خدا کے واسطےمجھے تبدیلیاں نہیں چاہییں

عائشہ خٹک

محفلین

مجھے وہ پرانا پاکستان چائیے
جہاں محبت بستی تھی۔
جہاں محلے میں ایک گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اتوار کو پورا محلہ اس گھر میں جا کر فلم دیکھا کرتا تھا۔
جہاں محلے کا فریج سارے محلے کے مہمانوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کیا کرتا تھا۔
جہاں محلے کی ایک گاڑی پورے محلے کی ایمبولینس بھی ہوا کرتی تھی۔
جہاں کسی بھی بزرگ کے سامنے چھوٹے پان یا سگریٹ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
جہاں نوجوان بس میں کسی بوڑھے کو کھڑا دیکھ کر جگہ دے دیا کرتے تھے۔
جہاں بیرون ملک جانے والے کسی جوان کو پورا محلہ ائیر پورٹ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔
جہاں کسی کے گھر زیادہ مہمان آ جاتے تو پڑوسی اپنا کمرہ پیش کر دیتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر دہشتگردی نہیں ہوا کرتی تھی۔
جہاں اسلام کے نام پر خود کش حملے نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا جاتا تھا۔

خدا کےلئے مجھے میرا پاکستان واپس کر دو، مجھے تبدیلی نہیں چائیے۔
مجھے تبدیل نہیں ہونا
خدا کےلئے۔
 

عاطف بٹ

محفلین
بہت ہی زبردست بات کی ہے۔
عائشہ، میرے آبائی محلے میں تو اب بھی مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس طرح مل جل کر رہتے ہیں کہ سگے بہن بھائی لگتے ہیں۔ کسی کے گھر کوئی خوشی یا غمی کا موقع ہو تو پورے محلے کے لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ محلے کے بچے آج بھی سب بڑوں سے ڈرتے اور ان کا احترام کرتے ہیں اور کسی بچے کو غلطی کرنے پر کسی بڑے سے ڈانٹ یا مار پڑے تو اس کی ماں کہتی ہے کہ اچھا ہوا ہے، تم نے ہی کچھ غلط کیا ہوگا۔
 

عزیزامین

محفلین
مجھے وہ پرانا پاکستان چائیے
جہاں محبت بستی تھی۔
جہاں محلے میں ایک گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اتوار کو پورا محلہ اس گھر میں جا کر فلم دیکھا کرتا تھا۔
جہاں محلے کا فریج سارے محلے کے مہمانوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کیا کرتا تھا۔
جہاں محلے کی ایک گاڑی پورے محلے کی ایمبولینس بھی ہوا کرتی تھی۔
جہاں کسی بھی بزرگ کے سامنے چھوٹے پان یا سگریٹ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
جہاں نوجوان بس میں کسی بوڑھے کو کھڑا دیکھ کر جگہ دے دیا کرتے تھے۔
جہاں بیرون ملک جانے والے کسی جوان کو پورا محلہ ائیر پورٹ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔
جہاں کسی کے گھر زیادہ مہمان آ جاتے تو پڑوسی اپنا کمرہ پیش کر دیتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر دہشتگردی نہیں ہوا کرتی تھی۔
جہاں اسلام کے نام پر خود کش حملے نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا جاتا تھا۔

خدا کےلئے مجھے میرا پاکستان واپس کر دو، مجھے تبدیلی نہیں چائیے۔
مجھے تبدیل نہیں ہونا
خدا کےلئے۔
آمین
 
مجھے وہ پرانا پاکستان چائیے
جہاں محبت بستی تھی۔
جہاں محلے میں ایک گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اتوار کو پورا محلہ اس گھر میں جا کر فلم دیکھا کرتا تھا۔
جہاں محلے کا فریج سارے محلے کے مہمانوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کیا کرتا تھا۔
جہاں محلے کی ایک گاڑی پورے محلے کی ایمبولینس بھی ہوا کرتی تھی۔
جہاں کسی بھی بزرگ کے سامنے چھوٹے پان یا سگریٹ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
جہاں نوجوان بس میں کسی بوڑھے کو کھڑا دیکھ کر جگہ دے دیا کرتے تھے۔
جہاں بیرون ملک جانے والے کسی جوان کو پورا محلہ ائیر پورٹ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔
جہاں کسی کے گھر زیادہ مہمان آ جاتے تو پڑوسی اپنا کمرہ پیش کر دیتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر دہشتگردی نہیں ہوا کرتی تھی۔
جہاں اسلام کے نام پر خود کش حملے نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا جاتا تھا۔

خدا کےلئے مجھے میرا پاکستان واپس کر دو، مجھے تبدیلی نہیں چائیے۔
مجھے تبدیل نہیں ہونا
خدا کےلئے۔
بہت ہی معصومانہ اظہار ہے عائشہ صاحبہ ۔لیکن اگر تبدیلی مثبت ہو اور اجتماعی فائدہ لیئے ہوئے ہو تو ہمارےخیال میں اسے ضرور رونما ہونا چاہیئے۔:)
 

نایاب

لائبریرین
مجھے وہ پرانا پاکستان چائیے
جہاں محبت بستی تھی۔
جہاں محلے میں ایک گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اتوار کو پورا محلہ اس گھر میں جا کر فلم دیکھا کرتا تھا۔
جہاں محلے کا فریج سارے محلے کے مہمانوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کیا کرتا تھا۔
جہاں محلے کی ایک گاڑی پورے محلے کی ایمبولینس بھی ہوا کرتی تھی۔
جہاں کسی بھی بزرگ کے سامنے چھوٹے پان یا سگریٹ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
جہاں نوجوان بس میں کسی بوڑھے کو کھڑا دیکھ کر جگہ دے دیا کرتے تھے۔
جہاں بیرون ملک جانے والے کسی جوان کو پورا محلہ ائیر پورٹ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔
جہاں کسی کے گھر زیادہ مہمان آ جاتے تو پڑوسی اپنا کمرہ پیش کر دیتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر دہشتگردی نہیں ہوا کرتی تھی۔
جہاں اسلام کے نام پر خود کش حملے نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا جاتا تھا۔

خدا کےلئے مجھے میرا پاکستان واپس کر دو، مجھے تبدیلی نہیں چائیے۔
مجھے تبدیل نہیں ہونا
خدا کےلئے۔
خواب و خیال ہوئے کیسے اچھے دن ۔۔۔۔۔۔۔
نوحہ دل دردمند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان شاءاللہ سوہنی دھرتی پر بہار آنے کو ہے ۔
بہت بہترین سادہ و سچا معصومانہ اظہار ۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
مجھے وہ پرانا پاکستان چائیے
جہاں محبت بستی تھی۔
جہاں محلے میں ایک گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اتوار کو پورا محلہ اس گھر میں جا کر فلم دیکھا کرتا تھا۔
جہاں محلے کا فریج سارے محلے کے مہمانوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کیا کرتا تھا۔
جہاں محلے کی ایک گاڑی پورے محلے کی ایمبولینس بھی ہوا کرتی تھی۔
جہاں کسی بھی بزرگ کے سامنے چھوٹے پان یا سگریٹ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
جہاں نوجوان بس میں کسی بوڑھے کو کھڑا دیکھ کر جگہ دے دیا کرتے تھے۔
جہاں بیرون ملک جانے والے کسی جوان کو پورا محلہ ائیر پورٹ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔
جہاں کسی کے گھر زیادہ مہمان آ جاتے تو پڑوسی اپنا کمرہ پیش کر دیتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر دہشتگردی نہیں ہوا کرتی تھی۔
جہاں اسلام کے نام پر خود کش حملے نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا جاتا تھا۔

خدا کےلئے مجھے میرا پاکستان واپس کر دو، مجھے تبدیلی نہیں چائیے۔
مجھے تبدیل نہیں ہونا
خدا کےلئے۔
اے کاش!
 
مجھے وہ پرانا پاکستان چائیے
جہاں محبت بستی تھی۔
جہاں محلے میں ایک گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اتوار کو پورا محلہ اس گھر میں جا کر فلم دیکھا کرتا تھا۔
جہاں محلے کا فریج سارے محلے کے مہمانوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کیا کرتا تھا۔
جہاں محلے کی ایک گاڑی پورے محلے کی ایمبولینس بھی ہوا کرتی تھی۔
جہاں کسی بھی بزرگ کے سامنے چھوٹے پان یا سگریٹ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
جہاں نوجوان بس میں کسی بوڑھے کو کھڑا دیکھ کر جگہ دے دیا کرتے تھے۔
جہاں بیرون ملک جانے والے کسی جوان کو پورا محلہ ائیر پورٹ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔
جہاں کسی کے گھر زیادہ مہمان آ جاتے تو پڑوسی اپنا کمرہ پیش کر دیتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر دہشتگردی نہیں ہوا کرتی تھی۔
جہاں اسلام کے نام پر خود کش حملے نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا جاتا تھا۔

خدا کےلئے مجھے میرا پاکستان واپس کر دو، مجھے تبدیلی نہیں چائیے۔
مجھے تبدیل نہیں ہونا
خدا کےلئے۔

معاف کیجئے گا ۔ مگر اسے رجعت پسند ی کہتےہیں
تبدیلی ناگریز ہے۔ اورمعاشرے کی تنزلی بھی ترقی کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے
 

سید زبیر

محفلین
یہ ماضی کی یادیں ہی تو ہوتی ہیں جو انسان کو حسین دنوں کی امید پر زندگی سے محبت سکھاتی ہیں ورنہ تو انسان یہی کہے
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
 
یہ ماضی کی یادیں ہی تو ہوتی ہیں جو انسان کو حسین دنوں کی امید پر زندگی سے محبت سکھاتی ہیں ورنہ تو انسان یہی کہے
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
معاف کیجیے گا
ماضی کی یادیں مستقبل کی امید کیسے دلاسکتی ہیں؟
مستقبل کی امید پرانے دکھوں برے ماضی سےنجات دلاتی ہیں
 

سید زبیر

محفلین
معاف کیجیے گا
ماضی کی یادیں مستقبل کی امید کیسے دلاسکتی ہیں؟
مستقبل کی امید پرانے دکھوں برے ماضی سےنجات دلاتی ہیں
زبردست سوال ہے ! میرے بھا ئی ! جب مجھے اپنا ماضی اپنے حال سے زیادہ آسودہ ، بہتر معلوم ہوتا ہے تو اس کی حسین یادیں مجھے اپنا مستقبل بھی خوش رنگ بنانے میں مہمیز کرتی ہیں ۔میرے ماضی کے رویے اور ساتھیوں کا انداز ، ان کا برتاؤ مستقبل کو تابناک بنانے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے ۔باقی ہر انسان کا اپنا پنا تجربہ اور تجزیہ ہے ضروری نہیں کہ وہ ہی مستند ہو
 
مجھے وہ پرانا پاکستان چائیے
جہاں محبت بستی تھی۔
جہاں محلے میں ایک گھر میں ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اتوار کو پورا محلہ اس گھر میں جا کر فلم دیکھا کرتا تھا۔
جہاں محلے کا فریج سارے محلے کے مہمانوں کو ٹھنڈا پانی مہیا کیا کرتا تھا۔
جہاں محلے کی ایک گاڑی پورے محلے کی ایمبولینس بھی ہوا کرتی تھی۔
جہاں کسی بھی بزرگ کے سامنے چھوٹے پان یا سگریٹ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
جہاں نوجوان بس میں کسی بوڑھے کو کھڑا دیکھ کر جگہ دے دیا کرتے تھے۔
جہاں بیرون ملک جانے والے کسی جوان کو پورا محلہ ائیر پورٹ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔
جہاں کسی کے گھر زیادہ مہمان آ جاتے تو پڑوسی اپنا کمرہ پیش کر دیتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں اسلام کے نام پر دہشتگردی نہیں ہوا کرتی تھی۔
جہاں اسلام کے نام پر خود کش حملے نہیں ہوا کرتے تھے۔
جہاں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا جاتا تھا۔

خدا کےلئے مجھے میرا پاکستان واپس کر دو، مجھے تبدیلی نہیں چائیے۔
مجھے تبدیل نہیں ہونا
خدا کےلئے۔
زبردست۔۔۔ہر انسان ( جو واقعی انسان ہو) کے دل کی آواز۔۔۔
 
زبردست سوال ہے ! میرے بھا ئی ! جب مجھے اپنا ماضی اپنے حال سے زیادہ آسودہ ، بہتر معلوم ہوتا ہے تو اس کی حسین یادیں مجھے اپنا مستقبل بھی خوش رنگ بنانے میں مہمیز کرتی ہیں ۔میرے ماضی کے رویے اور ساتھیوں کا انداز ، ان کا برتاؤ مستقبل کو تابناک بنانے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے ۔باقی ہر انسان کا اپنا پنا تجربہ اور تجزیہ ہے ضروری نہیں کہ وہ ہی مستند ہو

ماضی کارویہ ، ساتھیوں کا انداز و برتاو بلاشبہ مستقبل کو تابناک بناسکتا ہے۔ یعنی ہرلمحہ پچھلے والے لمحہ سے سیکھ کر بہتر ہوسکتا ہے۔ یہی عمل ترقی ہے۔ نہ کہ ہم پچھلے لمحے کو مستقبل کا لمحہ بنانے کا سوچیں۔ یہ ترقی معکوس ہوگی۔ رجعت پسندی ہوگی۔
ماضی میں جینا ایک مرض ہے۔
بلاشبہ ہر ایک کا تجربہ مختلف ہے۔ مگر عمومی صورت وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔
 

سید زبیر

محفلین
ماضی کارویہ ، ساتھیوں کا انداز و برتاو بلاشبہ مستقبل کو تابناک بناسکتا ہے۔ یعنی ہرلمحہ پچھلے والے لمحہ سے سیکھ کر بہتر ہوسکتا ہے۔ یہی عمل ترقی ہے۔ نہ کہ ہم پچھلے لمحے کو مستقبل کا لمحہ بنانے کا سوچیں۔ یہ ترقی معکوس ہوگی۔ رجعت پسندی ہوگی۔
ماضی میں جینا ایک مرض ہے۔
بلاشبہ ہر ایک کا تجربہ مختلف ہے۔ مگر عمومی صورت وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔
صحیح تشبیہ دی ایچ اے خان، اگر زاویہ میں وسعت ہو تو یہی معکوسی کرن مخالف سمت میں اندھیرے میں بھی اجالا پھیلا دیتی ہے
بہر حال آپ کی تشبیہہ خوب ہے
 
صحیح تشبیہ دی ایچ اے خان، اگر زاویہ میں وسعت ہو تو یہی معکوسی کرن مخالف سمت میں اندھیرے میں بھی اجالا پھیلا دیتی ہے
بہر حال آپ کی تشبیہہ خوب ہے
مشتاق یوسفی نے ماضی تمنائی یعنی ناسٹلیجیا کو بہت اچھا بیان کیا ہے۔
انسان کو اپنا ماضی پیار لگتا ہے حالانکہ وہ ہوتا اتنا ہی برا ہے جتناکہ ہونا چاہیے
مثلا قتل پہلے بھی ہوتے تھے، عزتیں پہلے بھی لٹتی تھیں، شراپ پہلے بھی پی جاتی تھی، غرض ہر وہ بری چیز جو اج موجود ہے پہلے بھی موجود تھی
مگر انسان اپنے ماضی ہی کی پرسستش کیے جاتا ہے
 
Top