جند اللہ کی فضل الرحمٰن اور بائیں بازو کی جماعتوں کو نشانہ بنانےکی دھمکی

amirnawazkhan

محفلین
پشاور (آئی این پی) تحریک طالبان سے وابستگی کا دعویٰ کر نے والے گروپ جنداللہ نے جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سمیت بائیں بازو کی جماعتوں کی قیادت کو حکومت طالبان مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ایک ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے جند اللہ کے سینئر کمانڈر اور ترجمان احمد مروت نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن اور بائیں بازو کی جماعتوں کے قائدین مغربی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور پاکستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں اور مجاہدین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ماضی میں بھی ہم نے ان جماعتوں کو نشانہ بنایا اور ایک بار پھر انہیں نشانہ بنانے کے لیے ہم نے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن کو طالبان کمانڈر ولی الرحمن کی درخواست پر معاف کیا تھا لیکن وہ مجاہدین کی دشمنی سے باز نہیں آئے، لہٰذا ہم مجبور ہوکر ان کو معاف نہیں کرسکتے، ان جماعتوں کے قائدین کو نشانہ بنانے کے لیے ہم نے اپنے ماہر نشانہ باز روانہ کردیئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر خودکش حملے کیے جائیں گے۔

http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=175159
 

amirnawazkhan

محفلین
میڈیا میں زندہ رہنے کے لئے یہ طالبان کا ایک ڈرامہ لگتا ہے۔۔ ویسے طالبان کا محسن کشی میں کو ئی ثانی نہ ہے؟
 

آبی ٹوکول

محفلین
بڑے ہی لعنتی ہیں یار یہ ظالمان دیکھو کس سفاکی سے خود کو مجاہد کہتے ہیں بھلا کبھی مجاہد بھی لعنتی ہوا کرتے ہیں دھمکی دیا کرتے ہیں مجاہد تو میدان کارزار میں ہمہ وقت داد شجاعت دیتے نظر آتے ہیں یہ کونسا جہاد اور مجاہدین جو کہ چھپ چھپ کر محض دھمکیاں ہی دیتے ہیں لعنتی کردار وطن فروش دین و ملت فروش ننگ دین و ملت قوم و وطن
 

ساجد

محفلین
مجھے اس بیان پر ذرا بھی حیرت نہیں بلکہ ہر اس شخص کو نہیں ہو گی جس نے اس قسم کے متشدد گروہوں کی کارروائیوں اور طریقہ واردات کا مطالعہ کر رکھا ہو ۔
 
لیکن ایک نکتہ نظرانداز ہو رہا ہے شاید ، مسلسل سیاسی شکستوں کے بعد جمیعت علما اسلام ( پیٹرولیم انڈسٹری گروپ ) کو نئی زندگی کے لئے ایک شہید کی اشد ضرورت ہے۔ :p
مذاق برطرف: ایسی دھمکیاں صرف سیاسی اثر کرینگی۔
 
Top