حضرت سید علی سید کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ کا نعتیہ کلام

dehelvi نے 'حمد، نعت، مدحت و منقبت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 4, 2010

  1. dehelvi

    dehelvi محفلین

    مراسلے:
    433
    وجودِ پاکِ ختم المرسلیں دریا ہے رحمت کا
    نہیں اہل محبت کو خطرعصیان وزحمت کا
    خدا نے رحمت للعالمیں جب شہ کو فرمایا
    ہوا دونوں جہاں میں فخر اس مرحوم اُمت کا
    شفاعت جب تماشا گاہِ محشر میں عیاں ہوگی
    پڑے گا تب گلے میں منکروں کے طوق لعنت کا
    نہیں اعمال میرے اس قدر جو رُستگاری ہو
    ولیکن ہے بھروسا اے نبی تیری شفاعت کا
    ہوئی توبہ قبول اُن کی ترے کلمے کی برکت سے
    مٹایا حرف حق نے آدم و حوا کی ذلت کا
    اگر ہوتا مہِ کنعاں زمانے میں ترے شاہا
    زلیخا وار پھرتا دیکھ کر عالم ملاحت کا
    لوائے حمد کے سائے میں اکثر انبیاء ہوں گے
    بڑھے گا حشر میں رتبہ یہاں تک تیری اُمت کا
    تزلزل پڑگیا یک مرتبہ کسریٰ کے محلوں میں
    ہوا مشہور جس دم دبدبہ شان نبوت کا
    مطالب سب مرے دل کے بر آویں یا نبی الله
    مری جانب پھرے گوشہ اگر عین عنایت کا
    کبوتر کی طرح لَوٹے ہے دل شام و سحر میرا
    بہت ہے شوق دل میں تیرے روضہ کی زیارت کا
    شہا محروم ہوں میں جب تلک اُس آستانے سے
    نظر آیا کرے ہر دم مجھے جلوہ عمارت کا
    لگایا جس بشر نے داغ دل پر تیری اُلفت کا
    رہے گا حشر تک سینہ میں اس کے داغ حسرت کا
    نئے انداز اور نوعِ دگر سے سر اُٹھاتے ہیں
    لکھے کیا حال سید نفس اور شیطاں کی شامت کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. عثمان رضا

    عثمان رضا محفلین

    مراسلے:
    4,594
    موڈ:
    Cool
    جزاک اللہ ۔۔۔
     
  3. ابو ثمامہ

    ابو ثمامہ محفلین

    مراسلے:
    249
    موڈ:
    Amazed
    جزاک الله خیرا۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. dehelvi

    dehelvi محفلین

    مراسلے:
    433
    پسندیدگی کا شکریہ۔
     
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,904
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    جزاک اللہ۔
    براہ کرم ہر دو اشعار کے مابین عمودی وقفہ شامل کر دیجیے کہ پڑھنے میں آسانی رہتی ہے۔
     
  6. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    جزاک اللہ خیراء
     
  7. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,904
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    وجودِ پاکِ ختم المرسلیں دریا ہے رحمت کا​
    نہیں اہل محبت کو خطرعصیان وزحمت کا​

    خدا نے رحمت للعالمیں جب شہ کو فرمایا​
    ہوا دونوں جہاں میں فخر اس مرحوم اُمت کا​

    شفاعت جب تماشا گاہِ محشر میں عیاں ہوگی​
    پڑے گا تب گلے میں منکروں کے طوق لعنت کا​

    نہیں اعمال میرے اس قدر جو رُستگاری ہو​
    ولیکن ہے بھروسا اے نبی تیری شفاعت کا​

    ہوئی توبہ قبول اُن کی ترے کلمے کی برکت سے​
    مٹایا حرف حق نے آدم و حوا کی ذلت کا​

    اگر ہوتا مہِ کنعاں زمانے میں ترے شاہا​
    زلیخا وار پھرتا دیکھ کر عالم ملاحت کا​

    لوائے حمد کے سائے میں اکثر انبیاء ہوں گے​
    بڑھے گا حشر میں رتبہ یہاں تک تیری اُمت کا​

    تزلزل پڑگیا یک مرتبہ کسریٰ کے محلوں میں​
    ہوا مشہور جس دم دبدبہ شان نبوت کا​

    مطالب سب مرے دل کے بر آویں یا نبی الله​
    مری جانب پھرے گوشہ اگر عین عنایت کا​

    کبوتر کی طرح لَوٹے ہے دل شام و سحر میرا​
    بہت ہے شوق دل میں تیرے روضہ کی زیارت کا​

    شہا محروم ہوں میں جب تلک اُس آستانے سے​
    نظر آیا کرے ہر دم مجھے جلوہ عمارت کا​

    لگایا جس بشر نے داغ دل پر تیری اُلفت کا​
    رہے گا حشر تک سینہ میں اس کے داغ حسرت کا​

    نئے انداز اور نوعِ دگر سے سر اُٹھاتے ہیں​
    لکھے کیا حال سید نفس اور شیطاں کی شامت کا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر