جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی ۔ مرزا غالب

فہیم ملک جوگی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 4, 2016

ٹیگ:
  1. فہیم ملک جوگی

    فہیم ملک جوگی محفلین

    مراسلے:
    207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
    مشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی

    عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر
    کب تک خیالِ طرۂ لیلیٰ کرے کوئی

    افسردگی نہیں طرب انشائے التفات
    ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی

    رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
    آخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی

    چاکِ جگر سے جب رہِ پرسش نہ وا ہوئی
    کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی

    لختِ جگر سے ہے رگِ ہر خار شاخِ گل
    تا چند باغ بانیٔ صحرا کرے کوئی

    ناکامیٔ نگاہ ہے برقِ نظارہ سوز
    تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

    ہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکست
    نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی

    سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمر
    فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی

    ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیز
    یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی

    بے کاریٔ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
    جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی

    حسنِ فروغِ شمعِ سخن دور ہے اسدؔ
    پہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی

    (مرزا اسد اللہ خاں غالب)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر