خبر - قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کی مزید قیادت نہیں کرسکیں گے۔

غازی عثمان

محفلین
ایک پرانی خبر کے مطابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کی مزید قیادت سے معذرت کر لی ہے، تفصیل کے مطابق ان کی زمہ داری کی مدت مارچ دوہزار نو میں ختم ہورہی ہے اس سے پہلے وہ چار بار منتخب ہوچکے ہیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وہ شوری سے درخواست کریں گے کہ اس بار قیادت کے لئے ارکان کو ان کا نام پیش نہ کیا جائے۔

ویسے تو جماعت اسلامی کہ ارکان جس رکن کو چاہیں کسی بھی ذمہ داری کے لئے منتخب کرسکتے ہیں لیکن ارکان کی آسانی کے لئے شوری تین نام پیش کردیتی ہے ضروری نہیں ہے کہ امیر انہی تینوں میں سے منتخب ہو لیکن اس سے ارکان کو فیصلہ لینے میں آسانی ہوتی ہے،

قاضی حسین جماعت اسلامی کے تیسرے امیر ہیں اور ان سے پہلے کہ دونوں امیر بھی اپنی زندگی میں ہی امارت سے علیحدہ ہوگئے تھے، مولانا مودودی اپنی زندگی میں ہی بیماری اور علمی کام کے لئے فراغت حاصل کر نے کے لئے قیادت سے علیحدہ ہوئے ان کے بعد میاں طفیل محمد ضعف، بصری کمزوری اور صحت کی وجہ سے اپنی زندگی میں ہی قیادت سے علیحدہ ہوگئے تھے، میاں طفیل آج بھی حیات ہیں،

جماعت میں ایک امیر کے بعد کبھی اس کا رشتہ دار امیر نہیں بنا، اس بار بھی جو تین نام آنے کا غالب امکان ہے وہ سید منور حسن، لیاقت بلوچ اور سراج الحق کے ہیں۔

میرے خیال میں سید منور حسن کے امیر بننے کے امکانات زیادہ ہیں، ( لیاقت بلوچ تو مجھے ایویں سے لگتے ہیں )، سراج الحق بھی کافی اینرجیٹک آدمی ہیں ان کے امیر بننے کے بھی کافی امکانات ہیں۔
 

جہانزیب

محفلین
اس لحاط سے جماعت اسلامی کو میں پاکستان کی واحد جمہوری جماعت کہتا ہوں، کیونکہ نچلی سطح‌ سے مرکزی امیر تک تمام عہدیداروں‌ کا انتخاب باقاعدگی سے کیا جاتا ہے ۔
 

گرو جی

محفلین
لو جی بات قیادت سے استغفی کی ہو رہی تہی اور آپ احتجاج پر آ گئے
قاضی صاحب نے کچہ بہی نہیں‌کیا اپنی قیادت کو دوران، صرف مشرف سے بامشرف ہو گئے
 

محمداحمد

لائبریرین
لیکن چوبیس گھنٹے احتجاج کا راگ الاپا جائے تو چِڑ ہوجاتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر حکومت عوام کے حقوق غضب کرنے میں پیش پیش ہوتی ہے وہاں اگر کوئی جماعت سب سے پہلے احتجاج کی آواز بلند کرتی ہے تو یہ بات لائقِ ستائش ہے۔ بے شمار ایسے معاملات رہیں ہیں جن میں‌ پہلی آواز جماعت کی تھی اور حکومت کو آخرکار بات ماننی پڑی ۔ اگر سب لوگ حکومت میں مل جائیں جیسا کہ آج ہے تو عوام کی آواز کون بلند کرے گا۔

ہاں جماعت سے غلطیاں بھی ہوئیں ہیں اُن سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن پاکستان میں ایک جماعت بھی ایسی نہیں جس کی تاریخ فاش غلطیوں سے پاک ہو۔
 

شمشاد

لائبریرین
یہ پاکستان کی واحد جماعت ہے جہاں پاڑٹی قیادت جمہوری طریقے سے آتی ہے، باقی سب پاڑٹیاں تو باپ دادا کی جاگیر ہیں۔ جن میں قیادت اپنے پاس رکھنے کے لیے باپ کا نام تک بدل دیتے ہیں۔
 

گرو جی

محفلین
خالی قیادت کی تبدیلی ہی جمہوریت سے وقوع پذیر ہوتی ہے باقی سب وہی ہے جو پاکستانی سیاست کا وطیرہ ہے۔
کچہ نہیں بدلا یہاں نہ سیاسی جماعتیں نہ حکومت
 

قیصرانی

لائبریرین
جماعت اسلامی اور جمہوریت؟ جب ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے سے قبل شک پڑنے پر یہ لوگ قسم اٹھوا رہے ہوں‌کہ ووٹ ان کے حق میں ہی دینا ہے تو امیر کے انتخاب جیسے اہم مسئلے پر وہ کیا کچھ نہیں‌کریں گے؟
 

گرو جی

محفلین
جماعت اسلامی اور جمہوریت؟ جب ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے سے قبل شک پڑنے پر یہ لوگ قسم اٹھوا رہے ہوں‌کہ ووٹ ان کے حق میں ہی دینا ہے تو امیر کے انتخاب جیسے اہم مسئلے پر وہ کیا کچھ نہیں‌کریں گے؟

ایک طرف تو جماعت اپنے منتظمِ اعلی کو امیر کا نام دیتی ہے، اور صیح ہی کرتی ہے کیوں کہ اول تو وہ امیر ہی ہوتا ہے اور امیر بننے ک بعد امیر تر ہوتا جاتا ہے۔
معذرت مگر حالات ہ واقعات یہی بتاتے ہیں اور یہ خالی جماعت میں نہیں ہر سیاسی مذہبی تنظیم میں یہی چکر بلکہ گھن چکر ہے۔ مولانا فضل الرحمنَ کی مثال آپ کے سامنے ہے
 

شمشاد

لائبریرین
یہ تو اپنی پاڑٹی سے وفاداری کی علامت ہے۔ اپنی پاڑٹی سے وفاداری نہ کریں تو پھر لوٹا بازی ہی رہ جاتی ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ایک طرف تو جماعت اپنے منتظمِ اعلی کو امیر کا نام دیتی ہے، اور صیح ہی کرتی ہے کیوں کہ اول تو وہ امیر ہی ہوتا ہے اور امیر بننے ک بعد امیر تر ہوتا جاتا ہے۔
معذرت مگر حالات ہ واقعات یہی بتاتے ہیں اور یہ خالی جماعت میں نہیں ہر سیاسی مذہبی تنظیم میں یہی چکر بلکہ گھن چکر ہے۔ مولانا فضل الرحمنَ کی مثال آپ کے سامنے ہے

مولانا فضل الرحمٰن متحدہ مجلسِ عمل تک ہی جماعت کے ساتھ تھے۔ اور جو آج مجلسِ عمل کا نام بھی سننے میں نہیں آتا اُس کی وجہ بھی یہی صاحب ہیں۔ مثال آپ نے اچھی دی ہے لیکن جماعت اب بھی کچھ مسلمہ امور پر سختی سے پابند ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
قاضی صاحب کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر یا لیکچرر ہیں۔ مضمون بھی کوئی عام سا تھا۔ مشرف دور کے انتخابات میں‌ان کی بیگم صاحبہ کے پاس پچاس لاکھ روپے کے محض زیورات تھے۔ یہ اس وقت کی الیکشن کمیشن کے حوالے سے معلومات تھیں۔ ان کے اپنے بچے کس کے خرچے پر امریکہ میں پڑھ رہے ہیں/تھے؟
 

گرو جی

محفلین
قاضی صاحب کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر یا لیکچرر ہیں۔ مضمون بھی کوئی عام سا تھا۔ مشرف دور کے انتخابات میں‌ان کی بیگم صاحبہ کے پاس پچاس لاکھ روپے کے محض زیورات تھے۔ یہ اس وقت کی الیکشن کمیشن کے حوالے سے معلومات تھیں۔ ان کے اپنے بچے کس کے خرچے پر امریکہ میں پڑھ رہے ہیں/تھے؟

مجہے یہ بات سمجھ میں نہیں‌آئی کہ امریکہ کے خلاف جلسے اور وہیں پہ اپنے بچوں کو تعلیم
"کیا یہ کھلا تضاد نہیں"
 
Top