جب آتش جوان تھا۔۔۔

قیصرانی

لائبریرین
منصور بھائی کیا نواز شریف کا پرانا نام آتش تھا ۔۔۔ :rolleyes:یہ تو اب دماغ میں آیا سوچا پوچھ لوں:rolleyes:
یہ محض شعر و شاعری کی باتیں ہیں۔ آتش بہت مشہور شاعر تھے۔ جب انہوں نے اپنی جوانی کا کوئی واقعہ بتانا ہوتا تو فرماتے تھے کہ
جب آتش جوان تھا
تو پھر یہ کہاوت بن گئی :)
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
خواجہ حیدر علی آتش کی ایک غزل کا مشہور مقطع ہے


شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

نکالے تھے دو چاند اُس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا

عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرحناک تھی روح دل شادماں تھا

مشاہد جمال پری کی تھیں آنکھیں
مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا

حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

کیا تھا اُسے بوسہ بازی نے پیدا
کمر کی طرح سے جو غائبا وہاں تھا

حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی
نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا
 

عینی شاہ

محفلین
خواجہ حیدر علی آتش کی ایک غزل کا مشہور مقطع ہے


شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

نکالے تھے دو چاند اُس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا

عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرحناک تھی روح دل شادماں تھا

مشاہد جمال پری کی تھیں آنکھیں
مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا

حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

کیا تھا اُسے بوسہ بازی نے پیدا
کمر کی طرح سے جو غائبا وہاں تھا

حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی
نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا
مجے کون سا سمجھ اتی ہے یہ رونی کھانی شوعری :p ۔۔۔اب وہی شعر ہی کمپلیٹ کر دیتے نا :rolleyes:ایسے ہی تکلیف کی اپ نے تو :battingeyelashes: اینی ویز تھینکس :rolleyes:
 

یوسف-2

محفلین
مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ ۔ ۔ اسی لئے ایسے شاعروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ معصوم ذہنوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ :eek:
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ ۔ ۔ اسی لئے ایسے شاعروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ معصوم ذہنوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ :eek:
جی جی درست کہا۔
اس طرح کی چیزوں پہ تو مجھے بھی اختلاف ہے۔
 
Top