سلیم احمد جدائی کب تھی کہاں ہوئی تھی میں اس سے بھی بے خبر گیا ہوں - سلیم احمد

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 19, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    جدائی کب تھی کہاں ہوئی تھی میں اس سے بھی بے خبر گیا ہوں
    تو سایہ آسا تھا ساتھ میرے میں تجھ سے چھٹ کر جدھر گیا ہوں

    مجھے سمیٹو! تو میرے اندر نئے معانی ہیں نقش بستہ
    کتاب خود آگہی ہوں لیکن ورق ورق میں بکھر گیا ہوں

    مری طبیعت کے ساحلوں پر ہے مرگ آ سا سکوت طاری
    یہ پیش خیمہ ہے آتے طوفاں کا جس کی شدت سے ڈر گیا ہوں

    وہی شب و روز زندگی کے ، ہنسی بھی ، اشکوں کے سلسلے بھی
    مگر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے اندر سے مر گیا ہوں

    مرے سوا کون ہے کہ جس نے معاشِ غم اختیار کی ہے
    میں ایک الزامِ زندگی تھا سو آج اپنے ہی سر گیا ہوں​
    سلیم احمد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر