تنہا من نظم براءے اصلاح

نافرع

محفلین
روکھا سوکھا سا جیون
بنجر بنجر تنہا من

تیرا غم آخر کیسے
آ نکھو سے چھلکا ایسے
شبنم کا موتی جیسے
اب کیا برکھا،کیا ساون
بنجر بنجر تنہا من

تجھ سے بچھڑا بنجا را
جیسے ٹوٹا اک تارا
تیری چا ہت کا ما را
تجھ بن جیون جیسے بن
بنجر بنجر تنہا من

دل نے سوچا ہی نا تھا
کوءی فرقت کا لمحہ
موتی موتی یو برسا
بھیگی پلکو کی چلمن
بنجر بنجر تنہا من

مٹی کی سوندھی خوشبو
بادل،بارش اور جگنو
جاے کب آءے گا تو
بن تیرے کیا ہے جیون
بنجر بنجر تنہا من
 

نافرع

محفلین
بہت بہت شکریہ آپ حضرات نے اپنا قیمتی وقت میری نظم کو دیا دراصل اشعار وزن مین ہین کے نہین یہ معلوم ہوجاتا تو مشکل آسا ن ہو جا تی۔
 
وزن کا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ میری ناقص عقل کے مطابق اگر ۔۔۔۔ کوئی فرقت کا لمحہ ۔۔۔۔۔ کی بجائے ۔۔۔۔۔ لمحہ کوئی فرقت کا ۔۔۔۔ کر لیں تو زیادہ بہتر اور رواں ہو جائے گا
 

الف عین

لائبریرین
بحر و اوزان کی تو کوئی پرابلم نہیں، بس ذرا کچھ مصرعے زیادہ رواں کئے جا سکتے ہیں، جیسا کہ فاروق نے کہا ہے۔ البتہ
دل نے سوچا ہی نا تھا
میں ’نا‘ کا اس طرح تلفظ مجھ جیسے ثقہ لوگوں کو پسند نہیں آتا۔ یوں بھی اس مصرع کی معنویت بھی سمجھ میں نہیں آئی۔ اس لئے مصرع بدل ہی دیں تو اچھا ہے۔
 
Top