کسی بھی انسان کی زندگی میں اگر خوشی نہ ہو تو اُسے دنیا کی ہر نعمت پھیکی اور بے ذائقہ بلکہ بد ذائقہ محسوس ہوتی ہے۔ تمام تر سہولیات اور جدید سے جدید تر آسائشیں ہونٹوں پہ مسکراہٹ کا سبب تو بن سکتی ہیں، لیکن اندرونی اضطراب ، تذبذب ،بے چینی، بے قراری،بے بسی اور افراتفری کو قارون کی جنت سے ہر گز ختم نہیں کیا جاسکتا اور نہ مرجھائے ہوئے دلوں کو زندہ کیا جاسکتا۔لہذا ہر شخص کی محنتوں اور کوششوں کا مقصد اور کچھ نہیں، بس اس عارضی دنیا میں خوشحال زندگی کا حصول ہے۔ اسی لیے ہر شخص اپنے اندر کی بے چینی کو سکون، بے قراری کو اطمینان، اضطراب کو استقلال، بے بسی کو امید اور افراتفری کو آرام و راحت بخشنے کے لیے مختلف طریقے آزماتا اور اختیار کرتا ہے۔ایک راستے پر چلنے سے اگر مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے دکھائی نہ دیں تو فوراًدوسرا راستہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ کچھ رہبانیت کا راستہ اپناتے ہیں تو کچھ خلوت میں اپنے رب کی یاد سے روح کو غذا بہم پہنچاتے ہیں۔ بعض لوگ حق پرست علمائے کرام کے قدموں کی خاک چھانتے ہیں اور اسی کو بارگاہ ایزدی میں سرخروئی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسی سے اپنی روحانیت کو پروان چڑھاتے ہیں جبکہ بعض لوگ دینی مجالس اور تعلیم کے حلقوں سے زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ فلاحی اداروں میں رضاکارانہ طور پر مصیبت زدہ اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کرتے ہیں تو کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جان، مال اور وقت کی قربانی کو ہی روحانیت کے حصول کا واحد راستہ تصور کرتے ہیں، جبکہ ایسے بھی کچھ لوگ بھی ہوتے ہیں جو ’’پانچ سال کی عمر سے لے کر پنتالیس سال ‘‘ تک ’’جینوئن اور نان جینوئن ‘‘ بابوں کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ شایدان ’’بابوں‘‘ کی مدد سے روحانیت بحال ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مزید مضبوط کیا جا سکے ۔ ان لوگوں میں سے ایک ہمارے ملک کے معروف قلمکار اور کالم نگار محترم جناب ’’جاوید چوہدری‘‘ صاحب بھی ہیں، جو بچپن سے آج تک روحانیت کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ’’بابوں‘‘ کی ’’نظر کرم‘‘ کا شکار ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ بچپن سے جاری اس سفر میں وہ درجنوں ’’بابوں‘‘ سے ملے ہیں، جن میں نوے فیصد جعلی اور دس فیصد جینوئن ہیں اور جینوئن وہ لوگ ہوتے ہیں جوسال بھر کے زائرین کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں، جو لوگوں سے مانگتے نہیں بلکہ عطا کرتے ہیں۔ اُن کا یہ ’’کچھ نہ لینا‘‘ بھی ایک مارکیٹنگ ہوتی ہے اور ’’سیلف لیس‘‘ ہونے کا تاثر اُن کے مارکیٹنگ ٹولز میں سے ایک ہوتا ہے۔
محترم جناب ’’جاوید چوہدری‘‘ صاحب بھی ایسے ہی کسی ’’جینوئن بابے‘‘ کے ہتھے چڑھے دکھائی دیتے ہیں جن کی پروموشن کے لیے بلا کسی عوض لمبا چوڑا کالم لکھنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں اور ’’دس روحانی ٹپس ‘‘پر مشتمل اپنی ’’روحانی تپسیا کا نچوڑ‘‘ بھی اپنے مداحوں اور قارئین کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔دس روحانی ٹپس کو پڑھنے سے انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ محترم موصوف کو یہ نکات قرآنی تعلیمات یا احادیث کے ذخیرے میں کہیں پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ جن کو ’’بابوں ‘‘ کی تعلیمات سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ بلا شبہ دانائے سبل و ختم رسل کی تعلیمات ہی حیوانات، نباتات، حشرات اور اشرف المخلوقات کے بجا اور موزوں حقوق کا تعین کر سکتی ہے نہ کہ بابوں کی تعلیمات۔ آپؐ کے ارشادات کی روشنی میں ہی ’’حقیقی روحانیت‘‘ کے حصول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے نہ کہ درگاہوں کے مسندوں پر براجمان بے نمازی اور پوہاڑ قسم کے لوگ۔
اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آپﷺ نےشجر کاری کی تعلیم نہیں دی۔ایک موقع پر شجر کاری کی ترغیب دیتے ہوئے آپؐ نے فرمایا:مَنْ نَصَبَ شَجَرَۃً فَصَبَرَ عَلَی حِفْظِہَا وَالْقِیَامُ عَلَیْہَا حَتَّی تثْمر فَإِنَّ لَہُ فيِ کُلِّ شَيْءٍ یُصَابُ مِنْ ثَمَرِہَا صَدَقَۃٌ عِنْدَ اللہِ.(مسند احمد:4؍61) ’’جو کوئی درخت لگائے پھر اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے یہاں تک کہ و ہ درخت پھل دینے لگے اب اس درخت کا جو کچھ نقصان ہوگا وہ اس کے لئے اللہ کے یہاں صدقہ کا سبب ہوگا‘‘۔ ایک اور موقع پر آپ نے کاشتکاری اوربنجر وبے استعمال زمین کو کاشت کے لئے استعمال کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ’’جس کے پاس زمین ہو اسے اس زمین میں کاشتکاری کرنی چاہیے، اگر وہ خود کاشت نہ کرسکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے، تاکہ وہ کاشت کرے‘‘۔ (مسلم شریف، حدیث نمبر: 1536) رسول اللہﷺ کی انہی ترغیبات کا نتیجہ تھا کہ حضرات صحابہ شجرکاری کا خاص اہتمام فرماتے تھے، حضرت امام احمد ابن حنبلؒ نے حضرت ابودرداء سے نقل کیا ہے کہ حضرات صحابہ کرام صدقہ کی نیت سے درخت لگانے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ (مجمع الزوائد:4؍68) ۔ چرند و پرند،حشرات و حیوانات کے ساتھ حسن سلوک، اُن کو کھلانے پھلانے، اُن پر ضرورت سے زیادہ کام نہ کرنے، اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادنے اور ہر طرح سے اُن کے حقوق کو پورا کرنے کی آپ ﷺ نے ہمیشہ ترغیب دی۔مسند احمد کی ایک حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابیؓ نے کہا کہ’’اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میں بکری ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر رحم آتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر تم بکری پر رحم کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا‘‘۔ (مسند احمد) آپ ﷺ نے دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا کہ’’ اللہ عزوجل نے ہر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرنے کو فرض قرار دیا ہے‘‘۔ (مسلم) اسی طرح اسلام میں بلاضرورت کسی جانور کے قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ (حاکم)۔ابو داؤد کی ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’ آپ ﷺ نے چار جانوروں (چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد) کے مارنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ’’ اللہ عزوجل نے ہر مخلوق کے ساتھ حسن و سلوک کرنا فرض کیا ہے، اس لئے جب تم کسی جانور کو مارو تو اچھے طریقہ سے مارو، اور جب ذبح کروتو اچھے طریقے سے ذبح کروتاکہ تم میں سے ہر آدمی اپنی چھری تیز کرلے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ (مسلم، ابن ماجہ)آپﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ’’ ہر زندہ جانور کے کھلانے پلانے میں اجروثواب ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم )۔ ایک مرتبہ آپﷺ ایک (نحیف و لاغر) اونٹ کے پاس سے گزرے، جس کا پیٹ (بھوک کی وجہ سے) اس کی کمر سے لگ گیا تھا تو آپﷺ نے فرمایا: لوگو! ان بے زبان جانوروں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو(ان کو اس طرح بھوکا نہ مارو) ان پر سوار ہوتو ایسی حالت میں جبکہ یہ ٹھیک ہوں (ان کا پیٹ بھرا ہو) اور ان کو (اسی طرح کھلا پلاکر) اچھی حالت میں چھوڑو۔ (ابو داؤد)۔ آپﷺنے ہمیشہ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور معاشرے کے نادار لوگوں کے ساتھ مالی تعاون اور بیواؤں یا غیر شادی شدہ عورتوں کے گھروں کو آبادکرنے پر اجر و ثواب کے وعدوں سے امت کے مالدار طبقہ کو متوجہ کیا ہے۔مسافروں کے لیے مہمان خانوں اور کھانے پینے کے انتظام سے متعلق تلقین فرمائی ہے ۔ کتاب کی صورت میں قرآن سے دوستی کرنے کی ترغیب دی ہے۔
جہاں تک محترم موصوف مزارات پر چادروں کی بھرمار کو تکریم اور بے عزتی کا معیار سمجھتے ہیں، تو شرعی نکتہ نظر سے یہ ایک غیر شرعی فعل اور اسراف بھی نہیں بلکہ تبذیر ہے ۔جوشریعت دنیا سے رخصت ہونے والے شخص کے لیے اعلیٰ کفن کو اسراف اور خستہ حال کو بخل اورمعیوب سمجھتی ہےاورکفن کے لیے معمولی کپڑا استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے تو اُس شریعت میں کفن دفن کے بعد چادر چڑھانے کا جواز کیوں کر ہو سکتا ہے ۔ اگر قبروں یا مزارات پر چادروں کا اہتمام ہی عزت اور ذلت کا معیار ہوتا تو جنت البقیع میں کسی بھی نجوم ہدایت کی قبروں پر چادر کے نہ ہونے کو آپ کن الفاظ میں بیان کریں گے یا وہ لوگ جو زندگی بھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی تعلیم دیتے تھے، خود کو الوہیت کی صفات سے متصف سمجھتے تھے، اُن کی زندگی ہر قسم کی نافرمانی ، شرکیات، بدعات، خرافات، فحاشی و عریانی اور غلاظت سے بھر پور ہوتی ہے اور اس حالت میں عزرائیل اُن بد بخت لوگوں کو کیڑے مکوڑوں ، سانپ اور بچھوؤں کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اُن کی قبروں پر ہر سال بلکہ ہر مہینہ اور ہر روز ہزاروں کا مجمع اپنی مرادیں لے کر وارد ہوتے ہیں اور بیسیوں چادر چڑھائے جاتے ہیں وہ تو اللہ کی بارگاہ میں مجرم ہیں کیونکہ اُنھوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اُن حدود کو پامال کیا جس کے نتیجے میں قرآن کی رو سے اُن پر جنت کو حرام قرار دیا ہے ۔ ہزاروں چادر یں چڑھانے کے باوجود آپ کے ضمیر کی عدالت اللہ تعالیٰ کے مجرموں کو کیا نام دے گی۔
جن ’’بابوں‘‘ کی گفتگو کو محترم جناب ’’جاوید چوہدری‘‘ صاحب انجوائے کرتے رہے۔ جن ’’بابوں‘‘ کی روحانیت کو موصوف ٹیسٹ کرتے رہے، اُن سے کیسے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ کیسے اُن کی تعلیمات سے اللہ کے ساتھ تعلق کو استوار اور مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ روحانیت کے حصول میں قرآنی تعلیمات اور آپﷺ کے ارشادات کو نظر انداز کرنے والوں کو ہمیشہ کبھی جینوئن، کبھی نان جینوئن اور کبھی جینوئن کی شکل میں بیوپاری ہی مل سکتے ہیں اور جو حقیقت میں جینوئن ہوتے ہیں وہ ’’بابے‘‘ نہیں ہوتے بلکہ وہ مرشد کہلاتے ہیں۔ جو راتوں کوربارگاہ ایزدی کے سوالی اور دن کو مخلوق خدا پر اپنے ہاتھ کھول دیتے ہیں، جو راتوں کو اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور دن کے اجالے میں ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگیوں کا یوٹرن بن جاتے ہیں، جو خلوت میں راہب اور جلوت میں شہسوار بن کر نکلتے ہیں۔جو راتوں کو ہاتھ اٹھائے بچوں کی طرح سسکیاں بھرتے ہیں اور دن کو اُن کی سیدھی سادھی گفتگو سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ہمیں ’’بابوں‘‘ کے چکر میں نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ ان میں نوے فیصد نہیں بلکہ سو فیصد جعلی ہیں ۔ لہذا ہمیں ہر وقت مرشد کی تلاش تو ہونی چاہیے لیکن بابوں کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
 

سیما علی

لائبریرین
کسی بھی انسان کی زندگی میں اگر خوشی نہ ہو تو اُسے دنیا کی ہر نعمت پھیکی اور بے ذائقہ بلکہ بد ذائقہ محسوس ہوتی ہے۔ تمام تر سہولیات اور جدید سے جدید تر آسائشیں ہونٹوں پہ مسکراہٹ کا سبب تو بن سکتی ہیں، لیکن اندرونی اضطراب ، تذبذب ،بے چینی، بے قراری،بے بسی اور افراتفری کو قارون کی جنت سے ہر گز ختم نہیں کیا جاسکتا اور نہ مرجھائے ہوئے دلوں کو زندہ کیا جاسکتا۔لہذا ہر شخص کی محنتوں اور کوششوں کا مقصد اور کچھ نہیں، بس اس عارضی دنیا میں خوشحال زندگی کا حصول ہے۔ اسی لیے ہر شخص اپنے اندر کی بے چینی کو سکون، بے قراری کو اطمینان، اضطراب کو استقلال، بے بسی کو امید اور افراتفری کو آرام و راحت بخشنے کے لیے مختلف طریقے آزماتا اور اختیار کرتا ہے۔ایک راستے پر چلنے سے اگر مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے دکھائی نہ دیں تو فوراًدوسرا راستہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ کچھ رہبانیت کا راستہ اپناتے ہیں تو کچھ خلوت میں اپنے رب کی یاد سے روح کو غذا بہم پہنچاتے ہیں۔ بعض لوگ حق پرست علمائے کرام کے قدموں کی خاک چھانتے ہیں اور اسی کو بارگاہ ایزدی میں سرخروئی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسی سے اپنی روحانیت کو پروان چڑھاتے ہیں جبکہ بعض لوگ دینی مجالس اور تعلیم کے حلقوں سے زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ فلاحی اداروں میں رضاکارانہ طور پر مصیبت زدہ اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کرتے ہیں تو کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جان، مال اور وقت کی قربانی کو ہی روحانیت کے حصول کا واحد راستہ تصور کرتے ہیں، جبکہ ایسے بھی کچھ لوگ بھی ہوتے ہیں جو ’’پانچ سال کی عمر سے لے کر پنتالیس سال ‘‘ تک ’’جینوئن اور نان جینوئن ‘‘ بابوں کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ شایدان ’’بابوں‘‘ کی مدد سے روحانیت بحال ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مزید مضبوط کیا جا سکے ۔ ان لوگوں میں سے ایک ہمارے ملک کے معروف قلمکار اور کالم نگار محترم جناب ’’جاوید چوہدری‘‘ صاحب بھی ہیں، جو بچپن سے آج تک روحانیت کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ’’بابوں‘‘ کی ’’نظر کرم‘‘ کا شکار ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ بچپن سے جاری اس سفر میں وہ درجنوں ’’بابوں‘‘ سے ملے ہیں، جن میں نوے فیصد جعلی اور دس فیصد جینوئن ہیں اور جینوئن وہ لوگ ہوتے ہیں جوسال بھر کے زائرین کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں، جو لوگوں سے مانگتے نہیں بلکہ عطا کرتے ہیں۔ اُن کا یہ ’’کچھ نہ لینا‘‘ بھی ایک مارکیٹنگ ہوتی ہے اور ’’سیلف لیس‘‘ ہونے کا تاثر اُن کے مارکیٹنگ ٹولز میں سے ایک ہوتا ہے۔
محترم جناب ’’جاوید چوہدری‘‘ صاحب بھی ایسے ہی کسی ’’جینوئن بابے‘‘ کے ہتھے چڑھے دکھائی دیتے ہیں جن کی پروموشن کے لیے بلا کسی عوض لمبا چوڑا کالم لکھنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں اور ’’دس روحانی ٹپس ‘‘پر مشتمل اپنی ’’روحانی تپسیا کا نچوڑ‘‘ بھی اپنے مداحوں اور قارئین کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔دس روحانی ٹپس کو پڑھنے سے انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ محترم موصوف کو یہ نکات قرآنی تعلیمات یا احادیث کے ذخیرے میں کہیں پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ جن کو ’’بابوں ‘‘ کی تعلیمات سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ بلا شبہ دانائے سبل و ختم رسل کی تعلیمات ہی حیوانات، نباتات، حشرات اور اشرف المخلوقات کے بجا اور موزوں حقوق کا تعین کر سکتی ہے نہ کہ بابوں کی تعلیمات۔ آپؐ کے ارشادات کی روشنی میں ہی ’’حقیقی روحانیت‘‘ کے حصول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے نہ کہ درگاہوں کے مسندوں پر براجمان بے نمازی اور پوہاڑ قسم کے لوگ۔
اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آپﷺ نےشجر کاری کی تعلیم نہیں دی۔ایک موقع پر شجر کاری کی ترغیب دیتے ہوئے آپؐ نے فرمایا:مَنْ نَصَبَ شَجَرَۃً فَصَبَرَ عَلَی حِفْظِہَا وَالْقِیَامُ عَلَیْہَا حَتَّی تثْمر فَإِنَّ لَہُ فيِ کُلِّ شَيْءٍ یُصَابُ مِنْ ثَمَرِہَا صَدَقَۃٌ عِنْدَ اللہِ.(مسند احمد:4؍61) ’’جو کوئی درخت لگائے پھر اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے یہاں تک کہ و ہ درخت پھل دینے لگے اب اس درخت کا جو کچھ نقصان ہوگا وہ اس کے لئے اللہ کے یہاں صدقہ کا سبب ہوگا‘‘۔ ایک اور موقع پر آپ نے کاشتکاری اوربنجر وبے استعمال زمین کو کاشت کے لئے استعمال کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ’’جس کے پاس زمین ہو اسے اس زمین میں کاشتکاری کرنی چاہیے، اگر وہ خود کاشت نہ کرسکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے، تاکہ وہ کاشت کرے‘‘۔ (مسلم شریف، حدیث نمبر: 1536) رسول اللہﷺ کی انہی ترغیبات کا نتیجہ تھا کہ حضرات صحابہ شجرکاری کا خاص اہتمام فرماتے تھے، حضرت امام احمد ابن حنبلؒ نے حضرت ابودرداء سے نقل کیا ہے کہ حضرات صحابہ کرام صدقہ کی نیت سے درخت لگانے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ (مجمع الزوائد:4؍68) ۔ چرند و پرند،حشرات و حیوانات کے ساتھ حسن سلوک، اُن کو کھلانے پھلانے، اُن پر ضرورت سے زیادہ کام نہ کرنے، اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادنے اور ہر طرح سے اُن کے حقوق کو پورا کرنے کی آپ ﷺ نے ہمیشہ ترغیب دی۔مسند احمد کی ایک حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابیؓ نے کہا کہ’’اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میں بکری ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر رحم آتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر تم بکری پر رحم کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا‘‘۔ (مسند احمد) آپ ﷺ نے دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا کہ’’ اللہ عزوجل نے ہر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرنے کو فرض قرار دیا ہے‘‘۔ (مسلم) اسی طرح اسلام میں بلاضرورت کسی جانور کے قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ (حاکم)۔ابو داؤد کی ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’ آپ ﷺ نے چار جانوروں (چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد) کے مارنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ’’ اللہ عزوجل نے ہر مخلوق کے ساتھ حسن و سلوک کرنا فرض کیا ہے، اس لئے جب تم کسی جانور کو مارو تو اچھے طریقہ سے مارو، اور جب ذبح کروتو اچھے طریقے سے ذبح کروتاکہ تم میں سے ہر آدمی اپنی چھری تیز کرلے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ (مسلم، ابن ماجہ)آپﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ’’ ہر زندہ جانور کے کھلانے پلانے میں اجروثواب ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم )۔ ایک مرتبہ آپﷺ ایک (نحیف و لاغر) اونٹ کے پاس سے گزرے، جس کا پیٹ (بھوک کی وجہ سے) اس کی کمر سے لگ گیا تھا تو آپﷺ نے فرمایا: لوگو! ان بے زبان جانوروں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو(ان کو اس طرح بھوکا نہ مارو) ان پر سوار ہوتو ایسی حالت میں جبکہ یہ ٹھیک ہوں (ان کا پیٹ بھرا ہو) اور ان کو (اسی طرح کھلا پلاکر) اچھی حالت میں چھوڑو۔ (ابو داؤد)۔ آپﷺنے ہمیشہ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور معاشرے کے نادار لوگوں کے ساتھ مالی تعاون اور بیواؤں یا غیر شادی شدہ عورتوں کے گھروں کو آبادکرنے پر اجر و ثواب کے وعدوں سے امت کے مالدار طبقہ کو متوجہ کیا ہے۔مسافروں کے لیے مہمان خانوں اور کھانے پینے کے انتظام سے متعلق تلقین فرمائی ہے ۔ کتاب کی صورت میں قرآن سے دوستی کرنے کی ترغیب دی ہے۔
جہاں تک محترم موصوف مزارات پر چادروں کی بھرمار کو تکریم اور بے عزتی کا معیار سمجھتے ہیں، تو شرعی نکتہ نظر سے یہ ایک غیر شرعی فعل اور اسراف بھی نہیں بلکہ تبذیر ہے ۔جوشریعت دنیا سے رخصت ہونے والے شخص کے لیے اعلیٰ کفن کو اسراف اور خستہ حال کو بخل اورمعیوب سمجھتی ہےاورکفن کے لیے معمولی کپڑا استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے تو اُس شریعت میں کفن دفن کے بعد چادر چڑھانے کا جواز کیوں کر ہو سکتا ہے ۔ اگر قبروں یا مزارات پر چادروں کا اہتمام ہی عزت اور ذلت کا معیار ہوتا تو جنت البقیع میں کسی بھی نجوم ہدایت کی قبروں پر چادر کے نہ ہونے کو آپ کن الفاظ میں بیان کریں گے یا وہ لوگ جو زندگی بھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی تعلیم دیتے تھے، خود کو الوہیت کی صفات سے متصف سمجھتے تھے، اُن کی زندگی ہر قسم کی نافرمانی ، شرکیات، بدعات، خرافات، فحاشی و عریانی اور غلاظت سے بھر پور ہوتی ہے اور اس حالت میں عزرائیل اُن بد بخت لوگوں کو کیڑے مکوڑوں ، سانپ اور بچھوؤں کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اُن کی قبروں پر ہر سال بلکہ ہر مہینہ اور ہر روز ہزاروں کا مجمع اپنی مرادیں لے کر وارد ہوتے ہیں اور بیسیوں چادر چڑھائے جاتے ہیں وہ تو اللہ کی بارگاہ میں مجرم ہیں کیونکہ اُنھوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اُن حدود کو پامال کیا جس کے نتیجے میں قرآن کی رو سے اُن پر جنت کو حرام قرار دیا ہے ۔ ہزاروں چادر یں چڑھانے کے باوجود آپ کے ضمیر کی عدالت اللہ تعالیٰ کے مجرموں کو کیا نام دے گی۔
جن ’’بابوں‘‘ کی گفتگو کو محترم جناب ’’جاوید چوہدری‘‘ صاحب انجوائے کرتے رہے۔ جن ’’بابوں‘‘ کی روحانیت کو موصوف ٹیسٹ کرتے رہے، اُن سے کیسے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ کیسے اُن کی تعلیمات سے اللہ کے ساتھ تعلق کو استوار اور مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ روحانیت کے حصول میں قرآنی تعلیمات اور آپﷺ کے ارشادات کو نظر انداز کرنے والوں کو ہمیشہ کبھی جینوئن، کبھی نان جینوئن اور کبھی جینوئن کی شکل میں بیوپاری ہی مل سکتے ہیں اور جو حقیقت میں جینوئن ہوتے ہیں وہ ’’بابے‘‘ نہیں ہوتے بلکہ وہ مرشد کہلاتے ہیں۔ جو راتوں کوربارگاہ ایزدی کے سوالی اور دن کو مخلوق خدا پر اپنے ہاتھ کھول دیتے ہیں، جو راتوں کو اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور دن کے اجالے میں ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگیوں کا یوٹرن بن جاتے ہیں، جو خلوت میں راہب اور جلوت میں شہسوار بن کر نکلتے ہیں۔جو راتوں کو ہاتھ اٹھائے بچوں کی طرح سسکیاں بھرتے ہیں اور دن کو اُن کی سیدھی سادھی گفتگو سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ہمیں ’’بابوں‘‘ کے چکر میں نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ ان میں نوے فیصد نہیں بلکہ سو فیصد جعلی ہیں ۔ لہذا ہمیں ہر وقت مرشد کی تلاش تو ہونی چاہیے لیکن بابوں کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اللہ کی رضا کا حصول روحانیت کا سب سے بلند مرتبہ ہے۔ اس مرتبے کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مضبوط قلبی تعلق مطلوب ہے اور یہی عبادت کی روح ہے۔
ابلیس توبہ کرنے کے بجاے گناہ پہ قائم رہا۔ابلیس کا یہ رویہ غلطی پر اصرار اور سر کشی کا تھا۔ حضرت آدمؑ کا رویہ عاجزی کا تھا۔ ابلیس نے تکبر کیا،حضرت آدم ؑنے استغفار کیا۔ اسی فرق نے دونوں کے انجام کو جدا کیا۔ ابلیس ملعون ہوا اور حضرت آدمؑ محبوب ہوئے۔
اس لیے روحانیت کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ اوصاف رزیلہ انسان کے دل سے نکل جائیں اوردوسری منزل یہ ہے کہ اوصاف حمیدہ کادل خوگرہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ و استغفار کرنے کا حکم دیا ہے۔جسقدر ہم توبہ و استغفار کریں گے
اور وہ بھی دل کی اتھاہ کہرایئوں سے اور اسی حصول سے رضائے الہی حاصل ہوتی ہے ۔مالک ہمیں یہ توفیق عطا فر مائے آمین
 
آخری تدوین:
Top