تفیہم القرآن۔۔ استفسار اور مشورے

الف عین نے 'تبصرے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 28, 2006

  1. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    السلام علیکم

    اعجاز صاحب، تفہیم القران کے بارے میں اس خبر نے میری اس محفل پر واپسی کی قیمت ادا کر دی ہے اور میرے دل کہ گہرائیوں سے آپ کے لیے دعائیں نکل رہی ہیں۔

    میرے علم کے مطابق یہ تفہیم القران کاپی رائیٹ سے آزاد ہے (بلکہ مودودی صاحب علیہ الرحمت کی شاید تمام کتب ہی کاپی رائیٹ سے آزاد ہیں)۔

    بہرحال، پھر بھی قیاس پر عمل کرنے سے بہتر ہے کہ براہ راست رابطے کر کے بات پکی طرح پتا کر لی جائے۔ مزید میں یہ اطلاع دینا چاہتی ہوں کہ مودودی علیہ رحمت کی تمام کتب (بشمول تفہیم) www.millat.com پر تصویری شکل میں موجود ہیں (اور اسکا مطلب یہی ہے کہ یہ کتب شاید کاپی رائیٹ سے آزاد ہیں)۔

    اعجاز صاحب، اس سفر کی طرف پہلا قدم مبارک ہو۔ میرے خیال میں مودودی علیہ رحمت کی تمام کتب مستحق ہیں کہ فوری طور پر ڈیجیٹائزڈ کی جائیں۔ سفر لمبا ہے، لیکن یہ اردو دان طبقہ (خصوصی طور پر جماعت اسلامی جیسی پڑھی لکھی جماعت) کی سستی، کاہلی اور نااہلی ہے کہ ابتک مولانا مرحوم کی ایک کتاب بھی ڈیجیٹائزڈ نہیں ہوئی۔

    ایک رکن نے اوپر آپ سے سوال کیا تھا کہ کیا ساتھ میں عربی متن بھی ٹائپ کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں آپ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

    میں اس عربی کے نکتے پر اس لیے زور دے رہی ہوں کہ اگرچہ کہ ہمارے پارے عربی ویب سائٹس کا عربی قرانی متن موجود ہے، مگر یہ عربی فونٹز کے لیے ہے اور موجودہ اردو یونی کوڈ فونٹز اس کو سپورٹ نہیں کرتے۔ میری خواہش ہے کہ قران کا عربی متن اردو یونیکوڈ ویلیوز کے ساتھ بھی لکھا جائے۔ (بلکہ اسکا ایک اور آسان طریقہ بھی ہے۔ اگر میری طبیعت ٹھیک رہی تو جلد میں کچھ تجربات اس ضمن میں کروں گی۔ انشاء اللہ۔ یہ پراجیکٹ بہت عرصے سے میرے ذہن میں ہے)۔

    دوم۔۔۔۔۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس پراجیکٹ کی مزید تفصیلات بھی فراہم کریں، کیونکہ شاید یہ وقت ہے کہ ہم یہ مشورہ دیں کہ تفہیم کا کام ہر صورت میں ڈیٹا بیس کی صورت میں جمع کرنا چاہیئے اور اس کی ایک بہت اچھی مثال ڈاکٹر طاہر القادری کا عرفان القران ہے۔ میری ناقص رائے میں :

    1۔ عربی متن
    2۔ اردو ترجمہ
    3۔ تفسیر

    ان سب کا الگ الگ ڈیٹا بیس قائم کیا جائے۔ بلکہ جو بھی نیا قرانی اردو ترجمہ یونیکوڈ میں میسر آئے، اسے ڈیٹا بیس کی شکل میں محفوظ کیا جائے تاکہ اگر کسی کو ایک ہی آیت کے مختلف ترجمے دیکھ کر موازنہ کرنا ہو، وہ باآسانی یہ کام کر سکے۔ (اگر یہ چیز کسی کو پوری طرح سمجھ میں نہ آ رہی ہو تو میں اگلی پوسٹ میں واضح کروں گی)۔

    میری خواہش ہے کہ ہماری لائبیری سے ایسا قرانی سوفٹ ویئر سامنے آئے جس میں مختلف قرانی تراجم اور تفاسیر کا موازنہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اس سلسلے میں منہاجین صاحب سے ہم عرفان القران کا ترجمہ ڈیٹا بیس کی شکل میں طلب کر سکتے ہیں۔

    اردو تراجم کے ساتھ ساتھ انگلش تراجم بھی رکھے جا سکتے ہیں۔

    انگلش تراجم کے لیے ایسے ڈیٹا بیس پہلے سے نیٹ پر موجود ہیں، مگر پتا نہیں ان میں اردو سپورٹ ڈالی جا سکے گی یا نہیں۔ اس موضوع پر ہمارے کمپیوٹر ماہرین ہی جواب دے سکیں گے۔

    میرے ذہن میں اور بھی بہت سی باتیں موجود ہیں، جو آہستہ آہستہ پیش کروں گی۔ انشاء اللہ۔

    والسلام۔
     
  2. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    جہاں تک مولانا کا تعلق ہے تو یہ سوال مودودی علیہ رحمت سے بھی کیا گیا تھا کہ لوگ آپ کو مولانا کہتے ہیں اور اس سے شرک کا شائبہ ہوتا ہے۔ اس پر مودودی علیہ رحمت نے جواب دیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو مولانا نہیں کہتے ہیں بلکہ لوگ اُن کے نام کے ساتھ مولانا کا سابقہ لگا لیتے ہیں۔

    بہرحال، میں یہ موضوع دیکھ کر بہت متفکر ہوں۔
     
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    میں آپ کی پہلی پوسٹ میں اس بات سے اتفاق کروں گا کہ ڈیٹا بیس موجود ہو۔ یعنی اگر مجھے درست سمجھ آئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیٹا بیس میں ایک سے زائد تراجم بیک وقت دکھائے جا سکیں، جیسے ایک آیت اور اس کے ساتھ مختلف محققین کے تراجم ترتیب سے موجود ہوں تاکہ پڑھنے والا اپنی مرضی سے دیکھ اور جان سکے

    باقی مولانا والی بات، تو جہاں‌ مودودی صاحب نے لوگوں‌ کے لیے اتنا کوشش کی ہے کہ ان کو درست راستے پر لایا جا سکے، یہ بات کسی طور جچ نہیں‌ رہی کہ انہوں‌ نے کسی بات کو ایسے ہی چھوڑ‌ دیا ہو جس سے انہیں شرک کی بو آتی ہو :(
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,181
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مہوش۔ تمھاری یہاں موجودگی سے بڑی تقویت ملتی ہے۔ اس تمہید کے بعد آمدم بر سرِ مطلب۔
    میں نے ٹائپ کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ محض ترجمہ اور تفسیر ورڈ کی جدول میں الگ الگ رو میں تائپ کریں، بعد میں ایک اور رو انزرٹ کر کے میں ہی اصل متن کا اضافہ کر دوں گا۔ فی الحال ایک ہی ساحب نے کام شروع کیا ہے اور محض ابتدا ہی کی ہے کچھ صفحات کی اور وہ انھیں مجھے دکھانا چاہ رہے ہیں لیکن ان سے ربط نہیں ہو پا رہا ہے، ادھر میں حیدرآباد چلا گیا تھا۔ بہر حال ٹیبل بن جانے کے بعد اسے ٹیکسٹ میں کنورٹ کیا ہی جا سکتا ہے ٹیب ڈی لمیٹیڈ ٹیکسٹ فائل کو پھر ڈیٹا بیس میں لے جانے میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔ یہ کام میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں۔
    قرآن کا عربی متن بھی میں تدوین کر چکا ہوں۔ نفیس ویب نسخ فانٹ میں اور عربی ہ اور ی کے مسائل حل کر دئے ہیں۔ عرفان القرآن میں بھی اسی قسم کی کافی تدوین کرنی پڑی تھی۔ خاص کر ۃ کی۔ یہ فائلیں میرے پاس تیار ہیں۔ اور وقت نہیں مل پا رہا ہے کہ ان کے ویب پیجیز بنا کر کم از کم اپنی سائٹس پر اپ لوڈ کر دوں تاکہ وہاں سے ہی ڈاؤن لوڈ کر کے محفل کے دوسرے ارکان وکی میں یا جب یہاں ڈاؤن لوڈ کا صفحہ بن جائے تو وہاں فراہم ہو سکیں۔
    منیاجین کی بھیجی کتاب اسلام اور سائنس میں قرآن کے متن میں بھی کنورٹ کرنے پر بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میں یہ کر رہا ہوں کہ کیوں کہ متعلقہ آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے اس لئے اپنی قرآن کریم کی فائل سے کاپی پیسٹ کر رہا ہوں۔
     
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,106
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    کیا ایسے نہیں ہوسکتا کہ فانڈ اینڈ ری پلیس سے اردو حروف کو عربی میں کردیا جائے۔
    اگر آپ مجھے ان حروف کی فہرست دے دیں جو عربی میں کرنے ہیں تو میں پروگرام بنا دیتا ہوں۔
     
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,106
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
  7. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    راجہ صاحب، ماشاء اللہ آپ کا کنورٹر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ آپ کی فائینڈ اور ریپلیس والی بات بالکل درست ہے اور اس کے لیے الفاظ کی فہرست اعجاز صاحب بہتر طور پر فراہم کر سکتے ہیں۔

    (میرا خیال یہ ہے کہ صرف "ی" اور "ہ" ہی کافی نہیں ہیں، بلکہ شاید کچھ اور بھی تبدیلیاں کرنی پڑیں (مثلا جزم وغیرہ)۔ لیکن اعجاز صاحب نے اوپر فرمایا ہے کہ انہیں نے صرف ان دو الفاظ کی تبدیلی سے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے ہیں۔ اگر وہ اس اردو قدروں کے ساتھ موجود قرانی متن کو اپلوڈ کر دیں تو پروف ریڈینگ کر کے تسلی کی جا سکتی ہے۔

    مزید یہ کہ راجہ صاحب آپ اپنے اس کنورٹر کو پروفیشنل سطح پر لے آئیں۔ اعجاز صاحب نے لکھا ہے کہ انہیں عربی قدروں کو اردو قدروں میں تبدیل کرنے میں بہت مشکل پیش آئی۔ میں نے پہلے چھوٹے موٹے تجربات کیے تھے تو واقعی کافی مشکلات آئیں تھیں۔ مستقبل میں صحیح بخاری اور دیگر صحاح ستہ اور بہت سی اور عربی کتب کا اردو ترجمہ ڈیجیٹائز ہو گا۔ ان سب کا عربی متن موجود ہے لیکن اس سب کو اردو قدروں میں لانا ہو گا۔ اس لیے اس کنورٹر کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔


    =====================

    قیصرانی، دیٹا بیس کے متعلق آپ کا تجزیہ بالکل درست ہے۔ دیٹا بیس میں موجود چیزوں ہمیں بہت سی آپشنز مہیا کرتی ہیں۔ مثلا ایک شخص کو صرف عربی ٹیکسٹ دیکھنا ہے، جبکہ دوسرے کو عربی متن نہیں، بلکہ صرف ترجمہ دیکھنا ہے، جبکہ تیسرے کو صرف تفسیر۔۔۔۔ تو ڈیٹا بیس میں موجود چیزیں یہ سہولت مہیا کرتی ہیں کہ سکرین پر صرف مطلوبہ مواد مہیا ہو۔ جب یہ ڈاٹا بیس پراجیکٹ آگے بڑھے گا، تو اس سلسلے میں بہت سی تجاویز اور سانچے سامنے آئیں گے۔ میں نے اس کیس کی کچھ سٹڈی کی ہوئی ہے اور ان سانچوں کی تصاویر جلد پیش کروں گی۔ انشاء اللہ۔


    تفہیم کو ڈیجیٹائز کرنے میں کچھ چیلنجز
    ===============================

    اعجاز صاحب، قرانی ترجمہ اور تفسیر کو جدول میں لکھنا ایک بہت اچھا طریقہ ہے اور یقینا بعد میں جدول کو متن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    بہرحال تفہیم کے مطالعہ کے بعد چند چیزیں سامنے آئیں ہیں، جو کہ تفہیم کو ڈیجیٹائز کرنے میں چیلنج کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم کا ذکر ذیل میں کر رہی ہوں۔


    ایک آیت کے اردو ترجمے کے مختلف الفاظ کی مختلف تفاسیر
    =============================================

    جہاں تک صرف ترجمے کی بات ہے تو اُس کو جدول میں لکھنے سے کام مکمل ہو جاتا ہے۔

    اور اگر ایک آیت کے ذیل میں صرف ایک ہی تفسیر ہوتی تو تفسیر کو بھی جدول میں لکھنے سے کام بن جاتا۔

    مگر مسئلہ یہ ہے کہ ترجمے کے مختلف الفاظ پر نمبر دے کر ہر ایک کی الگ الگ تفسیر کی گئی ہے۔ اس طرح ایک آیت کے ذیل میں کئی کئی ذیلی تفاسیر ہیں۔

    اب ہمارے سامنے چیلنج یہ ہے کہ ترجمے کے ان مختلف الفاظ پر نمبر لگانا، اور پھر نمبر وار ان کی تفاسیر ذیل میں بیان کرنا۔

    یہی مسئلہ سعودی عرب کے شائع کردہ اردو قران اور اُس کی تفسیر کا ہے۔ (باذوق صاحب اس قرانی ترجمے اور تفسیر کو یونیکوڈ میں تبدیل کر رہے ہیں، اور مستقبل میں تفہیم کے ساتھ ہمارے پاس سعودی عرب کے یہ شائع کردہ قران اور عرفان القران بھی ہوں گے)۔

    شاہ فہد قران کمپلکس نے اس قران کو یونیکوڈ میں نیٹ پر بھی دیا ہوا ہے (لنک باذوق صاحب کی میل میں دیکھئیے)۔ وہاں انہوں نے ہر الفاظ پر Superscript میں نمبر دیے ہوئے ہیں اور نیچے نمبروار ان کی تفسیر لکھی ہوئی ہے (اور ہائپر لنک کے ذریعے انہیں ایک دوسرے سے ملایا ہوا ہے)۔

    اس لیے ڈاٹا بیس کے ماہرین ہی اس مسئلے پر مزید روشنی ڈال کی تجاویز دیں کہ اس چیلنج سے کیسے نپٹا جائے۔


    تفہیم کو ڈیجیٹائز کرنے میں تیزی کیسے لائی جائے
    =======================================

    قیصرانی برادر، یہ کام آپ کر سکتے ہیں۔ اسکی وجوہات مجھے یہ نظر آ رہی ہیں کہ:


    1۔ پوری تفہیم القران تصویری شکل میں نیٹ پر موجود ہے ( www.millat.com ) ۔ ہمیں اس چیز کا پورا فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

    2۔ آپ کا انتخاب اس کام کے لیے سب سے موزوں اس لیے ہے کیونکہ آپ اردو وکی پر عبور رکھتے ہیں۔

    3۔ اگر آپ وکی پر تفہیم کا زمرہ، بمع 114 سورتوں کے ذیلی زمرہ جات کے بنا دیں، تو بہت سے لوگ بیک وقت تفہیم پر کام کر سکتے ہیں۔


    یہ اس پراجیکٹ کا صرف ایک خاکہ ہے، جبکہ باقی تفصیلات بعد میں طے کی جا سکتی ہیں۔
     
  8. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    قیصرانی صاحب، میں اس مسئلے پر پہلے سے ہی فکرات کا شکار ہو گئی تھی، اب لگتا ہے کہ میں نے صحیح طور پر چیزوں کو واضح بھی نہی کیا جس کی وجہ سے چیزیں اور الجھ گئی ہیں۔

    مودودی صاحب پر اس سلسلے میں تنقید ہوئی ہے اور وہ اس معاملے میں تمام قدیم علماء کی رائے کے مخالف چلے گئے ہیں۔ میرے خیال میں بہتر رہے گا کہ میں تفہیم القران کے اس مسئلے کو تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کروں۔ انشاء اللہ۔
     
  9. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,106
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اب یہ تو اعجاز صاحب استمعال کرکے بتائیں گے کہ کیا اضافہ ہوسکتا ہے۔ امید ہے کہ ان کے تبصرے سے مزید بہتری آئے گی۔
     
  10. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003

    کیا غیر اللہ کو مولا کہنا شرک ہے؟؟؟؟؟ اس مسئلے پر بھرپور بحث ذیل کے لنک میں موجود ہے۔
    http://www.urduweb.org/mehfil/viewtopic.php?p=80087#80087

    امید ہے کہ اس کے بعد اس مسئلے کی وجوہات بہت حد تک واضح ہو جائیں گی اور ان کی روشنی میں اسکا حل ڈھونڈا جا سکے گا۔ انشاء اللہ۔
     
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی وہ تو آج ہی بن جائے گا۔ مزید؟
     
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    میں وہ دھاگہ پڑھ چکا ہوں۔ ابھی کچھ نہیں بولوں گا۔ کہ اس سے آپ کے کام کی رفتار متائثر ہوگی۔ پہلے آپ ایک بار اپنی پرانی ٹیون میں‌ آجائیں، انشاءاللہ پھر آرام سے بحث ہوتی رہے گی :D
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,181
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے یہ فائل ملاحظہ ہو، باقی باتیں بعد میں

    ۔۔ بعد میں فائل حذف کر دی گئ ہے، فائل یہاں مل سکتی ہے:
    http://kutub.250free.com
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    استادٍ محترم۔ ابھی ڈاؤن لوڈ کرکے ان زپ کیا ہے۔ لیکن تقریباً‌ہر حرف الگ الگ سے دکھائی دے رہا ہے :(
     
  15. قسیم حیدر

    قسیم حیدر محفلین

    مراسلے:
    367
    یہ ترجمہ یونی کوڈ میں شاہ فہد پرنٹنگ کملیکس کی ویب سائٹ پر موجود ہے
    http://www.qurancomplex.com/Quran/Targama/Targama.asp?l=arb&t=urd&nSora=1&nAya=1
    لیکن یہ واضح رہے کہ اس ترجمے کو بہت زیادہ با محاورہ بنانے کی کوشش میں قرآنی متن سے بہت پیدا ہو گیا ہے۔ جس کا اعتراف الشیخ صلاح الدین یوسف نے اپنے نئے ترجمہ میں بھی کیا ہے۔جسے دارالسلام نے حال ہی میں شائع کیا ہے۔ یہی صاحب ہیں جو جونا گڑھی صاحب کے ترجمہ پر تفسیری حواشی لکھ چکے ہیں جنہیں سعودی حکومت شائع کرتی ہے۔
     
  16. باذوق

    باذوق محفلین

    مراسلے:
    1,093
    یہ ترجمہ مکمل یونیکوڈ میں نہیں ہے ۔ آپ اس کو یہاں محفل میں کاپی پیسٹ کر کے دیکھ لیں ۔
    صلاح الدین یوسف کا نیا ترجمہ اگر آیا ہے تو وہ ابھی میری نظر سے نہیں گزرا۔ ہاں، جوناگڑھی ترجمے کے لیے ہماری بنیاد یہی قرآن کمپلکس والا ترجمہ رہے گا۔
    صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کا ترجمہ دیکھنے کے بعد میں اپنی رائے دوبارہ یہاں دوں گا ، انشاءاللہ۔
     
  17. قسیم حیدر

    قسیم حیدر محفلین

    مراسلے:
    367
    سعودی حکومت جو ترجمہ قرآن شائع کر رہی ہے اس کے بارے میں مَیں نے لکھا تھا کہ اس میں زبان و بیان کی اصلاح کے علاوہ مطلب کی ادائیگی کے لحاظ سے بھی درستی کی ضرورت ہے۔ بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ایسا ترجمہ کیا گیا ہے جو قرآنی متن سے لگاؤ نہیں کھاتا۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ دارالسلام جیسا معتبر ادارہ اسی ترجمے کو "احسن البیان" اور "احسن الکلام" کے نام سے چھاپ رہا ہے۔
    وقت کی قلت کی وجہ سے میرے لیے یہ تو ممکن نہیں کہ سارے ترجمے کی غلطیاں آپ کے سامنے رکھوں لیکن نمونے کے طور پر چند ایک پیش خدمت ہیں۔
    ۱۔ لعکم تتقون "یہی تمہارا بچاؤ ہے"۔ (سورۃ البقرۃ آیت۲۱ صفحہ نمبر ۱۳)
    درست ترجمہ "شاید کہ تم بچ جاؤ
    ۲۔ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ "جو لوگ اللہ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں"۔ (البقرۃ ۲۷۔ صفحہ ۱۵)
    درست ترجمہ: " جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں"۔ من بعد میثاقہ کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔
    ۳۔ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ "تمہاری بہتری اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی طرح ہے"( البقرۃ54۔ ص24)
    درست ترجمہ: تمہاری بہتری تمہارے پیدا کرنےوالے کے نزدیک اسی میں ہے"
    4۔ اهْبِطُواْ مِصْراً فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ "اچھا شہر میں جاؤ، وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی"۔ ( البقرۃ 30۔ ص26)
    درست ترجمہ: "شہر میں جاؤ، وہاں وہ سب ملے گا جس کا تم نے سوال کیا"۔ عربی متن میں یہ نہیں ہے کہ فان لکم ما احببتم۔ اگر ایسا ہوتا تب اس کاترجمہ "چاہت" سے کرنا ٹھیک تھا۔ لیکن سئلتم کا ترجمہ "چاہت" سے کرنا صحیح نہیں ہے۔
    5۔ إِنَّ البَقَرَ تَشَابَهَ علینا "اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ نہیں چلتا" (البقرۃ70۔ص 30)
    درست ترجمہ: :گائے کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہو گیا
    6۔ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ۔ " اور تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو"۔ ( البقرۃ 74 ص 31)
    درست ترجمہ " اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے"۔ یا " اور اللہ اس سے غافل نہیں ہے جو تم کرتے ہو
    7۔ ثُمَّ أَنتُمْ هَؤُلاء تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ "لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا"۔(البقرۃ85 ص 35)
    درست ترجمہ: "پھر بھی تم وہ لوگ ہو کہ آپس میں قتل کرتے ہو"۔ اس پوری آیت میں (یعنی آیت85) میں جہاں جہاں مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کا ترجمہ ماضی سے کر دیاہے۔
    8۔ فَقَلِيلاً مَّا يُؤْمِنُونَ " ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے"۔ (البقرۃ 88 ص37)
    درست ترجمہ: " تو وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
    9۔ قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللّهِ " آپ کہہ دیجیے کہ جو جبریل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری اتارا ہے"۔ (البقرۃ97۔ ص40)
    درست ترجمہ: " آپ کہہ دیجیے کہ جو جبریل کا دشمن ہے تو اسی نے تو آپ کے دل پر پیغام باری اتارا ہے"۔ اس آیت میں فانہ کا ترجمہ الذی سے کر دیا۔ یہاں ٹائپنگ کی ایک غلطی بھی ہے۔ وہ یوں کہ بریکٹ میں(تو اللہ بھی اس کا دشمن ہے) کے جو الفاظ آیت98 کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں وہ اصل میں آیت 97 کے ساتھ ہونے چاہییں۔
    10۔ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ " خبردار تم مسلمان ہی مرنا"۔( البقرۃ132 ص52)
    درست ترجمہ: " تو تم مسلمان ہی مرنا"۔ یہاں فَلَا کا ترجمہ اَلا سے کر دیا۔
    یہ دس مثالیں ہیں جو میں نے صرف پہلے پارے سے لکھی ہیں۔ میرے خیال میں تو یہ سارا ترجمہ ہی نظر ثانی کا محتاج ہے۔ اسے ترجمے کی بجائے ایک غیر معیاری ترجمانی کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔
    میں نے جن غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، ممکن ہے بعض لوگ ان کی تصحیح کو صرف چند الفاظ کی تبدیلی سمجھیں، لیکن عربی جاننے والے احباب بخوبی جانتے ہیں کہ و ما اللہ بغافل عما تعملون کا ترجمہ ولا تحسبن اللہ غافلا عما تعملون سے، اور فلا کا ترجمہ الا سے کردینے سے قرآنی مفہوم سے کتنی دوری پیدا ہو جاتی ہے۔
     
  18. باذوق

    باذوق محفلین

    مراسلے:
    1,093

    غیرمعیاری ترجمانی ۔۔۔ جیسے الفاظ ، ہو سکتا ہے آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر استعمال کر سکتے ہوں۔
    لیکن ، اگر آپ احسن البیان کا مقدمہ پڑھ لیتے تو شائد یہ الفاظ استعمال کرنے سے احتراز ہی فرماتے ۔
    جوناگڑھی ترجمہ ، صرف دارالسلام ہی نہیں بلکہ سعودی حکومت کے معتبر و مقتدر علماء کرام کی جانب سے تصدیق شدہ ہے۔

    اب دنیا کے ہر قرآنی ترجمے میں جس طرح غلطی ممکن ہے اسی طرح بےشک جوناگڑھی ترجمہ بھی غلطی سے مبراء نہیں ہے۔
    لیکن کم سے کم بنیادی عقائد کے معاملے میں متذکرہ قرآنی ترجمانی ، سلف کی راہ سے ہٹی ہوئی تو نہیں ہے۔
    باقی گرامیٹیکل غلطیاں تو ہر ترجمے میں نکالی جا سکتی ہیں۔

    رہا قرآنی مفہوم سے دوری کا مسئلہ ۔۔۔ تو اس کی گرفت ان ترجموں پر زیادہ مناسب ہے ، جن سے بنیادی عقائد ہی یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔

    ویسے ۔۔۔ یہاں اردو محفل پر یہ معاملہ قطعاََ اٹھایا نہیں گیا ہے ۔۔۔ کون سا ترجمہ صحیح ہے یا کس ترجمے میں زیادہ غلطیاں ہیں۔
    ہمارا مقصد صرف تمام اہم اردو تراجم کو یونیکوڈائز کرنے کا ہے۔
    اب اگر مختلف مکاتبِ فکر کے ترجموں پر اعتراضات کھڑا کرنا ہو تو یہ ایک علحدہ معاملہ ہے۔
     
  19. کارتوس خان

    کارتوس خان معطل

    مراسلے:
    57
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​


    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    محترم قسیم حیدر صاحب کیسے ہیں اُمید ہے انشاء اللہ خیریت سے ہونگے میں نے آپ کی لکھی ہوئی تحریر پڑی لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے میرے لئے یہ ممکن نہیں کے فلحال میں اس موضوع پر آپ سے دو ٹوک بات کر سکوں۔۔۔ بس یہ جاننے کی جسارت کروں گا (قومی اخبار کی بات نہیں کر رہا ہوں) کہ آپ کون سے قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں اگر ہوسکے تو ذرا ہمیں بھی بتا دیں ۔۔۔۔ زیادہ وقت نہیں لوں گا۔۔۔

    قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    جو ترجمہ آپ نے پیش کیا ہے وہ کچھ یوں ہے۔۔۔۔(شاید کہ تم بچ جاؤ)۔۔۔۔

    اور کچھ ترجمہ نظر ثانی کے لئے پیش کرتا ہوں
    تاکہ تم (عذاب سے) بچ جاؤ۔۔۔
    تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔۔۔
    تاکہ تم (خوں ریزی اور بربادی سے) بچو۔۔۔

    تو جو ترجمہ آپ موصوف پیش کر رہے ہیں اس بات پر کیا دلالت رکھتا ہے کہ وہ درست ہے؟؟؟۔۔۔۔

    وسلام۔۔۔
     
  20. قسیم حیدر

    قسیم حیدر محفلین

    مراسلے:
    367
    محترم خان صاحب!میرے پاس شاہ عبدالقادر، شاہ رفیع الدین، اشرف علی تھانوی، ابوالاعلٰی مودودی، احمد رضا خان بریلوی، محمد جونا گڑھی، سید حامد علی، امین احسن اصلاحی، فتح محمد جالندھری، عبد الرحمٰن کیلانی، محمود الحسن صاحب وغیرہ کے تراجم موجود ہیں۔ میں ان سب سے استفادہ کرتا ہوں۔ لعلکم تتقون کے جو ترجمے آپ نے پیش فرمائے ہیں مجھے ان کی درستگی سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ تتقون کے لفظ میں ان سب کی گنجائش ہے
    تاکہ تم (عذاب سے) بچ جاؤ۔۔۔
    تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔۔۔
    تاکہ تم (خوں ریزی اور بربادی سے) بچو۔۔۔
    بریکٹ میں لکھی گئی عبارت کو ہٹا کر دیکھیے، لفظی ترجمہ وہی ہو گا جو میں نے لکھا تھا۔ تتقون کے دو مطلب ہی نکلتے ہیں، ایک بچنے کا اور دوسرا پرہیزگاری کا۔ میرا اصل نکتہ یہ تھا کہ "لعکم" کی مناسب ترجمانی نہیں کی گئی۔ جو بات قرآنی متن میں ایک شاہانہ انداز میں کہی گئی ہے کہ "شاید تم بچ جاؤ"۔ اس کا سارا لطف ختم ہو گیا۔ مناسب ہوتا اگر آپ دوسرے اعتراضات پر بھی اظہارِ خیال کرتے۔
    میرے بیان کردہ ترجمے کی درستگی پر میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اگر کوئی صاحب اسے غلط سمجھتے ہیں تو وہ دلائل کے ساتھ مجھے سمجھا دیں۔ مجھے صحیح بات ماننے میں تامل نہ ہو گا ان شاء اللہ، لیکن جونا گڑھی ترجمے کے بارے میں صلاح الدین یوسف صاحب نے جو بات اپنے نئے لفظی ترجمے کے شروع میں لکھی ہے اسے ذرا زیرِ نظر رکھیں۔ لکھتے ہیں "ضرورت سے زیادہ با محاورہ ہونے کی وجہ سے بعض مقامات پر اس میں قرآنی متن سے بہت بُعد نظر آتا ہے"۔
    باذوق صاحب! وہ ترجمے جن سے بنیادی عقائد ہی تبدیل ہو جاتے ہیں، ان کی بات چھوڑیئے۔ محفل پر ان ترجموں پر بھی کام جاری ہے اور میں نے کبھی ان میں دخل نہیں دیا۔ آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ یہاں یہ مسئلہ اٹھایا ہی نہیں گیا کہ کون سا ترجمہ درست ہے اور کس میں کتنی غلطیاں ہیں۔ لیکن جو قرآن و حدیث کا داعی اور سلف کے مسلک پر چلنے کا دعوےدار ہو اس کے ایسے تساہل سے دل پر چوٹ لگتی ہے۔ خصوصًا جب اتنے وسیع پیمانے پر اور اتنے کثیر اخراجات کے بعد تقسیم ہونے والے ترجمے میں کمی ہو تو ایک صاحبِ ایمان کے دل میں کیا کچھ نہیں گزر جاتی۔ بنیادی عقائد پر سلف کی ترجمانی کافی نہیں ہے، سلف کا ایمان تو پورے قرآن پر تھا نہ کہ چند آیات پر۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ استوا علی العرش کے بارے میں جو آیات ہیں وہ تو مسلک سلف کی ترجمان ہیں اور نکاح و طلاق اور قرآنی واقعات جیسی آیات اس مسلک سے خارج ہیں۔

    غیر معیاری ترجمانی کا لفظ میں نے بالکل اپنے تجربے کی بنیاد پر ہی استعمال کیا ہے۔ سید مودودی نے جو ترجمانی کی ہے اس کو جونا گڑھی صاحب کے "ترجمے" کے ساتھ رکھ کر دیکھیے، آپ کو معیاری اور غیر معیاری ترجمانی کا فرق سمجھ میں آ جائے گا۔ ذرا غور سے پڑھیے گا کہ جونا گڑھی صاحب اکثر بعض لفظوں کا ترجمہ چھوڑ جاتے ہیں،عربی الفاظ "وَ، فَ" وغیرہ کو تو شاید ہی انہوں نے کہیں مدنظر رکھا ہو۔ اس کے مقابلے میں مودودی صاحب کی ترجمانی میں یہ سقم نہیں ہے۔ یہ ایک مثال ہے، ڈھونڈنے سے اور بہت کچھ مل جائے گا۔ تجربہ کر کے دیکھیے۔
    میں نے سعودی عرب میں دعوت و ارشاد کے کئ ذمے داران کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔ عنقریب ان شاء اللہ دارالسلام سے بھی رابطہ کرنے کا ارادہ ہے۔خان صاحب کی تسلی کے لیے عرض ہے کہ جو اعتراضات میں نے اٹھائے ہیں ان میں سے اکثر کی تائید یہاں کئی علماء (جو "معتبر" تو ہوں گے لیکن "مقتدر" نہیں ہیں) نے بھی کی ہے۔
    میرا ارادہ بحث شروع کرنے کا نہیں تھا۔ میرے دل میں ایک خلش تھی، میں نے بیان کر دی۔ آپ لوگ اس ترجمے کو یونی کوڈ میں بدلیں، اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں میں برکت دے۔ اس بحث کو میں یہیں پر ختم کر رہا ہوں ۔ اعجاز اختر صاحب سے معذرت کہ ان کے اس سلسلے کو ہم نے ایک دوسری بحث میں الجھا دیا جبکہ اس کا مقصد تو تفہیم القرآن کے بارے میں آراء جمع کرنا تھا۔
     

اس صفحے کی تشہیر