محسن نقوی خوبصورت ترین لڑکی ۔

ناعمہ عزیز

لائبریرین
گاؤں کے بے چراغ رستے میں
میلی چادر بچھا کے مٹی پر
یہ جو اندھے اداس دل والی
ایک پاگل دکھائی دیتی ہے
جس کی بے ربط گفتگو اکثر
بام و در کو سنائی دیتی ہے
جس کی آنکھوں میں رات ڈھلتی ہے
جس کی شہ رگ کے ڈھلتے موسم میں
زندگی کی تپش پگھلتی ہے
جم گئے جس کے خواب چہرے پر
جھریاں ہیں بے حساب چہرے پر
کانپتے ہاتھ جن کے سائے سے
آخرِ شب دعا لرزتی ہے
جس کی اکھڑی اکھڑتی سانسوں سے
روز و شب کے بھنور گریزاں ہیں
بھوک جس کے لئے غذا جیسی
جس کے نزدیک پیاس پانی ہے
اس کو عبرت سے دیکھنے والو
اس کے بارے میں اپنے گاؤں کے
داستاں گو بزرگ کہتے ہیں
یہ اکیلی اداس بنجارن
اب سے آدھی صدی سے اس جانب
روپ میں دھوپ سے بھی اجلی تھی
پھول کھلتے تھے جس کے آنگن میں
خوشبوؤں سے خراج لیتی تھی
اب سے آدھی صدی کے اس جانب
یہ اکیلی اداس بنجارن
اپنے گاؤں کی اپسراؤں میں
"خوبصورت ترین لڑکی تھی "۔۔۔
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
ایسی نظم پر واہ کس طرح لکھا جائے؟ کتنا درد پرو دیا ہے الفاظ میں محسن نقوی نے۔۔۔ ہائے ہائے ہائے
خصوصاً یہ دو سطریں تو گویا کائنات کا سارا دکھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔۔۔
کانپتے ہاتھ جن کے سائے سے
آخرِ شب دعا لرزتی ہے
معلوم نہیں کہ اس کا عنوان کیا رکھا ہو گا محسن نقوی نے لیکن ، مجھے یہی اچھا لگا تو لکھ دیا :)
اس نظم کا عنوان محسن نقوی نے "خزاں" رکھا تھا۔
 

مقدس

لائبریرین
ناعمہ تم شاعرہ بن گئی ہوتو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رونے دھونے والی شاعری پوسٹ کرو گندی بچی
 
Top