جو مدعی تھا کبھی ساتھ جینے مرنے کا

نازنین شاہ

محفلین
غزل
جو مدعی تھا کبھی ساتھ جینے مرنے کا
اب اس کے پاس نہیں وقت بات کرنے کا

ہم ایک بار نہیں بار بار مارے گئے
ہمیں جنون چڑھا تھا کسی پہ مرنے کا

وہ پہلے دل میں اترنے کے فن میں طاق ہوا
پھر اس نے سیکھا ہنر بات سے مکرنے کا

جو گفتگو کے بہانے تلاش کرتا تھا
جواز ڈھونڈتا رہتا ہے اب بگڑنے کا

جسے گوارا نہیں ہوں میں بزم ہستی میں
وہ انتظار کرے چار دن گزرنے کا

یہ عشق و عاشقی مطلق ہمارے بس میں نہیں
بس اک وسیلہ ہے مٹی خراب کرنے کا

شاعر ؛ افتخار حیدر
 

اکمل زیدی

محفلین
غزل
جو مدعی تھا کبھی ساتھ جینے مرنے کا
اب اس کے پاس نہیں وقت بات کرنے کا

ہم ایک بار نہیں بار بار مارے گئے
ہمیں جنون چڑھا تھا کسی پہ مرنے کا

وہ پہلے دل میں اترنے کے فن میں طاق ہوا
پھر اس نے سیکھا ہنر بات سے مکرنے کا

جو گفتگو کے بہانے تلاش کرتا تھا
جواز ڈھونڈتا رہتا ہے اب بگڑنے کا

جسے گوارا نہیں ہوں میں بزم ہستی میں
وہ انتظار کرے چار دن گزرنے کا

یہ عشق و عاشقی مطلق ہمارے بس میں نہیں
بس اک وسیلہ ہے مٹی خراب کرنے کا

شاعر ؛ افتخار حیدر
واہ ...

نا جانے کن مجبوریوں کا قیدی ہو
وہ ساتھ چھوڑ گیا اسے بیوفا نہ کہو
 
Top