اسکین دستیاب جادہ تسخیر

محب علوی نے 'اردو نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 18, 2020

  1. شعیب گناترا

    شعیب گناترا لائبریرین

    مراسلے:
    328
    ریختہ صفحہ ۱۰۱ کتابی صفحہ ۱۰۳

    لگے ۔ برچھوں طرارے بھر بھر کر اترنے لگے۔

    ہر شاہ سوار نے باگ کا پودھا روک کر راہ وار کی گردن پر ہاتھ مارا: ”بس، بیٹا، بس۔“ یہ کہہ کر چمکارا۔ شاہ زاده عالی قدر نے کہا: ”صاحبوں، نمازیں پڑھ لو۔ پھر سیر و شکار میں مشغول ہو۔“ یہ سنتے ہی سوار اپنے اپنے گھوڑوں سے اترے اور زمین پر زین پوش بچھائے۔ خدمت گار شاه زادے کا بھی مصلیٰ لے کر آئے۔ سب نے آبِ جاری سے وضو کیا اور بہ کمال تفریح فریضۂ سحری بجا لائے۔ تسبیحیں پڑھیں، سجده آخر کیا، سوار ہوئے اور گھوڑوں کو پوقدمے پر رکھ لیا۔ ناگاہ، ، ایک ہرن، جس کا معشوق کا برن، سنگوٹیاں سونے سے منڈھی۔ مخملی کار چوبی جھول پڑی، چوکڑی بھرتا ہوا سامنے کچھ دور پر نظر آیا۔ شاہ زادہ، دیکھتے ہی بے اختیار ہو گیا اور بے ساختہ یہ کلمہ زبان پر لایا: ”شاید یہ آہو کسی شوقین کا پالا ہوا ہے۔ غفلت میں چھوٹ کر یہاں آ گیا ہے ل۔ خبردار، نہ اسے کوئی تیر مارے، نہ گولی لگائے، نہ کوئی شخص اس کے پاس جائے۔ میں اپنے ہاتھوں سے اسے گرفتار کروں گا اور جناب عالیہ کو جا کر دوں گا۔“

    رفیق تو سب نا تجربہ کار تھے۔ نہ اس اسرار کو خود سمجھے نہ سمجھایا۔ شاہ زادے نے گھوڑے کو قدم قدم بڑھایا۔ قریب جا کر چاہتا تھا، حلقہ کمان کا گردن میں ڈال دے کہ ہرن نے چوکڑی بھری۔ ساتھ ہی اس نے بھی گھوڑا اڑایا مگر کیا ہوتا ہے؟ یہ راہ وار، وہ پری۔ دو چار ہی جست میں رمنے سے باہر تھا۔ غرض لگا کر لے چلا۔ طرفتہ العین میں صید و صیاد دونوں آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ رفیق گھبرا کر تعاقب میں دوڑے۔ لیکن یہ وہ اسرار نہ تھا، جس کا پتا ملتا۔ ہر چند خاک اڑائی مگر دونوں کی ہوا بھی نہ پائی۔ وزیر زادہ قمر طلعت اور عیار سبک سیر نے منہ نہ موڑا یعنی تلاش اور تجسّس کے جادے کو نہ چھوڑا۔ چرخِ تفرقہ انداز کا وار چل گیا۔ یہ دونوں اور طرف نکل گئے، شاہ زادہ اور طرف نکل گیا۔ باقی ماندہ سب اپنی اپنی جگہ پر حیران تھے۔ آخر سرگرداں ہو کر جہاں سے بڑھے تھے اسی مقام پر پھر گئے۔ تمام دن چشم بر راه رہے۔ کرب، انتظار اور اضطرار سے انواع، انواع طرح کے صدمے سہے۔ نہ شاہد مقصود کی صورت نظر آئی نہ کسی طرف سے کچھ خبر آئی۔ آفتاب مغرب میں پہنچا، دنیا تیره و تار ہوئی۔

    ریختہ صفحہ ۱۰۲ کتابی صفحہ ۱۰۴

    جدائی کی رات بال کھولے نمودار ہوئی۔ اشعار

    وہ شب تھی کہ ناگن بلا تھی کہ شام
    نہ تھا نور کا نام کو جس میں نام
    وہ بہیڑ وہ جنگل وہ آفت کی رات
    کہے تو کہ آئی قیامت کی رات
    شرر بار تھا اژدھائے فلک
    ستاروں پہ تھا نیشِ عقرب کا شک
    دیا بادِ صرصر نے سب کو فشار
    زمیں کی طرح ہِل گئے کوہسار
    ہوئے بُجھ کے خاموش شمع و چراغ
    گھٹے اہل ماتم پڑے دل میں داغ

    کسی نے فریاد کی، کسی نے گردشِ چرخ سے داد بے داد کی۔ کوئی بولا: ”کل باز پُرس کا دن ہے، اب عتابِ سلطانی سے بچنا غیر ممکن ہے۔ ہائے حضرت شاه زادے کو پوچھیں گے تو کیا جواب دیں گے۔ شرمنده و خفت زدہ ہو کر آنکھیں جھکالیں گے۔ آه آہ خورشید گوہر پوش کے مقدر میں تباہی تھی۔ ہماری قسمت میں رو سیاہی تھی۔ وائے تقدیر آسمان نے اچھی چال کی۔ افسوس صد افسوس جان بھی گئی۔ آبرو بھی گئی۔“ بعض بہ مقتضائے محبت درختوں سے سر ٹکراتے تھے اور آنکھوں سے خونِ دل بہاتے تھے۔ ”ہائے وہ آہو بڑا داغ دے گیا۔ خدا جانے شاہ زادے کو کدھر لگا کر لے گیا۔ ہے ہے ستم ہوا۔ ہے ہے خوشی میں غم ہوا۔ ہائے کیسی بلا میں گرفتار ہو گئے۔ ہے ہے شکار کھیلنے کیا آئے خود شکار ہو گئے۔“

    بس تمام رات یہی ماتم رہا۔ ہرشخص مبتلائے رنج و الم رہا۔ صبح ہوتے روتے پیٹتے شہر کو چلے مگر اس ہیئت سے کہ گریباں دریدہ ل، سر کھولے، چہروں پر خاک ملے جس طرح کسی بادشاہ کے جنازے کے ساتھ جلوسی فوج ہوتی ہے۔ اُس فوج کی یہ کیفیت تھی کہ ہر ایک دم بخود تھا۔ سکتے کا عالم تھا۔ تصویر کی صورت تھی۔ سواروں کے منہ اُترے، قربوس پر سر جھکے، آنسو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    209,640
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 102

    جدائی کی رات بال کھولے نمودار ہوئی۔ اشعار

    وہ شب تھی کہ ناگن بلا تھی کہ شام
    نہ تھا نور کا نام کو جس میں نام
    وہ بیہڑ وہ جنگل وہ آفت کی رات
    کہے تو کہ آئی قیامت کی رات
    شرر بار تھا اژدھائے فلک
    ستاروں پہ تھا نیش عقرب کا شک
    دیا باد صرصر نے سب کو فشار
    زمیں کی طرح ہِل گئے کوہسار
    ہوئے بجھ کے خاموش شمع و چراغ
    گھٹے اہل ماتم پڑے دل میں داغ

    کسی نے فریا کی، کسی نے گردش چرخ سے داد بے داد کی۔ کوئی بولا : "کل باز پُرس کا دن ہے، اب عتاب سلطانی سے بچنا غیر ممکن ہے۔ ہائے حضرت شاہ زادے کو پوچھیں گے تو کیا جواب دیں گے۔ شرمندہ خفت زدہ ہو کر آنکھٰن جھکا لیں گے۔ آہ آہ خورشید گوہر پوش کے مقدر میں تباہی تھی۔ ہماری قسمت میں رو سیاہی تھی۔ وائے تقدیر آسمان نے اچھی چال کی۔ افسوس صد افسوس جان بھی گئی۔ آبرو بھی گئی۔" بعض بہ مقتضائے محبت درختوں سے سر ٹکراتے تھے اور آنکھوں سے خون دل بہاتے تھے۔ "ہائے وہ آہو بڑا داغ دے گیا۔ خدا جانے شاہ زادے کو کدھر لگا لے گیا۔ ہے ہے ستم ہوا۔ ہے ہے خوشی میں غم ہوا۔ ہائے کیسی بلا میں گرفتار ہو گئے۔ ہے ہے شکار کھیلنے کیا آئے خود شکار ہو گئے۔"

    بس تمام رات یہی ماتم رہا۔ ہر شخص مبتلائے رنج و الم رہا۔ صبح ہوتے روتے پیٹتے شہر کو چلے مگر اس ہیئت سے کہ گریباں دریدہ، سر کھولے، چہروں پر خاک ملے جس طرح کسی بادشاہ کے جنازے کے ساتھ جلوسی فوج ہوتی ہے۔ اس فوج کی یہ کیفیت تھی کہ ہر ایک دم بخود تھا۔ سکتے کا عالم تھا۔ تصویر کی صورت تھی۔ سواروں کے منہ اُترے،، قربوس پر سر جھکے، آنسو

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 103

    رواں، نقیبوں کو نالہ وردِ زباں۔ ڈنکے والے چوب سے انگشت بدنداں۔ نجیبوں کی وردیاں سوگ کی نشانی ہے۔ بے سرو سامانی۔ دلیل پریشانی۔ نشان بردار درد مند شقے نشانوں کے بند۔ غرض خاک اڑاتے ماتمی باجا بجاتے داخل دار الامارت ہوئے۔ یہاں پادشاہ کو از روئے پرچہ معلوم ہو چکا تھا۔ عجب طرح کا حشر ہو رہا تھا۔ کیا شہری، کیا بازاری، جسے دیکھئے مصروف اشکباری، نوحہ و شیون ہر طرف، ہر گھر میں ماتم کی صف۔ صاحبات محل میں رقت کا جوش و خروش۔ بادشاہ سکوت کے عالم میں خاموش۔ دستور المعظم جدا روتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے لیے جان کھوتا تھا۔ سوار، شتر سوار، ہر کارے چاروں طرف گئے ہوئے تھے۔ ایک ایک منتظر تھا کہ الٰہی کسی جانب سے تو کچھ خبر آئے۔ آخر سب ٹاپ ٹاپ کر پھر آئے۔ روتے گئے۔ مصیبت کی خبر لائے

    بادشاہ کو جب ہر طرف سے یاس ہوئی۔ سلطنت اور ملک داری ترک کی۔ گوشہ گیر ہوا یعنی فقیر ہوا۔ انتظام ملک وزیروں پر محول رہا۔ سچ ہے جب وارث تخت و تاج نہ ہو پھر سلطنت کا کیا مزہ۔ یہاں تو یہ صورت ہوئی، اب سنیے کہ شاہ زادے پر کیا گزری۔ جاتے جاتے وہ آہو نظروں سے پوشیدہ ہو گیا۔ اس وقت اس کی آنکھیں کھلیں اور ہوش ہوا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک جنگل سنسان ہے۔ نہ بوئے عمرانات نہ آبادی کا نشان ہے۔ کوسوں تک سناٹا ہے۔ نہ کہٰں چرند ہے نہ پرند کا نام ہے۔ ہر طرف سے سائیں سائیں کی آواز آ رہی ہے۔ عجب ہو کا مقام ہے۔ گل بوٹے کو کیا ذکر خار و خس بھی نایاب۔ سائے کے بدلے دھوپ ہے، پانی کے عوض سراب ہے۔آفتاب بلائے سر ہے۔ ٹھیک دوپہر ہے ، دھوپ آفت کی، گرمی قیامت کی، لُو چل رہی ہے۔ زمین مثل چنبر رنگ بدل رہی ہے۔ سنگ ریزے انگارے ہیں۔ ذرے شرارے ہیں۔ آسمان صاعقہ بار اور ہوا آتش بار ہے۔ یہ خاک اُڑ رہی ہے کہ زمانہ دھواں دھار ہے۔ کپڑے بدن پر وبال ہیں۔ سلاح مثل آہن حداد لال ہیں۔ جھونکا بات سموم کا آگ لگائے دیتا ہے۔ زمین اس قدر گرم ہے کہ گھوڑا نعل در آتش ہے۔ ہر بار ٹاپ اُٹھا لیتا ہے۔

    شاہ زادہ یہ عالم دیکھ کر نہایت گھبرایا، حواس اُڑ گئے۔ کلیجہ منہ کو آیا۔ گرمی سے زہرہ آب آب ہوا۔ شدت حرارت سے بے تاب ہوا۔ پیاس کے مارے زبان میں کانٹے پڑ گئے۔

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 104

    رنگ متغیر ہوا، تیور بگڑ گئے۔ ہر بُن مُو سے پسینہ جاری ہوا۔ غش طاری ہوا۔ پانی کی جستجو میں گھوڑا اٹھایا۔ کبھی اُدھر گیا کبھی اِدھر آیا۔

    رفتن شاہ زادہ بہ گلشن جنت نظری و ملاقات نمودن با پیر روشن ضمیر و حست دستوری درویش طریقت کیش دوبارہ فرمودن سیر باغ و باوجود امتناع شاہ حقیقت آگاہ رسیدن بہ بارہ دری و عاشق شدن برتمثال رشک پری و بیرون آمدن از آں بادلِ ریش ریش و خاطر داغ داغ

    زہے بزم دلچسپ پیر مغاں
    پرستان میں یہ تکلف کہاں

    نہ جلوے حقیقت میں ہین یاد گار
    یہ دلکش مُرقع یہ نقش و نگار
    لگائیں ہیں آنکھیں نظر باز سب
    پری ہے کہ شیشے میں بنت العنب
    پیالہ ہے یا چشم مخمور ہے
    صراحی ہے یا گردن حور ہے
    عجب حسن و صورت کی تاثیر ہے
    خوشا لطف جو شے ہے تصویر ہے
    مگر نقش ارژنگ ایجاد کے
    مرقع ہیں مانی و بہزاد ے
    وہ ساقی کے غمزے وہ عشوے وہ ناز
    وہ رندوں کی چشمک وہ شازش وہ ساز
    کسی کو نہیں فکر نیکی بدی
    زہے ہوشیاری زہے بے خودی

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 105

    ہوا ہے جو حسرت کدے میں گزر
    مجھے بھی یہ مشرب ہے مدنظر
    تمنا ہے اس دور میں جام کی
    کہ پروا نہ ہو ننگ اور نام کی
    بنوں رند مشرب قدح نوش ہوں
    رہوں ہوش میں یا کہ بے ہوش ہوں
    ذرا چشم انصاف ساقی ادھر
    کہ بے خود ہوں یہ صورتیں دیکھ کر
    نہ بت بن اب اے حُسن کے سرغنا
    خدا کے لیے اپنا بندہ بنا

    مصوران صورت کدہ انشاء پردازی، نقاشان نگار خانۂ سخن طرازی، چہرہ پردازان شبیہ خوش مقالی، رنگ برمو طرازان تصویر نازک خیالی، صورت گران ارژنگ تقریر، رنگ آمیزان مرقع تحریر، رنگ و روغن افسانۂ نیرنگ نگار کو اس صورت سے چہرۂ بیان پر لگاتے ہیں۔ ناگاہ چار دیواری ایک باغ کی نظر آئی۔ دیکھتے ہی جان میں جان آئی۔ روح نے تسکین پائی۔ پھولوں کی مہک دماغ کو بسانے لگی۔ گرمی میں ٹھنڈی ٹھنڈی بہشت کی ہوا آنے لگی۔ قریب جا کر اور لطف اٹھایا، دروازوں کو مانند دیدہ مشتاق کے کھلا پایا۔ گھوڑے سے اتر کر اس بوستان جنت نشان میں داخل ہوا اور نگاہ غور سے ہر طرف دیکھا۔ سبحان اللہ، عجب بہار تھی۔ عجب رنگ تھا۔ باغ تھا یا نگارستان ارژنگ تھا۔ پھول پتے نقش دلپذیر، گل بوٹا تصویر بیل پڑی پرکار سے نپی ہوئی۔ وہ سرخی کا خط، وہ سبزے کی نازک تحریر دی ہوئی۔

    چمن مُرقع باغ و بہار، نہال سایہ دار، سرو شمشاد باقامت دل جو، سر مُکھ اور دو بدو۔ گلاب کے ورقوں کی شبیہیں لاثانی، سنبل مُو قلم بہزاد و مانی۔ وہ سوسن کا رنگ لاجوردی، وہ لالے کی سرخی اور سیاہی۔ وہ دیندے کی زردی۔ چاندنی کا سفیدہ تمام باغ پر حاوی۔ گُل بیضا کی ہر ورق پر تفسیر بیضاوی۔ نیلوفر آبی، سورج مُکھی آفتابی۔ وہ کلغے کی بے رُخی، وہ نرگس کی چشم نیم باز، وہ شبو کی لجائی صورت، وہ کیتکی کا انداز۔ وہ گلوں کا رنگ بدلنا، وہ باد صبا کا روغن

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 106

    قاز ملنا۔ بیلے چنبیلی کی بھینی بھینی خوشبو، شاعروں کی نازک خیال بڑھانے والی، دار بست کی تاک سیاہ قلم کی یاد دلوانے والی۔ وہ انگریزی پھولوں کا نیا رنگ، نرالا ڈھنگ، کوئی شوخ رنگ، کوئی نیم رنگ۔ طاؤس طناز، بلبلیں زمزہ پرداز، گلوں کے عکس سے آب جُو کی دونی بہار۔ ہر طرف پیرایہ گلشن، ہر سمت سر جوشی لالہ زار۔

    یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی مصور نے خدائی کا دم مارا ہے۔ آئینہ طلسم پر بہشت کا چربہ اتارا ہے اور گرد باغ کے گنگا جمنی چار دیواری جس میں جواہر کی مرصع کاری۔ چاروں کونوں پر چار برج یشب کافوری کے وہ بے ڈلک کہ جن پر نگاہ پھسل جائے۔ ان کی چمک دمک دیکھ کر آفتاب آنکھ چرائے۔ وسط سحن میں الماس کی بارہ دری نور و تجلی سے بھری۔ دروں میں کاشانی مخمل کے زردوزی پردے پڑے۔ عیاذاً باللہ سراپردۂ عرش سے بھی چر ہاتھ بڑے۔ وہ سلطانی بانات کا سائبان جس پر چرخ اطلس کا گمان۔ چبوترے پر نمگیرہ مغرق بصد آب و تاب۔ بجائے خود آفتاب اور چوبیں سونے کی شعاع آفتاب۔ اس میں جھالر موتیوں کی۔ وہ ناباب جسے دیکھ کر ابر نیساں آب آب۔ سامنے ایک حوض پکھراج کا چشمہ، خورشید کا ضواب بلکہ چشمۂ خورشید کو بھی اس سے حجاب۔ وہ لعل رمانی کی پٹریاں۔ وہ یاقوت احمر کی لب گردان، وہ نگھرا ہوا پانی جس میں لطافت آب زندگانی۔ صفائی کا یہ حال کہ منہ نظر آئے۔ ہزار تہہ کی بات ہو مگر کھل جائے۔ وہ سطح آب نہ تھا صانع نے اپنے کمال کا اظہار کیا تھا۔

    اس حوض میں جو پٹریاں جواہر کی پڑی تھیں تو آئینہ جواہر بین لگا دیا تھا۔ فوارے چھوٹ رہے تھے۔ دیکھنے والے مزے لوٹ رہے تھے۔ از بسکہ چار طرف جوش لالہ و ریحان تھا۔ حوض بھی وہ بہار دیکھ کر اوصاف میں تر زبان تھا۔ تحریک ہوا سے جو نہالوں کو جھومتا پایا پانی بھی بے ساختہ وجد میں آیا۔ ہر چند شہزادے نے جس دن سے آنکھ کھولی تھی۔ ہزارہا مکان شاہانہ دیکھ چکا تھا مگر اس عمارت لاجواب کو دیکھ کر بھچک رہ گیا۔ عقل دنگ ہو گئی۔ بھوک پیاس جاتی رہی۔ ناگاہ بُرج مغرب سے ایک صدائے جاں فزا آئی جس کے سننے سے روح بے چین ہو گئی۔ کان لگا کر جو سُنا تو معلوم ہوا کہ کوئی شخص بہ لحن داؤدی قرآن پڑھ رہا ہے۔ آواز کیا ہے؟ اعجاز ہے۔ قرأت کیا؟ قدرت خدا ہے۔ عجب وقت ہے، عجب ہوا ہے۔ تمام باغ گونج رہا ہے۔ بے اختیار دل اس صاحب دل کا اس آواز پر کھینچا۔ بے تابانہ زینے کی راہ سے

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 107

    برج پر پہنچا۔ دیکھا کہ ایک پیر مرد، روش دل، باروئے نورانی بسان سلیمانی پر بیٹھا بہ مصداق افضل قرأت القرآن نظراً تلاوت میں مشغول ہے۔ توجہ خاطر شاہد رجوع قلب قرأت و فصاحت گواہ حسن قبول ہے۔ ہر آیہ پر وقف تہلیل ہے۔ ہر منزل پر توحید کا دم بھر رہا ہے۔ قرآن کیا پڑھتا ہے گویا خدا سے باتیں کر رہا ہے۔ صورت سے رعب و جلال پیدا ہے۔ چشم و ابرو سے عظمت و شوکت ہویدا ہے۔ سامنے مصحف یزداں، بالائے سر ایک خادم مہذب مگس راں۔ شاہزادہ وہ لب و لہجہ دیکھ کر متحیر ہوا۔ بہ عالم محویت جہاں پہنچا تھا وہیں رہ گیا۔ پیر مرد نے جب تلاوت سے فرصت پائی اس کی طرف آنکھ اٹھائی۔ اس نے تسلیم کی اس کو دعا دی، کہا آئیے تشریف لائیے۔" میزبان نے مہمان کو اپنے پاس بُلایا اور بہ کمال تکریم پیش آیا۔ ازراہ کشف سرگزت کے پتے دیے، اسرار نادیدہ بیان کیے۔ نہایت تشفی کی، بہت سے تسلی دی۔ اس تقویت سے شاہ زادے کی خاطر پریشان جمع ہوئی۔ تعریف و توصیف میں اس بزرگ کے زبان کھولی۔ شاہ صاحب نے خادم سے اشارہ کیا۔ اس رمز شناس نے طعام بہشت لا کر دسترخوان پر چُن دیا۔ درویش حقیقت کیش نے کہا : "بابا، فقیر محتاج شکستہ خاطر ہے۔ تکلف برطرف، ماحضر حاضر ہے۔" شاہ زادے نے گردن جھکائی اور وہ نعمت غیر مترقبہ نوش کی۔ غرض کھانا کھایا، پانی پیا اور شکر خداوند عالم کیا۔ پیر مرد نے کہا : "اگر کسل راہ سے طبیعت سست ہو تو آرام فرمائیے۔ نہیں جا کر گل گشت باغ کیجیے، دل بہلائیے۔ جس جگہ کی چاہیے سیر کیجیے۔ اختیار ہے لیکن ایک مقام پر کچھ اسرار ہے یعنی بارہ دری کا پردہ نہ اٹھائیے گا وہاں تشریف نہ لے جائیے گا۔ؔ شاہ زادہ تو مشتاق سیر تھا اس ارشاد کو تسلیم کیا اور برج کے نیچے اترا۔ اشعار :

    دوبارہ جو کی بوستاں پر نظر
    ہوا اور ہی کچھ سماں جلوہ گر
    تمازت میں گل گشت گلشن بخیر
    مثل ہے کہ ہے دن ڈھلے لطف سیر
    وہ سرخی شفق کی گلوں کی بہار
    فلک لالہ گوں اور زمیں لالہ زار

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 108

    وہ سبزہ فدا جس پہ بال ہما
    خوش آئند گل آب جُو خوش نما
    کہیں بلبلوں کے ترانوں کی دھوم
    کہیں طائران چمن کا ہجوم
    نہ سردی، نہ گرمی، نہ سایہ، نہ دھوپ
    درختوں پہ جوبن نہالوں پہ روپ
    وہ چلنا ہوا کا زیادہ نہ کم
    چٹکنا شگوفوں کا وہ دم بہ دم
    کہیں مائل رقص طاؤس مست
    کسی جا گل و لالہ ساغر بہ دست
    وہ سامان تھا یادگار بہشت
    حضور نظڑ تھی بہار بہشت
    اور اک سمت بارہ دری کی وہ شان
    پرستاں کا ہوتا تھا جس پر گمان
    حقیقت تو یہ ہے وہ بارہ دری
    اکھاڑے کے اندر کی تصویر تھی

    المختصر دن سیر اور تماشے میں تمام ہوا۔ وقت شام ہوا۔ سارے باغ میں خود بخود روشنی ہو گئی۔ گل چاند بن گئے۔ ہر طرف چاندنی ہو گئی۔ مہندی کی ٹٹیاں روشنی کی ٹٹیاں بن گئیں۔ پھولوں نے ستاروں سے چشمکیں کیں۔ شاہ زادے نے دل میں کہا : "یہ طرفہ عجائبات ہے۔ اللہ اللہ کیا دن تھا، کیا رات ہے! سبزہ سورج کی کرن ہے۔ ہر شجر شجرۂ وادی ایمن، خوشے انگور کے عقد پروین، سر و شمشاد فانوس زمردیں، کانٹے ہلال، شگوفے ماہ باکمال۔ پتیاں جگنو کی طرح چکمتی ہیں۔ بجلی کوندتی ہے یا ڈالیاں لچکتی ہیں۔ نہر کے گرد عجب تجلی کا سماں ہے۔ آئینے میں باغ کھلا ہے۔ پانی میں چراغاں ہے۔ حباب، قمقمے، موجیں شمع طور، زمین سے آسمان تک نور علی نور۔ شام پر صبح کو گمان ہے۔ شب برات کی آرائش، نوروز کا سامان

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 109

    ہے۔ طائر آشیانوں سے باہر نکلے آتے ہیں۔ مُرغ سحر چہچہاتے ہیں۔ خورشید گوہر پوش یہ سیر دیکھتا قریب بارہ داری کے پہنچا۔ وہاں سب سے زیادہ تکلف تھا۔ ہر چند پردے پڑے تھے مگر مضمون درپردہ سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ وہ پردے آنکھوں کے پردے تھےیا دیدۂ اہل بصیرت یا آئینۂ تصویر کہ حجاب ان کا حاجب نگاہ نہ تھا۔

    بس حکم شاہ صاحب کے اور کوئی سد راہ نہ تھا۔ نمائش کا عجب قرینہ تھا۔ تمام حال آئینہ تھا۔ بارہ دری دلہن تھی۔ وہ حجاب گھونگھٹ تھا۔ دیکھنے والوں کا دل اُلٹ پلٹ تھا نقاب یوسفی سے نور طلعت نمودار تھا یا مراقبۂ ارباب کشف سے جلوۂ اسرار تھا۔ وہ شیشہ آلات کا نور، وہ تجلیوں کا ظہور۔ وہ روشنی سہانی، وہ آرائش شہانی۔ سب پر طرہ یہ کہ پریوں کا مجمع، سجیلی صورتوں کو مرقع۔ شاہ زادہ یہ کیفیت دیکھ کر بے خود ہو گیا۔ مطلق شاہ صاحب کی ممانعت کا خیال نہ رہا۔ بے تکلف حجاب اٹھا دیا۔ بالمشافہ جا کر ان صورتوں کا نظارہ کیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ حسینیں نازنینیں جھرمٹ کیے کھڑی ہیں۔ اللہ رے حسن کہ نگاہیں قدسیوں کی لڑی ہیں مگر ایک عالم حیرت ہے۔ ہر شخص تصویر کی صورت ہے۔ نہ کوئی اپنی جگہ سے سرکتی ہے نہ کسی کی پلک جھپکتی ہے۔ بیچ میں ایک نوجوان سارے مرقع کی جان، عجب شان عکھا رہی ہے۔ غیر کا ذکر کیا ذکر، ہن جنسوں کو دیوانہ بنا رہی ہے۔ حُسن اس لعبت دلفریب کس سب پر بالا ہے۔ وہ چاند ہے اور دور سہیلیوں کا ہالہ ہے۔ وہ بھولا بھولا مُکھڑا وہ پیاری پیاری صورت، وہ آئینۂ رخسار بے زنگ و بے کدورت۔ سادگی میں لاکھ طرح کے بناؤ۔ خود داری میں ہزار طرح کا برتاؤ۔ خاموشی میں گویائی کا انداز۔ لب سرمایہ اعجاز، آنکھیں سحر ساز، خندۂ زیر لب سے تبسم پیدا۔ سکوت سے تکلم ہویدا۔ وہ گدرایا بدن، وہ اُبھرا ہوا جوبن۔ حور کی صورت۔ پری کا پیرایہ۔ بتوں کی طرح حُسن خدا داد حصے میں آیا۔ سر سے پاؤں تک سب عضو سانچے میں ڈھلے۔ قیامت کی کیا مجال کہ اس قامت سے بڑھ چلے۔

    شاہ زادہ یہ عجائبات دیکھ کر حیران ہوا۔ نہایت پریشان ہوا۔ کہا : "الٰہی یہ کیا ایجاد ہے؟ یہ بُت ہیں یا پری زاد ہیں؟ یہ قالب عجب قالب ہیں۔ خدا جانے مطلوب ہیں یا طالب؟ ظاہر ہیں چپ، باطن میں گویا، مجاز کی پتلیاں، حقیقت کی جویا۔ یہ سب سرمست مادۂ سر جوش ہیں۔ سخت حیرت ہے کس وجہ سے خاموش ہیں۔ اس میں کچھ نہ کچھ اسرار ہے۔ شاید انہیں کسی

    جادہ تسخیر ریختہ صفحہ 110

    کا انتظار ہے۔ دیکھوں کون آتا ہے؟ مقدر اب اور کیا دکھاتا ہے؟" غرض دیر تک سکوت کے عالم میں کھڑا رہا۔ ورطۂ حیرت میں پڑا رہا لیکن باوجود ایں انتظر بے حد صدائے برنخواست و ندائے برنآمد۔ بالآخر دل کو ٹھہرایا اور قدم جرأت بڑھایا۔ قریب جا کر بے اختیار اس صدر محفل کے منہ پر منہ رکھ دیا اور غور سے ملاحظہ کیا۔ اب دیکھا تو معلوم ہوا کہ نہ پری زاد ہے نہ بنی آدم ہے۔ صنم کدۂ آصفی ایک رعنا صنم ہے مگر دل سے آواز آئی کہ "یہ نقل دراصل وجیہ ہے۔ بے شبہ یہ کسی کی شبیہ ہے اور اس اسی جلے کی نظیر ہیں۔ یہ اس کی ہم جلیسوں کی تصویریں ہیں۔ واللہ یعلم یہ اس باغ کی مالک و مختار ہے۔ قاف کی تاج دار ہے۔" مگر تنہائی میں کسی سے استفسار کرتا۔ کون تھا کہ راز نہفتہ کا اظہار کرتا۔ اسی وارفتگی کے عالم میں اس صورت ناآشنا اور معنی آشنا کی طرف متوجہ ہوا۔ گردن میں ہاتھ ڈال کر، لب پر لب اور سینے پر سینہ رکھ کر کہا۔ "اے جان جاں، اے غارت گر دین و ایمان، اے تاب و توان عاشق رنجور، اے صبر و قرار دل ناصبور، کچھ اپنا حال کہہ۔ قریب ہے کہ دم میرے گھٹ کر نکل جائے۔ خدا کے لیے چُپ نہ رہ۔ للہ دل سے دل ملا، زبان سے زبان لڑا، آنکھ سے آنکھ چار کر۔ ارے ظالم جس طرحمیں تجھے پیار کر رہا ہوں تو مجھے بھی پیار کر۔" کبھی اسی حالت میں منہ پر منہ رکھ کر پکارتا تھا، کبھی ان سخت سخت چھاتیوں پر ہاتھ پھیر کر اپنے سینے پر ہاتھ مارتا تھا۔ غرض دل ہی دل میں بوس و کنار کے مزے اٹھاتا تھا۔ بے نشۂ شراب جوش مستی سے بے چین ہوا جاتا تھا۔ کبھی دم سرد بھرتا تھا، کبھی یہ شعر پڑھ کر منتیں کرتا تھا۔

    چپ ہو کیوں کچھ منہ سے فرماؤ خدا کے واسطے
    آدمی سے بُت نہ بن جاؤ خدا کے واسطے
    پاس رسوائی کا دونوں جانبوں سے شرط ہے
    میں تمہیں تم مجھ کو سسمجھاؤ خدا کے واسطے

    مگر وہ سنگ دل کب زبان کھولتی تھی۔ سب کچھ سنتی تھی مگر منہ سے نہ بولتی تھی۔ صورت سے لگاوٹ کا اظہار تھا، ہر بات پر اس شعر کا شعار تھا۔ بیت :

    بفکرم ہیچ مضمون بہ ز لب بسگن نمی آید
    خموشی معنۓ دارد کہ در گفتن نمی آید
     
  3. محمد عبدالرؤف

    محمد عبدالرؤف لائبریرین

    مراسلے:
    1,054
    صفحہ نمبر 141


    کے محوِ حیرت۔ مشاہدہ حسن و جمال نے عجب تماشا دیکھایا۔ معشوق میں عاشق اور عاشق میں معشوق نظر آیا۔ گھاتیں اُلفت محبت کی دلوں میں ٹھن گئیں۔ آنکھوں میں باتیں ہوئیں۔ پلکیں زبانیں بن گئیں۔ اللہ اللہ زہے تقابل کی صنعت۔ اسے مدہوشی، اُسے بے خودی، اسے سکتہ، اُسے حیرت۔ دونوں ہوالطالب ہوالمطلوب کا دم بھرنے لگے۔ اپنی اپنی آپ تعریف کرنے لگے۔ عاشق نے اشارے میں یہ شعر ادا کیا:

    اتحادیست میان من و تو

    من و تو نیست میان من و تو

    معشوق نے در پردہ یہ جواب دیا:

    من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی

    تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

    عاشق کی چشمک تھی۔ یہ قامت ہے یا شمشادِ معشوق کا عشوہ تھا۔ یہ بندہ ہے یا سروِ آزاد۔ معشوق کی ہنستی پیشانی میں بوستانِ مسرت کی شان۔ عاشق کی جبیں گلستان کے باب پنجم کا عنوان، اُس کی سر نوشتِ رنگین میں حسن کا افسانہ۔ اُس کے سر خطِ گلزار میں عبارتِ عاشقانہ۔ اُس کی چوٹی بنفشہ کا جواب۔ اُس کی زلفوں میں عشقِ پیچے کا پیچ و تاب۔ اِس کی شمیم غالیہ بیز، اُس کی ہوا وحشت انگیز۔ اس کا چہرہ ارغوانی اُس کا رنگ زعفرانی۔ اس کی بھنویں شاخِ بادام سے بہتر۔ اُس کے ابرو داغِ لالہِ احمر۔ اِس کی آنکھیں نرگسی، اُس کی گلابی۔ اس کی پلکیں نقاب دار، عروسِ چمن۔ اُس کے موئے مژہ آئینہ دارِ بہارِ نے حجابی۔ اس کی بینی شبو کی ہمنشین۔ رخسارے دونوں کے صحیفہ گلستانِ شب مگر یہ معرا، ان پر اعراب۔ ہونٹ گلبرگِ انتخاب لیکن وہ خشک یہ شاداب۔ اس کے لب پر پان کا لکھوٹا، مسّی کی دھڑی گویا باغ پر جھوم پڑی۔ اُس کے لب پر آہِ آتشیں سے بُت خالے، جیسے بُلبُل کے دل میں چھالے۔ اُس کے دندانِ آب دار اثر خندہ روئی سے شگوفہء گلزارِ ارم۔ اُس کے دانت تاثیرِ گریہء شب سے قطرہء شبنم۔ اس کا زنخدان مانند بہی کے دلفریب۔ اُس کے زنخدان ہم رنگ سیب۔ اِس کے کان گُلِ تر، اُس کے نیلوفر۔ اس کی بیاضِ گلو صبحِ بہار کی ہم دم۔ اُس کی صراحی گردن مثل شاخِ ثمردار پُر خم۔ اس نارِ پستان کا سینہ سطحہء باغ، وہ سینہء صاف مثل طاؤس، داغ


    صفحہ نمبر 142


    داغ۔ اس کی فندق حنا بندِ غنچہء نو دمیدہ اور ہاتھ گلدستہء حجلہء عروسی۔ اس کی انگلیاں فگار و خون آلودہ اور ہاتھ شاخِ نہالِ مایوسی۔ پیٹ اُس کا گل زمینِ حسن اور کُرتی پھولام کی گُلدام یاٹٹی شکار کی۔ اُس کا پیٹ روشِ گلزار عشق اور قبا پھولوں کی چادر مگر شہیدوں کا مزار کی۔ اِس کی ناف گُلِ کمر، رگِ گُل۔ اُس کی ناف چشمِ بلبل کمر تارِ سنبل۔ اس کی ساق سیمیں گلبن اور کفِ پائے نگاریں ناز نینانِ چمن سے مقابل۔ اُس کی ساق رکن رکینِ عہد و وثاق مگر پستیِ طالع سے پابہ گِل۔ ہنگام گلگشت طرفہ سیر، دیکھنے والوں کا حال غیر۔

    ہر طرف حیرت کا جوش۔ گُل دم بخود، بُلبُلیں خاموش۔ طاؤس چاہتے تھے کہ آ کر گرد پھریں۔ سرو اس ارادے میں کہ دوڑ کر قدموں پر گریں۔ نرگس چشمِ نیم باز سے ٹکٹکی لگائے۔ سوسن دہ زبان چُپ گردن جُھکائے۔ صبا راز دارِ چمن، برگِ گلستان دستک زن۔ اطفالِ غنچہ مُسکراتے تھے، نہال نہال ہوئے جاتے تھے۔ المختصر دیدو دید۔ عاشق و معشوق پر کیفیت عشق طاری ہوئی۔ محویت نے دونوں دلوں کو بے خبری کی خبر دی۔ اس کی نگاہ نے جادو کیا، اُس کی چشمِ مست نے متوالا بنا دیا۔ بے خودی نے اور ہی عالم دکھایا۔ یہ نڈھال ہوئی وہ لڑکھڑایا۔ ملکہ نے وزیر زادی کے کاندھے پر سر رکھ کر یہ مطلع سنایا: (شعر)

    "قابو نہ رہا دل پہ وہ صورت نظر آئی

    تقدیر کی گردش سے بلا جان پر آئی"

    شاہ زادہ جھوم جھوم کر یہ مقطع زبان پر لایا:

    "کیفیتِ چشم اُس کی مجھے یاس ہے سودا

    ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں"

    ملکہ کو تو وزیر زادی نے سنبھال لیا مگر شاہ زادے کو بے تابیء خاطر نے بے ہوش کر دیا۔ خنجرِ عشق کلیجے تک اُتر گیا۔ آخر زمین بوس ہو کر غش کر گیا۔ ملکہ نے وزیر زادی سے کہا:" یہ مسافر شکستہ خاطر، آفت کا مارا، وطن آوارہ، کیا جانے کدھر سے آ نکلا ہے۔ ہیہات، خدا کی ذات، نہ یارے نہ مددگارے، عجب پریشانی ہے۔ طرفہ بے سامانی ہے۔ غضب میں گرفتار، مصیبت میں مبتلا ہے۔ اس کی پریشانی میں بھی ایک شان ہے۔ معلوم ہوتا ہے کوئی عالی خاندان ہے۔ شاید اُس کے دل میں درد ہے کہ جب اُس کی شدت ہوتی ہے تو بے ہوش ہو


    صفحہ نمبر 143


    جاتا ہے۔ ہے ہے، بے کسی اور بے بسی کے عالم میں کیا سر دُھنتا ہے۔ کیا کیا پیچ و تاب کھاتا ہے؟ سچ ہے بشر مجبور ہے۔ خدا ترسی ضرور ہے۔ غریب پر رحم کھاؤ۔ خدا کے لیے اسے خاک سے اُٹھاؤ۔ گلاب کے چھینٹے، دو لخلخے سنگھاؤ۔" وزیر زادی اپنے ہتھکنڈوں سے کب باز آتی تھی۔ بگڑی صورت بنا کر گویا: "خوب مجھے کیا پڑی ہے جو غیر ذالک کے پاس جاؤں۔ کیا میرا باپ بھائی ہے جو بے تکلف ہاتھ لگاؤں۔ حضور، میں خدا ترسی سے باز آئی۔ لونڈی سنگدل ہی سہی" ملکہ نے کہا:"ہمیں ہے ہے کرے، ہماری بھتی کھائے جو اُسے جا کر نہ اُٹھائے۔" وزیر زادی تو دل میں سمجھ گئی تھی، ظاہر میں بات کو اُڑا کر قریب گئی اور زانو پر سر رکھ کے کان میں میں شاہ زادے کے چُپکے سے یہ بات کہی:" لیجیے ہوش میں آ جایئے۔ زیادہ غش نہ لایئے۔ معلوم ہوا کہ آپ بیمار ہیں، جان سے بیزار ہیں۔ خدا نے مراد دی، درد کی دوا ہو گئی۔ لو، آنکھیں کھولو، منہ سے بولو۔ اب کیوں غفلت کا پردہ پڑا ہے۔ مسیحا سر پر کھڑا ہے۔ "شاہ زادے نے چشمِ نیم باز سے دیکھ کر کہا:"زہے غریب پروری، خوشا مسافر نوازی۔ آپ نے دل افگاروں پر ترس کھایا۔ بے دیاروں کو بندہء احسان بنایا۔ بے نیاز اس کی جزا دے۔ اللہ اس کا صلہ عطا کرے۔" مجھ پر عنایت نہ کیجیے۔ وہ خود بدولت جو کھڑی اُن کے دعا دیجیے۔" یہ بولا:" میں کسی کو کیا جانوں۔ مجھ پر تو حضور نے لطف فرمایا۔ میں نے تو آپ کے زانوں پر اپنے سر کو پایا۔ "وزیر زادی نے جھیپ کر اپنا گھٹنا ہٹا لیا اور تیکھی ہو کر جواب دیا "معقول، چہ خوش چرانباشد۔ جی، میں آپ پر فریفتہ ہوں۔ سلامتی سے اس صورت پر شیفتہ۔ میری شامت جو میں نے کسی کے کہنے پر عمل کیا۔ پہلے سوچ سمجھ نہ لیا۔" اُس نے کہا: "آپ خفا نہ ہوں۔ میں نے بُرا کیا جو حضور کا شکریہ ادا کیا۔ بندے نے تو نیاز مندانہ ایک بات کہی۔ اچھا آپ خدا ترس نہ سہی، وہ سہی۔ خیر اب اتنا کیجیے کہ مجھے اُن کے قدموں پر لے جا کر گرا دیجیے۔ میں اُن کا طواف کروں۔ اُن کے احسان کا دم بھروں۔ "وہ بولی: " لو اور مزے میں آئے، زیادہ اترائے۔ میری عزت سوا ہوئی۔ متوسطی کی خدمت عطا ہوئی۔ بس ٹھنڈے ٹھنڈے تشریف لے جایئے۔ کوئی دلالہ ڈھونڈ کر لایئے۔ ہے ہے، کیا ننھے نادان ہیں، بڑے بھولے، بڑے انجان ہیں۔ ان کے پاؤں میں تو مہندی لگی ہے۔ میں اپنی گود میں اُٹھا کر لے جاؤں اور زبردستی کسی کے قدموں پہ گراؤں۔ " شاہ زادے نی کہا: " تقصیر معاف،


    صفحہ نمبر 144


    آپ تو ہوا سے لڑتی ہیں۔ بات بات پر بگڑتی ہیں۔ بہت خوب، میں آپ جاتا ہوں اور شرط کی بجا لاتا ہوں۔ "یہ کہہ کر ملکہ کے قریب گیا اور قدموں پر گرنے کا ارادہ کیا۔ ان کا جُھکنا تھا کہ ملکہ نے سر ہاتھوں میں لے کر کہا: "ہاں ہاں، ارے صاحب، تم کون ہو؟ کچھ خیر ہے؟ کیسا شکریہ؟ کیا احسان؟ طرفہ سیر ہے۔" بھلا اوشتاہ، رہ جا، اچھی دل لگی ذہن میں آئی۔ اپنی بلا میرے سر لگائی۔ یہ بے چارہ تو عقل سے معذور ہے۔ کیا تیرے دماغ میں بھی فتور ہے؟ اس ہنسی میں آبرو کا نقصان ہے۔ ارے دیوانی، کچھ اپنے بیگانے کا دھیان ہے۔ چل ادھر آ، اس غریب کو کسی مقامِ محفوظ میں لے جا۔ ایسا نہ ہو کوئی خفیہ نویس لکھ دے اور یہ مسافر مصیبت میں پھنسے۔ خدا جانے یہ بلائے نا گہانی کہاں سے آئی اور کس نے راہ بتائی۔ دن دیہاڑے تو مناسب نہیں۔ رات کو کسی تدبیر سے نکال دینا اور اگر کوئی شُد بُد پا کر کچھ پوچھے تو باتوں میں اڑا کر ٹال دینا۔ " وزیرزادی نے کہا:" یہ بھی خدا کا دیا سر پر چلو۔ میاں مسافر، چلو، تم چھاتی کا پتھر ہو گئے۔ ہٹو سرکو، بڑھو، آگے ہو۔ یہ ڈھیلا کہاں سے آ گرا۔ سارا لطف سارا مزا خاک میں مل گیا۔ "ملکہ نے کہا: "اری بد زبان، اشراف کو پہچان۔ یہ شخص اپنے دل میں کہے گا، کن شفتلوں سے سابقہ ہوا۔ جنہیں بات کرنے کا سلیقہ نہیں۔ کوئی انسانیت کا طریقہ نہیں۔ "وہ بولی: "بجا ہے۔ مجھ پر بھی میاں مجنوں کی پرچھائیں پڑی ہیں۔ میری بھی خدا نہ کرے کسی لیلیٰ سے آنکھ لڑی ہے۔ جب تو چبا چبا کر باتیں کرتی ہوں۔ سب کچھ کہتی ہوں۔ پھر مکرتی ہوں۔ ہے ہے، میرا تو جی جلتا ہے۔ تن بدن سے دھواں نکلتا ہے، میاں مسافر نہ کہوں تو کیا کہوں، اپنا دھگڑا، اپنا عاشق بنا لوں؟" ملکہ بولی:" پھر وہی۔ سچ مچ آپے میں نہیں رہی۔ بس زیادہ جھک نہ مار۔ گو نہ کھا۔ چل خچے، جا لے جا" ۔ القصہ وہ مزاج دان اُس بسملِ نیم جان کو بارہ دری میں لے گئی اور صحنچی میں ایک پلنگڑی بچھوا کر یہ بات کی: " لیجیے، آپ یہاں تشریف رکھیے۔ آرام کیجیے۔ ابھی کہیں جانے کا موقع نہیں ہے۔ رات ہونے دیجیے۔ " ایک خواص سے کہا: "اری خاصدان میں گلوریاں بنوا لا۔" دوسری کو حکم دیا: "تو حضور کو پینے کی سٹک بھر کر لے آ۔" یہ بولے:" آپ مجھے کیوں بناتی ہیں؟ کس لیے اتنی عنایت فرماتی ہیں؟ مجھ نالائق کی کیا لیاقت ہے کہ اُس خاصدان کے پان کھاؤں اور اُس پیچوان کو منہ لگاؤں۔ " اُس نے کہا:" اپنے اپنے گھر آئے


    صفحہ نمبر 145


    ہوئے کُتے کو بھی نہیں دتکارتے ہیں۔ بھلے آدمی، کیا مہمان کو لاٹھی لے کر مارتے ہیں؟ فقیر ہیں یا تونگر ہیں، آدمی، آدمی سب برابر ہیں۔ ظاہر میں بعضے آسودہ ہیں، بعضے تباہ ہیں مگر اپنے اپنے گھر کے سب بادشاہ ہیں۔ دنیا ظاہر پرست ہے، یہاں باطن پر نظر نہیں۔ صورت سے پایا جاتا ہے کہ آپ بھی رئیس زادے ہیں۔ سیرت کی خبر نہیں۔"

    خورشید گوہر پوش نے کہا: "جی وہ شخص رنگا ہوا جوگی ہے۔ بنا ہوا بروگی ہے۔ دکھانے کو راکھ منہ پر مل لی ہے۔ دل میں خاک اُڑ رہی ہے۔ میری صورت اور ہے سیرت اور، ظاہر کا کچھ طور ہے، باطن کا کچھ طور۔ بندہ، ٹھگ، گرہ کاٹ، لے بھگا، اچکا کومھل لگانے میں پورا، گھر پھاندنے میں پکا۔ "وزیرزادی نے کہا: "صاحب، میں نے تو زمانے کی ایک مثل کہی۔ یہ نہ معلوم تھا کہ چراہندے ہو کر جواب دو گے۔ میں کیا جانوں، خیر جیسا کہتے ہو ایسے ہی ہو گے۔ یہ باتیں آپ ملکہ صاحب سے کیجیے گا۔ اُنہیں ایسے جواب دیجیے گا۔ آپ تو ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے چوتھی کا دولھا۔ معقول، کوا ہنس کی چال چلا اپنی بھی چال بھولا۔ ملکہ حضور پر عاشق نہیں ہو گئیں ہیں۔ سلامتی سے اور کچھ خیال نہ لایئے گا۔ آپ ہی آپ دل میں سوچ سمجھ کر ذرا جامے سے باہر نہ جایئے گا۔ " شاہ زادے نے کہا: "آپ تو فرما چکی ہیں کہ میں دلالہ نہیں۔ پھر یہ ڈومنی پن کس لیے ہے؟ خیر، تشریف لے جایئے۔ جو جس کی بات ہے وہ اُسے سمجھے ہوئے ہے۔ "وزیرزادی بولی" چلو، باتوں کا مزا اُٹھا لیا۔ کچھ ہو نہ ہو مجھے ڈومنی تو بنا لیا۔ کوئی بات اُٹھ نہ رہے۔ قرار واقعی بدزبانی کیجیے۔ اب گالیاں دینی باقی رہی ہیں۔ دو چار گالیاں بھی دیجیے۔ آپ لو تو اس کا جواب کیا دوں، بہت اچھا۔ میں ملکہ صاحب سے جا کر ڈومنی کے معنی پوچھتی ہوں۔ "یہ کہہ کر چیں بہ جبیں ملکہ کے پاس آئی اور تیوری چڑھا کر یہ بات سنائی: "آپ جانیں، آپ کا مہمان جانے۔ مجھے کچھ کام نہیں۔ الٰہی توبہ، اس مردُوے کی زبان میں لگام نہیں۔ ملکہ بولی: "کیا ہوا؟ کیا کہا؟ کچھ تو نے بھی چھیڑا ہو گا۔ اپنی خطا تو نہیں بیان کرتی ہے۔ دوسرے پر اُلٹا الزام دھرتی ہے۔ خیر، چُھری کے تلے دم لے۔ صبر کر، شام ہونے دے۔ میں خود چل کر اس کی روبکاری کروں گی۔ تجھے بھی اور اُسے بھی دونوں کو سمجھا دوں گی۔ "وہ بولی: "جی ہاں، وقت پر جھوٹ سچ ظہور میں آئے گا۔ کیا میاں بی بی کا جھگڑا ہے کہ رات کو فیصلہ کر دیا جائے گا؟ خدا نہ کرے میں کسی کی عاشق نہیں،


    صفحہ نمبر 146


    عاجز نہیں۔ مجھے کیوں اس طرح کی باتیں کہیں۔"

    ملکہ بولی: "کہہ تو تو دیا۔ اب کیوں بکتی ہے۔ ناحق آگ بگولا بن کر ہوا سے بھڑکتی ہے۔ تو عاشق نہیں، اچھا میں عاشق ہوں۔ اب تو خوش ہوئی۔ کیا پردے پردے میں ثابت کر رہی ہے۔ اللہ ری شوخی۔" وزیرزادی نے مُسکرا کر سر جُھکا لیا اور ادھر اُدھر دیکھ کر ٹال دیا۔ شام کو ملکہ و وزیرزادی اور دو چار راز دار خواصوں کو ساتھ لے کر شاہ زادے کے پاس آئی اور صحنچی سے صدر مسند پر ہاتھ پکڑ کر لائی۔ وزیرزادی سے کہا: "کسی سے کہہ دو، بہت روشنی کی ضرورت نہیں فقط دو لالے اُٹھا لائی۔ ایک خاصدان کھول کر گلوری دی اور کہا "بس ادب شناسی ہو چکی۔ کُھل کے بیٹھئے، دل کھول کر باتیں کیجیے۔ تکلف بر طرف، لحاظ موقوف۔ اپنا اسم شریف بتائیے، کچھ وطن شریف کا پتہ دیجیے۔ کہاں سے آنا ہوا؟ کہاں تشریف لے جائیے گا؟ آگے بڑھنے کا مقصد ہے یا کہیں قیام فرمائیے گا؟ اس شہر میں کس طرح تشریف لائے؟ یہاں کیوں کر آئے؟ شاید اس باغ میں آئے ہوئے تھے۔ بندوبست کے وقت دروازے تک پہنچ نہ سکے۔ یہ خواجہ سرا کم بخت ایسا ہلڑ مچاتے ہیں کہ آبرودار بے چارے گھبراتے ہیں۔ خوب ہوا کہ میں آئی تھی۔ اگر بڑی حضور آئیں ہوتیں تو قیامت ہو جاتی۔ خدا جانے کیا غضب ہوتا، کیا آفت آتی؟ رسیدہ بود بلائے ولے بہ خیر گزشت۔ ہرچند کہ وہ بھی اشراف کو پہچانتی، بھلے آدمی کی قدر جانتی ہیں مگر غصہ ستم ہے۔ سارے محل کا لبوں پر دم ہے۔ لو، میں تو اپنی داستاں کہنے لگی۔ لے، اب آپ اپنا حال فرمائیے۔ ہم پر تو یہ گزرتی رہتی ہے۔ کچھ اپنی بیتی سنائیے۔"

    شاہ زادے نے کہا: "کچھ نہ پوچھیے۔ یہ ایک افسانہء طولانی ہے۔ جس سے انسان کو وحشت ہو یہ وہ کہانی ہے۔ اپنی تباہی کی کیفیت کیا کہوں؟ مختصر یہ ہے کہ فلانی جگہ کا رہنے والا ہوں۔ شکار کھیلنے نکلا تھا۔ اتفاق سے یہاں آ گیا۔: ملکہ بولی:"معلوم ہوتا ہے آپ اُس


    صفحہ نمبر 147


    شہر کے رئیس ہیں یا بادشاہ، جب ہی ہم لوگوں کے سب طریقوں سے خبردار ہیں۔ سب باتوں سے آگاہ ہیں۔" وزیرزادی سے مخاطب ہو کر کہا:" ہائے کم بخت، شرافت بھی کیا چیز ہے؟ اس کا جلوہ ہر حال میں نظر آتا ہے۔ شریف ہزار محجوب الخلقت ہو مگر رویت سے سب پتا چلتا ہے۔" اُس نے کہا: "جی ولی کو ولی پہچانتا ہے۔ موتی کی قدر بادشاہ جانتا ہے یا جوہری جانتا ہے۔

    قدر جوہر شاہ داند یا بداند جوہری

    آپ تو میرا فیصلہ کرنے آئیں تھیں۔ ریاسے کی شان دیکھ کر محو ہو گئیں۔ یہ باتیں تو چار پہر نہ تمام ہوں گی۔ رات بڑھتی ہے۔ آپ آرام کریں تو کریں۔ نہیں، مجھے اجازت ہو کہ میں جاؤں۔ چلو، میاں روس کے رئیس زادے، غور کے شاہ زادے، تمہیں تو میں مُہری کی راہ سے نکال آؤں۔ ان بی بی کا کچھ نہ بگڑے گا۔ صبح کو مجھ پر آفت آئے گی۔ میری ناک چوٹی مفت میں کاٹی جائے گی۔" ملکہ نے کہا: "اری علامہ، تو اس قابل ہے کہ تیری زبان سنسی سے کھینچ لے۔ سوا میرے اور کوئی ان باتوں کیا سمجھے؟ مجھ پر بھی آواز لے آتی ہے۔ اس بے چارےنکو بھی بناتی ہے۔ ایک کو سمجھاتی ہے۔ ایک کو دھیرا کرتی ہے۔ اری تیری بوٹی بوٹی کاٹی جائے تو مجھے آہ نہ آئے۔" وہ بولی: "دور پار، میرے دُشمنوں کی خطا ہے؟ اس زمانے میں خیر خواہی کی یہی سزا ہے۔ مجھے کیا؟ آپ اپنے فعل کی مختار ہیں۔ میں نہ آتو ہوں نہ اُستانی۔ نوکر کی بات مانی مانی، نہ مانی، نہ مانی۔ لیجیے، میں تو جاتی ہوں۔ کل کو اگر بڑی حضور پوچھیں گی تو اپنے سچ پر قسم کھا لوں گی۔ صحنک پر ہاتھ رکھ دوں گی۔ بڑی روٹی اُٹھا لوں گی کہ میں نے بہتیرا سمجھایا لیکن مُرشد زادی کے کچھ دھیان میں نہ آیا۔" ملکہ نے منہ بنا کر کہا: "جا دفان ہو، کون موئی تھتکاری کے منہ لگ کر پریشان ہو۔" یہ سُن کے وزیرزادی اُٹھ گئی۔ خواصوں نے بھی اپنی اپنی راہ لی۔ پھر تو نہ معشوق کو تابِ حجاب رہی نہ عاشق کو یارائے ضبط رہا۔ اُس نے اپنا حالِ دل کہا۔ ملکہ نے اپنی مہر و محبت کا اقرار کیا۔ شاہ زادے نے اپنے شوق و اشتیاق کا اظہار کیا۔ (اشعار)


    صفحہ نمبر 148


    رو کر یہ کہا کہ اے گل اندام

    سرمایہء ناز و عیش و آرام

    اے نیّرِ اوجِ دل ربائی

    اے کوکبِ بُرجِ خود نمائی

    اے دل برو دل رُبا و دل دار

    اے راحتِ جانِ عاشقِ زار

    اے صورتِ حُسنِ عالم افروز

    اے معنئِ نقشِ حیرت آموز

    صورت نے تری مجھے لُبھایا

    آئینے نے حیرتی بنایا

    اُلفت تری ہو گئی گلوگیر

    بُت بن گیا دیکھ کر وہ تصویر

    آخر نہ قرار دل کو آیا

    یہ شوق یہ جذب کھینچ لایا

    تا چند یہ عشق کی کہانی

    میں عاشقِ جاں بہ لب ہوں جانی

    ہے حبِّ وطن نہ یاد گھر کی

    نہ پاؤں کی ہے خبر نہ سر کی

    آوارہء کوہ و دشت و ہاموں

    لیلیٰ جو ہے تُو، تو میں ہوں مجنوں

    نالوں سے زباں کو کام ہر دم

    لب خشک ہیں نم ہے چشمِ پرنم

    ہے دیدہء شوق محوِ دیدار

    مشتاقِ وصال ہے دلِ زار


    صفحہ نمبر 149



    اللہ نے شکل یہ دکھائی

    صد شکر کہ آرزو بر آئی

    اس تقریر سے ملکہ کے دل پر تاثیر ہوئی کہ بے اختیار آنسو نکل آئے۔ دونوں طرف ولولہء شوق ہوا۔ ادھر عاشق نے ہاتھ بڑھائے۔ ایک مرتبہ دونوں کو جوش ہوا۔ طالب مطلوب سے اور مطلوب طالب سے ہم آغوش ہوا۔ ہائے وہ عاشق کی بے تابی، وہ معشوق کی بے حجابی۔ اِدھر توجہ اور التفات، اُدھر بے چینی کی بات۔ کبھی منہ پر منہ رکھ دیا، کبھی لب پر لب رکھ کر اظہارِ اشتیاق کیا۔ اُدھر کرشمہ و ناز، اِدھر تمنا اور نیاز۔ اُدھر ذرا سی جھجک، تھوڑی سی آن بان، اِدھر بالکل بے تکلفی کے سامان، اِدھر شہوتِ نفسانی، اُدھر ولولہء روحانی۔

    تھے مائلِ تاک بست دونوں

    بے کیفِ شراب مست دونوں

    عاشق کا لپٹ کے پیار کرنا

    معشوق کی سسکیاں وہ بھرنا

    بوسے کا اِدھر خیال آنا

    شرما کے وہ اُس کا منہ پھرانا

    تھا محرم راز ہاتھ یہ ہے

    چولی دامن کا ساتھ یہ ہے

    بُلبُل کو وصالِ گل کا تھا جوش

    پروانہ تھا شمع سے ہم آغوش
    کس شوق سے تھا بہم بغل گیر

    گویا تھا یہ آئینہ وہ تصویر


    صفحہ نمبر 150


    شاہ زادہ تو بالکل مدہوش تھا مگر ملکہ کو کچھ کچھ ہوش تھا۔ جب یہ کچھ اور ارادہ کرتا تھا تو وہ ٹال دیتی تھی۔ بے خودی کے عالم میں بگڑی ہوئی بات کو بنا لیتی تھی۔ ہر بار یہ کہتی تھی: "خورشید گوہر پوش، ہوش میں آ۔ دیکھ، کچھ اور خیال دل میں نہ آنے پائے۔ ایسا نہ ہو کوئی گُل پھولے، پردہ فاش ہو جائے۔ اللہ یہ دن بھی دکھائے گا۔ اگر ہم تم زندہ ہیں تو وصلِ حقیقی بھی ہو جائے گا۔" طرفۃ العین میں آسمان نے گردش کی۔ پلک مارتے میں تقدیر سو گئی۔ ہنوز جی بھر کے بوس و کنار نہ ہوا تھا کہ صبح ہو گئی۔

    تھی شبِ وصل کُھل گئی جو آنکھ

    رنگ فق ہو گیا سحر کو دیکھ

    سفیدی کے طلوع سے دونوں پر بجلی گری۔ مؤذن کی تکبیر سے دونوں کے دلوں پر چُھری پھری۔ طائروں کی آواز تیر کی آواز ہو گئی۔ نسیمِ سحری ہوائے ناساز ہو گئی۔ عاشق گھبرا کر معشوق کا منہ دیکھنے لگا۔ ملکہ نے تسلی دے کر کہا:" کیوں گھبراتے ہو؟ خدا کا یاد کرو۔ کیا آج ہی کی رات تھی؟ بس فرصت کی بات تھی؟ پھر روح شاد کام ہو گی، پھر شام ہو گی۔ وضو کرو، فریضہء سحری ادا کرو۔ اللہ سے اطمینانِ خاطر کی دعا کرو۔ ہائے، تم نے اپنے ساتھ مجھے بھی ستیاناس کیا۔ نہ اپنی وضع کا نہ میرے ننگ و ناموس کا پاس کیا۔ پہلے انجام کا خیال نہ آیا۔ آپ دیوانے ہوئے، مجھے بھی دیوانہ بنایا۔ اب جو ہونی ہو سو ہو، جو کچھ تقدیر دکھائے وہ دیکھو۔ جب تک میری جان میں جان ہے، ہراساں نہ ہو۔ شوق سے اس باغ میں رہو۔ میں دوسرے تیسرے صورت دِکھا جایا کروں گی۔ کسی نہ کسی بہانے آیا کروں گی۔" یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وزیرزادی نے آ کر تسلیم کی۔ ملکہ نے مسکرا کر یہ بات کہی: "پھر تو آئی۔ پھر یہ منحوس صورت دکھائی۔" وہ بولی: "نگوڑے دل سے مجبور ہوں۔ بے دیکھے بھی تو چین نہیں آتا۔ کیا کروں؟ جی تو چاہتا ہے کہ عمر بھر صورت نہ دکھاؤں۔ آپ کو اور اِن ولیِ کامل کو یہیں چھوڑ کر چلی جاؤں۔ لیکن مصلحت کی بات نہیں، دشمنوں کے طعنوں سے نجات نہیں۔ انجان اپنی جگہ پر کہیں گے کہ بڑی نالائق تھی۔ ایسی ولیِ نعمت کو چھوڑ کر بیٹھ رہی۔ گُستاخی معاف، ہاتھ منہ دھوئیے۔ ہوش میں آئیے۔ آئینہ دیکھیے زُلفیں بنائیے۔ کیا کسی سے دھینگا مُشتی ہوئی ہے؟ سلامتی سے خوب درستی ہوئی ہے۔
     
  4. عبدالصمدچیمہ

    عبدالصمدچیمہ لائبریرین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    ریختہ صفحہ نمبر 237

    وزیر زادی سمجھی کہ یہ خورشید گوہر پوش نے گُل کھلایا ہے۔ ہو نہ ہو وہی یہ فساد لگا کر لایا ہے۔ یہ سوچ کر چپکے نذر دے کر مسند کے کنارے بیٹھ گئی۔ بس جب اندر باہر نذریں ہوچکیں تو یاقوت شاہ داماد کو لے کر محل میں آیا۔ ساس نے اُٹھ کر بلائیں لیں اور دلہن دلہا کو ایک مسند پر بٹھایا۔ اپنے بیگانے تصدق لائے۔ ہر جگہ سے تیل ماش اور ٹکے آئے۔ کہیں اس کے عوض نقدی آئی۔ کوئی سونے کے خاصدان میں روپیے کوئی اشرفیاں لائی۔ چھوٹی اُمت کی قسمت لڑی۔ وہ تصدق آیا، اُن لوگوں کی بن پڑی۔ سب نے ہاتھ پھیلایا اور آنکھیں بند کرلیں۔ ایک ایک نے روپیے اشرفیوں سے جھولیاں بھرلیں۔

    جب سب باتوں سے فرصت ہوئی تو زہرہ جبیں نے بیٹی سے تمام سرگزشت سُنی۔ آخر میں یاسمن کا بھی ذکر آگیا۔ جہاں اور تذکرے ہوئے یہ تذکرہ بھی ہوا۔ ملکہ نے کہا: "جی یہ میری سوکن ہیں۔ نام میں بھی یاسمین ہیں، خوش بُو میں بھی یاسمین ہیں۔ پرستان کی رہنے والی ہیں۔ بڑی بھولی بھالی ہیں۔ آدم زاد سے راحتیں پائی ہیں۔ غیر ذالک کے ساتھ نکل آئی ہیں۔ اتنا مجھ سے سُن لیجیے۔ باقی حال لانے والوں سے دریافت کیجیے۔" زہرہ جبیں تو جہاں دیدہ تھیں۔ مصلحت اندیش اور فہمیدہ۔ یہ سُن کے ظاہر میں تو داماد کی طرف داری کی اور باطن میں بیٹی کی پشتی لی۔ خورشید گوہر پوش کی طرف دیکھ کر کہا: "نہیں، یہ تمہیں رنج نہ دیں گے۔ تمہارے سامنے اور کا نام نہ لیں گے۔ تم دونوں میں عاشق و معشوق کی کیفیت ہے۔ اللہ رکھے، انہیں بھی عشق ہے، تمہیں بھی محبت ہے۔ ایک دل سو سو جگہ نہیں آتا ہے۔ ہرجائی مردوا اخفتیں اُٹھاتا ہے۔ یوں تو، بنو، مردوں کی نہ کہو جنہیں چار چار کرنے کا حکم ہے۔ ہے ہے، اس بات کی امیروں میں بہت کثرت ہے۔ ہم لوگوں کو اس کی عادت ہے۔ کاش وزیر بادشاہ بھی خدا سے ڈرتے۔ غریبوں کی طرح ایک کے سوا دوسری نہ کرتے۔ عورت کو مکھی کا بیٹھنا سیج پر ناگوار ہوتا ہے۔ اپنے مرد کے پہلو میں غیر کی پرچھائیں دیکھ کر خار ہوتا ہے۔ یہی مردؤوں کا حال ہے۔ یہ تو قیامت کا کوڑا بٹھاتے ہیں۔ ہوا کی بھی سَنک پاتے ہیں تو کالے ناگ کی طرح بل کھاتے ہیں۔ دنیا میں انصاف نہیں، شرع کے معاملے بھی
     
  5. عبدالصمدچیمہ

    عبدالصمدچیمہ لائبریرین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    ریختہ صفحہ نمبر 238

    صاف نہیں۔ عجب اندھیر کا کارخانہپ ہے۔ عجب حساب ہے۔ مردوں کی چاندی ہے۔ عورتوں کی مٹی خراب ہے۔ مرد وہ ہے جو عمر بھر ایک طرح پر نبا ہے۔ کوئی ہزار چاہے مگر یہ بی بی کے سوا اور کو نہ چاہے اور دلہا دلہن کے چاہ و پیار کو کہیں چاہ و پیار کہتے ہیں۔ چار دن تو گائے بھینس کے بھی ہاتھ پاؤں لال رہتے ہیں۔" داماد سے مخاطب ہو کر پوچھا: "کیوں، میاں، یہ کہا بات ہے؟ کیا ماجرا ہے؟ کیا واردات ہے؟"

    خورشید گوہر پوش نے سر جُھکا لیا۔ کچھ جواب نہ دیا۔ زہرہ جبیں اُٹھ کر یاقوت شاہ کے پاس گئی اور یہ ساری کیفیت بیان کی۔ لڑکی کا مقدمہ تو نہایت نازک ہوتا ہے۔ یہ سُن کے پہلے تو وہ دم بخود ہوا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد کچھ سوچ کر کہا: "یہ صاحب زادہ تو بہت سیدھا تھا۔ ان رفیقوں نے آکر یہ کردار کیا۔ خیر، اب اس مقدمے کو اُسی کی رائے پر رہنے دو۔ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ کرو۔ بھلا مقدر کے بگاڑ کی کیا تدبیر۔ لڑکا اچھا ہو کر بُرا ہوجائے یہ بھی لڑکی کی تقدیر۔ اب مصلحت یہ ہے کہ یہ جبر اُٹھاؤ۔ کچھ ہو مگر شکایت کا کلمہ زبان پر نہ لاؤ۔ ایسا نہ ہو صاحب زادے کہیں کہ آخر یہ لوگ غیر تھے۔ ذرا سی بات میں برہم ہوگئے۔ اپنے ماں باپ کے ہوتے تو اس عیب کو چُھپاتے۔ ہر طرح کی بگڑی ہوئی بات کو بناتے۔"

    زہرہ جبیں نے کہا: "ہاں، پھر اب سوا خاموش رہنے کے کیا چارہ ہے۔ مثل مشہور ہے: مول سے بیاز پیارا ہے۔ چار ناچار سب طرح کی نرم گھاس اُٹھائیں گے۔ کچھ ہو، دل جوئی اور خاطر داری سے باز نہ آئیں گے۔" وزیر زادی کو بلوا کر کہا کہ "بی بی، مجھ سے تو وہ صاحب زادے شرماتے ہیں، بغلیں جھانکتے ہیں، آنکھیں چراتے ہیں۔ تم سے بے تکلف ہیں۔ تم جاؤ۔ جس طرح مناسب سمجھو اُس طرح اس مقدمے میں سمجھاؤ۔ کہو، خیر، جو تم نے کیا اچھا کیا مگر اب ہر وقت کی چوٹ پیٹھ سے کیا فائدہ؟ دو محل ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔ جہاں وہ دونوں رہیں وہیں یہ دوسرا محل رہے"۔

    وزیر زادی نے جا کر خورشید گوہر پوش کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ باتوں باتوں میں قرار واقع قائل کیا۔ کہا: "اے میاں جھوٹے عاشق، اس عشق پر پھٹکار۔ حقیقت میں عیاش مرد کی بات کا کیا اعتبار میں یہ گُن جانتی تھی۔ جبھی تو اس پارسائی کو نہ مانتی تھی۔
     
  6. عبدالصمدچیمہ

    عبدالصمدچیمہ لائبریرین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    ریختہ صفحہ نمبر 239

    غیرت ہو تو چپنی بھر پانی میں ڈوب مرو۔ اے شاہ صاحب، چلتر باز، ذرا آنکھ چار کرو۔ ہے ہے، عادت دھوئے دھاے سے جاتی ہے، علت نہیں جاتی ہے۔ برا کام تو آپ نے کیا، شرم مجھے آتی ہے۔" شاہ زادے نے کہا: "چلو، تم نے تو زبان صاف کرنے کا موقع پایا۔ بھلا اس کا کیوں کر یقین ہوا کہ میں نے دوسری طرف عشق جمایا۔ سچ ہے عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں۔ اپنی بھی بات کھوتی ہیں، دوسرے کی بھی بات کھوتی ہیں۔ علی الخصوص تم پر تو بے وقوفی کا خاتمہ ہے۔ تم نے تو آنکھیں بند کرلیں ہیں اور منہ کھول دیا ہے۔ اے بی بی صاحب، اگر تمہارے منہ پر ناک نہ ہوتی تو ضرور گوہ کھاتیں۔ میں تو برے کام میں نہیں پکڑا گیا مگر تم بے شک پکڑی جاتیں۔ فرض کیا ا گر کوئی شخص دوسرا نکاح کرے تو وہ برا کام کہلاتا ہے؟ ایک پر عاشق ہوکے دوسرے پر عاشق ہونے سے کچھ ذات میں دھبا لگ جاتا ہے؟ ہائے، اندھے کے آگے روئے، اپنی آنکھیں کھوے۔ خدا جانے اس میں کیا مصلحت تھی۔ تمہیں بات بنانے کے لیے دست آویز ہوگئی۔ میں نے تو بہ ضرورت ایک وقت گانٹھا۔ تم سب کے نزدیک ایک کو چھوڑ کے دوسرے کا عشق ہوگیا۔"

    یاسمین نے جو یہ سُن گن پائی، جھلا کر اُس صحبت میں آئی۔ خورشید گوہر پوش سے خطاب کیا: "کیوں، صاحب، تم نے اپنے ساتھ مجھے کیوں خراب کیا؟" وزیر زادی س بولی: "یہ چونٹیوں بھرا کباب تمہیں صاحبوں کو مبارک۔ میں نے اس نعمت کو سلام کیا۔ خدا اس فریبے سے سمجھے جس نے مجھے دھوکا دیا۔" ملکہ بولی: "بی بی، کوستی کیوں ہو؟ خواہ تم نے دھوکا کھایا، خواہ اور نے۔ اب تو جو کچھ ہوا اُس پر شاکر رہو۔ انہیں اپنے فعل کا اختیار ہے، اوروں کا کیا سروکار ہے۔ چاہیں ایک ایک کریں، چاہیں ہزار کریں۔ بڑی نادان ہیں جو ان باتوں میں کب آتی ہوں۔"

    وزیر زادی بولی: "بوا، یہ تو وہ بات ہوئی: ایک بولا اُس شخص کی ماں نے خصم کیا، کہا 'اچھا کیا' دوسرا بولا "کرکے چھوڑ دیا' کہا بہت برا کیا'۔ گھر بار ہو چکا۔ دنیا میں آ چکیں۔ چلو بیٹھو، سسرال سے میکے میں چا چکیں۔ یہ وہ مثل ہے: کھائی مغل کی تہری، اب کہاں جائے گی بہری، یہ تو بادشاہوں کا کارخانہ ہے۔ عشق مشک بھی ایک دل لگی کا بہانہ
     
  7. عبدالصمدچیمہ

    عبدالصمدچیمہ لائبریرین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    ریختہ صفحہ نمبر 240

    ہے۔ ملکہ تم پر تم آئیں۔ تم پر اور کوئی آئے گی۔ یہ تو بڑھتی دولت ہے، یونیں بڑھتی جائے گی۔" خورشید گوہر پوش کی طرف دیکھ کر بولی: "ہے ہے، یہ ریندھا پھیلا کر کیسے غٹر غٹر سُن رہے ہو۔ ہاتھوں کے طوطے کیوں اُڑ گئے؟ لو، ان کی دل جمعی کرو۔ دیوانِ خاص کی محل سرا خالی ہے۔ وہاں لے جاؤ اور چھاتی پر کوندوں دلنا ہو تو ویسا فرماؤ۔"

    غرض خورشید گوہر پوش نے قمر طلعت کو بلوایا اور اُسے اس مقدمے میں ہی ثالث ٹھہرایا۔ اُس مصلحت اندیش نے بہ ہر نوع اصلاح کی۔ دن یاسمین کا ٹھہرا اور رات ملکہ ہی ٹھہری۔ یاسمین دیوانِ خاص کی محل سرا میں اُٹھ گئی۔ ملکہ اپنے محل خاص میں رہی۔

    صبح کو جشن کا اہتمام ہوا، دربار عام ہوا، اذن عام ہوا۔ کُل نار پوشی کا اہتمام ہو گیا۔ اس قدر سُرخ جوڑوں کی تقسیم ہوئی کہ تمام شہرِ گُل زار ہوگیا۔ امیر اَمرا، غریب غربا، شہری، قصباتی چاروں طرف سے سمٹ آئے۔ وکیل، سفیر، بادشاہوں کی طرف سے تہنیت نامے لائے۔ چکلے کا داروغہ بھی کُل اربابِ نشاط کو لے کر حاضر ہوا۔ عیش کے اسباب اور عشرت کے سامان کا رنگ ظاہر ہوا۔ بھانڈ، بھگتی، کلاونت، قوال، سرودیے، رباہیے، بین، نواز سرگرم ساز باز ہوئے۔ ساز اُن کے دم ساز ہوئے اور وہ اہل بزم کے دم ساز ہوئے۔ کیا کنچیاں، کیا باگرنیاں، کیا ڈیرے دارنیاں، سب کے طائفے، سب کی سنگتیں جمع ہوئیں۔ اُس دن نوچیوں کا بناؤ دیکھ کر نائکائیں بھی بنی تھیں۔

    وہ نوچیوں کا نکھار، وہ جو بن کا اُبھار، وہ پوشاکوں کی تیاری۔ وہ نائکاؤں کی برزخیں، وہ بدقوارہ پن، وہ جسم ڈھلڈھلے اور بھاری بھاری۔ ہر نائکا اگر کوئی کا گریزی ڈوپٹہ اوڑھے، کاجل لگائے، مسی ملے۔ وہ اُن کے پرانے نخرے، وہ بڈھے چوچلے نوجوانیں اُن بڑھیوں کا بڑھ بھیس دیکھ کر ہنستی تھیں۔ کیا کیا منہ آتی تھیں۔ کیا کیا آوازے کستی تھیں۔ سپر دائی کہہ رہے تھے "یہ اسی برس کے ریزے نایاب ہیں۔ یہ ٹوٹتے پھلجھڑیوں کے جواب ہیں۔"

    غرض سات دن تک ناچ رنگ کا جلسہ رہا۔ سبحان اللہ، عجب لطف تھا، عجب سماں تھا۔ شاگرد پیشہ اور سپاہ نے انعام پایا۔ امتیازیوں نے خلعت پائے۔ خدا کے فضل سے اُمیدوں کی راتیں اور مُرادوں کے دن آئے۔ بادشاہ بھی بے غم ہوا۔ رعیت بھی چین کرنے لگی۔ ہر شخص کی چہل پہل اور چہچہوں اور قہقہوں میں گزرنے لگی۔
     

اس صفحے کی تشہیر