فراز خوف اتنا ہے تیرے شہر کی گلیوں میں فراز

رند نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 6, 2011

  1. رند

    رند محفلین

    مراسلے:
    359
    السلام علیکم
    فاصلے اتنے بڑھے ہجر میں آزار کے ساتھ
    اب تو وہ بات بھی کرتے نہیں غمخوار کے ساتھ

    اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
    طاق پہ عزت سادات بھی دستار کے ساتھ

    اک تو تم خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
    اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

    ہم کو اس شہر میں جینے کا سودا ہے جہاں
    لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

    خوف اتنا ہے تیرے شہر کی گلیوں میں فراز
    چھاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,919
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے۔
     
  3. محمد مسلم

    محمد مسلم محفلین

    مراسلے:
    223
    کیا خوب وارث بھائی، شکریہ
     

اس صفحے کی تشہیر