جانتے ہیں لوگ کیا اس کو حقیقت۔۔۔۔نور سعدیہ شیخ

نور وجدان

لائبریرین
جانتے ہیں لوگ کیا اس کو حقیقت۔۔؟
ملتی ہے بس زندگی میں ہی اذیت!


یہ تجسس میں ہی تجھ کو مار ڈالیں
کیسی لگتی ہے مجھے اب یہ نیابت


ْپوچھتے ہیں کیوں سکندر سے یہ سارے
کیا ہے مکڑی کی جہاں میں کوئی وقعت


کھوج کر کے کہتی دنیا یہ مجھے ہے
میرے لفظوں کو ہے دیتی روح طاقت


لفظ میرے پھیلے خوشبو کے ہیں جیسے
آگہی سے پائیں گے سب اب مشیت


ہو شناسائی کبھی جو نورؔ حق سے
پوچھنا تم رب سے کیا ہے اب حقیقت۔؟


اس زمیں کی مست حالت تم بھی دیکھو
ٹک سے دیکھے جائے ہے چندا کی رویت


روح گھومے گول، کھوئے حجم بھی اب
جسم مانگے اس اذیت کی بھی ہیئت


سسکیوں سے گونج اٹھتا ہے جہاں بھی
آہوں پر ہوتی ہے سب کو کیوں ندامت


بانٹے وحشی جو سکوں کی یاں پر دولت
غم بھی کرتا یوں رہے گا پھر تجارت


کون میری دھو رہا ہے اب کثافت
اب لطافت کو ملی ہے اور اضافت


ملتی ہے زنداں میں لوگوں کو ملاحت
کیوں میں مانگوں روح کی جاں سے ہی ہجرت
 
آخری تدوین:

ابن رضا

لائبریرین
اچھی مشقِ سخن ہے۔ اصلاح تو اساتذہ کریں گے تاہم میرا مشورہ ہے کہ اسے مزید نکھاریں۔

تعقید اور بھرتی سے پاک کریں۔ خاص طور پر "اب"، یوں، ہی وغیرہ
 
آخری تدوین:

آوازِ دوست

محفلین
اچھی مشقِ سخن ہے۔ اصلاح تو اساتذہ کریں گے تاہم میرا مشورہ ہے کہ اسے مزید نکھاریں۔

تعقید اور بھرتی سے پاک کریں۔ خاص طور پر "اب"، یوں، ہی وغیرہ
رضا بھائی ایک گڑبڑ ہو گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وزن والے مضمون کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں ہے ۔ اب دیکھیئے ناں کسی نے ہماری نیم شاعرانہ کوشش کواصلاحی نُقطہ نظر سے دیکھا ہی نہیں :)
تو سیکھنے کا عمل کیسے ہو گا۔ آپ ہی بارش کا پہلا قطرہ بنیں :)
 

نور وجدان

لائبریرین
اچھی مشقِ سخن ہے۔ اصلاح تو اساتذہ کریں گے تاہم میرا مشورہ ہے کہ اسے مزید نکھاریں۔

تعقید اور بھرتی سے پاک کریں۔ خاص طور پر "اب"، یوں، ہی وغیرہ
بہت شکریہ ! حوصلہ افزائی کا!
اساتذہ کی رہنمائی کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہم سب۔۔!
بھرتی کے الفاظ کوشش کروں گی کہ نہ ہوں تاکہ موسیقی کی اصل فضاء پیدا ہو۔
 

نور وجدان

لائبریرین
رضا بھائی ایک گڑبڑ ہو گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وزن والے مضمون کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں ہے ۔ اب دیکھیئے ناں کسی نے ہماری نیم شاعرانہ کوشش کواصلاحی نُقطہ نظر سے دیکھا ہی نہیں :)
تو سیکھنے کا عمل کیسے ہو گا۔ آپ ہی بارش کا پہلا قطرہ بنیں :)

آپ کی شاعری و نثر دونوں اچھی ہے۔ایک جھلک تو میں نے آپ کی تحریر میں دیکھی ہے۔۔کچھ اس سے بڑھ کر ہمیں اپنے کلام سے مستفید کریں تاکہ ہم آپ کی صلاحیتوں کے جوہر دیکھیں۔۔۔۔
آپ تو کہتے ہیں کہ ہر چیز الہامی ہے پھر آخر ٹائمنگ کا سوال۔۔بڑے سائنسی بندے ہوگئے نا آپ!
 

آوازِ دوست

محفلین
آپ کی شاعری و نثر دونوں اچھی ہے۔ایک جھلک تو میں نے آپ کی تحریر میں دیکھی ہے۔۔کچھ اس سے بڑھ کر ہمیں اپنے کلام سے مستفید کریں تاکہ ہم آپ کی صلاحیتوں کے جوہر دیکھیں۔۔۔۔
آپ تو کہتے ہیں کہ ہر چیز الہامی ہے پھر آخر ٹائمنگ کا سوال۔۔بڑے سائنسی بندے ہوگئے نا آپ!
کوشش کی تھی آج کہ شاعرانہ طرز کا کوئی دفینہ مِل سکے مگر تاحال تو کُچھ برآمد نہ ہو سکا مگر کوشش جاری ہے :) آپ کی تعریف کا شُکریہ لیکن بین السطور یہ بات بھی سامنے آئی کہ معاملہ ابھی جھلک تک ہی پہنچا ہے چھلک تک نہیں :)
 

نور وجدان

لائبریرین
کوشش کی تھی آج کہ شاعرانہ طرز کا کوئی دفینہ مِل سکے مگر تاحال تو کُچھ برآمد نہ ہو سکا مگر کوشش جاری ہے :) آپ کی تعریف کا شُکریہ لیکن بین السطور یہ بات بھی سامنے آئی کہ معاملہ ابھی جھلک تک ہی پہنچا ہے چھلک تک نہیں :)

بین السطور کی باتیں تو سر سے گزر جاتی ہیں ۔ جانے کیا لفظ تھے جو چھلک اور جھلک کے درمیان ہیں ۔۔۔

دفینہ مل گیا۔۔ :)
 

ابن رضا

لائبریرین
بین السطور کی باتیں تو سر سے گزر جاتی ہیں ۔ جانے کیا لفظ تھے جو چھلک اور جھلک کے درمیان ہیں ۔۔۔

دفینہ مل گیا۔۔ :)
موصوف کی "جھلک" سے مراد یہ ہے کہ ابھی پہلی جھلک دیکھی ہے گویا شروعات کے مراحل میں ہیں اور "چھلک " سے مراد یہ کہ پیمانہ ابھی لبریز نہیں ہوا یا ذوق کی تسکین ابھی آخری مرحلے پر نہیں پہنچی
 

نور وجدان

لائبریرین
موصوف کی "جھلک" سے مراد یہ ہے کہ ابھی پہلی جھلک دیکھی ہے گویا شروعات کے مراحل میں ہیں اور "چھلک " سے مراد یہ کہ پیمانہ ابھی لبریز نہیں ہوا یا ذوق کی تسکین ابھی آخری مرحلے پر نہیں پہنچی
شکریہ محترم بتانے کا۔۔
 

الف عین

لائبریرین
غزل میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ روانی کی سخت کمی ہے۔ حیر مردف غزلوں میں ویسے بھی توانی کی کمی زیادہ ہی کھٹکتی ہے، لیکن نحض اس مصرع کو لیں۔

لفظ میرے پھیلے خوشبو کے ہیں جیسے

اس سے کیا یہ مراد ہے
میرے لفظ خوشبو کے جیسے (خوشبو کی طرح) “ھیلے ہیں÷
یا
خوشبو کے لفظ پھیلے ہیں۔۔۔۔۔۔
پہلی صورت ہی درست ہے لیکن الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتا۔
لفظ پھیلے ہیں مرے خوشبو کے جیسے

میں وہی بات نثر کے قریب اور بہتر روانی کا حامل مصرع ہے۔
وہی آسی بھائی کی بات کہوں گا کہ کچھ وقت اپنے اشعار کے ساتھ گزاریں
 

نور وجدان

لائبریرین
غزل میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ روانی کی سخت کمی ہے۔ حیر مردف غزلوں میں ویسے بھی توانی کی کمی زیادہ ہی کھٹکتی ہے، لیکن نحض اس مصرع کو لیں۔

لفظ میرے پھیلے خوشبو کے ہیں جیسے

اس سے کیا یہ مراد ہے
میرے لفظ خوشبو کے جیسے (خوشبو کی طرح) “ھیلے ہیں÷
یا
خوشبو کے لفظ پھیلے ہیں۔۔۔۔۔۔
پہلی صورت ہی درست ہے لیکن الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتا۔
لفظ پھیلے ہیں مرے خوشبو کے جیسے

میں وہی بات نثر کے قریب اور بہتر روانی کا حامل مصرع ہے۔
وہی آسی بھائی کی بات کہوں گا کہ کچھ وقت اپنے اشعار کے ساتھ گزاریں
میری مراد پہلی صورت ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس کو بہتر کرے نثر کے قریب کرتی ہوں۔۔۔ بجا بات کہی وقت کی۔۔ شکریہ محترم الف عین
 
Top