جس پہ آ کر تری نظر ٹھہرے

سب کے نزدیک معتبر ٹھہرے
جس پہ آ کر تری نظر ٹھہرے

وہ چراغوں کے گھر میں رہتے ہیں
ہم ہواوں کے نامہ بر ٹھہرے

یوں ہے بے چین اب طبیعت کہ
بادہ و خم بھی بے اثر ٹھہرے

تیری چوکھٹ سے لوٹنے والے
اپنی بستی میں در بدر ٹھہرے

ان کو راس آ گیئں خزایں بھی
ہم بہاروں میں بے ثمر ٹھہرے
 
یوں ہے بے چین اب طبیعت کہ
بادہ و خم بھی بے اثر ٹھہرے
واہ کیا کہنے ہیں ،
بہت عمدہ غزل ،
سلامت رہیں ،محمد نعیم بھائی آپ کا تعارف ابھی تک نظر سے نہیں گزرا ،
آپ محفل میں تعارف پیش کریں تاکہ ہم محفلین آپ کی خوبصورت شاعری کے ساتھ ساتھ دیگر مشاغل سے متعارف ہو سکیں ۔
 
پسندیدگی کا شکریہ عدنان بھائی ۔ محفل میں آمد کو ابھی دو دن ہوئے ہیں اس لیے تعارف کی طرف دھیان نہ دے سکا۔ آپ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب محمد نعیم صاحب! اچھے اشعار ہیں ! محفل سخن میں خوش آمدید!
ٹائپوز نے مزا کرکرا کردیا ۔ ذرا توجہ دیجئے گا ۔
تیسرے شعر میں "بادہ و خم" سمجھ میں نہیں آیا ۔ کچھ روشنی ڈالئے گا اس پر ۔
 
بہت خوب محمد نعیم صاحب! اچھے اشعار ہیں ! محفل سخن میں خوش آمدید!
ٹائپوز نے مزا کرکرا کردیا ۔ ذرا توجہ دیجئے گا ۔
تیسرے شعر میں "بادہ و خم" سمجھ میں نہیں آیا ۔ کچھ روشنی ڈالئے گا اس پر ۔
شکریہ ظہیر صاحب.

بادہ سے مراد مے یا کوئی بھی نشہ آور شے اور خم کسی بھی پیمانے کو چاہے وہ کسی کی آنکھیں ہی ہوں
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
خُم تو شراب کے مٹکے یا پیپے کو کہتے ہیں ۔ اس لئے "بادہ و خم" کا اس شعر میں یوں محل ہی نہیں ہے ۔ :):):)
کبھی صرف خم کو دیکھ کر جو امید بندھ جاتی ہے اس سے بگڑی طبعیت بحال ہو سکتی ہے اس لیے اس کا ذکر کیا - آپ اگر متبادل عنایت کریں تو شکر گزار ہوں گا
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
کبھی صرف خم کو دیکھ کر جو امید بندھ جاتی ہے اس سے بگڑی طبعیت بحال ہو سکتی ہے اس لیے اس کا ذکر کیا - آپ اگر متبادل عنایت کریں تو شکر گزار ہوں گا
میں مشورہ دوں گا کہ اصلاحِ سخن کے زمرے میں اعجاز عبید صاحب سے استفادہ کیجئے۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
 
Top