خند و ملاحت

کاتب حضرات شعروں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی کھلواڑ کرتے ہیں! :)

جناب ، بعض کاتب حضرات کے بارے میں تو سنا ہے کہ کتابت کی آڑ میں اپنے تئیں ’’اصلاح‘‘ دیا کرتے تھے ۔ :):):)

ابنِ صفی نے کہیں ایک کاتب صاحب کے بارے میں لکھا تھا جو پِکاسُو پر ایک مضمون کی کتابت کررہے تھے۔ انہوں نے جانا کہ مضمون نگار سے 'ر' سہواً' لکھنے سے رہ گئی ہے، لہٰذا جہاں جہاں پِکاسُو کا نام نظر آیا وہ ایک عدد 'ر' کا اضافہ کرتے چلے گئے۔
 
ابنِ صفی نے کہیں ایک کاتب صاحب کے بارے میں لکھا تھا جو پِکاسُو پر ایک مضمون کی کتابت کررہے تھے۔ انہوں نے جانا کہ مضمون نگار سے 'ر' سہواً' لکھنے سے رہ گئی ہے، لہٰذا جہاں جہاں پِکاسُو کا نام نظر آیا وہ ایک عدد 'ر' کا اظافہ کرتے چلے گئے۔
ہا ہا ہا ہا ! اس پر تو بے ساختہ قہقہہ نکلا ہے !!

:D:D:D:D:D:D:D
 
ایک مہمل گو شاعر نے مولانا جامی سے کہا کہ جب میں خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تو تبرک کے طور پر اپنے دیوان کو حجر اسود سے رگڑا.
مولانا جامی فرمانے لگے؛ بہتر تو یہ تھا آپ تبرکاً اسے آب زم زم سے دھو دیتے.
 
حضرت علی رضی اللہ کے پاس جب بھی کوئی لغو یا بے مقصد مقدمہ آتا تو آپ زندہ دلی کا ثبوت دیتے تھے.
ایک دن ایک شخص نے دوسرے شخص کو یہ کہہ کر عدالت میں پیش کیا کہ اس نے خوب میں دیکھا ہے کہ اس نے میری ماں کی آبروریزی کی ہے.
آپ رضی اللہ نے فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ؛
ملزم کو دھوپ میں جا کر کھڑا کرو اور اس سائے کو سو کوڑے مارو.
 
ایک بار بنگال کے مشہور شاعر قاضی نذر السلام کو اطلاع ملی کہ ڈھاکہ میونسپل کارپوریشن ان کی ادبی خدمات کے عوض ایک پارک میں ان کا مجسمہ نصب کرنا چاہتی ہے، مجسمے پر ایک لاکھ روپے خرچ کرے گی،
قاضی نذر السلام نے اپنے دوست سے کہا کہ اگر کارپوریشن یہ رقم مجھے دیدے تو میں خود اس پارک کھڑا رہا کروں گا
 
ایک بار بنگال کے مشہور شاعر قاضی نذر السلام کو اطلاع ملی کہ ڈھاکہ میونسپل کارپوریشن ان کی ادبی خدمات کے عوض ایک پارک میں ان کا مجسمہ نصب کرنا چاہتی ہے، مجسمے پر ایک لاکھ روپے خرچ کرے گی،
قاضی نذر السلام نے اپنے دوست سے کہا کہ اگر کارپوریشن یہ رقم مجھے دیدے تو میں خود اس پارک کھڑا رہا کروں گا
لو اور سنو ! چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں ۔۔ بڑے میاں سبحان اللہ!
آپ بھی آپی کیسی بچوں والی بات کررہی ہو۔اجی میں کہتا ہوں اس نذرو بنگالی کے ابے کی ٹانگوں میں اتنا دم نا تھا کہ ایک دن کے لیے بھی پارک میں کھڑا رہ سکتے ۔۔ ایویں ڈینگ ماری ہوگی ۔
آپی ، کل ہی میں نے آپ سے کہا تھا کہ ایک تو وہم نا کیا کریں ،دوسرے افواہوں پہ کان نا دھریں۔
چھوٹے بھائی کی اتنی سی تو بات مان لیں۔
 
ایک مہمل گو شاعر نے مولانا جامی سے کہا کہ جب میں خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تو تبرک کے طور پر اپنے دیوان کو حجر اسود سے رگڑا.
مولانا جامی فرمانے لگے؛ بہتر تو یہ تھا آپ تبرکاً اسے آب زم زم سے دھو دیتے.

کچھ اسی طرح کا واقعہ کسی مشہور فارسی شاعر کے بارے میں پڑھا تھا کہ ایک مبتدی سے شاعر نے آکر انہیں اپنا کلام سنایا اور کہنے لگا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کلام کو جلی خط میں لکھوا کر شہر دروازے پر لٹکوادوں تاکہ ہر خاص و عام اس سے مستفیض ہوسکے ۔ انہوں نے جواب دیا : اگر کلام کے ساتھ ساتھ شاعر کو بھی لٹکادیا جائے تو لوگ اور زیادہ مستفیض ہوں گے ۔
 
Top