قتیل شفائی تیری راہوں میں بھٹکنے کے لیے زندہ ہوں - قتیل شفائیؔ

ماروا ضیا

محفلین
تیری راہوں میں بھٹکنے کے لیے زندہ ہوں
میں ازل سے ہی تِرے حُسن کا جویندہ ہوں
تیرے دل کی بھی نہ مل پائی مجھے شہریت
کس سے پوچھوں کہ میں کس مُلک کا باشندہ ہوں
بھا گئے تھے تیری آنکھوں کے سمندر جن کو
میں اُنہی ڈُوبنے والوں کا نُمائیندہ ہوں
دیکھنا ہے تو مُجھے ایک نظر دیکھ ہی لے
صُبح کا تارا ہوں لیکن ابھی تابندہ ہوں
کسی جُوڑے میں سجایا نہ گیاجو مجھ سے
میں قتیل آج بھی اُس پُھول سے شرمندہ ہوں
 
Top