تکمیلِ زندگی کا سبب تیری ذات ہے

سعید احمد سجاد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 21, 2021 7:00 شام

  1. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    سر الف عین
    محمّد احسن سمیع :راحل:
    سید عاطف علی
    محمد خلیل الرحمٰن
    اور دیگر احباب سے اصلاح کی درخواست ہے

    قائم تری ہی وجہ سے میری حیات ہے
    تُو ہے متاعِ ہستی تُو ہی کائنات ہے

    تْو دھڑکنوں کا ورد ہے جینے کی وجہ تْو
    تکمیلِ زندگی کا سبب تیری ذات ہے

    عنواں مری غزل کا ہے شعروں کا تُو خیال
    دیوانِ شاعری بھی فقط تیری بات ہے

    آگے نکل گیا ہوں جنوں کی حدوں سے مَیں
    لگتا ہے اب یہی مری راہِ نجات ہے

    سامانِ زندگی ہے ترے نقشِ پا کی خاک
    تُو خاک مجھکو سونپے تری التفات ہے

    تُو کہکشاں کا باسی تو مَیں ذرۂِ زمیں
    تجھ تک مری پہنچ ہو مری کیا بساط ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,627
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ان تین اشعار کو دیکھو، باقی درست ہیں

    عنواں مری غزل کا ہے شعروں کا تُو خیال
    دیوانِ شاعری بھی فقط تیری بات ہے
    ... دیوان کو بات کہنا عجیب ہے، اور وہ بھی واحد؟ 'میری مکمل شاعری میں فقط تیری باتیں ہیں' قسم کا شعری روپ ہو تو بات بنے، لیکن قافیہ بھی لانا ہے!

    آگے نکل گیا ہوں جنوں کی حدوں سے مَیں
    لگتا ہے اب یہی مری راہِ نجات ہے
    .. سمجھ میں نہیں آیا

    سامانِ زندگی ہے ترے نقشِ پا کی خاک
    تُو خاک مجھکو سونپے تری التفات ہے
    .. واضح نہیں، التفات مذکر ہے
     
  3. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    آگے نکل گیا ہوں جنوں کی حدوں سے مَیں
    لگتا ہے اس جنوں میں ہی میری نجات ہے

    سامانِ زندگی ہے ترے نقشِ پا کی خاک
    گر تُو یہ خاک سونپے ترا التفات ہے

    سجاد لگ رہا تھا وہ لوٹ آئے گا مگر
    ہے انتظار اب بھی کہ ہجراں کی رات ہے
    یا
    آنکھیں ہیں منتظر وہی ہجراں کی رات ہے

    سر عنواں مری غزل کا والا شعر نکال دیتا ہوں
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,627
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے دونوں اشعار تو واضح ہو گئے لیکن تیسرا نیا شعر اب بھی ہجراں کی رات سے بے ربط لگ رہا ہے۔ ڈیڑھ مصرع سے یہ لگ رہا ہے کہ مکمل بات یہ ہے کہ محبوب نہیں آیا۔لیکن ہجراں کی رات لانے کا منشا سمجھ میں نہیں آتا، خاص کر پہلے متبادل، اب بھی، کے ساتھ
    دوسرا متبادل بہتر ہے لیکن ہجراں کی بے ربطی اب بھی ہے
    شاید آسان الفاظ میں یوں ہو سکتا ہے
    لیکن نصیب میں وہی ہجراں کی رات ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    شکریہ سر
     
  6. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    سجاد لگ رہا تھا وہ لوٹ آئے گا مگر
    شاید نصیب میں وہی ہجراں کی رات ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,627
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب درست ہے کہ ربط بن گیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    شکریہ سر
     

اس صفحے کی تشہیر