مبارکباد جیہ کی شادی۔۔!!

ماوراء

محفلین
السلام علیکم۔۔۔ یہاں بھی یہی سماں ہے محفل پر یعنی شادی کا۔۔۔ اور ادھر میں منگنی و شادیوں میں۔۔۔ !
یہاں تو اتنے بہت سے نئے تھریڈز اور پیغامات جمع ہو گئے ہیں۔۔۔ ماوراء ابھی اُس دن تو بات ہو رہی تھی م س ن پر کہ کیا کیا کرنا ہے جویریہ کی شادی میں۔۔۔ اتنا جلدی سب ہو بھی گیا۔۔۔ اچھا ابھی دیکھتی ہوں سب پیغامات اور کیا کیا تیاریاں کیں سب نے ادھر :)
بس شگفتہ۔۔۔سسرال والوں نے اتنی جلدی ڈال دی کہ ہمیں مزید سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ سب جلدی میں ہی کرنا پڑا۔:(
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
مہندی رنگی آئی ہی رے تورے پیا کے گھر سے سن سجنی ،۔۔
ساس نند جی لائی ہیں توُرے پیا کے گھر سے سنُ سجنی
سپنے جگے ہیں تیرے جی وہ بنے ہیں میرے توُ بنی دلہن ساجن کی
مہندی رنگلی آئی ہے رے توُرے پیا کے گھر سے

سکھیاں ڈالیں تال پر جھومر ۔۔ ۔۔
baby4.gif



e9b64745.jpg



11794271919712fesw.gif


اور یہ میں خود بقلم خود بھی تیار شیا ر ہوکر آگئی ہوں مہندی کے ساتھ ۔ اب جیہ کو لاؤ تاکے مہندی کی رسم کی جائے ۔ :grin:



نوٹ ۔ ۔( یہاں سے اگر کسی چور نے میری تصویر چراُئی تو میں بہت ماروں گی ۔ :mad:)
لہذا میں بھی شامل ہوں اس مہندی میں بقلم خود ،۔ ۔
جیہ کہاں ہو ۔؟

شاندار بوچھی !
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
:zabardast1: ماوراء ۔۔۔ بہت خوبصورت آغاز کیا ہے فنکشن کا۔۔۔۔:best:

اور باجو نے تو باقائدہ تیاری کے ساتھ شامل ہو کر ۔۔ اسٹیج اور ڈانس کے ساتھ بالکل حقیقی رنگ بھر دیا ہے ۔۔:great:

میری طرف سے مہندی کی مناسبت سے یہ گانا ۔۔ خاص جیہ کے لئے ۔۔:)

مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا
لینے تجھے او گوری
آئیں گے تیرے سجنا

مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا

سہرا سجا کے رکھنا
چہرہ چھپا کے رکھنا
یہ دل کی بات اپنے
دل میں دبا کے رکھنا

مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا

نظریں جھکا کے رکھنا
دامن بچا کے رکھنا
لینے تجھے او گوری
آئیں گے تیرے سجنا

مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا

رستہ ہمارا تکنا
دروازہ کھلا رکھنا
لینے تجھے او گوری
آئیں گے تیرے سجنا

کچھ اور اب نہ کہنا
کچھ اور اب نہ کرنا
یہ دل کی بات اپنے
دل میں دبا کے رکھنا

سہرا سجا کے رکھنا
چہرہ چھپا کے رکھنا

مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا​



یہ گانا اور اس کے علاوہ مہندی کے گانے اس لنک پر سنے جا سکتے ہیں ۔۔
http://ww.smashits.com/index.cfm?Page=Audio&SubPage=ShowTracks&AlbumID=487

سارہ

مہندی کے لئے اچھا انتخاب کیا !
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
فروری کی ایک سرد رات ہے مگر منگورہ کے ایک گھر میں رونق ہے اور دور دور تک گانے بجانے کی آواز جا رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ محفل کی سر گرم رکن جویریہ مسعود کی مہندی کی رسم ادا کی جا رہی ہے۔ دور دور سے دوست احباب ، سہیلیاں آئی ہیں حتی کہ انگلینڈ سے باجو بھی آئی ہوئیں ہے۔ شنید ہے کہ ہندوستان سے جویریہ کے منہ بولے بابا جانی بھی پہنچنے والے ہیں۔ جیہ کے منہ بولے بھائی شمشاد بھائی کو آنا تھا مگر عین وقت پر انہیں پاکستان جانا پڑا تو آنے کے بجائے معذرت بھیج دی۔

طے پایا تھا کہ شادی نہایت سادگی سے ہوگی مگر جیہ کی سہیلی ماورا جو اس موقعے کے لیے خاص طور پر ماواء النہر ۔۔۔ سوری، یورپ سے آئیں ہے، کے پر زور اصرار پر مہندی کی محفل سجائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:

ہم سب محفل کی لڑکیوں نے مل کر جیہ کی شادی کی خوشی میں جشن منانے کا پروگرام بنایا۔ شادی کا مطلب “خوشی“ہے۔ ہمارا اس ہلے گلے کا مقصد بھی خوشی ہی ہے۔ یعنی جیہ کی خوشی کو دگنا کرنا۔ اس لیے ہم سب مل کر جیہ کی خوشی میں یوں شریک ہوں گے کہ جیہ یہ سب ہمیشہ یاد رکھ سکے۔ آپ سب جس طرح بھی خوشی کا اظہار کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں۔

ان کی ہی دم سے یہ سارا ہنگامہ ہے۔۔۔
سارا انتظام باجو کے ہاتھ میں ہے ۔ باجو نے مہندی کا سٹیج بہت محبت اور خلوص سے تیار کروایا ہے۔ اور خود بھی کافی سے زیادہ تیار ہوکر آئیں ہے۔ بہت اچھی اور ڈیشنگ لگ رہی ہے۔ جوڑا ایسا پہنا ہے کہ بعض لوگ تو انہیں دلہن سمجھ کر چونک گئے کہ اتنی عمر کی دلہن۔۔۔۔؟

ایسے میں شور اٹھتا ہے کہ دلہن سٹیج پر لائی جا رہی ہے۔ دلہن آتی ہے اور سٹیج پر بٹھائ جاتی ہے۔ ایسے میں ماورا کی فرمائش پر یہ گانا لگایا جاتا ہے

بنو رانی تمھیں سیانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
ایک راجہ کی تمکو رانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا


گانا ختم ہوتے ہی باجو فرمائش کرتیں ہے کہ یہ گانا لگایا جائے اور باجو کی فرمائش پر گانا بجتا ہے۔

مہندی رنگی آئی ہی رے تورے پیا کے گھر سے سن سجنی ،۔۔
ساس نند جی لائی ہیں توُرے پیا کے گھر سے سنُ سجنی
سپنے جگے ہیں تیرے جی وہ بنے ہیں میرے توُ بنی دلہن ساجن کی
مہندی رنگلی آئی ہے رے توُرے پیا کے گھر سے


گانے کے ساتھ ہی ایک بچہ اٹھ کر عجیب و غریب ڈانس کرتا ہے۔ لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے جاتے ہیں۔ بچے کی دیکھا دیکھی باجو بھی آگے آکر ڈانس شروع کرتی ہے اور اتنی اچھی ڈانس کرتیں ہے کہ لوگ بے ساختہ داد دینے لگتے ہیں۔ گانا ختم ہوتے ہی وہ تھک کر ایک کرسی پر بیٹھ جا تیں ہے۔
اتنے میں بابا جانی ہندوستان سے مہندی کی محفل میں پہنچ جاتے ہیں اور آتے ہی نم آنکھوں سے یہ گانا گنگنانے لگتے ہیں:

بابل کی دعائیں لیتی جا
جا تجھ کو سکھی سنسار ملے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے
سسرال میں اتنا پیار ملے


مگر جلد ہی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ تو رخصتی کا گانا ہے تو چھپ ہو جاتے ہیں اور دلہن کے والد کے ساتھ پنڈال سے نکل کر مہمان خانے جاتے ہیں تاکہ لمبی سفر کی تکان کچھ آرام سے اتارلیں۔

اتنے میں دلہن کے موبائل پر ایک میسیج آتا ہے ، مبروک یا اختی۔ یہ میسیج الف نظامی کے طرف سے ہیں جو اپنا نک بدلنے میں ثانی نہیں رکھتے۔ دلہن بے چاری سوچ رہی ہے کہ اس وقت کیسے جواب دوں آرام سے شکریہ کا میسیج بھیج دوں گی

اتنے میں دلہن کی سہیلی امن ایمان پہنچتیں ہے۔ آتے ہیں نہ دعا نہ سلام، ماورا سے کہنے لگتیں ہے:

بوچھی باجو۔۔> زبردست۔۔۔۔۔ ماوراء جیہ کی مہندی پر سب سے اچھی بوچھی باجو لگ رہی تھیں نا۔۔۔؟؟؟؟

مگر جلد ہی احساس ہوتا ہے کہ محفل کچھ روکھی سوکھی ہے تو اپنے مدھر اور چنچل آواز میں (جسے وہ انکساری سے بے سری آواز کہتیں ہے) گانے لگتیں ہے:

مہندی کی یہ رات مہندی کی یہ رات
آئی مہندی کی یہ رات لائی سپنوں کی بارات
سجنیا ساجن کے ہے ساتھ رہے ہاتھوں میں ایسے ہاتھ
گوری کرت سنگھار گوری کرت سنگھار


یہ گانا ابھی ختم ہی ہوتا ہے کہ کراچی سے دلہن کے منہ بولے بھیا عمار ضیا کا ایم ایم ایس آتا ہے جس میں ایک گانے کا ویڈیو ہوتا ہے مگر چونکہ دلہن کے پاس موبائل سیٹ ذرا پرانے قسم کا ہے تو وہ ویڈیو وہ دیکھ نہیں پاتی۔

اتنے میں سارہ آپہنچتیں ہیں ، یہ وہی سارہ ہیں جو محفل کے سکول میں دلہن کی کولیگ ہے اور بڑے بچوں کی کلاس لیتیں ہے۔ حقیقی معنوں میں بھی اور محاورے کے معنوں میں بھی۔ آتے ہی فنکشن کے اہتمام کی تعریف کرتیں ہے اور ساتھ میں باجو کی ڈانس کی بھی ۔

سارہ کو شادیاں اٹینڈ کرنے کا بہت تجربہ ہے اس سے پہلے بھی وہ ایک ساتھ دو دو شادیوں میں شرکت بنفس نفیس کر چکیں ہے۔ اور موقعے کی مناسبت سے گانے کا بھی تجربہ ہے۔ آتے ہی یہ گانا شروع کیا :

مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا
لینے تجھے او گوری
آئیں گے تیرے سجنا
مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا

دلہن گانا سن کر سوچ رہی ہے کہ یہ میرے لیے کہہ رہی ہے کہ اپنے لیے کہ " ڈولی سجاکے رکھنا۔۔۔۔:)
اب مہمانوں کی آمد آمد ہے۔ محفل کی رونق جاری ہے۔ بے چاری دلہن سٹیج پر بیٹھے بیٹھے تھک چکی ہے ۔ مگر اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جویریہ ۔۔۔ تو یہ سب ہو رہا تھا۔۔۔ : )
بہت اچھا لکھا !
 

ڈاکٹر عباس

محفلین
پیاری سی غزل کا ڈھیر سارا شکریہ۔

غزل اب طبیعت کیسی ہے؟
السلام علیکم۔
غزل تو آج جلدی سو گئی کیوں کہ دن بھر لائٹ نہیں تھی۔طبیعت اب بہت بہتر ہے اس کی۔
کل میں نے اسے یہ سارا دھاگا پڑھ کر سنایا ۔تو بہت خوش ہوئی۔
 

تیشہ

محفلین




شکریہ ، شاندار تو میں ہوں اس میں کیا شک ہے ؟:grin:

جیہ کی مہندی تھی تو سوچا چلی آؤں ۔ :grin: چلئیے سپیس نہیں کھلی اک تصویر تو ادھر سے ہی دیکھ لی ۔ :grin: باقی کی اب آپکی قسمت میں نہیں ۔ :( ۔

فضہ کی منگنی پر بھی میں نے آنا تھا پر ساڑھی پہنکر ،
مگر پہلے آپ سب کے ڈریسز سن دیکھ لوں پھر آرام سے آتی ہوں ۔ ۔ :chalo:
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
مہندی



[youtube]


جمعہ ٢٣ فروری ایک بہت ہی خاص دن تھا۔ صبح سے ہی ہر طرف گہما گہمی تھی۔ کہیں سے ہنسی کی آواز آ رہی تھی تو کہیں گانے بجنے کا شور تو کہیں کچھ لڑکیاں اپنی تیاری کے لیے شور مچا رہی تھیں۔ بچے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ بڑے آج کے دن کے لیے خصوصی انتظامات کا بندوبست کر رہے تھے۔ جیہ کا گھر آج مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ دور دراز سے آئے ہوئے رشتے دار، دوستوں نے کچھ دن پہلے سے ہی آ کر ڈیرہ جما لیا تھا۔ ہفتہ بھر پہلے ہی ڈھولکی رکھ لی گئی تھی۔ رات بھر گانے گا گا کر ہم سب نے ہی محلے والوں کی نیند حرام کی ہوئی تھی۔ باجو نے تو کمال کی ڈھولک بجائی، امن، حجاب، سارہ تو چھپی رستم نکلیں۔۔مایوں، مہندی کے ایسے ایسے زبردست گانے گائے کہ سب کے منہ ہی کھلے کے کھلے رہ گئے۔

آج مہندی کا دن آ گیا۔ امن اور ماوراء صبح صبح اٹھ گئیں تھیں۔ مہندی کے چھوٹے موٹے کاموں (جو کہ ہمارے لیے بہت بڑے تھے) کا ذمہ ہم نے لیا ہوا تھا۔ سٹیج سجوانا، گجروں کا بندوبست، مہندی کی پلیٹیں، موم بتیاں، مہندی وغیرہ وغیرہ۔ اور ساتھ ساتھ ہمیں کیمرہ لئے بھی پھرنا تھا۔ تاکہ مہندی سے پہلے کی بھی ساری خبریں آپ تک پہنچائی جا سکیں۔ شبو، سارہ، شگفتہ اور باجو اپنی تیاریوں کے ساتھ ساتھ جیہ کی تیاریوں میں بھی مصروف تھیں۔ باجو آج صبح سے ہی اپنی تینوں بیٹیوں کی تیاری کے لیے شور مچا رہی تھیں۔ مناہل تھی کہ قابو ہی نہیں آ رہی تھی۔ وہ باقی بچوں کے ساتھ کھیلنے میں ایسی مصروف ہوئی کہ باقی سب کچھ بھول ہی گئی۔ آج حمزہ بھی خوب چہک رہا تھا۔ شکر ہے آج پھپھو اس کے ارد گرد نہیں تھیں۔ بچوں نے الگ سے شور مچایا ہوا تھا۔ مہندی کے دن بھی پکڑن پکڑائی کھیل رہے تھے۔

اوپر والی منزل کے ایک بند کمرے میں کچھ لڑکے خاموشی سے جانے کن سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ لیکن باہر گانے کی آواز ضرور آ رہی تھی۔ امن نے چپکے سے دروازہ کھولا، تو ہم دونوں کی اندر دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئی۔ کمرے میں راہبر، فہیم، ضبط، قدیر، بدتمیز، دوست، فرذوق ۔۔۔ رات ڈانس کرنے کی پریکٹس میں مصروف تھے۔ ہم نے بھی اپنے کیمرے میں ان کی پریکٹس کو محفوظ کر لیا۔ ملاحظہ کریں۔

[youtube]

اس کے بعد ہم نے دوسرے کمرے میں جھانک کر دیکھا، تو حجاب موتیے کے پھولوں کا گجرا بنانے میں مصروف تھی اور سامنے درجنوں تو چوڑیاں رکھی ہوئی تھیں، شگفتہ حمزہ کے کپڑے استری کر رہی تھیں، اور باجو شگفتہ سے کہہ رہیں تھیں کہ شگفتہ پلیز جلدی کریں۔ میں نے تو چار، چار جوڑے استری کرنے ہیں۔ سارہ جو دوسری طرف منہ کر کے بیٹھی ہوئی جانے کیا کر رہی تھی۔ جب میں اپنا کیمرہ اس کی طرف لے کر گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ سارہ بی بی میری میک اپ کٹ سنبھالے بیٹھی ہے۔ بس پھر میری اور سارہ کی تو وہیں لڑائی شروع ہو گئی۔ جیہ جو بیٹھی اس کمرے میں ہونے والی سرگرمیاں دیکھنے میں مصروف تھی، نے آ کر ہماری لڑائی کو ختم کروایا۔ لڑائی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ سارہ نے میرا میک اپ سنبھالا ہوا تھا بلکہ سارہ کو میک کرنے کا طریقہ ہی نہیں آتا تھا۔اس نے میرا میک اپ کا سامان تو برباد کیا ہی کیا لیکن اس نے مسکارا سے اپنا پورا چہرہ بھی کالا کیا ہوا تھا۔

گھر میں آہستہ آہستہ مہمان اکھٹے ہو رہے تھے۔ مہندی کی رسم شام سات بجے تھی۔ شمشاد بھائی اور بھابی کی آمد پر گھر میں شور سا مچ گیا۔ شمشاد بھائی سفید جوڑے میں تشریف لائے۔ امن نے ان کے آتے ہی ان کو پیلا ڈوپٹہ تھما دیا۔شمشاد بھائی بہت پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ بھابھی بھی چنری کے پیلے اور سبز کپڑوں میں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔
ابھی شمشاد بھائی کے آنے کی خوشی ہی ہو رہی تھی کہ اچانک دروازے سے چار لڑکے داخل ہوئے۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ لیکن یہ سب اکیلے کیوں تھے؟ اوپس، یہ چاروں تو اکیلے ہی مہندی میں آ گئے۔ حالانکہ بھابھیاں بھی انوائٹ تھیں۔ لگتا تھا کہ آج کی محفل میں یہ کوئی انوکھا ہی کام کرنے والے ہیں۔ خیر، سب سے سلام دعا کے بعد انھوں نے اپنی تشستیں سنبھال لیں۔ پوری مہندی کی محفل میں یہ چار لڑکے نمایاں تھے۔ سب سفید شلوار قمیض کے ساتھ پیلے ڈوپٹوں میں تھے۔ جبکہ یہ چاروں سوٹ بوٹ میں تشریف آور ہوئے تھے۔ یہ کون تھے۔۔اس کے لیے آپ کو پوری رپورٹ پڑھنا ہو گی۔

کچھ ہی دیر میں نبیل اور آصف خاموشی سے ہال میں داخل ہوئے اور چپکے سے پیچھے کہیں جا کر بیٹھ گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے زکریا دروازے سے داخل ہوئے۔ واہ واہ۔۔۔ سب سے آخر میں تفسیر بھیا بھابی کے ساتھ آئے۔ امن اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے سرگوشی کرنے لگے کہ تمھیں تو پتہ ہی ہے یہ عورتیں تیاری میں کتنا وقت لگاتی ہیں۔۔۔۔!! بھابی ساڑھی میں آئیں تھیں۔ اور تفسیر بھیا بھی کمال لگ رہے تھے۔ اور خوب چہک رہے تھے۔ جیہ کے لیے تو ڈھیر ساری چوڑیاں اور مہندی بھی لائے تھے۔ جیہ کی طرف سے سارے مہمان آ چکے تھے۔ اب دولہے والوں کا انتظار تھا۔


اس ویڈیو میں آپ میری اور امن کے انتطامات دیکھ سکتے ہیں۔ کہ ماشاءاللہ ہم کتنی سگھڑ ہیں۔[youtube]


دولہے والے وقت پر پہنچے۔ ہم سب نے ان کا زبردست استقبال کیا۔ پھر سب لڑکیاں گانے گاتے ہوئے جیہ کو پھولوں کی چادر تلے لے کر سٹیج تک آئیں۔ جیہ پیلے جوڑے اور گوٹا لگے چنری کے ڈوپٹے، پھولوں کے گجرے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ دولہا کے بہنیں تو جیہ کی بلائیں ہی لیتی رہ گئیں۔ شگفتہ، حجاب، سارہ، امن، باجو، فرزانہ، ماوراء، فرحت سب لڑکیوں نے لہنگے پہنے تھے۔ سب نے پھولوں کے گجرے، چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ رسم کا آغاز ہوا۔ تو خواتین نے جیہ کے ایک ہاتھ پر پان کا پتہ رکھا اور دوسرے ہاتھ پر ابٹن لگانا شروع کی۔ سب لڑکیاں سجی ہوئی مہندی کی پلیٹیں جن پر موم بتیاں بھی جلائی گئی تھیں، ہاتھ میں پکڑے ہوئے لائیں۔ سب نے باری باری جیہ کے ہاتھ میں مہندی اور مٹھائی کھلائی۔ اور سارہ تو اتنی خوش ہو رہی تھی کہ جیہ کےمنہ پر بھی ابٹن لگا رہی تھی۔ ابھی تو سارہ نے تیل بھی سامنے رکھا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے تیل کو وہاں سے ہٹایا کہ اس رسم کو رہنے دو۔ یہ رسم اسی کی مہندی پر کریں گے۔ رسم کے دوران ہی دوسری طرف آنٹیاں ڈھولکی بجانے میں مصروف تھیں۔ اور مزے مزے کے گانے اور ٹپے گا رہی تھیں۔ مسرت نذیر کو تو خاص طور پر ہم نے جیہ کی شادی پر بلایا تھا۔

[youtube]

امن نے بھی اپنے آواز کا جادو کئی گانے گا کر جگایا۔ سارہ نے تو خوب گانے گائے۔ حجاب، فرحت اور شگفتہ ہم سب کے ساتھ گا گا کر ہمارا ساتھ دے رہی تھیں۔ فرزانہ نے جب گانے گئے تو سب کو چپ ہی لگ گئی۔ ان کی سریلی آواز کے سامنے سب کی آوازیں دھیمی پڑ گئیں ڈھولک بجاتے ہوئے بھی باجو نے دس کلو والا مٹھائی کا ٹوکرا پاس ہی رکھا ہوا تھا۔ ایک بار ڈھول بجاتیں تو دوسری طرف مٹھائی منہ میں ڈال لیتیں۔


متھے تے چکمن وال میرے بنڑے دے
لاؤ نی لاؤ اینو شگناں دی مہندی
مہندی کرے ہتھ لال میرے بنرے دے


سوئے وتیریاں والیا میں کہنی آں
کر چھتری دی چھاں میں بینی آں
ماپایاں نے چن لیا ساتھی تینوں تیرا
جندڑی تو پیارا ہن پیار مینوں تیرا


پھر سب نے ڈانس بھی خوب کیا۔

[youtube]


دولہے اور دلہن کے مہمانوں کے درمیان گانوں کا مقابلہ بھی ہوا۔ گانے کا مقابلہ با آسانی ہم یعنی لڑکی والے جیت گئے۔

ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریوں
میرے سنگ سنگ گاؤ گوریوں
شرماؤ نہ لگا کے مہندی
ذرا تالیاں بجاؤ گوریوں
یہ گھڑی ہے ملن کی
اک سجن سے سجن کی
یہ گھڑی ہے ملن کی
اک سجن سے سجن کی

مہندی کی یہ رات مہندی کی یہ رات
آئی مہندی کی یہ رات لائی سپنوں کی بارات
سجنیا ساجن کے ہے ساتھ رہے ہاتھوں میں ایسے ہاتھ
گوری کرت سنگھار گوری کرت سنگھار

ہاتھوں میں مہندی بالوں میں پھول
بول دے میری گڈی تجھے گڈا قبول

یہ مہندی یہ مہندی مہندی سجناں دی
مہندی لگاؤں گی میں سجناں کے نام کی
کچھ نہ خبر مجھے اب صبح و شام کی


یہی سماں دلبر یہی سماں ہے پیار کا
موسم کہہ رہا ہے بار بار کر لے آج دل کو بے قرار
سامنے سے جو ہواؤں کے جھونکے جو لہرا کے آئے
چاہتوں بھرا ایک سندیسہ لائے۔

گانے کے مقابلے کے بعد لڑکیوں نے لڈی ڈالی۔

[youtube]پیچھے حمزہ بھی ڈانس کر رہا ہے۔

[youtube]


اور لڑکوں نے بھنگڑا ڈالا۔ آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔ محفل کے سب لڑکے موجود ہیں۔ جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھے تھے۔ آخر میں وہ بھی جوش میں آ گئے اور خوب بھنگڑا ڈالا۔ نبیل، زکریا، آصف، شمشاد بھائی، فہیم، راہبر، پاکستانی، جاوید بھائی، ڈاکٹر عباس، اعجاز، ابوشامل، راجہ نعیم، اعجاز انکل، وارث، باسم، ثناءاللہ، ضبط۔۔۔۔ سب نے مل کر زبردست بھنگڑا ڈالا۔

[youtube]

ہال میں ایک دم اس وقت خاموشی چھا گئی۔ جب چار سوٹ بوٹ والے اٹھ کر سٹیج کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ اور ڈانس شروع کر دیا۔ ہال میں قیصرانی، محب، ظفری اور رضوان کا نام گونجنے لگا۔ ان کا ڈانس ملاحظہ کیجئے۔

[youtube]

اب رات کافی ہو چکی تھی، باجو کی تو بھوک زروں پر تھی۔ رات کے کھانے میں رسم کے مطابق حلوہ پڑی، چھولے، پراٹھے، کباب ،حلیم ، نان تھے۔ سارہ نے تو قلفی کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا۔ حالانکہ سو بار سمجھایا کہ سردیوں میں قلفی رہنے دو۔ پر نہیں مانی یہ لڑکی۔ کھانے کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔ صبح بارات کے لیے بھی اٹھنا تھا۔ کچھ لڑکیاں تو رات کو ہی بارات کے تیاری کے لیے پریشان تھیں۔ بہرحال میرا تو کیمرہ بھی اور میں بھی بہت تھک چکے تھے۔ میرے سو جانے کے بعد جانے کیا ہوا، آگے کا حال آپ کو امن سنائیں گی۔


[youtube]

زبردست ماوراء ۔۔۔ بہت ہی دلچسپ لکھا ہے ۔۔۔ بہت اچھی منظر کشی کی ہے یوں لگا رہا ہے بالکل جیسے سب حقیقت ہو۔۔۔ اتنی ہنسی آ رہی ، بہت ہی اچھا لکھا ہے ایک ایک لائن اور سب کی تیاریاں سب شاندار ۔۔۔ سارہ کو تو میرا دیکھنے کو دل کر رہا ہے وہ سین اصل میں دیکھنے کو :)
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
جی تو سب تیار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پیشِ خدمت ہے جیہ صاحبہ کی بارات کا آنکھوں دیکھا، نہ کانوں سنا حال۔۔۔۔۔
biggrin.gif


جیہ کی بارات




مورخہ 24 فروری کو عزیزی جویریہ مسعود کی شادی خانہ آبادی طے کی گئی تھی۔۔۔یہ خوش قسمت دن بھی آپہنچا تھا۔۔۔جویریہ جو ہم سب کی جیہ ہیں۔۔جنھیں کچھ ہی گھنٹوں بعد جویریہ مسعود سے جویریہ مشتاق بن جانا تھا۔

مہندی کا احوال آپ ماوراء کی ذبانی سن چکے ہیں۔۔۔ماوراء کے کیمرے کی شاہکار فوٹو گرافی بھی دیکھ چکے ہیں۔۔۔: )

مہندی کا فکنشن چونکہ رات بہت دیر تک چلا تھا۔۔ ماوراء، محب، حجاب، ظفری، بوچھی باجو، سارہ، شمشاد چاء، قیصرانی بھائی، ثناءاللہ صاحب، راہبر، فہیم، پاکستانی، وارث صاحب، اعجاز چاء، نیناں آپو، ضبط سب نے مل کر خوب گلے پھاڑ پھاڑ کر گانے گائے تھے۔۔بلکہ کچھ لوگوں نے تو ڈھول کی تھاپ پر باقاعدہ بھنگڑا بھی ڈالا تھا۔۔۔جس کے بعد اب کچھ تو گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہے تھے۔ کچھ سرسوں کے تیل سے اپنا گلا مالش کررہے تھے۔۔۔کچھ آیوڈیکس لگائے بیٹھے تھے۔ یہ تقریب تو شاید صبح ہی ختم ہوتی ۔۔وہ تو بھلا ہو منتظمین کا۔۔نبیل صاحب اور زکریا صاحب آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھے۔۔۔نبیل نے تو آتے ساتھ ہی گرج دار آواز کے ساتھ سب کو خاموش کروا دیا۔ پھر باقی کی کسر زکریا کی گھورتی آنکھوں نے پوری کردی۔۔یوں یہ محفل برخاست ہوئی۔ :grin:


بارات کے آنے کا وقت دوپہر بارہ بجے تھا لیکن شادی چونکہ پاکستان میں ہورہی تھی۔۔۔اس لیے سب نے اپنی گھڑیوں میں شام پانچ بجے کا الارم لگا رکھا تھا۔۔پانچ بجے ایک بار پھر ہلچل مچ گئی۔ لڑکوں کی اکثریت نے بیوٹی سیلون کا رخ کیا۔۔۔جبکہ لڑکیاں وبائی بیماری کی طرح گھر کے ہر شیشے کو چپک گئیں اور میک اپ کے نام پر دنیا جہان کی الا بالا اپنے سامنے رکھ لی۔ ( میں اور ماوراء چونکہ کاغذ قلم سنبھالے بیٹھی تھیں۔۔اس لیے ہماری تیاری زیادہ خاص نہیں ہوسکی تھی)
tongue.gif


جیہ کو چونکہ شمع محفل بننا تھا اس لیے انہیں کسی قسم کا رسک لیے بغیر بیوٹی پارلر روانہ کیا گیا۔

شادی کا انتظام “تاج محل“ میں تھا۔۔۔آہستہ آہستہ مہمان آنا شروع ہوگئے۔۔۔مرد حضرات کو بڑی مشکل سے بیوٹی سیلونز سے واپس منگوایا گیا۔ اور لڑکیوں کو شیشوں سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ آنسو گیس کا استمعال کیا گیا۔۔۔۔یوں تقریبا رات دس بج کے بیس منٹ پر لڑکی والوں کا قافلہ تاج محل پہنچا۔

لڑکیوں کے ہاتھ میں لڑکے والوں کےاستقبال کے لیے پھولوں کی پتیوں سے بھری پلیٹیں تھیں ۔۔جبکہ مرد حضرات نے ڈھیروں ڈھیر نقشی،دبکے والے ہار، نوٹوں والے ہار تھام رکھے تھے۔ لیکن سب کی آنکھیں اس وقت حیرت کے مارے کھل گئیں۔۔جب دیکھا کہ لڑکے والے ان سےپہلے آکر ہال میں نشستیں سنبھال چکے ہیں۔اب کیا ہوسکتا تھا۔۔۔پھولوں کی پلیٹیں اور نقشی ہار آئندہ کسی اور رکن کی شادی کے لیے سنبھال لیے گئے جبکہ نوٹوں والے ہار چھینا جھپٹی میں چار سے چار سو ہوگئے۔

اسٹیج پر دولہا محترم پوری آن بان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دلہا نے گولڈن رنگ کی شیروانی کے ساتھ میرون رنگ کا تلے کے کام والا کلاہ اور ہاتھ میں گلابی رومال تھام رکھا تھا جس سے وہ وقفے وقفے سے ماتھے پر آئے نادیدہ پسینہ کو پونچھ رہے تھے۔پاؤں میں سلیم شاہی کھسہ تھا۔

سب مہمانوں کے پہنچتے ساتھ ہی کھانے کا اعلان کردیاگیا کیونکہ اکثریت دوپہر بارہ بجے کھانے کے چکر میں صبح کا ناشتہ گول کیے بیٹھی تھی۔ اورسب پر نقاہت سے لرزہ طاری تھا۔۔۔کھانا کھلتے ہی ہال کا منظر پانی پت کے میدان کی یاد دلانے لگا۔ روٹی اور بوٹی چھیننے کی جنگ شروع ہوگئی۔ ۔۔۔۔کسی کے منہ کا نوالہ کسی کے منہ میں۔۔۔اپنے ہاتھ کا لقمہ سامنے والی کے شوربے کی پلیٹ میں۔۔۔ایک چمچ میں نمکین چاول اور دوسری چمچ میں کھیر کا ذائقہ ( جس دوران چمچ منہ تک گیا۔۔۔اس دوران کسی نے چاولوں والی پلیٹ پر آدھی چھوڑی ہوئی کھیر کی پلیٹ رکھ دی) :grin:

کھانے کا دورانیہ تین گھنٹے تک چلا گیا تو مجبورا منتظمین کو ویٹروں سے ساز باز کرنا پڑی۔۔جس کے نتیجے میں کھانے کی سپلائی روک دی گئی اور وہ خواتین و حضرات جو ہاتھوں میں بڑے بڑے شاپر تھامے کھڑے تھے بس کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے۔
tongue.gif


کھانا کھانے کے بعد چونکہ اکثریت کو جانے کی جلدی ہوتی ہے اس لیے مزید تاخیر کیے بغیر دولہن کو اسٹیج پر لایاگیا ( کھانے کے پیسے سلامی کی صورت آخر وصول جو کرنا تھے) جیہ ہال سے ملحقہ ڈریسنگ روم میں تھیں۔۔۔جیہ جب اسٹیج پر آئیں تو بقول شاعر

وہ آئے بزم میں اتنا تو سب نے دیکھا میر
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی



ہماری پیاری، راج دلاری جیہ ناقابل یقین حد تک پیاری لگ رہی تھیں۔
flower.gif
جیہ نے بھی مشتاق بھائی کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیپ میرون رنگ کا لہنگا پہن رکھا تھا۔ جو ان کی گوری رنگت پر دمک رہا تھا۔ سب سورج چاند کی جوڑی سے تشبیہ دے رہے تھے۔ نکاح پہلے سے ہوچکا تھا اب رخصتی باقی تھی۔ لیکن رخصتی سے پہلے بوچھی باجو اور ماوراء اسٹیج پر ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھامے چلی آئیں۔۔۔سب کا خیال تھا شاید جیہ نے کچھ کھایا نہیں تو یہ جیہ کو پلانا ہوگا لیکن وہ تو دودھ مشتاق بھائی کو پلانے پر مصر تھیں۔۔۔مشتاق بھائی نے بھی سوچا کہ بچیاں اتنا اصرار کررہی ہیں۔۔چلو میں دودھ پی ہی لیتا ہوں۔۔اور وہ ایک سانس میں گلاس خالی کر گئے لیکن پتہ تو ان کو تب چلا جب دودھ کے اس گلاس کی قیمت مانگی گئی۔۔۔۔جی دودھ کا ایک گلاس ان کو پچاس ہزار میں پڑھا یوں صرف جیہ کی خاطر وہ پچاس ہزار قربان کر گئے۔ ( دودھ پلائی ایک رسم ہوتی ہے)

اس کے بعد جیہ کے بابا کی اجازت سے رخصتی کا اعلان کیا گیا۔۔۔رخصتی کے لیے ڈولی منگوائی گئی۔۔۔جیہ کو سب نےڈرا کر رکھا ہوا تھا کہ خبردار ایک بھی آنسو نہ نکلنے پائے۔۔ورنہ بھوت بن جاؤگی۔۔۔جیہ نے اس نصیحت پر پورا پورا عمل کیا۔۔۔یوں وہ ہنستے مسکراتے پیا کے دیس سدھار گئیں۔
smile.gif




( جیہ آخر میں میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔
کچھ برا لگے تو معذرت خواہ ہوں۔۔۔کوشش تو کی ہے کہ مذاق میں بھی کسی کی دل آزاری نہ ہو۔۔پتہ نہیں اس کوشش میں کس حد تک کامیاب رہی)


اب رہا گیا دعوت ولیمہ۔۔۔۔۔جس کی رپورٹ پیش کریں گی۔۔۔ماوراء۔۔۔
smile.gif


ویل ڈن امن ۔۔۔ بہت دلچسپ لکھا۔۔۔ لیکن مجھے یہ بتائیں یہ نبیل بھائی کی گرج دار آواز ۔۔۔ اور یہ وبائی مرض کی طرح آئینے سے لڑکیوں کا چپکنا۔۔۔ بہت دلچسپ :)

لیکن یہ کیسے مانا لیا جائے کہ امن اور ماوراء نے کچھ خاص تیاری نہیں کی تھی : )
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اب دیکھ رہا ہوں ساری رپورٹیں۔ نئی نئی رسموں کا علم ہوا۔ لیکن نکاح؟؟؟؟ اس کا تو کسی نے ذکر ہی نہیں کیا۔ بھائی ریاض اور میں ہی تو جوجو کے ولی تھے۔ میں نے نکاح نامے پر جوجو کے دستخط کرنے کے لئے کہا تو اس وقت بھی اس بچی کو شرارت سوجھی۔ چپکے سے بولی۔ بابا جانی انگوٹھا لگا دوں؟؟ لیکن پھر دستخط بھی کر دی، اور میں نے جلدی سے دیکھا کہ دستخط ہی ہے یا غالب کا کوئی شعر تو نہیں لکھ دیا یہ سوچ کر کہ قاضی صاحب کو آٹو گراف چاہئے!!

مزید یہ کہ میں نے تو ریاض میاں کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ رسمیں وغیرہ نہیں ہونی چاہئیں، ورنہ میں بیچ محفل کے بھاگ لوں گا۔ مگر اف یہ لڑکیاں۔ بوچھی نے مجھ کو اب فضولیات کی محفل سے بھاگنے بھی نہیں دیا۔

اعجاز انکل ۔۔۔ آپ نے تو اختصار میں ہی اتنا اچھا لکھ دیا : )
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
کتنے دنوں سے ہم جیہ کی شادی کا انتظار کر رہے تھے۔ اور جب یہ دن آیا تو پلک جھپکنے میں گزر بھی گیا۔ جیہ بابل کے گھر کو چھوڑ کر پیا گھر سدھار چکی تھی۔ جیہ کے جانے سے گھر میں کیسی یکدم خاموشی چھا گئی تھی۔ سارہ تو رونے بیٹھی ہوئی تھی۔ اور ماوراء اس کے پاس کھڑے اسے طعنے دے رہی تھی کہ تم تو بیسویں صدی کی لڑکی نکلی، آجکل تو دلہنیں بھی نہیں روتیں، تم کیوں رونے بیٹھی ہوئی ہے۔ سارہ کہنے لگی کہ تم بھی کتنی سخت دل لڑکی ہو، بھلا اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر بھی کسی کا جانے کو دل کرتا ہو گا۔ امن بھی ماوراء کا ساتھ دے رہی تھی۔ سارہ نے وہاں سے جانے کو ہی ترجیح دی اور سونے چلی گئی۔ صبح بھی تو ہونی تھی نا۔ اور جیہ سے ملنے بھی جانا تھا۔ آج کا دن تو بہت اچھا گزر گیا تھا۔ ہم سب خوش تھے کہ پہلی شادی ایسی ہو گی جہاں خاندان والوں کا نام و نشان نہیں ہو گا۔ ذرا آزادی سے انجوائے کر سکیں گے۔ لیکن صبح صبح منتطمین اعلی نے ہمیں اچھی بھلی ڈانٹ پلا دی۔ نبیل کی گرج دار آواز سے اور زکریا کی کھا جانے والی آنکھوں سے سب ہی سہم گئے تھے۔ اور آصف کھانا کھا کر رخصتی سے پہلے ہی شادی والے گھر سے رفوچکر ہو چکے تھے۔ وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ آصف کس طرف کو نکل گئے ہیں۔ آخری بار ان کو موبائل پر بات کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

٢٥ فروری ولیمے کا دن تھا۔ ولیمے کا فنکشن شام کو لیٹ تھا، اس لیے سب کے پاس تیاری کے لیے کافی وقت تھا۔ پچھلے دو دنوں میں تو مجھے اور امن کو تیاری کے لیے بھی زیادہ وقت نہ مل سکا تھا۔ آخر ہم نے شادی کے سارے انتظامات بھی تو سنبھالے ہوئے تھے نا۔ لیکن آج ہم دونوں نے اپنی زبردست تیاری کا فیصلہ کیا تھا۔لیکن اس کے باوجود ہم نے سب کی سرگرمیوں پر نظر بھی رکھنی تھی جو کہ آسان کام نہیں تھا۔

صبح صبح گھر میں ایک ہل چل سی مچ گئی۔ مجھے اندازہ لگانے میں ذرا سی بھی دقت نہیں ہوئی تھی کہ باجو اٹھ گئیں تھیں اور اب سب کو اٹھانے کے چکر میں تھیں۔ ساتھ ہی فرزانہ سسٹر بھی کمرے میں داخل ہوئیں۔ جو بڑے پیار سے سب کو اٹھانے لگیں۔ میں تو دن کے گیارہ بجے بھی گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔ سب ہی اپنی آنکھیں مل کر اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے اچھے خواب سے باہر اس وقت آنا پڑا جب باجو نے میری ہی جوتی کھینچ کر مجھی کو ماری۔
دوسری طرف نبیل، زکریا ڈانٹ ڈانٹ اور گھور گھور کر لڑکوں کو اٹھانے میں مصروف تھے۔ نبیل نے گھر کے درمیان والے ہال میں کھڑے ہو کر زور دار آواز میں کہا کہ “آج رات ولیمے سے فارغ ہونے کے بعد ہی ہم واپس محفل میں جائیں گے۔ بہت ہلا گلا ہو گیا۔ ادھر سارے میرے کام ادھورے پڑے ہیں اور یہ کام چور مجھے بھی یہاں لے آئے ہیں۔“ مطلب مزید قیام کا کوئی چانس نہیں تھا۔ زکریا نبیل کی حمایت کرتے ہوئے بولے۔ “بالکل“۔ اصل میں آصف بھی کل رات سے غائب تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے واپس جرمنی چلے گئے ہوں۔

فرزانہ سسٹر، باجو، شگفتہ، فرحت، سارہ اور حجاب اپنی اپنی تیاری میں مصروف ہو گئیں ۔ اتنے میں میں نے اور امن نے سوچا ہم جلدی سے بیوٹی پالر سے ہو آتے ہیں۔ ہم دونوں نے فہیم کو کہہ کر زکریا کی گاڑی کی چابی ان کے کمرے سے چپکے سے اٹھوائی اور بیوٹی پالر کی طرف روانہ ہو گئے۔ دو، تین گھنٹے بعد جب ہم گھر واپس آئے تو تقریباً سب ہی تیار تھے۔ سارہ کی تو ہمیں دیکھ کر چیخ ہی نکل گئی۔ باجو سارہ کی چیخ سن کر دوڑی ہوئی آئیں، تو ہمیں دیکھ کر چونک گئیں۔ پھر ہم سے گلہ کرنے لگیں کہ کس بیوٹی پالر سے تیار ہو کر آئی ہو؟ مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔!! سب ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہی تھیں۔ فرزانہ سسٹر نے Viloet-Orchid ساڑھی پہن رکھی تھی۔ جس پر beads ، کورا، کٹ گلاس اور زردوسی دھاگے کا کام ہوا ہوا تھا۔ کالے رنگ کے بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔ ہاتھوں میں سفید موتیے کے پھولوں کا گجرا تھا۔ اور ساتھ خوب صورت سی سلور پرپل جیولری پہن رکھی تھی۔ (فرزانہ سسٹر ضرور بتائیے گا کہ وہ جیولری سیٹ کہاں سے لیا تھا، میں نے بھی بالکل ویسا ہی لینا ہے۔) باجوگلابی رنگ کے چوڑی دار پاجامہ اور سلور دھاگے کے کام والی قمیض میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ نیچے پیروں میں پائل چھن چھن کر رہی تھی۔ اور سوٹ کے رنگ سے ملتا جلتا سلور رنگ کا جیولری کا سیٹ پہنا ہوا تھا۔ ماتھے پر چھوٹی سی بندیا چمک رہی تھی۔ شگفتہ، فیروزی اور ہاٹ پنک رنگ کے ٹراؤزر اور شرٹ میں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ فیروزی قمیض پر پنک باریک کڑھائی لگتا تھا، شگفتہ نے خاص طور پر کروائی تھی۔ شبو نے ہلکے سبز رنگ کی بہت ہی زبردست شیفون کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی، بالوں کو نہایت ہی خوبصورتی سے بنایا تھا۔ جوڑے میں موتیے کے پھول بھی لگے ہوئے تھے۔ اور زلفوں کی کرلی لٹیں دائیں بائیں لٹک رہی تھیں۔ سارہ تو آج بالکل سندھی کڑی لگ رہی تھی، شکار پور سے خاص طور پر قمیض پر سندھی کڑھائی کروائی تھی۔ فیروزی رنگ کے کرنکل شیفون غرراہ اور قمیض کے کناروں پر سرخ رنگ کا گوٹا لگا تھا۔ فیروزی غرارے پر سرخ ڈوپٹے کے کنارے پر بھی کڑھائی ہوئی تھی۔ ہاتھوں میں چوڑیاں، کلاسیکل ڈیزائن کا جیولری سیٹ۔ سارہ نے سندھی روایت اور رواج کا خاص خیال رکھا تھا۔ دوسری طرف فرحت صحیح پنجابن لگ رہی تھیں۔ سن گولڈ اینڈ ریڈ قمیض جس پر گوٹا کناری کا کام ہوا تھا ، پٹیالہ شلوار اور ڈوپٹے کے کناروں پر کڑھائی کافی روایتی اور بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔ بالوں میں لمبا سا پراندہ بالوں کے ایک طرف پیلے رنگ کا پھول۔ کانوں میں بھاری کانٹے تھے۔ اور پیروں میں پائل اور کھسہ بھی بہت بھا رہا تھا۔ امن گہرے سبز اور نیلے رنگ کے نہایت ہی خوبصورت اور فل کام ہوا لہنگے میں تھی۔ جس پر beads کا کافی کام ہوا ہوا تھا۔اپنے لیئر کٹ کالے لمبے بالوں کو اس نے کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ امن نے بھاری لہنگے کے ساتھ ہلکا سا جیولری سیٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ مختصر کہ امن دلہن سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ مارواء نے لائٹ چاکلیٹ براؤن اینڈ گولڈن رنگ کا Mermaid لہنگا پہنا ہوا تھا۔ جس پر کورا، زردوسی، دبکا، موتی اور دھاگے کا بہت ہی خوب صورت کام ہوا تھا۔

تیاری مکمل ہونے کے بعد ہم سب ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے، زکریا اپنی گاڑی ہی ڈھونڈتے رہ گئے اور ہم ہوٹل کے دروازے پر پہنچ بھی گئے۔ وہ تو نبیل کا بھلا ہو کہ وہ زکریا کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے آئے۔ ہوٹل پہنچنے پر شاندار استقبال کرنے کے لیے لڑکے والے لائن بنا کر پہلے ہی کھڑے تھے۔ زکریا پارکنگ میں اپنی گاڑی پہلے سے کھڑی دیکھ کر ادھر ادھر گھورنے لگے۔ خیر اس وقت تو کچھ بول بھی نہیں سکتے تھے۔ سیدھے آگے کی طرف چلنے لگے۔ ہم ابھی دروازے سے داخل ہو ہی رہے تھے کہ پیچھے ایک فراٹے لیتی ہوئی گاڑی یکدم آ کر رکی۔ سب اس گاڑی کی طرف دیکھنے لگے۔ گاڑی کے دروازے کھلے۔ اندر سے چار مرد مونچھیں مڑوڑتے ہوئے باہر نکلے۔ گولڈن کھسے اور کلف لگی سفید شلوار قمیض میں چاروں بالکل پنجاب کے چوہدری لگ رہے تھے۔ یہ چاروں خاموشی سے ہال میں جا کر ایک سائیڈ پر لگی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔


ہال کے سٹیج پر جیہ گولڈن رنگ کے خوب صورت سے لہنگے میں بیٹھی ڈاکٹر مشتاق سے خوش گپیوں میں مصروف تھی۔ اور دونوں ہی بہت چہک رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر تو جیہ کی بانچھیں ہی کھل گئیں۔ جبکہ جیجا جی کا رنگ ہمیں دیکھ کر پیلا پڑ گیا۔ شاید وہ ابھی تک کل والے پچاس ہزار نہیں بھولے تھے۔ جیہ سے ملنے کے بعد سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔ آج تقریباً سبھی لڑکے سوٹ میں آئے تھے۔ نبیل کالے سوٹ، سفید شرٹ اور کالی ٹائی میں ہیرو لگ رہے تھے۔ زکریا ڈارک بلیو سوٹ کے ساتھ ہلکی نیلے رنگ کی شرٹ اور گہرے نیلے رنگ کی ٹائی میں بہت ڈیشنگ لگ رہے تھے۔ شمشاد بھائی، تفسیر بھیا، پاکستانی بھائی، ڈاکٹر عباس، باسم، فرضی، وارث، فرذوق، ضبط، اعجاز اور اعجاز انکل سبھی ماشاءاللہ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ اعجاز انکل کی تو ریاض انکل سے خوب دوستی ہو گئی تھی۔ دونوں باتوں میں ایسے مگن ہوئے کہ کچھ اور انھیں یاد ہی نہیں رہا۔ راہبر اور فہیم کالے سوٹ میں آئے تھے۔ فہیم نے ہلکے جامنی رنگ کی شرٹ اور گہرے جامنی رنگ کی ٹائی پہنی ہوئی تھی۔ لیکن انھیں تیاری کا وقت بہت کم ملا تھا، جلدی میں شاید وہ جوتے پہننا ہی بھول گئے تھے، اور گھر میں پہننے والے ہی جوتیوں میں ہی آ گئے۔ وہ تو عمار کے بتانے پر ہی انھیں احساس ہوا۔ پھر اس کے بعد فہیم اپنی سیٹ سے ایک بار بھی اٹھ نہ سکے۔

اچانک ہال میں مہوش داخل ہوئیں۔ ہلکے سے میک اپ اور خوبصورت سی شلوار قمیض میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ اور ہاتھ میں انہوں نے ایک فائل پکڑی ہوئی تھی۔ آتے ساتھ ہی نبیل کے میز تک چلی گئیں۔ اور فائل کھول کر انھیں وکی ارود لائبریری کی صورتِ حال سے آگاہ کرنے لگیں۔ اور نبیل بھی بڑے انہماک سے اس فائل کو دیکھنے لگے۔ لیکن خدا کا شکر کچھ دیر میں ہی نبیل کو خیال آ گیا اور مہوش کو کہنے لگے، مہوش بہن آپ نے بہت محنت کی ہے۔ میں اسے انشاءاللہ کل دیکھتا ہوں۔ آپ کل یہ فائل لے آئیے گا۔ شگفتہ نے یہ سب دیکھا تو وہ بھی پرس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگیں۔ میرے پوچھنے پر کہا کہ اچھا موقع ہے میں بھی لائبریری کی وش لسٹ نبیل بھائی کو دکھا آؤں۔ اگر میری شگفتہ سے دوستی نہ ہوتی تو آج کے دن بھی شگفتہ لسٹ نبیل بھائی کو دینے پہنچ جاتیں۔ بڑی مشکل سے سمجھایا کہ شگفتہ آج رہنے دیں۔ کل دے دینا۔ شکر ہے مان گئیں۔

اچھا۔۔وہ سب سے آخر میں کونے والی ٹیبل پر چار چوہدری خدا جانے کن رازداریوں میں مصروف تھے۔ لیکن میں نے اور امن نے اس کا بھی مکمل بندوبست کیا ہوا تھا۔ ہم نے ان کی ٹیبل کے نیچے ٹیپ ریکاڈر پہلے سے ہی رکھ دیا تھا۔ اور وہ ٹیپ ہم نے سننے کے بعد زکریا کے پاس جمع کروا دی ہے۔ عمار، فرذوق، فہیم، ضبط نے ولیمے پر بھی زبردست ڈانس کیا۔ اور محفل کو کوب جمایا۔

کھانے کا بھی وقت ہو چکا تھا۔ سب لوگ کھانے پر جھپٹ پڑے۔ جیسے جانے کتنے دنوں سے بھوکے ہوں۔ میں نے کھانے کے دوران اپنے کیمرے کو بند کر دینا ہی مناسب سمجھا۔ ورنہ خواہ مخواہ سب کی اصلیت کھل جاتی۔ کھانے میں بریانی، کڑھائی، قورمہ، روسٹ، پالک گوشت، پلاؤ، زردے، چٹنیاں، اور بے شمار کھانے تھے۔ سب نے جی بھر کر کھانا کھایا۔ کھانے کھا چکنے کے بعد جب میں نے ہال کا جائزہ لیا تو کھانے کا ہال کم اور گند کا ہال زیادہ لگ رہا تھا۔ کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں فرش پر ٹوٹی پڑی تھیں۔ تو مرغی کی ہڈیاں فرش پر گری ہوئیں تھیں۔ ٹشو پیپر ہر طرف بکھرے نظر آ رہے تھے۔ میں تو وہاں سے بھاگی، کہ ایسا نہ ہو باجو یہاں آ کر مجھ پر یہ سارا الزام لگا دے۔ کھانے سے پہلے تو سبھی آرام و سکون سے بیٹھے تھے۔ لیکن کھانے کے بعد سب کو ہی گھر جانے کی جلدی پڑ گئی۔ جیسے ولیمے پر صرف کھانا کھانے ہی آئے ہوں۔

آخر میں مکلاوے کی رسم کے مطابق جیہ کو سسرال سے میکے جانا تھا۔ ہم سب جیہ کے ساتھ رات کو گھر پہنچے۔ ابھی ہم جیہ سے باتیں کرنے میں ہی مصروف تھے۔ کہ نیچے والے ہال میں اعلان ہوا۔ آج رات کی ہم سب کی واپسی کی فلائٹس ہیں۔ سب جلدی سے باہر آ جائیں۔ نبیل اور زکریا دونوں ہاتھ میں بیگ پکڑے کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ مرتے نہ تو کیا کرتے۔ سب منہ بنائے لائن بنا کر اپنے اپنے بیگ گھسیٹتے ہوئے نبیل اور زکریا کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ ایرپورٹ پہنچنے سے پہلے ہی ہم سب کی آنکھ کھل گئی۔ اور ہم سب نے اپنے آپ کو اردو محفل میں ہی موجود پایا۔ جیہ کی بھی اس کے بعد کوئی خبر نہیں تھی۔ پھر اچانک ایک دن جیہ محفل پر نمودار ہوئیں۔ تب ہم سب نے سکھ کر سانس لیا کہ جیہ خیر خیریت سے ہے۔ اور آگے کی کہانی جیہ نے کچھ اس طرح سنائی کہ ڈاکٹر مشتاق کچھ ہی دنوں بعد آئرلینڈ چلے گئے۔ اور جیہ اب اپنے بابا کے گھر میں ہے۔ اگست کے شروع میں جیجا جی واپس آ رہے ہیں اور جیہ پھر سسرال چلی جائیں گی۔ اللہ ہماری جیہ کو ڈھیروں خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔ آمین۔

شاندار ماوراء۔۔۔۔۔۔۔ کیسے لکھ لیا یہ سب مجھے اتنی ہنسی آ رہی تھی پڑھتے وقت اور میری وِش لسٹ۔۔۔ :) کیسے دیکھ لی۔۔۔ پتہ ہے میں تو ادھر بہن کی منگنی کے دنوں میں بھی لائبریری کا کام نہیں چھوڑا۔۔۔۔ باتیں بھی خوب سُن رہی ہوں اس پر ۔۔۔

سب بہت اچھا لکھا۔۔۔ ویل ڈن ماوراء۔۔۔ میں تو اسے دوبارہ پڑھوں گی یہ سب :)
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اچانک ہال میں مہوش داخل ہوئیں۔ ہلکے سے میک اپ اور خوبصورت سی شلوار قمیض میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ اور ہاتھ میں انہوں نے ایک فائل پکڑی ہوئی تھی۔ آتے ساتھ ہی نبیل کے میز تک چلی گئیں۔ اور فائل کھول کر انھیں وکی ارود لائبریری کی صورتِ حال سے آگاہ کرنے لگیں۔ اور نبیل بھی بڑے انہماک سے اس فائل کو دیکھنے لگے۔ لیکن خدا کا شکر کچھ دیر میں ہی نبیل کو خیال آ گیا اور مہوش کو کہنے لگے، مہوش بہن آپ نے بہت محنت کی ہے۔ میں اسے انشاءاللہ کل دیکھتا ہوں۔ آپ کل یہ فائل لے آئیے گا۔ شگفتہ نے یہ سب دیکھا تو وہ بھی پرس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگیں۔ میرے پوچھنے پر کہا کہ اچھا موقع ہے میں بھی لائبریری کی وش لسٹ نبیل بھائی کو دکھا آؤں۔ اگر میری شگفتہ سے دوستی نہ ہوتی تو آج کے دن بھی شگفتہ لسٹ نبیل بھائی کو دینے پہنچ جاتیں۔ بڑی مشکل سے سمجھایا کہ شگفتہ آج رہنے دیں۔ کل دے دینا۔ شکر ہے مان گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

zzzbbbbnnnn.gif
zzzbbbbnnnn.gif
zzzbbbbnnnn.gif

ماور ساری قصے میں یہ مجھے سب سے پسند آیا ہے
zzzbbbbnnnn.gif
میں ساتھ سموسے کھا رہی ہوں جیسے ہی یہ پڑھا میرے ہاتھ سے گر گیا پلیٹ میں واپس
zzzbbbbnnnn.gif
:laugh: افُ ۔ ۔ ۔

:) :)

:grin:
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
شکریہ ، شاندار تو میں ہوں اس میں کیا شک ہے ؟:grin:

جیہ کی مہندی تھی تو سوچا چلی آؤں ۔ :grin: چلئیے سپیس نہیں کھلی اک تصویر تو ادھر سے ہی دیکھ لی ۔ :grin: باقی کی اب آپکی قسمت میں نہیں ۔ :( ۔

فضہ کی منگنی پر بھی میں نے آنا تھا پر ساڑھی پہنکر ،
مگر پہلے آپ سب کے ڈریسز سن دیکھ لوں پھر آرام سے آتی ہوں ۔ ۔ :chalo:

بوچھی اب پھر شادی پر آ جائیے گا ناں

جی، میں ایک دو دن میں سب تصویریں لاتی ہوں پی سی میں پھر دیکھ لیجئے گا ابھی تو وہی رات والا ہی حال ہے۔۔۔
 

ماوراء

محفلین
کیوں :confused: تم کیا کرنے جارہی ہو ؟
شکر ہے آپ نے پوچھ لیا۔ میں سوچ رہی تھی اپنی دکھ بھری کہانی کس کو سناؤں:(
نہیں باجو۔۔۔کہیں بھی کچھ کرنے نہیں جا رہی۔ کل میں ذرا کام سے سارا دن گھر سے باہر تھی۔ اور آج مہمان آرہے ہیں۔ اور جب مہمان آنے ہوتے ہیں تو کچن صرف اور صرف میرے حوالے ہوتا ہے۔ میں آدھا کام رات کو کر کے سوئی۔ اور اب بھی کچن میں ماسی بنی ہوئی ہوں۔:rolleyes: کچن کارنر میں آج سپیشل لکھتی ہوں کہ میں نے کیا کیا بنایا۔:grin:
 
Top