جس کا اللہ رقیب ہوتا ہے از روحانی بابا

کون کس کے قریب ہوتا ہے
اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے
کیسے کیسے خیال آتے ہیں
دل بھی کتنا عجیب ہوتا ہے
وہ بھلا کیا کرے کہاں جائے
جس کا اللہ رقیب ہوتا ہے
عشق کا روگ لگ گیا جس کو
اس کے اندر طبیب ہوتا ہے
جس کو چاہت نہ مل سکے بابا
آدمی وہ غریب ہوتا ہے
 

فاتح

لائبریرین
اس پر تو خوب یا عمدہ بھی نہیں لکھ سکتے کہ آپ کا کلام بزعم خود در المنظوم ہے۔ :) مع السلامہ
حضور! "در المنظوم و المنثور" کہنے میں کیا امر مانع تھا؟
 

فاتح

لائبریرین
قبلہ! کبھی کبھار تو انکسار نامی شے سی بھی جھلکنے سی لگتی ہے آپ کی در المنثور گفتگو میں:)
 
جناب فاتح صاحب اب ہم آپ کو شعر کی صورت جواب دینا پسند کریں گے
وقار انجمن ہم سے،فروغ انجمن ہم ہیں
سکوت شب سے پوچھو صبح کی پہلی کرن ہم ہیں
بہرصورت ہماری ذات سے ہیں سلسلے سارے
جنوں کی سادگی ہم سے خرد کا بانکپن ہم ہیں
والسلام rohaani_babaa
 

مغزل

محفلین
روحانی بابا صاحب ، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔ فاتح صاحب کا اشارہ اشاریہ ہے ۔غور کیجے گا
 
اجی مغل صاحب فاتح صاحب سے تو بس ہمارے ناقد ہیں یہی دیکھ لیجیو ہمارے در المنظوم کلام کو در منثور کہہ رہے ہیں لیکن مغل صاحب ان کو شائد نہیں پتہ ہے کہ ابھی تو ہم نے ایسا کلام پیش کیا ہے جو کہ در المنظوم ہے۔
ویسے فاتح صاحب جو درمنثور ہے وہ بھی کچھ کم نہیں ہے بس اتنا یاد رکھیو کہ ہر در درشہوار ہے۔
نوٹ : ہمارے وہ قاری جو کہ درالمنظوم کا ترجمہ نہ جانتے ہوں ان کے بتاتے چلیں کہ در لمنظوم کا مطلب ہے موتی جو کہ لڑی میں پروئے گئے ہوں اور در منثور کا مطلب موتی جو کہ بکھرے ہوئے یا منتشر حالت میں ہوں۔
 
Top