تمام شہر سنے گا کہوں تو کس سے کہوں ٭ راحیلؔ فاروق

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 2, 2019

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    تمام شہر سنے گا کہوں تو کس سے کہوں
    ستم شعار کو اچھا کہوں تو کس سے کہوں

    سبھی کی ہے یہی بپتا کہوں تو کس سے کہوں
    سنوں تو کس کی خدایا کہوں تو کس سے کہوں

    کرے گا کون مداوا کہوں تو کس سے کہوں
    یہ دکھ نہ تجھ سے مسیحا کہوں تو کس سے کہوں

    ہجوم دیکھ کے تنہائیوں سے دل نے کہا
    ہر ایک شخص ہے تنہا کہوں تو کس سے کہوں

    تمھی نہیں کہ کسی کے ہوئے نہ جیتے جی
    یہاں ہے کون کسی کا کہوں تو کس سے کہوں

    حقیقتوں ہی سے واقف نہیں ابھی دنیا
    فسانہ ہائے تمنا کہوں تو کس سے کہوں

    کچھ آ بھی جائے سمجھ میں تو اور مشکل ہے
    سمجھ میں یہ نہیں آتا کہوں تو کس سے کہوں

    حرم میں اب تو صنم بھی نہیں رہے راحیلؔ
    ترا سلام اگر جا کہوں تو کس سے کہوں

    راحیلؔ فاروق​
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2019

اس صفحے کی تشہیر