اجتماعی انٹرویو تین محفلین ایک سوال (سید زبیر، تلمیذ اورنایاب بھائی)

زبیر مرزا نے 'تعارف و انٹرویو' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 10, 2013

  1. سفینہ پرویز

    سفینہ پرویز محفلین

    مراسلے:
    275
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتی ہوں بھائی۔
    لیکن میرے خیال میں آج کل کے مادیت پرست دور میں زیادہ تر لوگوں کے نزدیک کامیابی کا مفیوم بدل چکا ہے۔آج کل اسی شخص کو کامیاب سمجھا جاتا ہے جسکے پاس بنگلہ،گاڑی ،روپیہ پیسہ کی ریل پیل ہو۔بے شک وہ اخلاقیات کے پیمانے پر بالکل پورا نہ اترے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ ہر شخص کے نزدیک کامیابی کا مفہوم مختلف ہوتا ہے۔ میرے خیال کے مطابق بھی
    ''جس کاآج اس کے گذشتہ کل سے ایمان ،عزت و تکریم ، صحت ، دولت کے لحاظ سے زیادہ بہترہے وہ کامیاب ہے'' ۔اس کے ساتھ میرے نزدیک انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ قناعت پسندی کو اپناتے ہوےُ اپنی زندگی سے مطمئن ہو۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  2. سفینہ پرویز

    سفینہ پرویز محفلین

    مراسلے:
    275
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    باقی دونوں مہمانانِگرامی کے جوابات کا انتظار ہے۔نایاب بھائی آپ نے ابھی تک اپنے خیال کا اظہار نہیں کیا؟
     
  3. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    وعلیکم السلام
    سدا خوش و شادوآباد ہنستی مسکراتی رہیں محترم ہنا ۔
    تاخیر کی معذرت کیا کرنی کہ " گر ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا "


    انسان کی حیثیت اک کائنات میں اک ذرے سے زیادہ نہیں ۔ اس ذرے کے گردوہیش میں وقت کے میدان میں ہمہ رنگ ہنگامہ ہائے زندگی نے اپنے اپنے سٹیج سجائے ہوئے ہیں ۔ جب کوئی انسان اپنے گردوپیش میں سجے سٹیجزپر چل رہے مناظر پر توجہ مرکوز کرتا ہے تو ان مناظر میں مشغول " اداکار " اپنے اپنے فن کو بلندیوں پر پہنچانے کے لیئے اپنے اپنے کرداروں میں محو نظر آتے ہیں ۔
    ان کی محویت دیکھنے والی آنکھ میں یہ سوال پیدا کر دیتی ہے کہ " یہ کون ہیں ۔؟ ان کی اپنے کرداروں اتنی محویت کس لیئے ہے ۔ ؟ یہ کس کے لکھے کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ؟کیا میں بھی کسی دیکھنے والی آنکھ کے لیئے اک کردار ہوں ۔؟
    کائنات کے وسیع و عریض سٹیج پر یہ مناظر یہ کردار کس نے لکھے ۔؟ کون ہے جو ان کی ہدایت کاری کرتا ہے ۔ ؟ مجھے میرا کردار کس نے سونپا ۔ ؟کون ہے جو پردے میں رہتے مجھے ہدایات دے رہا ہے ۔؟
    دیکھنے والی آنکھ تجسس میں الجھ جاتی ہے ۔ حقیقت کی تلاش میں نکل پڑتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1 ۔۔ کیا حقیقت ہے ان تمام سجے سٹیجز کی ۔۔۔؟
    2 ۔۔ کس نے سجائے یہ تمام سٹیجز ۔۔؟ اور کون ہے ان سٹیجز کا " ہدایتکار "؟
    کیا شروط ہیں جن پر عمل کرتے " اداکار " اپنا " کردار " امر کر سکتا ہے ۔؟
    4 ۔۔ اپنا کردار درست نبھانے پر کیا صلہ ملتا ہے ؟
    اور جو ان سوالوں کے جوابوں سے واقف ہوتے اپنے کردار کو ہدایتکار کے من پسند طریقے سے ادا کرتا ہے ۔ وہی " کامیاب " قرار پاتا ہے ۔۔۔
    کسی نے کیا خوب کامیاب انسان کی تعریف کی ہے ۔کہ
    ایس دنیا اچ رکھ ایسا بہن کھلون ۔۔۔۔۔ تو ہوویں تسے ہنسن لوکی نہ ہوویں تے رون ۔
    اس دنیا میں اپنا عمل و کردار ایسا رکھ کہ تیری موجودگی میں سب خوش رہیں اور تیری غیر موجودگی میں تجھے یاد رکھیں ۔
    آج مادی دور میں تو کامیاب انسان کی شناخت اس کے بنگلے کار بینک بیلنس سے کی جاتی ہے ۔ جو جتنا زیادہ امیر وہ اتنا ہی کامیاب ۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ ضروری نہیں کہ ہر مال و دولت رکھنے والا اپنی نگاہ میں بھی کامیاب و کامران ہو ۔ یہ وہ ہی جانتا ہے کہ اس نے اس مادی کامیابی کے لیئے " حلال و حرام اور جائز و ناجائز " میں کتنی تفریق رکھی ۔ حق داروں کو حق دیا کہ حق داروں کا حق بھی کھایا ۔۔؟
    اصل کامیاب انسان وہ ہوتا ہے ۔ جو خود تو مشکلوں امتحانوں آزمائیشوں سے گزرے مگر عجز و اخلاق کو ہمراہ رکھتے صبر قناعت توکل کی راہ چلتے اپنے کردار و عمل کی ایسی شمع روشن کرجائے ۔ جس سے دوسرے انسانوں کو نفع پہنچے ۔ اور دوسرے اس کی اقتدا کو اپنے لیئے کامیابی کا ذریعہ تسلیم کریں ۔ اور یہ انسان خود اپنے ضمیر و روح کو مطمئن پائے۔۔
    متفقہ کامیاب ترین انسانوں میں وہ چار عظیم ہستیاں شامل ہیں جو کہ اللہ کا رسول قرار پائیں ۔
    حضرت موسی علیہ السلام ۔۔۔۔۔ طور پر آگ لینے کی نیت سے گئے اور صاحب کتاب ٹھہرے ۔
    حضرت داؤد علیہ السلام ۔۔۔۔ بہت خوش الحان ہوتے اور لوہے کو نرم کرنے والی خوبی سے واقف ہوتے انسانوں کے لیئے آسانی پیدا کرتے صاحب کتاب ٹھہرے ۔
    حضرت عیسی علیہ السلام ۔۔ اللہ کی جانب سے کلمہ ٹھہرتے مہد میں لوگوں سے کلام کرتے صاحب کتاب ٹھہرے ۔۔
    اور ان سب میں جو صاحب فضیلت ٹھہرے ۔ وہ یتیم و یسیر ہوتے صادق و امین قرار پاتے تجارت کرتے اپنے اخلاق و تواضح سے انسانوں کی خدمت کرتے اونٹ بکریاں چراتے چالیس سال تک غار حرا میں محو فکر رہتے " اقراء " کے حکم سے سرفراز ہوئے ۔ اور انسانوں کو ان حقیقی خالق و مالک کے پیغام سے آگاہ کرتے انسانوں کو کامیابی و کامرانی کی راہوں سے واقف کیا ۔ اور خالق حقیقی نے اس ہستی کی زندگی کو انسانوں کے لیئے " اسوہ حسنہ " قرار دیتے " کامیاب ترین انسان " ہونے کی گواہی دے دی ۔۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت پاک کسی بھی " کامیاب انسان " کو پرکھنے کی بہترین کسوٹی ہے ۔
    اللہ ہم سب کو بھی " اسوہ حسنہ " پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سے نوازتے ہمیں " کامیاب انسان " بنائے آمین
     
    • زبردست زبردست × 4
  4. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    سبحان اللہ ،@نایاب صاحب! نہایت جامع اور مدلل جواب سے نوازا
    بے شک آپ کی رائے مستند ہے
    جزاک اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,663
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    واہ ! بہت خوب ہے ۔۔۔۔۔حرف حرف آگہئ سے بھرپور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ کہتے تجسس کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قران مجید کہے دے رہا ہے نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے تجسس سے سیکھا تو منع کیوں ؟

    کلمہ کی وضاحت کردیں ۔۔۔۔۔۔۔آپ امر کہ رہے ہیں مگر اس امر کے اصطلاح کیا ہے ؟

    حضرت داؤڈ علیہ سلام جنت میں نغمہ خوان ہوں گے ؟

    آگ استعارہ ہے ؟

    واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام تو ''نایاب'' ہے پر بات اس سے بھی بڑھ کے ۔۔۔۔۔۔حسین اور انمول
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    میری محترم بٹیا
    اس دھاگے کے شریک اک بہت پیاری ہستی محترم " تلمیذ " بھائی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔
    اب ان کی یاد ہے ہمارے پاس اور ان کی مغفرت کی دعائیں
    اللہ سوہنا مرحوم تلمیذ بھائی کو جنت عالیہ میں بلند درجہ عطا فرمائے آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری محترم بٹیا
    " ولا تجسسو " کا حکم جس آیت مبارکہ کے ذریعے سامنے آتا ہے وہ
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌO
    ’’اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے غیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں) اﷲ سے ڈرو بیشک اﷲ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo‘‘
    الحجرات، 49 : 12
    غیب بارے تجسس کی مناہی ہے ۔ غیب صرف یقین پر استوار ہے ۔
    یقین ہی کافی ہوتا ہے ۔ کہ حق الیقین کے درجے پر پہنچ حساب سخت ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قران پاک میں فرمان ہے کہ
    اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اوراللہ کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے

    مسیح عیسی بن مریم صرف اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم کی طرف القاء کیا گیا ہے اور وہ اس کی طرف سے ایک روح ہیں۔"
    حضرت عیسی علیہ السلام کو " روح اللہ " بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔
    ان کے ایک نام کے طور پر لفظ "روح اللہ" استعمال کیا گیا ہے۔
    روح کو قران پاک میں " امر " کہا گیا ہے ۔ اور انسانی عقل کو محدود قرار دیا گیا ہے روح کی حقیقت سمجھنے کو ۔۔۔۔۔
    قران پاک میں روح کوبہت سے مقامات سے ذکر کیا گیا ہے ۔
    اللہ سوہنے کا وہ مقرب فرشتہ جو خدا کے پیغام کو انبیاء تک پہنچاتا ہے [نحل، 102]۔
    آسمانی کتاب[شوری، 52]۔
    اللہ سوہنے کی جانب سےاس کے بندوں کے لیے غیبی امداد[مجادلہ، 22؛ بقره، 87]۔
    باقی " کلمہ " کی حقیقت رب سچا ہی جانتا ہے ۔۔۔۔۔
    قران پاک جناب داؤد علیہ السلام بارے بیان کرتا ہے کہ
    جب آپ جذب سے بھرپور خوش الحانی سے اﷲ کا ذکر کرتے تو پہاڑ آپ کے ساتھ ہم آواز ہو جاتے ۔۔
    آپ جب موسیقی بھری ترنم آفریں آواز سے ذکرِ الٰہی کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی مدح و ثنا میں بلند کرتے تو اس کو سن کر پہاڑ بھی ان کی آواز میں آواز ملا کر ذکر کرتے ۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ایسی آواز سے نواز اجو دیگر تمام آوازوں پر برتری اور فوقیت اتنی شیریں اور جذب سے بھرپور ہوتی کہ آپ کی صدا سے بکھری زبور کی تلاوت سن کر جنگلی جانور ان کے اس قدر قریب آجاتے کہ آپ انہیں گردن سے پکڑ سکتے۔
    حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ شیریں اور دل کو موہ لینے والی آواز اللہ کی جانب سے آپ کو اک عطا تھی نعمت تھی ۔
    کہتے ہیں کہ روزِ قیامت اﷲ تعالیٰ حضرت داؤد علیہ السلام کو حکم دے گا کہ اسی خوش الحانی کے ساتھ اہل محشر کے سامنے میری تقدیس بیان کرو،
    جیسے دنیا میں تم تورات کی تلاوت کرتے تھے۔
    نہج البلاغہ میں جناب علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ
    حضرت داوٴد علیہ السَّلام جنت کے خوش الحان لوگوں کے سردار ہوں گے۔"

    یہ آگ استعارہ تھی یا کہ حقیقت تھی یہ اللہ ہی جانتا ہے ۔۔
    قران پاک میں اس آگ بارے بیان کچھ ایسے ہے کہ
    جناب موسیٰ علیہ السلام جب آگ کے پاس گئے اور غور کیا تودیکھا کہ درخت کی سبز شاخوں میں آگ چمک رہی ہے ۔ اور لحظہ بہ لحظہ اس کی تابش اور درخشندگی بڑھتی جاتی ہے جو عصا ان کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے سہارے آپ نے چاہا کچھ آگ لے لیں ۔ تو آگ موسیٰ علیہ السلام کی طرف بڑھی جناب موسیٰ علیہ السلام ڈرے اور پیچھے ہٹ گئے اس وقت حالت یہ تھی کہ کبھی موسیٰ علیہ السلام آگ کی طرف بڑھتے تھے اور کبھی آگ ان کی طرف
    اور پھر صدائے حق آپ نے سنی کہ
    ""میں تیرا پروردگار هوں، اپنے جوتے اتاردے کیونکہ تو مقدس سرزمین ”طویٰ“ میں ہے ""۔۔۔
    سو یہ آگ اور اس کی حقیقت بارے صرف رب سچا ہی جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت دعائیں
     
    آخری تدوین: ‏فروری 18, 2016
    • زبردست زبردست × 1
  7. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,663
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    حضرت عزیر علیہ سلام تو کلمہ نہیں تھے ۔ ان کو کیوں خُدا مانا گیا ۔۔۔۔۔؟
    نصرانیت اور یہودیت میں کیا فرق ہے ؟
    حضرت عزیر علیہ سلام اور حضرت عیسی علیہ سلام میں کیا کامن تھا ؟ اس حوالے سے حضرت موسی علیہ سلام حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم سے کیا نسبت رکھتے ہیں ؟
     
    آخری تدوین: ‏فروری 18, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,663
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    راز کی جستجو کسی کے حوالے سے بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جستجو ۔۔۔۔۔یقین پر کیسے استوار ہوتی ہے اور حق الیقین سے کیا مراد ہے ؟ اس کا حساب کیا ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,663
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    انا للہ وانا الیہ رجعون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ ان کے درجات بلند کرے ۔۔۔ان کو اپنی رحمت میں دھانپے رکھیں آمین
     
    • متفق متفق × 1
  10. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,663
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    حضرت داؤد علیہ سلام کو نور الہی کا جمال کہا جاسکتا ہے ؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے سبھی لوگ ''نفسی نفسی '' کریں گے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ حضرت داؤد علیہ سلام تقدیس بیان کریں ار حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی امت کے لیے روئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت داؤد علیہ سلام کو اپنی امت سے کیا نسبت ہوگی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,663
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    عصا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذریعہ کیوں بنا؟ آپ عصا سے آگ کیوں لینا چاہتے تھے کہ مشتاق تو بھاگتے ہیں بنا سوچے ۔۔۔۔۔۔ پھر ڈر کیوں گئے ۔۔۔۔۔یہ بھی عشق کی علامت تو نہیں ہوا ڈرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے بعد تیسرا قدم ۔۔۔۔۔کبھی آپ بڑھتے اور کبھی آگ۔۔۔۔ اس تیسرے قدم بارے کیا احکام ہے ؟

    حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم نعلین کے ساتھ وہاں گئے جہاں پر رسائی کوئی نہ پاسکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے حکم ہوا کہ جوتے اتار دو ۔۔۔۔۔۔محبوب کی محبت کہتی ہے کہ بنا کہے سمجھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور حکم کی نوبت کیوں آئی ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. غدیر زھرا

    غدیر زھرا لائبریرین

    مراسلے:
    3,150
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    آج اس دھاگے کو دیکھ کر تلمیذ سر یاد آ گئے اور دل پھر اداس ہو گیا ... اللہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین...
     
    • غمناک غمناک × 4
    • متفق متفق × 1
  13. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    15,191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ہاں غدیر زھرا واقعی۔۔مجھے بھی اکثر یاد آتے ہیں۔ اللہ جنت کے اعلیٰ درجوں میں جگہ دے۔آمین!
     
    • غمناک غمناک × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. طاہر راجپوت ملتان

    طاہر راجپوت ملتان محفلین

    مراسلے:
    219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خونی رشتے حضور برایے نام کے ھوتے ہیں آج کل کے مفاد پرست دور سب سے پہلے خونی رشتے ہی ساتھ چھوڑتے ہیں چاھے وہ کویی بھی ھو باقی میرے نزدیک خلوص و مروت کے علاوہ کویی رشتہ نہیں ھے وہی جس رشتے میں بدرجہ اتم موجود ہو گی وھی وفا و ساتھ دیں گے
    کویی رشتہ کویی دوست بھی فایدہ نہیں دے گا اگر خلوص و وفا نکال دی جائے.
     
  15. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,663
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    کدھر چلی گئیں رونقیں!
     

اس صفحے کی تشہیر