگوں کا سوچیں جو اس شدید سردی میں گیس کا ہیٹر بھی نہیں جلا سکتے کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی زوروں پر ہے“۔ ملک صاحب بولے”پتہ نہیں یار! تم کس دنیا میں رہتے ہو، میں بھی تو انسان ہوں، میں بھی تو اس سردی میں آخر جی ہی رہا ہوں بلکہ میں تو رات کو صرف بنیان اور انڈر ویئر میں سوتا ہوں“۔ میں نے کہا”ملک صاحب !لگتا ہے شدید غربت اور کروڑوں روپوں کے مقروض ہونے کی وجہ سے آپ کی یادداشت متاثر ہوئی ہے، کیونکہ آپ بھول رہے ہیں آپ کا گھر سینٹرلی ہیٹڈ ہے“۔ ملک صاحب کو میری یہ بات اچھی نہیں لگی ، چنانچہ غیظ و غضب کے عالم میں بولے”تم لوگوں میں اتنا حسد کیوں ہے؟ اور تم لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ انسان اگر گزارہ کرنا چاہے تو ہر طرح کے حالات میں کرسکتا ہے،آخر انسان کبھی غاروں میں بھی تو رہا کرتا تھا۔ وہاں کون سی بجلی ہوتی تھی، وہاں کون سی گیس تھی، یہ جو تم دو وقت کی روٹی کی بات کرتے ہو، وہاں کون دو وقت کی روٹی کھاتا تھا، لوگ گھاس پھونس کھالیتے تھے، اگر کسی کا نشانہ اچھا ہے تو وہ کوئی جانور شکار کرلیتا تھا، باقی لوگ بیٹھے اس کا منہ دیکھتے رہتے تھے“۔
ملک صاحب کا یہ لیکچر میرے لئے خاصا چشم کشا تھا، ان کے اندر کا وہی غاروں میں رہنے والا انسان باہر آگیا تھا جو Survival of the fittestپر یقین رکھتا تھا، مجھے لگا جیسے آج بھی ایک عام آدمی غاروں میں رہنے والے انسان کی زندگی بسر کررہا ہے ، چنانچہ بجلی پانی اور مناسب خوراک سے اس طرح محروم ہے جس طرح اس کے ”آباو اجداد“ محروم تھے، ان لمحوں میں مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ ملک صاحب اور ان ایسے دوسرے دس بیس لوگ تیر کمان کا ندھوں سے لٹکائے اپنے ٹھکانوں سے باہر نکلتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ا ب وہ جانوروں کی بجائے انسانوں کا شکار کرتے نظرآتے ہیں۔ اقتداران کے پاس ہے،سیاست ان کے گھر کی لونڈی ہے، عدالتیں ان کی ہیں ، قانون ان کا ہے، معیشت ان کے اشاروں پرچلتی ہے، وسائل ان کے پاس ہیں، محلات میں رہنے والی یہ مخلوق عوام نالی کی مخلوق سے متعارف نہیں ہے۔ عوام کے مسائل انہیں خود ساختہ لگتے ہیں، یہ”ڈان“ہیں اور لوگ ان کے خوف سے گھروں میں سہمے بیٹھے ہیں۔ اہل قلم ان سہمے ہوئے لوگوں کے دکھ درد بیان کرتے ہیں، مگر ان کا خوف دور نہیں کرتے ۔میں نے سوچا اہل قلم بھی تو انہی خوفزہ لوگوں کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک خوفزہ شخص کسی دوسرے خوفزہ شخص کا خوف کیسے دور کرسکتا ہے؟
 

arifkarim

معطل
ہاہاہا، کیا خیال اب پاکستانی عوام کو 62 سال بعد احساس ہو گیا کہ ہمارے مسائل سیاسی نہیں، ٹیکنیکی ہیں! :)
 

arifkarim

معطل

اقتداران کے پاس ہے،سیاست ان کے گھر کی لونڈی ہے، عدالتیں ان کی ہیں ، قانون ان کا ہے، معیشت ان کے اشاروں پرچلتی ہے، وسائل ان کے پاس ہیں، محلات میں رہنے والی یہ مخلوق عوام نالی کی مخلوق سے متعارف نہیں ہے۔ عوام کے مسائل انہیں خود ساختہ لگتے ہیں، یہ”ڈان“ہیں اور لوگ ان کے خوف سے گھروں میں سہمے بیٹھے ہیں۔ اہل قلم ان سہمے ہوئے لوگوں کے دکھ درد بیان کرتے ہیں، مگر ان کا خوف دور نہیں کرتے ۔میں نے سوچا اہل قلم بھی تو انہی خوفزہ لوگوں کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک خوفزہ شخص کسی دوسرے خوفزہ شخص کا خوف کیسے دور کرسکتا ہے؟

اصل اقتدار بین الاقوامی بینکرز اور سرمایہ داران کے پاس ہے جو ہمارے نام نہاد حکمرانوں کو اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں
 

arifkarim

معطل
بھائی کیا آپ پاکستانی عوام میں شامل نہیں‌ہیں؟ آپ کیا افریقی ہیں؟

میں پاکستانی عوام میں تو شامل ہوں، لیکن مجبورا وہاں رہ نہیں سکتا۔ جیسا کہ حالات ہو چکے ہیں۔ پتھر کے زمانے میں اب کون واپس جائے۔ اصلاح تو انہی کو کرنی جو وہاں رہتے ہیں۔ ہمارا کام مردہ قوم میں شعور بیدار کرنا ہے۔ جو ہم کر رہے ہیں۔
 
Top