حزب اللہ کے متعلق سعودی مفتی شیخ عبداللہ بن جبرین کا فتوی

قیصرانی

لائبریرین
وہاب اعجاز خان نے کہا:
لیکن ایسے فتوے دینے والے مولویوں کو کوئی قتل نہیں کرتا۔ جو کہ منبر کو اس امت کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
وہاب بھائی، یارا آپ بھی کتنے بھولے ہو، کوئی قاتل اپنے آپ کو قتل کرے گا یا کسی کو اپنے قتل پر اکسائے گا؟
قیصرانی
 
مجھے ایک تاریخ واقعہ یاد آرہا ہے۔

منصور کی حکومت ہے۔ عباسی دور ہے۔ ایسے میں اہل بیت میں سے ایک شخص امام محمد نفس زکیہ عباسی خلافت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اور منصور کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں۔ اہل بیت ہونے کی وجہ سے اکثریتی شیعہ آبادی ان کا ساتھ دیتی ہے۔ اس وقت میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک جو کہ اکثریتی سنی مسلکوں کے امام ہیں وہ منصور کی بجائے امام محمد نفس ذکیہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ ایک ایسے شخص کی حمایت جو کہ شیعہ اکثریتی تحریک کا بانی ہے مگر ظلم اور آمریت کے خلاف لڑ رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ دو رکعت کے مولوی صاحبان اسلام کی ان دو عظیم ہستیوں کے متعلق بھی کوئی فتوی صادر کرنا پسند فرمائیں گے۔ یا نہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
نبیل نے کہا:
وہ کیا وقت ہوگا جب فجر کی جماعت میں جمعہ کی جماعت جتنے لوگ ہوتے ہوں گے۔
کہتے ہیں‌کہ امام مہدی کے ظہور کا وقت ہوگا جب فجر اور جمعہ کی جماعت میں ایک جتنے لوگ ہوں گے (لیکن مجھے اپنی یاداشت پر ابھی اتنا بھروسہ نہیں‌ہے اس بارے میں‌)
قیصرانی
 

فرخ

محفلین
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ شیعہ اور سنی دو مختلف مکاتبِ فکر کے نام ہیں اوردیکھنے میں دونوں کا تعلق دینِ اسلام سے نظر آتا ہے۔ اور ان دونوں کے اختلافات کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔

لیکن خاص طور پر جب دشمن بھی مشترکہ ہو، اور جنگ بھی اللہ کے دین کی خاطر لڑی جا رہی ہو، اسوقت تفرقے کی بات کرنا، میں سمجھتا ہوں ایک طرح کا گناہِ کبیرہ ہے۔ اسوقت جب امتِ مسلمہ کو شدت سے اتحاد کی ضرورت ہے، ایسے لوگ تفرقہ ڈالنے کی بات کر رہے ہیں۔

میں ذاتی طور پر شعیہ مکتبہ فکر سے اچھا خاصا اختلاف رکھتا ہوں مگر اپنے آپ کو سنی نہیں‌کہتا، کیونکہ ایسا کرنے کا کوئی حکم مجھے اسلام میں‌نظر نہیں آتا کہ میں اپنے آپ کہ کسی ایسے نام سے منسلک کر دوں جو باقی اسلام سے علیحدہ ہی کوئی دفتر لگے۔

اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بہت واضح اور خالص ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس پر سختی سے قائم رہیں، اور آپس میں‌تفرقہ ڈالنے کی بجائے اتحاد پیدا کریں

رہ گئی نظریات کی بات، تو جو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بدلے گا یا اس سے کھیلے گا، تو ظاہر ہے، اللہ کے ہاں عذاب کا مستحق ہوگا۔ اور جو اللہ کے لئے کام کرے گا،اللہ اسکے لئے کام کریگا۔۔

باقی ہر مکتبہ فکر، دین اسلام کی خاطر کسی نہ کسی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اور غیر مسلموں کے خلاف جہاد (تبلیغ بھی اسکا حصہ ہے) میں بھی کافی آگے آگے ہیں۔ تو بجائے اسکے کہ ہم اپنے آپ کہ شعیہ یا سنی یا سلفی وغیرہ وغیرہ کہلائیں، بہت اچھا ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو اللہ کے دین کے لئے مسلمان کہلائیں کیونکہ یہی نام اللہ نے پسند کیا ہے اور اسلام ہی وہ دین ہے جو اللہ کو پسند ہے، نہ کہ شعیہ سنی، سلفی وغیرہ۔۔۔۔

اللہ ہم سب کو متحد فرمائے اور اپنے دین کی سربلندی کی خاطر قوت عطا فرمائے اور ہمیں اسلام دنیا پر نافذ ہوتا بھی دکھائے اور پھر وہ شھادت کی موت عطا فرمائے جس کی تمنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہ اور مومنیں نے کی اور جو خود اللہ کہ بہت پسند ھے (آمین، ثم آمین)
 

فرخ

محفلین
قیصرانی نے کہا:
نبیل نے کہا:
وہ کیا وقت ہوگا جب فجر کی جماعت میں جمعہ کی جماعت جتنے لوگ ہوتے ہوں گے۔
کہتے ہیں‌کہ امام مہدی کے ظہور کا وقت ہوگا جب فجر اور جمعہ کی جماعت میں ایک جتنے لوگ ہوں گے (لیکن مجھے اپنی یاداشت پر ابھی اتنا بھروسہ نہیں‌ہے اس بارے میں‌)
قیصرانی

میں نے اس سے تعلق رکھتا واقعہ پڑھا ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ لسلام کے ظہور کے سے پہلے، حضرت مہدی علیہ السلام فجر کی نماز شروع کروانے والے ہونگے (وہ مسجد غالباَ دمشق میں ہے) ۔ اقامت ہو رہی ہوگی اور حضرت عیسیٰ علیہ لسلام نازل ہونگے۔ مہدی علیہ السلام انکو پہچان لیں گے اور امامت کہ جگہ خالی کردیں‌گے اور انکو دعوت امامت دیں گے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام، امامت کروانے سے انکار کر دیں گے۔
نماز کے بعد مہدی علیہ السلام انکو خلافت یا امارت سونپ دیں گے۔ اور پھر عیسیٰ علیہ السلام اس لشکر کو لے کر یہودیوں پر حملہ کریں گے جو وہاں سے کچھ فاصلے پر موجود ہونگے۔۔۔۔(باقی واقعات اسکے علاوہ ہیں)

اس سے کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ اسوقت، مہدی علیہ السلام کی معیت میں شائید ایک لشکر فجر کی نماز کے لئے موجود ہو (واللہ عالم) َ
 
Top