جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

جاسم محمد نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 13, 2019

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جی بالکل۔
    متعلقہ متن برائے تفہیم

    مقصد کے اعتبار سے علوم کی تقسیم
    جب یہ بنیادی بات طے پاگئی کہ ہر وہ علم جس سے معرفت الہی میسر آئے، اور قرب الہی نصیب ہو صحیح معنوں میں وہی علم ہے تو اس اعتبار سے جب ہم علوم کی تقسیم کریں گے تو صرف علم القرآن، علم التفسیر، علم الحدیث، علم الفقہ، علم النحو، علم الصرف اورعلم التصوف وغیرہ ہی دینی علوم نہیں ٹھہریں گے بلکہ حیاتیات (Biology)، طبیعیات (Physics)، نفسیات (Psychology)، کیمیا (Chemistry)، سیاسیات (Politics)، عمرانیات (Sociolgy)، معاشیات (Economics)، تاریخ (History)، قانون (Law)، نیوکلئیرٹیکنالوجی (Nuclear Technology)، کمپیوٹر سائنسز (Computer Sciences)، انتظامیات (Management)، تجارت (Commerce) اور ابلاغیات (Mass Communication) کے علوم بھی دینی علوم کے زمرے میں شمار ہوں گے۔
    شرط صرف یہ ہے کہ ان علوم کے حصول سے مقصود اللہ کی رضا ہو اور یہ علوم معرفت الہیہ اور قرب الہی کا وسیلہ بنیں، لہذا ہر وہ شخص جو اپنے حصول علم کا آغاز اللہ کے نام سے کرے اور اس کا مقصد علم کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرنا ہو تو وہ دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی شعبے میں علم حاصل کر رہا ہو وہ دین الہی کا طالب علم ہی کہلائے گا کیونکہ ان تمام علوم کا ہر ہر گوشہ کسی نہ کسی اعتبار سے اپنے دامن میں خدا کی معرفت کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور رکھتا ہے۔ حرف حق کی تلاش ہی کو خدا کی تلاش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی انسان عقل سلیم کی جملہ توانائیوں کے ساتھ دنیا کے دیگر علوم کی تحصیل میں آگے بڑھتا چلا جائے تو اس کے ہر سفر علم کی انتہا خدا کی معرفت پر منتج ہوتی نظر آئے گی۔ وہ اپنے سفر علم میں جوں جوں ادراک و شعور کے مراحل طے کرتا چلا جائے گا توں توں اس پر خدا کی وحدانیت، اس کی ربوبیت، اس کی الوہیت اور اس کی عظمت کے ان گنت گوشے آشکار ہوتے چلے جائیں گے۔ لہذا ہرمعلم اورمتعلم، ہر استاد اور شاگرد، ہر مربی اور مربوب، جو شغل علم سے وابستہ ہوتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ وہ تعلیم و تربیت کے میدان میں صرف اس لئے قدم رکھ رہا ہے کہ اس کی یہ چند روزہ زندگی اپنے خالق حقیقی کی معرفت، اس کے قرب اور اس ذات تک رسائی کا ذریعہ ثابت ہو۔

    علم کا میدان کھلا ہے
    علم ایک سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ علم روشنی کے مسلسل سفر کا نام ہے۔ اسے تفہیمات کے کسی محدود خانے میں مقید نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم پہلی آیت کے لفظ ’’خلق،، کے معنی و مفہوم پر غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ تحصیل علم کے لئے مخصوص علوم کا انتخاب نہیں کیا گیا بلکہ علم کا میدان کھلا رکھا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے :
    اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO
    (اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیئے جس نے (ہرچیز کو) پیدا فرمایا۔
    (العلق، 96 : 1)

    آیت مذکورہ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اگر بتا دیا جاتا کہ کس کو پیدا کیا تو مضمون علم کی حدود متعین ہوجاتیں۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ اللہ رب العزت نے علم کا میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ آیہ کریمہ میں خلق کا لفظ مطلقاً آیا ہے اور تخلیق کو بیان کرنے کے حوالے سے یہ آیت خاموش ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدائے کائنات نے خلق اور تخلیق کا کوئی رخ متعین نہیں کیا، لہذا اس سے یہ مراد لی جائے گی کہ خالق کائنات نے سب کچھ پیدا کیا۔ لفظ اقراء سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے چونکہ پیدائش و خلق کا کوئی رخ یا کوئی سمت متعین نہیں کی گئی لہذا تحصیل علم کی بھی کوئی سمت مقرر نہیں۔ علم کا میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کائنات پست و بالا میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ رب العزت کا تخلیق کردہ ہے، اس لئے انسان کو اپنے علم کے ذریعہ یہ جان لینا چاہئے کہ یہ کائنات رنگ و بو اللہ کے وجود سے قائم ہے، وہی نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی بادلوں کو بنجر زمینوں کی طرف اذن سفر دیتا ہے، وہی پتھر میں کیڑے کو رزق دیتا ہے، وہی ہر مشکل میں اپنے بندوں کی دستگیری کرتا ہے، وہ رب کائنات ہے، وہ وحدہ لا شریک ہے، اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے، وہ ہر علم کا سرچشمہ ہے اور اے انسان! تیرا علم پوری کائنات میں تجھے اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ الذی خلق کے معنی یہ ہیں کہ جب تیری نظر زمین کی وسعتوں کا احاطہ کرے تو تجھے خدائے ذوالجلال کی ان رحمتوں اور برکتوں کا اندازہ ہو جو اس کی تمام مخلوقات پر ہوتی ہیں۔ اس کے فضل و کرم کا مینہ ساری زمینوں کی پیاس بجھاتا ہے۔ تو جب آسمان کی بلندیوں کو دیکھے تو تجھے مالک ارض و سماوات کی عظمت و رفعت کی راہ دکھائی دے۔ فلک پوش پہاڑوں کو دیکھے تو خدائی عظمت و جبروت یاد آئے اور جب تو شاداب فصلوں، گرتے آبشاروں، بہتے دریاؤں اور لہلہاتے ہوئے کھیتوں کا نظارہ کرے تو تجھے قدرت خداوندی کے ساتھ ان شفقتوں اور محبتوں کی یاد بھی آئے جو وہ اپنے بندوں سے روا رکھتا ہے۔ غرض تیری نگاہ اس کی کسی تخلیق پر بھی پڑے تجھے وہ چیز کسی نہ کسی مظہر (Exhibitor) کا شاہکار دکھائی دے۔

    اب تک ہم نے پہلی آیت مبارکہ کی روشنی میں اسلام کے تصور علم اور مقصد علم کے تحت جو گفتگو کی ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ جب تک مقصد علم کو نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک کسی علم کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا اور نہ اس ضمن میں کوئی اندازہ لگایا جاسکتا ہے لہذا مقاصد علم ہی کسی علم کے دینی اور لا دینی ہونے کا تعین کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool

    سطحی و توجیہی
    facile & causative اور تخلیقی و ایجادی creative & originating علم میں کیا فرق ہے؟

    چند مثالیں:-

    سطحی و توجیہی علم
    معاشیات میں اس سے بحث کرتا ہے کہ معاشی تخلیق کا عمل کیا ہے؟ دولت کی تخلیق ، تقسیم اور صرف کا عمل کیسے واقع ہوتا ہے؟
    لیکن تخلیقی علم اس امر سے بحث کرتا ہے کہ معاشی تخلیق کو مزعومہ مفادات سے پاک کر کے وسائلِ تخلیق پر قابض محدود گروہوں کی اجارہ داری ختم کرنے اور فرد اور معاشرے کی تخلیقی جدوجہد سے معاشی تعطل کو رفع کرنے کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں کہ کوئی شخص حاجت مند نہ رہے۔

    توجیہ تک محدود سطحی علم اَخلاق کی ماہیت اور معیارِ اَخلاق سے بحث کرتا ہے۔ لیکن تخلیقی علم اسے امر سے بحث کرتا ہے کہ انسانی زندگی مطلوبہ معیارِ اخلاق میں کس طرح ڈھل سکتی ہے۔ گویا سطحی علم فضائلِ اخلاق اور اخلاقی نصب العین کی ماہیت جاننے تک محدود ہے مگر تخلیقی علم ان کے حصول کے طریق سے بحث کرتا ہے۔

    سطحی و توجیہی علم
    عمرانیات میں اس سے بحث کرتا ہے کہ معاشرہ کیا ہے؟ کیونکر وجود میں آتا ہے؟ اور اس کے انضباط و اختلال کے اسباب کیا ہیں؟
    مگر تخلیقی علم اس امر سے بحث کرتا ہے کہ ہر اختلال کو رفع کر کے ہئیتِ عمرانی کو ایک موثر وحدت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟

    سطحی و توجیہی علم سیاسیات میں اس سے بحث کرتا ہے کہ ریاست کیا ہے؟ اس کی ماہئیت ، اجزائے ترکیبی اور وظیفہ کیا ہے؟ لیکن تخلیقی علماس امر سے بحث کرتا ہے کہ حاکم و محکوم میں سیاسی تناقض (جو عدم استحکام کا باعث ہوتا ہے) رفع کر کے قومی نصب العین کو کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    علم .... توجیہی یا تخلیقی از ڈاکٹر طاہر القادری سے اقتباس
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    بس یہی بات تو سمجھ آنے کی ضرورت ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    لیکن کالم نگار نے سیاسی و سماجی موضوعات و نظریات میں مسلم و غیر مسلم سماج کے مابین اختلاف رائے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو سائنس دشمن قرار دے دیا۔
    1. کالم نگار کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی صورت حال بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتی بلکہ گرے شیڈز بھی ہوتے ہیں۔
    2. یہ دوئی صرف مسلم ذہن میں موجود نہیں بلکہ ایتھکس کی بنیاد پر مغربی دنیا میں بھی ایسی بائیفرکیشن موجود ہے۔علوم میں صرف ایتھکس ہی کو لے کر ڈویلیٹی قائم ہو جاتی ہیں اور مسلم ذہن میں علم نافع و غیر نافع کی ثنویت موجود ہے۔
    لہذا اس کا ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں یہ محض کالم نگار کی یک طرفہ تشویشِ محض ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ایسا بھی نہیں ہے۔ کالم کی ابتداء ہی میں تخصیص کی گئی ہے کہ موضوع کو کن لوگوں تک محدود کیا جا رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اچھا میں سمجھ رہا تھا کہ صرف مسلمانوں کو نکو بنایا جا رہا ہے۔
    Exploiting big data about human behavior and activities for profit maximization or control is violation of human rights.
    Now who to blame؟
    knowledge behind big data analysis or intention of the person / organization who is using this knowledge for evil purpose.

    This is question of ethics and niyat.
    Intention is very important in Islam. Before doing anything having good intention is demand.
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یعنی اب ہم پرویز ہود کے ساتھ ساتھ عاصم بخشی کو بھی مذکورہ تعریف پر پورا اترتے دیکھ سکتے ہیں۔ اِن ڈائریکٹ کلاس لینے کی اچھی مثال ہے۔ روٹ کاز مع نفسیاتی عوارض۔

    کیا تسلیم کرنے کے لیے اعلان کرنا ضروری ہوتاہے؟ اگر واقعی تو اپنا اگلا جملہ پڑھ لیجیے۔ اب ”کافی حد تک“ کیا ہوتاہے، اس کے لیے نئی لغت شائد وضع کرنا پڑے۔
    ---

    اس سے ایک تو یہ بات پھر ثابت ہوگئی کہ ایک جم غفیر روزی روٹی اور جاہ حشمت میں مبتلا ہے۔ جن کا علومِ قرآنی سے متعلق تحقیقاتی سرگرمیوں سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
    لیکن یہاں آپ کافی مہارت سے ایک اہم ترین نکتہ سائڈلائن کرگئے۔
    نکتہ: لبرلز کا وہ طبقہ جو مذہبی کتب، مدارس اور طبقے کو متروک، پسماندہ اور معاشرے پر اضافی بوجھ سمجھ کر جان چھڑانا چاہتا ہے۔ اور اسی کو اپنی ترقی میں سب سے بڑی رُکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اگر آپ چاہے تو اس مرض میں مبتلا بڑے بڑے جغادریوں کے نام اور اقتباسات پیش کردوں؟
    فی الحال محض ایک اشارہ کافی رہے گا:
    A physics textbook of the Sindh Textbook Board categorically states that the universe sprang instantly into existence when a certain divine phrase was uttered.
    یہ نفسیاتی مریض قرآن کی آیات کا معاذ اللہ مذاق اُڑا کر کون سا فلسفہ جھاڑ رہا ہے؟ کیا کبھی آپ نے اس پر بھی اپنی انگلیوں کو تکلیف دی، کہ بھئی جب بات فلسفے کی ہورہی ہے، آپ اس قوم کو سائنسی علوم سمجھانے نکلے ہیں جن کا رُخ اسی قرآن سے وابستہ ہے تو اس طرح کے جاہلانہ تبصرے کرکے آپ کون سے انقلاب کے متمنی ہے؟
    لیکن ایک اور جگہ وہ یہ معمہ بھی حل کر ہی دیتے ہیں:
    But the first properly belongs to Islamic Studies, the second to Islamic or Pakistani history. Neither legitimately belongs to a textbook on a modern-day scientific subject. That’s because religion and science operate very differently and have widely different assumptions. Religion is based on belief and requires the existence of a hereafter, whereas science worries only about the here and now.
    Demanding that science and faith be tied together has resulted in national bewilderment and mass intellectual enfeeblement.
    یعنی اسلامی عقائد اور سائنس ایک ساتھ چل ہی نہیں سکتے۔ یا بالفاظِ دیگر معاذاللہ اسلامی عقائد گمراہی اور جہالت، جب کہ سائنس نور اور ہدایت ہے۔
    مزید بھی بہت کچھ ہے لیکن آپ کے غور وفکر کے لیے اتنا ہی کافی ہوناچاہیے کہ اصل مرض کہاں اور کون ہیں۔
    سائنس کے اس عظیم جغادری کی فرمودات کی روشنی میں اب آیا آپ کا سائنس کے نام پر دفاع ”سائنسی پاپائیت“ کہلائی جاسکتی ہے یا ایسا کہنا گناہِ کبیرہ ہوگا؟

    اور اپنے اس مراسلے کی روشنی میں بھی کہ
    کیا اب ہم بیک وقت اسلامی عقائد اور سائنس پر یقین رکھنے والے آپ جیسے طالبانِ علم کو جغادری کے ”مذہبِ سائنس“ کے مقابلے میں نعوذباللہ کوئی کم تر کٹیگری میں رکھ سکتے ہیں؟

    یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جب یہ سوال اِن لنکس کے مفصل مطالعے کے بعد ہی اُٹھانے پر مجبور ہوا تو پھر کنفیوژن پیدا کرنے کا الزام آپ پر کیسے نہیں لگایا جاسکتا؟

    دیکھیں یہ وہی بات ہوگئی کہ آپ یہ کیسے طے کررہے ہیں کہ ”کس سائنس و فلسفے کا تعلق براہِ راست مذہب سے“ ہے یا نہیں؟
    اگر آپ کو اس کی وضاحت میں مشکل پیش آرہی ہو تو آپ یہ سوال کیوں نہیں پوچھ سکتے؟
    کہ:
    ایسا پوچھنا اس لیے ناممکن نظر آرہاہے کہ اس سے آپ کا مقدمہ ہی فوت ہوجاتاہے، اور عاصم بخشی صاحب کی وقتی ذہنی رُو کی خاکہ بندی اور ناگزیر بکھراؤ کا پھول کھلتا ہے۔

    کیا اِن دو ”مرکزی“ مثالوں کے باوجود بھی مجھے یہ نکتہ نہیں اُٹھانا چاہیے تھا؟
    یہاں آپ ”جم غفیر“ کو جب نظر انداز کردیں تو پھر آپ کی بات واقعی درست ہے، مگر مضمون نگار نے اسے ”جمِ غفیر“ سے نتھی کرکے بدقسمتی سے یہ موقع نہیں دیا۔

    سمجھ نہیں آرہا کہ آپ کیا سمجھ کر یہ بحث کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ جب اِن تمام دیوبندی، تبلیغی، امام غزالیؒ کی مثالوں میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ جو جو علوم قرآن کی سینکڑوں آیات کی روشنی میں غوروفکر کا سامان مہیا کریں، چاہے اس کا تعلق کسبِ معاش سے ہو یا نہ ہو، اس سے کسی کو انکار نہیں اور اس کی ترغیب اور اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، تو پھر یہ تکرار کیا معنی رکھتی ہے۔اس کی وجہ محض یہ ہوسکتی ہے کہ آپ یا تو بخشی کی طرح خیال آرائیوں اور غلط فہمیوں کا شکار ہے اور یا پروپیگنڈا کرکے کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

    یہاں درجہ ذیل دو نکتوں میں:
    پہلے نکتے اور اس پر اٹھنے والے اعتراضات پر بات تب ہوسکتی ہے جب یہ طے ہوسکے کہ عبدالسلام مسلمان تھا یا نہیں، اور کیا وہ ”پاکستانی“ بھی تھا یا نہیں۔ جب تک آپ یہ جواب نہیں دیں گے، تب تک بات آگے نہیں بڑھے گی۔

    اسی سوچ سے ہی مباحثے میں حصہ لیا۔ وگرنہ مضمونِ ہذا کے حوالے سے بقولِ بخشی صاحب:
    ”پیشے کے اعتبار سے انجینیر ہونے کے باعث مضمون نگاری ایک ایسے مشغلے سے زیادہ نہیں جس میں جزوقتی ذہنی رو کی خاکہ بندی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ باالفاظِ دیگر مجھے تسلیم ہے کہ میرے خیالات میں ایک ناگزیر بکھراؤ ہے جسے سنبھالنے کی سنجیدہ کوشش بہت وقت کا تقاضا کرتی ہے۔“
    تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جزوقتی ذہنی رو اور ناگزیر بکھراؤ کے حامل خیالات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 19, 2019
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جدید مغربی ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ
    علم برائے پرافٹ میکسیمائزیشن اینڈ کنٹرول
    بمقابلہ
    علم برائے پائیدار ترقی (سیسٹین ایبل ڈویلوپمنٹ)
    کیا فاضل کالم نگار اس حوالے سے تحقیق کرنا پسند فرمائیں گے کہ جدید مغربی ذہن میں یہ ثنویت کیوں پائی جاتی ہے؟
    کیا اسے ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟​
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  10. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,916
    موڈ:
    Asleep
    فاضل کالم نگار اگر مغرب میں رہتے اور انگریزی میں لکھتے تب آپ کی بات کو درست مانا جا سکتا تھا۔ بہت معذرت، لیکن اس وقت تو یہ نری تنقید برائے تنقید لگ رہی ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  11. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اس صورت میں اُن کا تجزیہ مکمل نہیں مانا جا سکتا۔ جب آپ تصویر کا صرف ایک اور ذاتی رخ دکھانے پر مصر ہوں۔
    آج کل تو گلوبلائزیشن کا دور ہے تو اتنا محدود ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
    مزید یہ کہ کالم نگار کو epistemology کو پڑھنا چاہیے تا کہ ان کا تجزیہ ذاتی رائے اور اوہام سے بلند ہو سکے
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 19, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,916
    موڈ:
    Asleep
    اردو میں لکھا ہے اور مخاطب مسلمان ہیں۔ ہر مضمون کی ایک آڈئینس ہوتی ہے اور اس مضمون کی آڈئینس بھی بہت واضح ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  13. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    آڈینس واضح ہے لیکن پیغام دینے والا epistemology سے نابلد ہے۔
    اور یہ بات درست نہیں کہ اردو میں مغربی موضوعات پر گفتگو نہیں کی جاسکتی۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    کیا ان الفاظ کا تھریڈ کے موضوع یا عاصم بخشی سے کوئی تعلق ہے؟
    آپ نے ایک شخص کو اتنا اپنے سر پر سوار کیا ہوا ہے کہ جہاں اس کا تعلق نہیں ہوتا، وہاں بھی آپ صفحوں کے صفحے سیاہ کر دیتے ہیں۔
    جبکہ اصرار آپ کا یہ ہے کہ آپ سے مختلف رائے رکھنے والے لوگ نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہیں۔
    چلیں اتنا ہی اشتیاق ہے آپ کو نفسیاتی امراض سے تو کیوں نہ یہ کام ذرا پروفیشنل انداز میں کیا جائے؟ نفسیاتی عوارض کی تشخیص کے لیے DSM-5 کو ایک عالمی معیار مانا جاتا ہے۔ اس سے مدد لے لیتے ہیں۔
    آج کے ٹیوٹوریل میں ہم DSM-5 میں درج پیرانائڈ پرسنیلٹی ڈس آرڈر کو ایک نظر دیکھیں گے۔ اس کی علامات کچھ یوں درج ہیں۔

    Paranoid Personality Disorder is characterized by a pervasive distrust and suspiciousness of others such that their motives are interpreted as malevolent, beginning by early adulthood and present in a variety of contexts. To qualify for a diagnosis, the patient must meet at least four out of the following criteria:

    Suspects, without sufficient basis, that others are exploiting, harming, or deceiving them.
    مثال:
    Is reluctant to confide in others because of unwarranted fear that the information will be used maliciously against them.
    مثال:
    سوال: آپ کی رائے میں کیا ڈاکٹر عبد السلام کا تحقیقی کام اس لائق تھا کہ اسے نوبیل انعام دیا جاتا؟
    جواب:
    Reads hidden demeaning or threatening meanings into benign remarks or events.
    مثال:
    Persistently bears grudges (i.e., is unforgiving of insults, injuries, or slights).
    مثال:
    پرویز ہودبھائی کا اتنا سر پہ سوار کر لینا کہ ہر جگہ وحدت الپرویز ہود کے جلوے نظر آنا۔ ایک مثال پوسٹ کے شروع میں موجود ہے۔ باقی کے لیے۔۔۔
    Perceives attacks on their character or reputation that are not apparent to others and is quick to react angrily or to counterattack.
    مثال:
    خود پر حملہ محسوس کرنا:
    غصے بھرا رد عمل دینا:
    ہمم۔۔۔ حضرت۔ یہ تو کافی گمبھیر سمسیا ہو گئی ہے۔ پی پی ڈی کے مریض کے ساتھ گفتگو سے کسی کار آمد نتائج کا اخذ کرنا تو کافی مشکل ہو جائے گا۔ کیا کیا جائے؟
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 19, 2019
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • غمناک غمناک × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  15. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ضروری بھی نہیں کہ اردو میں مغربی موضوعات پر ہی گفتگو کی جائے۔
    جب کسی مسئلے پر بات کی جائے تو اگر وہ مسئلہ واقعی موجود ہو تو اس کے حل کی سوچ کرنی چاہیے، نہ کہ یہ گلہ کہ فلاں مسئلہ بھی تو ہے، اس کا ذکر کیوں نہیں کیا۔
     
    • متفق متفق × 2
  16. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    کالم نگار تو پھر بھی "دنیاوی علوم" کہلائے جانے والے شعبوں کو رو رہا ہے۔ ان گناہگار آنکھوں نے تو جامعہ میں تبلیغی جماعت کے لڑکوں کو اصول الدین پڑھنے والے لڑکوں کے سامنے اصرار کرتے دیکھا ہے کہ انہیں یہ "دنیاوی سرگرمیاں" چھوڑ کر "اللہ کی راہ" میں نکلنا چاہیے۔ :bulgy-eyes:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یعنی پرویز ہود کی اچھی خاصی انالسز۔ اب پرویز ہود کو مزید ذلیل کرنے سے فرصت ملی ہو تو موضوع پر آجائیں۔ یا اسے بھی فرار کی ایک کوشش سمجھی جائے؟
     
  18. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یار اگر ”میں نے یہ سنا، میں نے وہ سنا“ کے ناممکن الثبات الزامات لگاتے لگاتے تھک گئے ہو تو موضوع پر آجائیں۔
     
  19. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    حضرت، آپ کا مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ صرف ایک لائن میں دو بار پرویز ہود کے ساتھ وابستہ جنون کا اظہار۔ جب علامات کچھ کنٹرول ہو جائیں پھر بات کر لیں گے۔ فی الحال آپ آرام کر لیں۔ کوئی بات نہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  20. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    چلیں فرار میں ہی عافیت نظر آرہی ہے تو جائیں۔ پہلے بھی دو بار فراد ہوچکے ہیں۔ روک کون سکتاہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 19, 2019
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر