1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

تنگ آ گئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم ٭ بسمل عظیم آبادی

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 8, 2019

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,816
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    تنگ آ گئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم
    گھبرا کے پوچھتے ہیں اکیلے میں جی سے ہم

    مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
    لائے گئے ہیں، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم

    کمبخت دل کی مان گئے، بیٹھنا پڑا
    یوں تو ہزار بار اٹھے اس گلی سے ہم

    یا رب! برا بھی ہو دل خانہ خراب کا
    شرما رہے ہیں اس کی بدولت کسی سے ہم

    دن ہی پہاڑ ہے شب غم کیا ہو کیا نہ ہو
    گھبرا رہے ہیں آج سر شام ہی سے ہم

    دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار
    گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم

    مطلب یہی نہیں دل خانہ خراب کا
    کہنے میں اس کے آئیں گزر جائیں جی سے ہم

    چھیڑا عدو نے روٹھ گئے ساری بزم سے
    بولے کہ اب نہ بات کریں گے کسی سے ہم

    تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
    جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اسی سے ہم

    محفل میں اس نے غیر کو پہلو میں دی جگہ
    گزری جو دل پہ کیا کہیں بسملؔ کسی سے ہم

    بسمل عظیم آبادی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت خوب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ساحر کی نظم یاد آ گئی
    تنگ آ چکے ہیں کشمکشِ زندگی سے ہم
    ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں‌ بے دلی سے ہم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر