حدیثِ دوست.....فرامین رسول صلی اللہ علیہ و سلم

سیما علی

لائبریرین
ترجمہ : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کہا میں ﷲ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوں اس کے لیے جنت واجب ہوگئی

(ابوداؤد ، 1353/1)
 

سیما علی

لائبریرین

مشکوٰۃ،المصابیح

ترجمہ : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کی تحقیر و تذلیل کرتا ہے”

(مشکوٰۃ،المصابیح صفحہ422)۔

 

سیما علی

لائبریرین
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم لفاطمة رضي الله عنها :
( ما يمنعك أن تسمعي ما أوصيك به ، أو تقولي إذا أصبحت وإذا أمسيت : يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ، أصلح لي شأني كله ، ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين )
رواه النسائي في "السنن الكبرى" (6/147) وفي "عمل اليوم والليلة" (رق/46) ، والحاكم في "المستدرك" (1/730) ، والبيهقي في "الأسماء والصفات" (112) ، وغيرهم. ولفظه في بعض الروايات : ( أن تقولي إذا أصبحت وإذا أمسيت ) .
قال المنذري في "الترغيب والترهيب" (1/313) : إسناده صحيح . وقال الشيخ الألباني في "السلسلة الصحيحة" (رقم/227) : إسناده حسن .

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے فرمایا :
میں تمہیں جو وصیت کرتا ہوں اسے سننے سے تمہیں کیا امر مانع ہے ؟
صبح و شام یہ کہو : يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ، أصلح لي شأني كله ، ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين
'' اے ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہنے والے !
زمین و آسمان اور تمام مخلوق کو قائم رکھنے والے !
تیری رحمت کی دہائی ہے تُو میرے کام درست فرما دے اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا ''
 

سیما علی

لائبریرین
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ ہی کی رضا کے لیے محبت کی، اللہ ہی کی رضا کے لیے دشمنی کی، اللہ ہی کی رضا کے لیے دیا، اللہ ہی کی رضا کے لیے منع کر دیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۔

سنن ابو داؤد حدیث : 4681
 

سیما علی

لائبریرین
" عن سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ. "

سعید بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو کوئی پاکیزہ مال صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ تو پاکیزہ مال ہی قبول فرماتے ہیں، تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے (قبول فرماتا ہے) وہ اگرچہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ رحمان کی ہتھیلی میں پھلتی پھولتی رہتی (بڑھتی رہتی ہے) حتی کہ پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے، جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنےگھوڑے کے بچہ یااونٹ کے بچہ کو پالتا پوستا ہے۔

(صحيح مسلم، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها، (3/ 85) برقم (2389)، ط/ دار الجيل، بيروت)
 

سیما علی

لائبریرین
عوارضِ بشریہ اس لیے ہوتے تاکہ امت اپنی زندگیاں حضور ﷺ کی زندگی کے مطابق ڈھال سکے۔۔۔ اگر ان ساری چیزوں کا ظہور نہ ہوتا تو اِنسانوں کا حضور ﷺ کی زندگی کے ساتھ ربط نہ رہتا اور آقا علیہ السلام کی زندگی سے اَخذکرنے اور سبق لینے کا امکان نہ رہتا۔

ایک دفعہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور چار رکعتیں پڑھانے کے بجائے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ صحابہ کرامl آپس میں بات کرنے لگے:
قَصُرَتِ الصَّلَاة.
(بخاری، الصحیح، 5: 2249، الرقم: 5704)

شاید نماز چھوٹی کر دی گئی ہے؟

مگر کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ آقا علیہ السلام سے پوچھتا کہ نماز پوری نہیں پڑھائی۔ ادب کے ساتھ سب خاموش تھے۔ ایک صحابی جن کو ذو الیدین کہتے تھے، وہ دیہات کے رہنے والے تھے، لہذا اپنی سادہ لوحی کے سبب انھوں نے سوال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کی اور آگے بڑھے اور عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ!

أَنَسِیتَ أَمْ قَصُرَتِ؟
یار سول اللہ ﷺ! کیا آپ بھول گے ہیں یا نماز آدھی کر دی گئی ہے؟
آقا علیہ السلام نے صحابہ سے پوچھا:
أَکَمَا یَقُولُ ذُو الْیَدَیْن؟ فَقَالُوا نَعَم.
کیا اِسی طرح ہوا ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟
صحابہ نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر آقا علیہ السلام نے فرمایا:

لَمْ أَنْسَ وَ لَمْ تُقْصَرْ.
نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز چھوٹی کی گئی ہے۔
آقا علیہ السلام نے پھر دو رکعتیں بقایا پڑھائیں اور سجدہ سہو کیا۔
(بخاری، الصحیح، باب: من یکبرفی سجدۃ السهو، 1: 182، الرقم: 468)
غور طلب بات یہ ہے کہ دو رکعتیں بھی پڑھائیں، سجدہ سہو بھی کیا مگر یہ بھی فرمایا کہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز چھوٹی ہوئی ہے۔
اِس کی وضاحت امام مالکؒ نے موطا میں ایک اور حدیث کے ذریعے دی ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

انی لأنسی أو أنسی لأسن.

(موطا مالک، 1: 100، الرقم: 225)

جب دیکھتے ہو کہ میں بھولا ہوں تو یاد رکھ لو کہ میں بھلایا گیا ہوں اور میں بھلایا اِس لیے جاتا ہوں تاکہ میرا ہر فعل تمہارے لیے سنت بن جائے۔
یعنی اگر میں اس طرح نہ کروں گا تو کل جب تم نماز میں بھولو گے تو کیا کرو گے؟ میں تمھیں اس امر پر تعلیم دینے کے لیے کہ اگر نماز میں بھول جاؤ تو کیا کرنا ہے؟ بھول کر سجدہ سہو کرکے دکھا رہا ہوں کہ اگر کوئی میرا اُمتی بھول جائے تو ایسے کرنا ہے۔ گویا آپ ﷺ نے واضح فرمادیا کہ اگر بھول بھی ہوتی ہے تویہ سنت بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ اس حدیث مبارک سے ثابت ہوا کہ حضور نبی اکرم ﷺ میں اگر بشری صفت کا ظہور ہوتا تھا تو اُمت کے لیے ہوتا تھا، آقا علیہ السلام اُس کے محتاج نہ تھے اور یہ آقا علیہ السلام کی کمزوری نہ تھی۔
 
Top