1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

خواجہ حسن نظامی کا طرزِ تبلیغ

الف نظامی نے 'جہان نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 18, 2007

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    خواجہ حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ کا طرزِ تبلیغِ اسلام
    خواجہ صاحب نے اپنی زندگی میں قومی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تحریک خلافت ، حادثہ مسجد کانپور ، شدھی تحریک کی مخالفت اور تحریک پاکستان کیلیے ان کے مخلصانہ کارناموں پر ضخیم کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ تاہم میرے خیال میں ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ "شدھی تحریک" سے مقابلہ ہے۔ اپنی پر اثر تحریروں اور پرجوش تقریروں سے انہوں نے سوامی شردھانند کا ناطقہ بند کردیا تھا۔ ان کی شب و روز تبلیغی جدو جہد سے جہاں لاکھوں آدمی مرتد ہونے سے بچ گئے وہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریبا اسی ہزار کفار دائرہ اسلام میں شامل ہوئے۔ خواجہ صاحب نے شہروں میں اپنی خطابت کا جادو جگانے کے بجائے دور افتادہ دیہات میں اس کا تعاقب کیا اور نہ صرف اس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ ان پڑھ دیہاتیوں کے دلوں میں ایمان و ایقان کی ایسی شمعیں روشن کیں ، جنہیں بعد میں کفر و باطل کی تیز آندھیاں بھی نہ بجھا سکیں۔

    کاٹھیا وار کے علاقے میں ایک چھوٹٰ سے ریاست "وزیریہ" تھی۔ یہاں کے نومسلم راجہ ٹھاکر صاحب کہلاتے تھے۔ ٹھاکر صاحب اور ان کی ریاست کے چھ لاکھ ہم قوم ہندو ہونے پر تل گئے۔

    خواجہ حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ نے ٹھاکر صاحب سے فرمایا

    ٹھاکر صاحب! آپ کیوں ہندو ہونا چاہتے ہیں؟

    ٹھاکر صاحب بولے:

    "لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہی کہ کیسے راجپوت ہو کہ مسلمانوں کی تلوار سے ڈر کر تم نے اسلام قبول کرلیا؟"

    خواجہ صاحب نے پوچھا:

    "کیا تمہارے دادا نے واقعی تلوار کے خوف سے اسلام قبول کیا تھا؟"

    ٹھاکر صاحب بولے:

    "نہیں ، نہیں ۔ انہوں نے اسلام کو سچا دین جان کر اسے قبول کیا تھا۔"

    خواجہ صاحب بولے:

    "تو پھر آپ لوگوں سے کیوں نہیں کہتے کہ ہم بہادر راجپوت ہیں، اور ہم نے بہادروں کا دین قبول کیا ہے۔ بہادروں کے لیے بہادروں کا دین ہے اور بزدلوں کے لیے بزدلوں کا دین ہے۔ آپ کے دادا بہادر تھے، انہوں نے بہادروں کا دین قبول کیا تھا"

    یہ کہہ کر خواجہ صاحب نے کچھ پڑھ کر ٹھاکر صاحب کے سینے پر دم کیا۔

    ٹھاکر صاحب بولے:

    "کچھ بھی ہو، اب میں بنیوں کا دین قبول نہیں کروں گا، اسلام واقعی بہادروں کا دین ہے"

    خواجہ صاحب کا طرزِ تبلیغ بڑا موثر تھا۔ وہ ہر شخص سے اس کی ذہنی استعداد کے مطابق بات چیت کرتے اور اسلام کی حقانیت ذہن نشین کراتے تھے۔

    شدھی تحریک کے زمانے میں انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں ہینڈ بل ، پمفلٹ اور کتابیں شائع کیں۔ اس زمانے میں ان پر ہندوں کی طرف سے قاتلانہ حملے بھی ہوئے ، جھوٹے مقدمے بھی قائم ہوئے ،فحش گالیاں بھی دی گئیں ، لیکن وہ تبلیغ دین اور اشاعت اسلام سے باز نہیں آئے۔ گاندھی نے جب انہیں تبلیغی کاموں سے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے صاف صاف کہا کہ "جب تک شردھانند کی تحریک ارتداد کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوجاتا ، میں چین سے نہیں بیٹھوں گا"

    شردھانند کے فتنہ ارتداد کے بعد خواجہ صاحب نے جو کچھ بھی لکھا ، وہ انسدادِ ارتداد ہی کی خاطر لکھا۔ جو سفر یا تقریر کی ، اسی مقصد کے لیے کی۔ اس کی پانچ سو کتابوں میں سے نصف سے زیادہ انسدادِ ارتداد سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ اردو زبان کے بہت بڑے ادیب تھے، بلاشبہ انہوں نے اپنے قلم سے تبلیغ دین کا حق ادا کیا۔

    ان کی قبر پر ہزاروں رحمتیں ہوں۔

    تحریر از خواجہ عابد نظامی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جزاک اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اسی طرح خواجہ حسن نظامی کے مرید کشفی شاہ نظامی نے برما میں تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیا۔ ایس ایم ظفر ، کشفی شاہ نظامی کے فرزند ہیں۔
     
  4. حسن نظامی

    حسن نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت خوب لکھا محترمی آپ نے

    ایک گزارش ہے کہ

    خواجہ حسن نظامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا علامہ اقبال کے ساتھ جو اختلاف تھا فلسفہ خودی کے معاملے میں جس میں بعد میں آپ نے حکیم امت کے ساتھ اتفاق کر لیا تھا اس کے بارےمیں اگر کچھ بتا سکیں یا کہیں رہنمائی کر سکیں انٹرنیٹ پر تو نوازش ہو گی
     
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    حسن نظامی اس بارے میں کہیں تھوڑا سا پڑھا تھا ، لیکن مجھے اس بارے میں کوئی خاص معلومات نہییں۔
     
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    بہت شکریہ
    خواجہ حسن نظامی سے میری ایک نسبت اور بھی ہے کہ کراچی کے جس اسکول سے مڈل کلاس پڑھی اسکا نام بھی حضرت کے نام پر تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت شکریہ ہمت علی۔
     
  9. محمد کاشف صدیقی

    محمد کاشف صدیقی محفلین

    مراسلے:
    47
    بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  11. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    سوامی دیانند سرسوتی کی طرف سے قائم کردہ شدھی تحریک مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے چلائی گئی تھی۔ اگرچہ وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا تا ہم وہ ہندوں کے جذبات کی پوری ترجمانی کرتا تھا۔ اس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ نعرہ بلند کیا تھا
    کہ ہندوستان صرف ہندووں کے لیے ہے۔ ستیارتھ پرکاش کا 14 واں باب اسلام کی مخالفت میں لکھا۔
    دیانند سرسوتی لاتعداد جاہل اور ان پڑھ مسلمانوں کو شدھی کے ذریعے ہندو بنا چکا تھا۔
    شدھی کا طریقہ یہ تھا کہ جس مسلمان کو ہندو بنانا ہوتا اُسے پنج رتن کھلایا جاتا۔
    جب وہ پنج رتن کھا لیتا تو ہندو بن جاتا
    گائے کے دودھ ، دہی ، مکھن ، پیشاب اور گوبر کے آمیزے کو پنج رتن کہا جاتا تھا۔
    1927 میں دیانند سرسوتی ایک غیرت مند مجاہد غازی عبد الرشید کے ہاتھوں دہلی میں عین اس وقت قتل ہوا جب وہ ہندووں کے ایک بہت بڑے جلوس کی قیادت کر رہا تھا۔
    بحوالہ حیاتِ کشفی شاہ نظامی صفحہ 174 ، 175
     
  12. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    1890 میں ایک آریہ سماجی ہندو لیڈر منشی کنہیا لال نے ہندووں کے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا
    ہندوو! تمہیں شرم آنی چاہیے! اگر تم میں شکتی (طاقت) ہوتی تو مسلمانوں کی تمام مسجدوں کو اب تک ڈھا چکے ہوتے
    بحوالہ حیاتِ کشفی شاہ نظامی، صفحہ 218
     

اس صفحے کی تشہیر