خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کیوں؟

مہوش علی

لائبریرین
آئیے پاکستان کے اس سب سے بڑے مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں۔

مجھے آجتک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ اور جہاں تک میرا تاثر ہے تو یہ مخالفت سب سے زیادہ مذھبی حلقوں کی طرف سے ہوتی ہے۔

اگر کسی محترم رکن کے پاس اس سلسلے میں مذھبی حلقوں کے موقف کے بارے میں معلومات ہوں تو براہ مہربانی ہم سے شیئر کریں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
اس سلسلے میں ایک بار ایک مولانا کا موقف سنا تھا کہ “رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر خاندانی منصوبہ بندی کی کیا ضرورت؟ یہ تو کفر ہوا“
 

محمد وارث

لائبریرین
مجھے آپ سے مکمل اتفاق ہے کہ یہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے بلکہ شاید دنیا کا، اور اس سے بھی کہ "مذہی" حلقے ہی اسکے سب سے بڑے مخالف ہیں، نہ جانے کیوں، شاید انہیں مخالفت برائے مخالفت کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔

حالانکہ اجتہاد کا دروازہ کُھلا ہے، جب قحط کے زمانے میں امیر المومنین سارق کے قطعِ ید کی قرآنی سزا منسوخ یا معطل کر سکتے ہیں تو پھر اجتہاد سے کسی بھی مسئلے پر سوچا جانا چاہئے۔
 

ساجداقبال

محفلین
میں نے اسلام آباد سیکرٹریٹ کی جامع مسجد میں ایک مولانا صاحب کی تاویل سنی کہ ایک ہیڈ ماسٹر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی جماعت میں کتنے طالبعلموں کی جگہ ہے، وہ اس سے بڑھ کر طلباء کو اس جماعت میں داخلہ نہیں دیتا ہے۔ اسیطرح ایک وزیر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی منسٹری میں کتنے لوگوں کی کھپت ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ (معاذ اللہ)اللہ کو کیا اس بات کا علم نہیں کہ جس انسان کو وہ دنیا میں بھیج رہا ہے اس کی دنیا میں جگہ بنتی ہے کہ نہیں؟
کوئی اللہ کا بندہ یا بندی مجھے مولانا صاحب کے اس سوال کا جواب دے۔ ذاتی طور پر نہ میں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کرتا ہوں نہ حمایت کیونکہ ابھی غیر شادی شدہ ہوں۔ :wink: اور اتنی دور کی باتیں میں نہیں سوچتا۔ بہرحال اس سوال کا جواب ضرور بضرور عنایت فرمایا تاکہ اس معاملے میں مجھے اپنا ذہن بنانے میں مدد مل سکے۔ شکریہ
 

محمد وارث

لائبریرین
ساجداقبال نے کہا:
میں نے اسلام آباد سیکرٹریٹ کی جامع مسجد میں ایک مولانا صاحب کی تاویل سنی کہ ایک ہیڈ ماسٹر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی جماعت میں کتنے طالبعلموں کی جگہ ہے، وہ اس سے بڑھ کر طلباء کو اس جماعت میں داخلہ نہیں دیتا ہے۔ اسیطرح ایک وزیر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی منسٹری میں کتنے لوگوں کی کھپت ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ (معاذ اللہ)اللہ کو کیا اس بات کا علم نہیں کہ جس انسان کو وہ دنیا میں بھیج رہا ہے اس کی دنیا میں جگہ بنتی ہے کہ نہیں؟
کوئی اللہ کا بندہ یا بندی مجھے مولانا صاحب کے اس سوال کا جواب دے۔ ذاتی طور پر نہ میں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کرتا ہوں نہ حمایت کیونکہ ابھی غیر شادی شدہ ہوں۔ :wink: اور اتنی دور کی باتیں میں نہیں سوچتا۔ بہرحال اس سوال کا جواب ضرور بضرور عنایت فرمایا تاکہ اس معاملے میں مجھے اپنا ذہن بنانے میں مدد مل سکے۔ شکریہ

ساجد صاحب، مولویوں کے ذہن سے مت سوچیے، بلکہ یہ کام اپنے ذہن سے کریں گے تو یقینآ صحیح نتیجے پر پہنچ جایں گے۔

ویسے اگر ابھی سے ذہن بنا لیں کے شادی نہیں کرنی تو کافی خوش رہیں گے۔ :lol:
 

قیصرانی

لائبریرین
ان مولانا سے یہ پوچھیئے گا کہ ہیڈ ماسٹر جب داخلہ دیتا ہے تو کیا وہ کچھ دیکھ کر داخلہ دیتا ہے یا ہر آنے جانے والے کو داخلہ مل جاتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی منسٹر جاب دیتا ہے تو وہ بھی قابلیت دیکھ کر دیتا ہے
 

محمد وارث

لائبریرین
قیصرانی نے کہا:
ان مولانا سے یہ پوچھیئے گا کہ ہیڈ ماسٹر جب داخلہ دیتا ہے تو کیا وہ کچھ دیکھ کر داخلہ دیتا ہے یا ہر آنے جانے والے کو داخلہ مل جاتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی منسٹر جاب دیتا ہے تو وہ بھی قابلیت دیکھ کر دیتا ہے

بالکل صحیح کہہ رہے ہیں قیصرانی صاحب، ایک مشہور حدیث کا مفہوم کچھ یوں‌ ہے کہ ایک نوجوان کے پاس شادی شدہ زندگی کیلے وسائل نہیں تھے تو حضور پاک (ص) نے اس سے فرمایا کہ روزے رکھا کرو۔ یعنی استطاعت اور وسائل پیشِ نظر رہنے چاہیئں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ساجداقبال نے کہا:
میں نے اسلام آباد سیکرٹریٹ کی جامع مسجد میں ایک مولانا صاحب کی تاویل سنی کہ ایک ہیڈ ماسٹر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی جماعت میں کتنے طالبعلموں کی جگہ ہے، وہ اس سے بڑھ کر طلباء کو اس جماعت میں داخلہ نہیں دیتا ہے۔ اسیطرح ایک وزیر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی منسٹری میں کتنے لوگوں کی کھپت ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ (معاذ اللہ)اللہ کو کیا اس بات کا علم نہیں کہ جس انسان کو وہ دنیا میں بھیج رہا ہے اس کی دنیا میں جگہ بنتی ہے کہ نہیں؟
کوئی اللہ کا بندہ یا بندی مجھے مولانا صاحب کے اس سوال کا جواب دے۔ ذاتی طور پر نہ میں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کرتا ہوں نہ حمایت کیونکہ ابھی غیر شادی شدہ ہوں۔ :wink: اور اتنی دور کی باتیں میں نہیں سوچتا۔ بہرحال اس سوال کا جواب ضرور بضرور عنایت فرمایا تاکہ اس معاملے میں مجھے اپنا ذہن بنانے میں مدد مل سکے۔ شکریہ

سب سے پہلے تو ساجد صاحب آپکا شکریہ کہ آپ نے علماء حضرات کا یہ آرگومنٹ پیش کیا۔

میں نے مودودی صاحب کا مضمون بھی اس سلسلے میں پڑھا تھا۔ مگر یہ آج سے 8 سال پہلے کی بات ہے اور اس وقت میری ذھنی استطاعت ایسی نہیں تھی کہ میں ان چیزوں کو احاطہ کر پاتی۔ بہرحال اگر کسی کے پاس مودودی صاحب کا یہ مضمون ہو تو براہ مہربانی یہاں شیئر فرمائیں۔

والسلام۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ساجداقبال نے کہا:
میں نے اسلام آباد سیکرٹریٹ کی جامع مسجد میں ایک مولانا صاحب کی تاویل سنی کہ ایک ہیڈ ماسٹر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی جماعت میں کتنے طالبعلموں کی جگہ ہے، وہ اس سے بڑھ کر طلباء کو اس جماعت میں داخلہ نہیں دیتا ہے۔ اسیطرح ایک وزیر کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کی منسٹری میں کتنے لوگوں کی کھپت ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ (معاذ اللہ)اللہ کو کیا اس بات کا علم نہیں کہ جس انسان کو وہ دنیا میں بھیج رہا ہے اس کی دنیا میں جگہ بنتی ہے کہ نہیں؟
کوئی اللہ کا بندہ یا بندی مجھے مولانا صاحب کے اس سوال کا جواب دے۔ ذاتی طور پر نہ میں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کرتا ہوں نہ حمایت کیونکہ ابھی غیر شادی شدہ ہوں۔ :wink: اور اتنی دور کی باتیں میں نہیں سوچتا۔ بہرحال اس سوال کا جواب ضرور بضرور عنایت فرمایا تاکہ اس معاملے میں مجھے اپنا ذہن بنانے میں مدد مل سکے۔ شکریہ

ساجد صاحب،
اس ڈورے کو کھولنے کا میرا بنیادی مقصد یہ تھا کہ میں علماء حضرات کے دلائل کو غور سے پڑھوں اور سمجھوں، لیکن آپکےمولانا صاحب نے دلیل ایسی دی ہے کہ دل چپ بیٹھنے کو نہیں مان رہا۔

اللہ تعالی نے جو نظام بنایا ہے، وہ اپنی مرضی کے مطابق بنایا ہے اور ہم اللہ سے کوئی سوال کرنے والے نہیں ہوتے کہ اُس نے ایسا کیوں کیا ہے۔

سنت الہی کا ایک اصول یہ بھی یاد رکھیں کہ بہت سے چیزیں حلال ہیں جو ہمیں فائدہ پہنچاتی ہیں۔ مگر اگر اعتدال کی حد کو تجاوز کر دیا جائے تو یہی حلال چیزیں زہرِ قاتل بن جاتی ہیں۔

مثلا کھانا کھانا انسان کی ضرورت ہے اور انسانی بھوک کو مٹانے کے لیے اللہ نے انسان کو حلال چیزیں عطا کیں۔ مگر یہی انسان اگر اعتدال کی راہ سے ہٹ کر یہ حلال چیزیں اپنی بھوک سے بڑھ کر کھاتا ہی چلا جاتا رہے تو آخر میں اسے ہارٹ اٹیک یا برین فالج جیسی چیزیں ہو جائیں گی۔

اب کیا آپ ان مولانا صاحب کے پاس جا کر یہ سوال کر سکتے ہیں کہ ایک ماسٹر کو پتا ہے کہ اسکے کمرے میں کتنے بچوں کی جگہ ہے، مگر (نعوذ باللہ) کیا اللہ کو پتا نہ تھا کہ کتنا کھانے سے بھوک مٹ جائے گی جو اللہ نے انسان کو اسکی بھوک سے بڑھ کر "پیٹ" عطا کر دیا؟
 

ساجداقبال

محفلین
مجھے نہیں معلوم کہ خاندانی منصوبہ بندی کے مخالف علماء حضرات کا اجتماعی مؤقف کیا ہے۔ میں نے یہ بات ان سے جمعہ کے خطبہ میں سُنی اور یہاں لکھ دی۔ لہذا اسے ایک فرد کا مؤقف سمجھتا ہوں۔ ممکن ہے باقی علماء اس سے الگ مؤقف رکھتے ہوں اور ان کی تاویلیں اس سے قطعی مختلف ہوں۔
 

ساجداقبال

محفلین
برائے مہربانی ایسے جملہ نہ کہیں کہ “جاکر اپنے مولوی صاحب سے پوچھیے۔“ میری اتنی پہنچ نہیں کہ سب سے جا کر ملتا رہوں۔ میں نے اپنے رائے قائم کرنی ہے اس میں مدد کریں اور بس۔ میں نے جاکر کسی مولانا صاحب سے اس معاملے پر مناظرہ نہیں کرنا۔
مولانا اسلم شیخوپوری کا ایک مضمون۔ ایک بات واضح کر دوں کہ میں مولانا اسلم شیخوپوری جیسے معتدل مزاج علماء(مثلا مفتی تقی عثمانی، مفتی شامزئی شہید، مولانا یوسف لدھیانوی شہید، مفتی ابولبابہ شاہ منصور وغیرہ) کے مؤقف کو کافی اہمیت دیتا ہوں۔کیونکہ ان کا مؤقف مسلکی جھگڑوں سے کافی حد تک پاک اور دلائل کیساتھ ہوتا ہے۔
aabaadi1.gif

aabaadi2.gif

aabaadi3.gif

دوسری بات یہ کہ اسکی بھی تھوڑی وضاحت فرمائیں کہ ہم آبادی کم کرنے پر زور دے رہے ہیں(جیسا کہ یورپ ایک زمانہ میں اسکا بھرپور حامی تھا) لیکن یورپ اب آبادی بڑھانے پر زور دے رہا ہے جبکہ کچھ ممالک بچے پیدا کرنے والی ماؤں کو گرانٹ تک دے رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ شکریہ!!!
 

qaral

محفلین
ساجداقبال صاحب مولانا اسلم شیخوپوری کو معتدل کہتے ھیں آپ وہ تصویر کو غلط رخ سے پیش کر رہے ہیں میڈیکل میں ایک سبجیکٹ جس کو ہیلتھ سٹیٹس کہتے ہیں میں پوری دنیا کا ہیلتھ چارٹ پیش کیا جاتا ہے اور ایک میڈیکل سٹودنٹ ہونے کے ناطے جو اعداد وشمار میرے ّعلم میں ہیں ان کے مطابق مولانا کا بیان ٹھیک نہیں ہے اس وقت پوری دنیا میں بہترین ہیلتھ کئیر پروگرام امریکہ میں بچوں کیلئے بنا یا جاتا ہے محفل میں موجود کوئی ممبر اگر اس وقت امریکہ میں رہائش پذیر ہے تو وہ میری اس بات کی تصدیق کرے گا کہ امریکہ کی نئی نسل میں ہیلتھ سٹینڈرڈ کتنا ڈویلپڈ ہے ان مولویو ں نے پاکستان کو تباہ کرنے کی قسم کھائی ہے حکومت کس طرح لائف سٹینڈرڈ بہتر کرے کہاں سے نوکریاں لائے جبکہ گنجائش ایک کی ہے اور امید وار دس بات بات پر چائنہ کی ترقی کی مثال دینے والوں کو یہ کون سمجھائے کہ چائنہ میں ایک بچے کی اجازت ہے اور اس سے ان کی نسل کشی نہیں بلکہ انہوں نے تیز رفتاری سے ترقی کی کیونکہ ہر کسی کو روزگار ملا لوگوں نے خود کشیاں نہیں کیں خدا نے ہر کام میانہ روی کی حد میں پسند کیا ہے اور مغرب کا زیادہ سے زیادہ دس فییصد حصہ اگر اخلاقی بحران کا شکار ہے تو ان مولویوں کے کرم سے ہمارا ہر دوسرا بندہ
 

خاور بلال

محفلین
مہوش،قرال صاحب!
‌‌‌‌ٹرین میں آپ خود تو سوار ہوگئے ہیں (ٹکٹ لیکر یا لئے بغیر، یہ تو آپ خود ہی بتائیں گے) لیکن مزید سواریاں چڑھانے پر آپ کو اعتراض ہے، اگر ٹرین پر بوجھ کا مسئلہ ہے تو کم از کم اپنے بوجھ سے تو ٹرین کو پاک کردیں تاکہ بہتر مثال قائم ہو، ورنہ لوگ یہ نہ کہیں کہ خالی گلاں کردے رہ گئے۔ دنیا بہت سے شہیدوں کو یاد کرتی ہے ایک آپ کا بھی اضافہ ہوجائے گا۔ اگر ٹرین سے چھلانگ لگانے میں کوئی شرعی قباحت ہے تو فکر نہ کریں جی، جب خاندانی منصوبہ ‌ی کی اسلام میں گنجائش نکالی جاسکتی ہے تو اس کی بھی نکال لیں گے۔ ویسے یہ شریعت میں آخر رکھا ہی کیا ہے، یہ تو ملاؤں کے مسئلے ہیں ان میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
 

دوست

محفلین
منصوبہ بندی وہ لوگ کرتے ہیں جو معاشی طور پر پہلے سے مضبوط ہوتے ہیں۔ پھر تو اس کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے جس کا چرچا کیا جاتا ہے۔ لیکن ذاتی طور پر میں اس کا مخالف نہیں۔ اچھی تعلیم اور سہولیات کا حصول آپ کے بچے کا حق ہے۔ اگر آپ مہیا نہیں کرسکتے تو ۔۔۔۔۔۔۔
رزق اللہ وسیلوں سے ہی دیتا ہے۔ اور وسیلوں کا جو ستیا ناس انسان مار رہا ہے سب کے سامنے ہے۔ یہاں تو عالمی قحط کی نویدیں سنائی جارہی ہیں۔
وسلام
 

ابوشامل

محفلین
مہوش علی نے کہا:
آئیے پاکستان کے اس سب سے بڑے مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں۔

مجھے آجتک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ اور جہاں تک میرا تاثر ہے تو یہ مخالفت سب سے زیادہ مذھبی حلقوں کی طرف سے ہوتی ہے۔

اگر کسی محترم رکن کے پاس اس سلسلے میں مذھبی حلقوں کے موقف کے بارے میں معلومات ہوں تو براہ مہربانی ہم سے شیئر کریں۔

سب سے پہلے تو سلام عرض ہے۔
اس کے بعد موضوع کی طرف آتے ہیں، مہوش! آپ نے پہلا ہی جملہ "جملۂ معترضہ" لکھ دیا ہے کہ آئیے پاکستان کے اس سب سے بڑے مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہ ضرور آپ کی نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہوگا لیکن میری اور کئی لوگوں کی نظر میں نہیں۔

مخالفت، اور خصوصاً مذہبی حلقوں کی جانب سے، اس لیے کی جاتی ہے کہ اس کے بارے میں قرآن مجید میں اتنے واضح احکامات ہیں کہ ان سے قطع نظر کرنا ممکن ہی نہیں۔ ہم لوگ باتیں تو بہت بڑی بڑی بناتے ہیں کہ قرآن و سنت کے مطابق ملک چلایا جائے لیکن اسلام کی جانب سے لگائی گئی ایک پابندی کو بھی follow کرنا نہیں چاہتے۔

"خاندانی منصوبہ بندی" دراصل مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنا ہے، جو حضرات و خواتین شادی شدہ ہیں وہ اسے بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے بارے میں کتنے واضح احکامات ہیں ذرا ملاحظہ کیجیے:

"اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں نہ سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں:
1۔ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،
2۔ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،
3۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔
4۔ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی،
5۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ
یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔
6۔ اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے،
7- اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے،
8- اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو،
9- اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔
ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔
10- نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پرا گندہ کر دیں گے۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے،شاید کہ تم کج روی سے بچو۔" سورۃ الانعام آیت نمبر 150 تا 154

قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل بڑی خطا ہے۔" سورۂ اسراء آیت نمبر 31


اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ:

"یہ آیت ان معاشی بنیادوں کو قطعی منہدم کر دیتی ہے جن پر قدیم زمانے سے آج تک مختلف ادوار میں ضبط ولادت کی تحریک اٹھتی رہی ہے۔ افلاس کا خوف قدیم زمانے میں قتل اطفال اور اسقاط حمل کا محرک ہوا کرتا تھا، اور آج وہ ایک تیسری تدبیر، یعنی منع حمل کی طرف دنیا کو دھکیل رہا ہے۔ لیکن منشور اسلامی کی یہ دفعہ انسان کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ کھانے والوں کو گھٹانے کی تخریبی کوشش چھوڑ کر ان تعمیری مساعی میں اپنی قوتیں اور قابلیتیں صرف کرے جن سے اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے مطابق رزق میں افزائش ہوا کرتی ہے۔ اس دفعہ کی رو سے یہ بات انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے کہ وہ بار بار معاشی ذرائع کی تنگی کے اندیشے سے افزائش نسل کا سلسلہ روک دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ رزق رسانی کا انتظام تیرے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ اس خدا کے ہاتھ میں ہے جس نے تجھے زمین میں بسایا ہے۔ جس طرح وہ پہلے آنے والوں کو روزی دیتا رہا ہے، بعد کے آنے والوں کو بھی دے گا۔ تاریخ کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں کھانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی ہے، اتنے ہی، بلکہ بار ہا اس سے بہت زیادہ معاشی ذرائع وسیع ہوتے چلے گئے ہیں۔ لہذا خدا کے تخلیقی انتظامات میں انسان کی بے جا دخل اندازیاں حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
یہ اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ نزول قرآن کے دور سے لے کر آج تک کسی دور میں بھی مسلمانوں کے اندر نسل کشی کا کوئی عام میلان پیدا نہیں ہونے پایا۔" ماخذ تفہیم القرآن

تو کیا ان واضح ہدایات کے باوجود بھی "خاندانی منصوبہ بندی" کے حوالے سے کوئی ابہام باقی رہ جاتا ہے یا اس کے حامی اپنی روش پر جمے ہی رہیں گے؟؟
 

ابوشامل

محفلین
محمد وارث نے کہا:
مجھے آپ سے مکمل اتفاق ہے کہ یہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے بلکہ شاید دنیا کا، اور اس سے بھی کہ "مذہی" حلقے ہی اسکے سب سے بڑے مخالف ہیں، نہ جانے کیوں، شاید انہیں مخالفت برائے مخالفت کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔

حالانکہ اجتہاد کا دروازہ کُھلا ہے، جب قحط کے زمانے میں امیر المومنین سارق کے قطعِ ید کی قرآنی سزا منسوخ یا معطل کر سکتے ہیں تو پھر اجتہاد سے کسی بھی مسئلے پر سوچا جانا چاہئے۔

میرے عزیز بھائی! اجتہاد صرف اس جگہ پر ہوتا ہے جب کسی سلسلے میں قرآن و حدیث میں کوئی واضح ہدایات موجود نہ ہوں جب قرآن مجید میں اتنے واضح الفاظ میں درج ہے تو اجتہاد کیسے ہو سکتا ہے؟ کوئی ساتھی بتائے کہ واضح احکامات کی موجودگی میں کیا اجتہاد ہو سکتا ہے؟
 
میں نے کہیں یہ حدیث بھی سنی ہے اس حوالہ سے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔
 
میں نے گذشتہ چند دنوں ہی میں اس حوالہ سے ایک مضمون بھی پڑھا تھا، میں کوشش کروں گا کہ اسے تلاش کرکے یہاں پیش کرسکوں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ابوشامل نے کہا:
محمد وارث نے کہا:
مجھے آپ سے مکمل اتفاق ہے کہ یہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے بلکہ شاید دنیا کا، اور اس سے بھی کہ "مذہی" حلقے ہی اسکے سب سے بڑے مخالف ہیں، نہ جانے کیوں، شاید انہیں مخالفت برائے مخالفت کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔

حالانکہ اجتہاد کا دروازہ کُھلا ہے، جب قحط کے زمانے میں امیر المومنین سارق کے قطعِ ید کی قرآنی سزا منسوخ یا معطل کر سکتے ہیں تو پھر اجتہاد سے کسی بھی مسئلے پر سوچا جانا چاہئے۔
میرے عزیز بھائی! اجتہاد صرف اس جگہ پر ہوتا ہے جب کسی سلسلے میں قرآن و حدیث میں کوئی واضح ہدایات موجود نہ ہوں جب قرآن مجید میں اتنے واضح الفاظ میں درج ہے تو اجتہاد کیسے ہو سکتا ہے؟ کوئی ساتھی بتائے کہ واضح احکامات کی موجودگی میں کیا اجتہاد ہو سکتا ہے؟


ؓبھائی صاحب، میں نے ایک مشہور و معروف تاریخی واقعہ کا حوالہ بھی دیا تھا اجتہاد کے سلسلے میں۔

قرآن مجید میں‌ واضح طور پر سارق کی سزا قطع ید لکھی ہوئی ہے، لیکن حضرت عمر نے مدینہ میں‌ قحط کے زمانے میں یہ سزا معطل کردی تھی، یہ کیا تھا، نعوذ باللہ، امیر المومنین کا قرآنی احکامات سے انحراف یا حضرت عمر کا اجتہاد۔
 

ابوشامل

محفلین
میرے خیال میں اس حوالے سے میری رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن ایک صاحب کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے درج ذیل جواب دیا (براہ مہربانی پورے جواب کا مطالعہ کریں اور اپنا مطلب ہر گز نہ نکالیں، شکریہ):


[align=left:d35efcd099]1. Answer. (a) Ans: There are fundamentally two methods of Contraception or family planning.
(1) Permanent methods.
(2) Temporary methods
(1) Permanent Methods: Permanent methods include, Vasectomy in males and Tubecotomy in females. All the scholars unanimously agree that permanent methods of family planning are prohibited since they involve changing human physiology. Says Allah in the Qur’an:

“So set you your face steadily and truly to the Faith: (Establish) Allah’s handiwork according to the pattern on which He has made humankind: no change (let there be) in the work (wrought) by Allah: that is the standard Religion: but most among mankind understand not.” (Al-Qur’an 30:30)

The Prophet (pbuh) is reported to have said: “Marry the one who is loving and fertile, for I will be proud of your great numbers before the nations [i.e., on the Day of Resurrection].” (Abu Dawood Hadith no. 2050, Classed as saheeh by al-Albaani in Saheeh Abi Dawood, 1805)

(2) Temporary Methods: Following are various different temporary methods.

a) M.T.P. (Medical Termination of Pregnancy) or Abortion: All scholars unanimously agree that M.T.P. or abortion is prohibited. Allah says in the Glorious Qur’an

“...kill not your children on a plea of want; We provide sustenance for you and for them;” (Al-Qur’an 6:151)

“Kill not your children for fear of want: We shall provide sustenance for them as well as for you: verily the killing of them is a great sin.” (Al-Qur’an 17:31)

However, scholars unanimously agree that any permanent method of family planning, or even abortion, can be done if the life of the mother is in danger. For e.g. if the woman is suffering from certain diseases like heart disease or has under gone multiple caesarean operations and in her case the continuation of pregnancy or another pregnancy may be detrimental to her life, then the woman can be aborted or a permanent method of family planning can be adopted to save the life of the woman.

b) Taking birth control pills: Almost all the scholars including Shaykh Ibn Baaz, Council of the Senior Scholars [of Saudi Arabia] agree that it is not allowed to take birth control pills (Fataawa al-Marah) because of its side effects and changes in the normal physiology.

c) Copper-T: A very common temporary method of family planning or contraception is Copper-T. Though it is known as ‘contraception’ but technically it is contra-implantation. The sperm fertilizes the ovum but the zygote formed is destroyed by the Copper-T and is prevented from being implanted on the uterine wall (mother’s womb). Thus it is a very early abortion, which is prohibited in Islam.

Some “scholars” out of ignorance permit this temporary method of family planning without knowing its detail.

d) Coitus Interruptus (‘Azl): Coitus Interruptus is permissible as long as it is performed with mutual consent of both the husband and wife since both of them have equal right to have children.

This is based on the Hadith of Jabir (RA) who said: “We used to practice (‘Azl) coitus interruptus during the days when the Qur’an was being revealed”.

Jabir added: “We used to practice coitus interruptus during the lifetime of Allah’s Messenger while the Qur’an was being revealed.” (Sahih Bukhari vol. 7, Hadith no. 136) Shaykh al-Islam Ibn Taymiyah said:

“With regard to ‘azl, some of the scholars regarded it as haraam, but the view of the four imams is that it is permissible with the wife’s permission. And Allah nows best.” (Majmoo’ al-Fataawa, 32/110)

e) As regarding other temporary ethods of family planning like condom etc., the scholars are divided whether their use is permitted or not. Allah (swt) has provided a natural method of planning the family, which is medically known as lactation amenorrhea. After the women gives birth to a child, till she breast feeds she does not have her menstrual cycle, thus the chances of pregnancy in this period of lactation is minimal.

Allah says in the Qur’an “The mothers shall give suck to their offspring for two whole years...” (Al-Qur’an 2:233)

Reasons for Family Planning: All the various reasons for family planning can be divided into two categories:
1. Either for poverty or 2. Giving special attention to children by having fewer children. As for those who are poor and fear that they will not be able to meet the economic expenses of the additional child, Allah (swt) has prescribed the system of zakaat. Every rich person who has the savings of more than the nisab level i.e. 85 gms of gold, should give 2.5% of his excess wealth every lunar year in charity. Those who are poor have the right to take the zakaat money. Allah (swt) says in the Qur’an “...Kill not your children on a plea of want; We provide sustenance for you and for them;” (Al-Qur’an 6:151) Allah (swt) also mentions in the Qur’an

“Kill not your children for fear of want: We shall provide sustenance for them as well as for you: verily the killing of them is a great sin.” (Al-Qur’an 17:31) Both these verses seems to convey the same message but on scrutiny we realize that the first verse is meant for poor parents, who fear that if one more child is born in the family neither they will be able to survive nor the child, thus Allah (swt) says we provide sustenance for you and for them. In the other verse Allah (swt) says We shall provide sustenance for them and as well as for you, referring to rich parents who feel that if they have less children they can concentrate on them better and give them better education and quality life. Here Allah (swt) reverses the order and mentions first the children and then the parents. I am the fifth child of my parents. If my parents would have done family planning, then I would not have been born. Alhumdulillah, I have qualified as a medical doctor, which is supposed to be one of the best professions in society. However I have given it up for a better profession and become a daee’. Am I a boon or a bane to the society? It is a misconception that if there are fewer children you can provide better education and quality life to your child.

However, its worth notable that one never knows which child could be a blessing from the Creator for the family. It is quite possible that the child, which the parents anticipate to be a bane, may turn out to be a boon for the family and the society. History bears witness to the fact that many of the great scientists, thinkers, and revolutionaries were not from only amongst the first two children of their parents. Thus the child whom the parents consider unwanted may be a blessing to the family religiously and economically. With regards to the claim of the people who say that the growth in population increases poverty, this was mainly based on Malthusian’s theory. This theory states that, to maintain prosperity and welfare of human race, its increase should be checked to correspond with the production of foodstuff.

But now we have realized that Malthusian’s theory has been proved wrong and there is no shortage of food grains. Moreover, in spite of the amount of land India uses in agriculture, there is still much more land in India, which can, with little more efforts in fertilizing it through the proper means be utilized in agriculture thus producing more food grains. It would be interesting to note that population density of Holland and Denmark is about four to five times more than that of India. Nevertheless the living conditions of the people there is far better off (economically) than the Indians. Besides, even if one faces difficulties in upbringing of children, one should always remember that in these hardships could be a test from Allah as this life is a test for the hereafter. Allah says in the Qur’an: “He Who created Death and Life that He may try which of you is best in deed: and He is the Exalted in Might Oft-Forgiving” [Al Qur’an 67: 2] Allah also says:

“Be sure We shall test you with something of fear and hunger some loss in goods or lives or the fruits (of your toil) but give glad tidings to those who patiently persevere.” [Al Qur’an 2 :155]

Allah (swt) says in the Qur’an “And they plotted and planned and Allah too planned and the best of planners is Allah (swt)” (Al-Qur’an 3:54).

If you feel you can plan the family better, the choice is yours or else leave it to Allah (swt) to do the best planning for your family.

Allah knows the best. [/align:d35efcd099]
 
Top