صبا اکبر آبادی جب وہ پرسانِ حال ہوتا ہے۔صبا اکبر آبادی

چوہدری لیاقت علی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 20, 2015

  1. چوہدری لیاقت علی

    چوہدری لیاقت علی محفلین

    مراسلے:
    305
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جب وہ پرسانِ حال ہوتا ہے
    بات کرنا محال ہوتا ہے
    کھو گیا جو ترے خیالوں میں
    تجھے اُس کا خیال ہوتا ہے
    وہیں اُن کے قدم نہیں پڑتے
    دل جہاں پائمال ہوتا ہے
    ایک لُطفِ خیال کا لمحہ
    حاصلِ ماہ و سال ہوتا ہے
    ہجر میں طولِ زندگی توبہ
    موت کا جی نڈھال ہوتا ہے
    اپنے ہی آشیاں کے تنکوں پر
    برق کا احتمال ہوتا ہے
    کبھی تم نے صباؔ سے پوچھا بھی
    شبِ فرقت جو حال ہوتا ہے

    صبا اکبر آبادی
     

اس صفحے کی تشہیر