تعلیم کا صحیح مطمع نظر- نواب بہادر یار جنگ

عبدالحسیب نے 'جہان نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 6, 2013

  1. عبدالحسیب

    عبدالحسیب محفلین

    مراسلے:
    1,109
    موڈ:
    Shh
    یہ تقریر نواب بہادر یار جنگ صاحب نے حیدرآباد ایجوکیشنل کانفرنس (انجمن ترقی تعلیم حیدرآباد دکن ) کے اجلاس دوم 1938 میں فرمائی تھی جو انجمن ترقی تعلیم حیدرآباد کی شائع شدہ روئداد میں چھپی۔

    --
    محترم قائد و جناب صدر کانفرنس
    حضرات ساری تعریف اس عالم مطلق کے لیے سزاوار ہے جس نے کائنات میں علم کو پیدا کیا اور جس کے پرتو علم سے کائنات منوّر ہے ۔
    برادران۔ ان دنوں جب کہ عالم کتابوں کے انبار سے ڈھکا جاتا ہے اور علم بڑی بڑی ڈگریوں کی وجہ سے شہرت حاصل کرتا ہے۔ تو مجھ جیسے آدمی کی جو معمولی طالب علم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے اس مجمع میں حاضر ہونے اور جس عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا گیا ہے وہ میرے لیے باعثِ استعجاب اور باعثِ فخر ہے۔ مجھ سے خواہش کی گئی یا حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ حضرات کو مخاطب کروں۔ ایک ایسے مجمع کو مخاطب کرنا کہ جہاں نہ صرف پبلک جمع ہو بلکہ جہاں مجھ سے قابل افراد موجود ہوں اپنی نا قابلیت کا اظہار کرنا ہے لیکن اس کی ذمہ دار دراصل کانفرنس ہے۔
    حضرات انسان کائنات ارض پر شرف و بزرگی کی تلاش کرتا ہے ۔ آپ میں سے کون ہے جس نے تلاش نہ کی ہے۔ لیکن تلاش کے ذرائع مختلف ہیں۔ میں نے اس کی تلاش اس مقدس کتاب کی روشنی میں حاصل کی ہے جو تیرہ سو برس سے انسان کے لیے سر چشمہء ہدایت ہے۔ اس کتاب میں مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی چیز آدمی کے لیے باعث عزت ہے تو وہ علم اور صرف علم ہے۔ انسان کو کائنات ارض میں جو افتخار حاصل ہوتا ہے وہ علم ہی کی بدولت ہے۔
    حضرات میرا خیال یہ ہے کہ زندگی کا کوئی پہلو اور مقام ایسا نہیں ہے کہ جہاں پر علم حاصل کرنے کے لیے صحیح طور پر رہبری کی ضرورت نہ ہو۔ اور صحیح رہبری بغیر مطمع نظر کے عمل میں نہیں آسکتی۔ خود روزمرہ کے کام میں ہمیں صحیح رہبری کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً یہ معلوم کر لینا ضروری ہے کہ کونسا موسم زمین پر ہل چلانے کے لیے بہتر ہے اور کس وقت اس کو پانی دینا چاہئیے اور کس قسم کے بیج کس قسم کے درخت پیدا کر سکتے ہیں اور کس بیماری کا علاج کس طرح کیا جاسکتا ہے۔
    آج کل میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک،چھوٹی جماعت میں پڑھنے والے سے لیکر بڑی جماعت میں پڑھنے والے تک آپ پوچھیں کہ اس کے تعلیم پانے کا کیا مقصد ہے ؟ تو آپ اُس سے ایک ہی جواب پائیں گے کہ وہ علم روزگار حاصل کرنے کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
    حیدرآباد میں تعلیم کا مطمع نظر کیا رکھا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جلب منفعت او کسب معیشت وہ سب چیزیں جن کو انسان حاصل کرنا چاہتے ہیں صرف تعلیم ہی کی وجہ سے حاصل کرسکتا ہے لیکن علم کو محض اس لیے حاصل کرنا کہ اس کے ذریعہ چند ٹکّے کمائیں گے۔ کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ علم کا صحیح مطمع نظر کیا ہوسکتا ہے ؟ تعلیم پانے کا بلند مطمع نظر یہ ہے کہ آدمی اس کو صرف کسب معشیت یا جلب منفعت کی بجائے تعلیم کو تعلیم کی غرض حاصل کرے۔
    تعلیم کا صحیح مطمع نظر بھی یہی ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو بری چیزوں سے بچائیں اور بری صحبتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکحنے کی کوشش کریں اور بہتر صحبت حاصل کرنے کی کوشش کریں جس سے ہم اپنے آپ کو اس دنیا میں بہتر ہمسایہ اور بہتر باپ اور بہتر بھائی کہلانے کےمستحق ہوں۔ فی الحقیقت ہمارا کوئی صحیح مطمع نظر ہوسکتا ہت تو یہی ہوسکتا ہے۔ ۔۔۔کہ ہم ان برائیوں سے بچیں جو اس دنیا میں آنے کے بعد بطور ابتلاء کے ہم پر محیط ہوجاتی ہے۔

    (یہ تقریر مکمل دستیاب نہ ہوسکی آخری حصہ ادھورا ہے۔ )

    اقتباس: غیر سیاسی تقریر بہادر یار جنگ مرتبہ نذیرالدین احمد
     
    • زبردست زبردست × 2

اس صفحے کی تشہیر