حرام لحم پہ پلتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ

صفی حیدر نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 10, 2019

ٹیگ:
  1. صفی حیدر

    صفی حیدر محفلین

    مراسلے:
    287
    جھنڈا:
    Pakistan
    محترم سر الف عین کیا اس غزل کے قوافی درست ہیں ؟؟ دیگر محفلین سے بھی اصلاح کی درخواست ہے
    حرام لحم پہ پلتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    اجل رسیده ہی کھاتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    کوئی جو دشت نوردی میں جان سے گزرے
    خوشی سے جشن مناتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    جہاں پڑے ہوں کسی اجڑے دل میں مرده خواب
    وہیں ٹھکانہ میں کرتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    جو پی لوں مرده لبوں سے کشید کر کے مے
    تو خوب وجد میں آتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    جواں بدن جو محبت میں ہو قریبِ مرگ
    نگاه اس پہ ہی رکھتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    میں نوچ لیتا ہوں مردار جسم کا ہرعضو
    صفی یوں بھوک مٹاتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. La Alma

    La Alma محفلین

    مراسلے:
    1,848
    قوافی درست نہیں لگ رہے۔ حرفِ روی کا تعین نہیں ہو پا رہا۔ " پلتا" اور "کھاتا" میں " تا" تو ردیف کا حصہ ہے۔ اگر اسے الگ کر کے قوافی کو دیکھا جائے تو "پل" اور "کھا" ہم قافیہ نہیں رہتے۔ یہاں پر کھاتا، مناتا، آتا، مٹاتا درست قوافی ہیں۔
    غزل کا مضمون منفرد اور اچھوتا ہے۔ عمدہ اسلوب میں کہی گئی ایک مسلسل غزل ہے۔ محض قوافی کی غلطی کی وجہ سے محنت ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ذرا سے ردو بدل سے شاید قوافی بھی درست ہو جائیں اور نفسِ مضمون بھی برقرار رہے .
    مثال کے طور پر؛
    حرام لحم ہی کھاتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    اجل رسیده ہی لاتا ہوں میں ہوں راجہ گدھ
    اسی طرح تیسرے اور پانچویں شعر میں بالترتیب "میں کرتا، ہی رکھتا" کی بجائے " بناتا، جماتا" کر دیا جائے تو یہ سقم دور ہو سکتا ہے۔
    اگر مقطع میں تخلص کو نہ ہی برتا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ یہ معائب بذاتِ خود شاعر میں موجود ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,841
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حرف روی انہیں مشترکہ حروف کو کہہ سکتے ہیں جو عروضی اصطلاح ہے۔ لیکن عروض کے مطابق تو روی سے پہلے اصل لفظ ہونا ضروری ہے، جیسے المی کی مثال میں جاتا، کھاتا، لاتا 'تا' کے بغیر بھی جا. کھا، لا با معنی الفاظ ہیں، ان میں جیسے ماتا (بمعنی ماں یا نیند کا ماتا) جیسا قافیہ درست نہیں ہوتا کہ 'ما' اصل لفظ نہیں۔
    لیکن میں قافیہ مان لیتا ہوں اسے کہ اتنا ثقہ عروضی نہیں، بلکہ سرے سے عروض ہی نہیں آتا مجھے تو! اسی وجہ سے روی جیسی اصطلاح بھی استعمال نہیں کرتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. صفی حیدر

    صفی حیدر محفلین

    مراسلے:
    287
    جھنڈا:
    Pakistan
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. صفی حیدر

    صفی حیدر محفلین

    مراسلے:
    287
    جھنڈا:
    Pakistan
    غزل کے مضمون کے بارے میں جو رائے آپ نے دی اس نے میری حوصلہ افزائی کی ہے ...... اور قوافی کے جو متبادل آپ نے تجویز کیے وہ میرے لیے قابل قدر ہیں ....... ان کی بنیاد پر ہی اشعار کی اصلاح کر لوں گا ..... ایک سوال ہے کہ " ٹھکانہ کرنا " تو محاورے کے مطابق ہے لیکن کیا " ٹھکانہ بنانا " بھی محاورے کے مطابق درست ہو گا ؟؟؟؟ اسی طرح " نگاہ جمانا " بھی کیا محاورے کے مطابق درست ہو گا ؟؟؟؟ ....... تخلص کا استعمال اس لیے بھی کیا کہ کبھی کبھی اپنا آپ راجہ گدھ جیسا محسوس ہوتا ہے .....
     
  6. صفی حیدر

    صفی حیدر محفلین

    مراسلے:
    287
    جھنڈا:
    Pakistan
    محترم سر غزل میں استعمال کردہ قافی کے بارے میں آپ کی حتمی رائے کیا ہے ..... ؟؟؟؟ آپ کی رائے میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے سو آپ کی حتمی رائے کا منتظر ہوں ......
     
  7. La Alma

    La Alma محفلین

    مراسلے:
    1,848
    عام بول چال میں تو کافی مستعمل ہے، لہٰذا مجھے تو درست ہی معلوم ہو رہا ہے۔ صحیح رائے تو کوئی زبان دان ہی دے سکتا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. صفی حیدر

    صفی حیدر محفلین

    مراسلے:
    287
    جھنڈا:
    Pakistan
    لغت سے تو ان کے بامحاورہ استعمال کا پتہ نہیں چل سکا ۔۔۔۔۔ اس فورم پر محترم زبان دان حضرات موجود تو ہیں ۔۔۔ شاید کوئی راہنمائی کر دے ۔۔۔۔۔۔ شاید ۔۔۔۔ باقی اپنے ناقص علم کے مطابق مزید تحقیق کرتا ہوں ۔۔۔۔
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,841
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حتمی رائے یہی ہے کہ قوافی غلط ہیں
    ٹھکانہ بنانا اور نگاہ جمانا بھی مستعمل ہیں
     

اس صفحے کی تشہیر