خارزارِ زندگانی ہورہا ہے کم مرا

احسن مرزا

محفلین
میرا شاعری کے حوالے سے علم بیحد محدود ہے۔ امید ہی کرسکتا ہوں کہ غلظیاں کم سے کم ہوں۔ بہرحال یہ غزل فورم پر موجود صاحبانِ علم کی نذر بغرضِ اصلاح اگر کسی قابل ہو۔

خارزارِ زندگانی ہورہا ہے کم مرا
لمحہ، لمحہ جارہی ہے جان میری، غم مرا

اعتبارِ منزلِ دل تھا کہ جب تم ساتھ تھے
گرچہ رستہء محبت بھی نہیں تھا کم مرا

وہ کہ جس کہ ہجر میں، میں ڈھل گیا مثلِ چراغ
کیوں جلاتا ہے دیا اب کے منانے غم مرا

میں کبھی محفل میں جس کی رونقِ محفل رہا
اب وہی لیتا نہیں ہے نام بھی کم، کم مرا

میں بھی کِھل جاتا وفا کی آبیاری کے سبب
یوں تو پیشِ مرگِ الفت تک رہا موسم مرا

وصل کے لمحات سارے، شعر میں ڈھل کر مرے
بن گئے ہیں ساز میرے، لے مری، سرگم مرا

میں ہوں دنیا کی نظر میں اس لئے احسن بلند
بس وفا شیوہ رہی اور عجز سے سر خم مرا
 
احسن مرزا صاحب محفل میں خوش آمدید۔تعارف کے زمرے میں اپنا تعارف بھی کروادیں لگے ہاتھوں۔
خوبصورت غزل ۔ داد قبول فرمائیے
اساتذہ کی آمد اور اصلاح سے پہلے ہماری صلاح ملاحظہ فرمائیے۔ گر قبول افتد
خارزارِ زندگانی ہورہا ہے کم مرا
لمحہ، لمحہ جارہی ہے جان میری، غم مرا

اعتبارِ منزلِ دل تھا کہ جب تم ساتھ تھے
گرچہ الفت کا یہ رشتہ بھی نہیں تھا کم مرا

وہ کہ جس کے ہجر میں، میں جل گیا مثلِ چراغ
کیوں جلاتا ہے دئیے اب کے منانے غم مرا

میں کبھی محفل میں جس کی رونقِ محفل رہا
اب وہی لیتا ہے یوں تو نام بھی کم، کم مرا

میں بھی کِھل جاتا وفا کی آبیاری کے سبب
یوں تو پیشِ مرگِ الفت ہی رہا موسم مرا

وصل کے لمحات سارے، شعر میں ڈھل کر مرے
بن گئے ہیں ساز میرے، لے مری، سرگم مرا

میں ہوں دنیا کی نظر میں اس لئے احسن بلند
بس وفا شیوہ رہا اور عجز سے سر خم مرا
 

الف عین

لائبریرین
خوش آمدید احسن، خلیل میاں کی صلاح بھی خوب ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ دوسرے شعر میں ’رستہ‘ ہی درست تھا، جسے خلیل نے رشتہ کر دیا ہے۔ بس غلطی یہ ہے کہ یہ ہندی لفظ ہے، اور اضافت کا ہمزہ غلط ہے،
گرچہ الفت کا یہ رستہ بھی نہیں تھا کم مرا
بھی درست ہو جاتا ہے،
 

احسن مرزا

محفلین
احسن مرزا صاحب محفل میں خوش آمدید۔تعارف کے زمرے میں اپنا تعارف بھی کروادیں لگے ہاتھوں۔
خوبصورت غزل ۔ داد قبول فرمائیے
اساتذہ کی آمد اور اصلاح سے پہلے ہماری صلاح ملاحظہ فرمائیے۔ گر قبول افتد

قبلہ آپ نے انتہائی موزوں اصلاح فرمائی ہے۔ میرا بھی یہی خیال ہے رستہ ٹائپو غلظی کی وجہ سے شاید رشتہ ہوگیا۔
 

احسن مرزا

محفلین
خوش آمدید احسن، خلیل میاں کی صلاح بھی خوب ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ دوسرے شعر میں ’رستہ‘ ہی درست تھا، جسے خلیل نے رشتہ کر دیا ہے۔ بس غلطی یہ ہے کہ یہ ہندی لفظ ہے، اور اضافت کا ہمزہ غلط ہے،
گرچہ الفت کا یہ رستہ بھی نہیں تھا کم مرا
بھی درست ہو جاتا ہے،

اکثرمیں تراکیب بناتے ہوئے کم علمی کی وجہ سے مار کھا جاتا ہوں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ مجھے اضافت لکھتے ہوئے بھی اکثر پریشانی ہوتی ہے کہاں، کیسے لکھی جائے گی۔
 

الف عین

لائبریرین
خارزارِ زندگانی ہورہا ہے کم مرا
لمحہ، لمحہ جارہی ہے جان میری، غم مرا
//خارزار کا کم ہونا‘ سے کیا مراد ہے؟
اس کی بجائے جام یا پیمانہ استعمال کرنے کی کوشش کرو، یوں کر دو:
دھیرے دھیرے جام ہستی ہو رہا ہے کم مرا
لمحہ لمحہ جا رہی ہے جان میری، غم مرا

اعتبارِ منزلِ دل تھا کہ جب تم ساتھ تھے
گرچہ رستہء محبت بھی نہیں تھا کم مرا
//محض دوسرا مصرع تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
ورنہ رستہ بھی محبت کا نہیں تھا کم مرا

وہ کہ جس کہ ہجر میں، میں ڈھل گیا مثلِ چراغ
کیوں جلاتا ہے دیا اب کے منانے غم مرا
//درست

میں کبھی محفل میں جس کی رونقِ محفل رہا
اب وہی لیتا نہیں ہے نام بھی کم، کم مرا
//دونوں مصرعوں میں بیانیہ کی اغلاط ہیں۔ ’محفل میں رونق محفل‘ عجیب لگتا ہے۔ دوسرے مصرع میں بات الٹی ہو گئی ہے۔ یعنی یہ کہا جا رہا ہے کہ کم کم نہیں لیتا، بلکہ زیادہ لیتا ہے!! یہاں لیتا ہے‘ کا محل ہے
یوں کر دو اس کو مقطع بھی بنایا جا سکتا ہے:
میں کبھی جس شخص کی ہر بزم کی رونق رہا
اب وہی لیتا ہے ۔۔۔۔ نام بھی کم کم مرا

میں بھی کِھل جاتا وفا کی آبیاری کے سبب
یوں تو پیشِ مرگِ الفت تک رہا موسم مرا
//درست

وصل کے لمحات سارے، شعر میں ڈھل کر مرے
بن گئے ہیں ساز میرے، لے مری، سرگم مرا
//پہلے مصرع کا لہجہ کچھ اوبڑ کھابڑ ہے۔ دوسرے مصرع میں قافیہ ہی گڑبڑ ہے، سرگم مؤنث ہوتی ہے، ’سرگم مرا‘ غلط ہے۔
اس کو نکال ہی دو یا بدل دو

میں ہوں دنیا کی نظر میں اس لئے احسن بلند
بس وفا شیوہ رہی اور عجز سے سر خم مرا
//درست
 
Top