سلیم احمد جیسے کسی دریا میں سرِ آب پرندے - سلیم احمد

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 30, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    جیسے کسی دریا میں سرِ آب پرندے
    لگتے ہیں مجھے انجم و مہتاب پرندے

    بچوں کے لیے حیرتِ پرواز نہیں ہے
    اس شہر میں مدت سے ہیں نایاب پرندے

    کس دیس اُنھیں لے گئیں بیتاب اُڑانیں
    آنکھوں کے نشیمن سے گئے خواب پرندے

    میں ساحلِ افتادہ پہ خاموش کھڑا ہوں
    دریا میں نہاتے ہیں سرِ آب پرندے

    میں کوشہِ صحرا میں ہوں اور جوئے رواں ہوں
    ہوتے ہیں مرے لمس سے سیراب پرندے

    سوتے نہیں مدت سے مرے شہر کے بچے
    جیسے ہوں کسی خوف سے بے خواب پرندے

    اس شاخ پہ جب سے وہ گلِ سرخ کھلا ہے
    اک رقصِ طرب کرتے ہیں بیتاب پرندے

    یہ ربط کسی فصل کا پابند نہیں ہے
    میں دریا ہوں اور ہیں مرے احباب پرندے
    سلیم احمد
     

اس صفحے کی تشہیر