تاسف حکیم اختر صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ :(

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
انا للہِ وانا الیہ راجعون

اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
 

نایاب

لائبریرین
سرمایۂ اہلسنت پیر طریقت رہبر شریعت جناب حکیم اختر صاحب ‌ؒ انتقال فرما گئے۔
:cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry: :cry:
اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔

کیا یہ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی والے حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟
 

تلمیذ

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اللہ تعالے مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔
 
کل من علیها فان و یبقی وجه ربک ذوالجلال والاکرام "ہر(صاحب شعور و عقل) شخص ، جواس (زمین)پر ہے، فناہونے والا ہے اور تیرے پر وردگار کی ذات(جو) صاحب جلال واکرام (جمال) ہے، باقی رہنے والی ہے۔اللہ تعالی مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ساتھ میں ہم سب کو نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایمان بالخیر پر خاتمہ ہو ۔
 

hakimkhalid

محفلین
موت العالِم موت العالم۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کی بیشتر کتب زیر مطالعہ رہیں ۔تصوف کی عظیم منزل پر تھے نیز اصل تصوف اور دین اسلام کی حقیقی تعلیم و تربیت میں مصروف عمل تھے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالے مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔
 

متلاشی

محفلین
صاحب کون تھے کچھ تعارف مل سکتا ہے۔
ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺍﮬﻠﺴﻨﺖ ﭘﯿﺮ _ ﻃﺮﯾﻘﺖ ﺭﮬﺒﺮ_ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﺣﻀﺮﺕ
عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختر صاحب آج عصرومغرب کے درمیان اس جہان فانی سے کوچ کرگئے ۔ انااللہ وانا الیہ راجعون
حضرت والا رحمہ اللہ کا مختصر سوانحی خاکہ
وطن اصلی اور موجودہ:
شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختررحمہ اللہ کا وطن اصلی پڑتاب گڑھ انڈیاہے ۔
بعد ازاں پاکستان ناظم آباد ۔
پھر گلش اقبال نمبر 2 کراچی میں اور تاحال گلشن ہی میں جلوہ افروز تھے۔
حضرت نے ابتدائی تعلیم طبیہ کالیج علی گڑھ میں حاصل کی اور وہاں سے ڈگری حاصل کی ۔
تین اکابراولیاء کے خلیفہ:
1۔۔ دوران سب سے پہلے مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ حضرت مولانا سیّد بدر علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اٹھائی، تین سال ان کی صحبت اور فیضان سے خوب مالامال ہوئے اور حضرت نے خلافت بھی عطافرمائی۔
2۔۔ اس کے بعد پھر 17 برس حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے ایک اور عظیم خلیفہ حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے اور سرائے میر میں ان کے مدرسہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ یاد رہے کہ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند میں سولہ اسباق بھی پڑھاتے تھےاور تقوی میں در یکتاتھے ، اور 12 مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کا شرف بھی نصیب ہوا۔
3۔۔ حضرت پھولپوری کی وفات کے بعد حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک اور خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فیض صحبت سے کمال حاصل کیا۔
یاد رہے کہ حضرت والادامت برکاتہم ان تینوں بزرگوں کے خلیفہ بھی ہیں جس کی وجہ سے حضرت کو تین دریائی کہا جاتاہے۔
حضرت والا اس وقت خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں قیام پذیر ہیں۔
حضرت والا کا دینی ادارہ::
حضرت والا دامت برکاتہم کا ایک بہت بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں واقع ہے جس میں 5000 ہزار قریبا طلبہ زیر تعلیم ہیں
نیز صرف کراچی میں مدرسے کی 10 سے زیادہ شاخیں ہیں۔
دنیاکے بیشتر ممالک کے اسفار:
حضرت والا کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا درد دل دیاہے، اسی درد دل کو پھیلانے اور لوگوں کے دلوں میں اللہ کے عشق، محبت اور معرفت کی آگ لگانے کے لیے دنیابھر کے اکثر ممالک کاسفرکیااور وہاں الہامی بیانات فرمائے۔
سلسلہ تصوف:
حضرت والارحمہ اللہ کا سلسلہ تصوف و اصلاح نفس وہی ہے جو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ہے یعنی سلسلہ چشتیہ، قادریہ،نقشبندیہ، سہروردیہ۔ جنھیں سلاسل اربعہ کہاجاتاہے۔
مواعظِ حسنہ(کتابیں):
حضرت والا کی اپنی تصنیفات اور مواعظ سے حاصل شدہ چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد150 تک ہے ۔اور اس سے کئی گنا زیادہ کتابیں چھپائی کے مراحل میں اور کمپیوٹرو کیسٹس میں ہیں جو آہستہ آہستہ سلسلوار شائع ہوتی رہتی ہیں۔
دیگرزبانوں میں کتابیں:
حضرت والا رحمہ اللہ کی کتابیں دنیاکی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر چھپ کرتمام کتابیں فری میں شائع ہوتی رہتی ہیں، جن میں اردو، سندھی عربی، پشتو،بنگلا، برما، جرمن، فرنچ،انگریزی،رشین وغیرہ شامل ہیں۔
حضرت والا کا خاص مضمون:
ویسے تو ہرموضوع پر بات فرماتے رہتے ہیں لیکن حضرت والا دامت برکاتہم آج کے دور میں سب سے زیادہ پھیلنے والی برائی و گناہ کبیرہ بدنظری،حسن پرستی عشق مجازی، امرد پرستی، اغلام بازی کی قباحت پر بیانات فرماتے رہتے ہیں، حضرت کاجوبھی وعظ،کتاب،اوربیان ہوگا اس میں لازما بدنظری ، امارداور حسن و عشق مجازی کے مضامین ہوں گے۔
اور یہ بدنظری اور حسین لڑکوں کاگناہ ایسا قبیح ہے جو ٹی وی فلم، نیٹ، کیبل، اور بازاروں و سڑکوں پر گھومنے والی عورتوں کودیکھنے سے ہوتاہے۔ اس گناہ کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت قباحت آئی ہے۔
انٹرنیٹ کے ذریعے دین کی اشاعت:
حضرت کی مرکزی ویب سائیٹ یہ ہے:خانقاہ ڈاٹ او آرجی اس کے علاوہ حضرت کے ایک نہایت پیارے خلیفہ اور زبردست دردمندانہ، والہانہ اور الہامی بیانات کرنے والے اور حضرت والا کی سچی تصویرحضرت اقدس شاہ فیروزعبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کے زیر نگرانی یہ ویب سائیٹ ہے:ٹرو تصوف ڈاٹ او آرجی دونوں ویب سائیٹس میں حضرت والا کی اردو ودیگر کتابیں بے شمار آڈیوبیانات،حضرت کے عارفانہ اشعار اور اہم و منتخب بیانات موجود ہیں
 
بلاشبہ بہت پیاری مشفق علم سے بھرپور ہستی تھے مرحوم حکیم صاحب
حق تعالی بلند درجات سے نوازے آمین
جزاک اللہ محترم متلاشی بھائی
تقریبا " 1993 سے 2007 تک گلشن اقبال بلاک 2 میں ان کی خانقاہ میں حاضری رہی۔الحمدللہ ۔۔۔ معرفت کے بیان کے آگے دریا کی روانی اور سمندر کی گہرائی کچھ نہیں ۔۔۔۔ بیٹے مظہر میاں اور پوتے ابراہیم بھی خوب علم کے موتی بکھیرے تھے ۔اللہ مغفرت کرے او درجات بلند کرے اور اپنا خاص فضل کرے ۔ایک کتاب پاکستان سے لائی ہوئی ۔معارفِ شمس تبریز ۔ابھی تک یہاں ریاض میں میرے پاس ہے۔جس پر تاریخ خرید 1418 درج ہے۔
http://www.khanqah.org/
 

نایاب

لائبریرین
تقریبا " 1993 سے 2007 تک گلشن اقبال بلاک 2 میں ان کی خانقاہ میں حاضری رہی۔الحمدللہ ۔۔۔ معرفت کے بیان کے آگے دریا کی روانی اور سمندر کی گہرائی کچھ نہیں ۔۔۔ ۔ بیٹے مظہر میاں اور پوتے ابراہیم بھی خوب علم کے موتی بکھیرے تھے ۔اللہ مغفرت کرے او درجات بلند کرے اور اپنا خاص فضل کرے ۔ایک کتاب پاکستان سے لائی ہوئی ۔معارفِ شمس تبریز ۔ابھی تک یہاں ریاض میں میرے پاس ہے۔جس پر تاریخ خرید 1418 درج ہے۔
http://www.khanqah.org/

محترم بھائی 1985 میں مجھے حکیم صاحب کی صحبت سے مشرف ہونے کا موقع ملا ۔ بہت سادہ بہت معصومانہ انداز سے بڑی گنجلک گھتیاں سلجھاتے تھے ۔ جلال میں کبھی کبھی جمال میں ہمیشہ دکھتے تھے ۔ حق بلند درجات سے نوازے آمین اک عظیم عالم با عمل حق کو واصل ہوگیا ۔۔۔۔۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top