تذکرہ چند کھیلوں کا!

عبد الرحمن

لائبریرین
آہ !!! کیا زمانہ یاد دلا ڈالا آپ نے
ان کھیلوں میں
اونچ نیچ
آنکھ مچولی
کونا کونا
پہل دوج
کا ذکر ہونا رہ گیا
بڑے دنوں بعد زیارت ہوئی آپ کی مخمور بھائی!

آپ کی تشریف آوری سے دلی خوشی ہوئی۔

خوش رہیے ہمیشہ !

جو کھیل رہ گئے ہیں ان میں سے اونچ نیچ کے علاوہ باقی سب میرے لیے نئے ہیں۔ کوشش کیجے گا ان سب پر روشنی ڈالنے کی۔ :)
 
پالا، کمبل کوٹ وغیرہ بھی ہیں
اور اس کے علاوہ ایک کھیل تھا جس کا نام معلوم نہیں، جس میں سب کھلاڑی اپنی جوتیاں جمع کرتے اور ایک دائرہ کی شکل بنائی جاتی ، دام دینے والا درمیان میں رسی لگا کر چاروں اطراف میں گھومتا اور کھلاڑی اس جگہ سے جوتے کھسکا نے کی کوشش کرتے، کوئی ایک جوتہ بھی نکل جاتا تو اس کے ذریعے دوسرے جوتوں پر وار کرکے مزید جوتے نکالے جاتے، دام والا اس وار کو روکتا۔
 

عبد الرحمن

لائبریرین
گلی ڈنڈا


گلی ڈنڈا
گلی ڈنڈا پنجاب اور برصغیر کے کئی دوسرے علاقوں میں لڑکوں کا کھیل ہے۔ یہ ایک ڈنڈے اور ایک گلی کی مدد سے کھیلا جاتا ہے اور یہ کھلے میدان میں کھیلا جاتا ہے۔ کھلاڑیوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں۔
ڈنڈا کسی بھی جسامت کا ہو سکتا ہے۔ گلی بھی ڈنڈے کا ایک علیحدہ چھوٹا ٹکڑا ہوتا ہے جس کی لمبائی 9 انچ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ گلی کے دونوں سرے تراشے ہوئے اور نوکدار ہوتے ہیں۔
اس کھیل میں گلی کے نوکدار حصے پر ڈنڈے سے مارا جاتا ہے گلی اوپر کو اچھلتی ہے اس اچھلتی ہوئی گلی کو پھر زور سے ڈنڈا مارتے ہیں جس کے نتیجے میں گلی بہت دور چلی جاتی ہے اگر کوئی مخالف کھلاڑی اس گلی کو ہ۔وا میں دبوچ لے یا اسے ایک خاص جگہ پر پھینک دے تو ڈنڈے سے گلی کو مارنے والے لڑکے کی باری چلی جاتی ہے اور اگلے کھلاڑی کی باری آجاتی ہے۔


دُنیا کے ہر ملک میں بے شمار کھیل ایسے بھی کھیلے جاتے ہیں، جو گلی،محلوں تک ہی محدود ہوتے ہیں اور انہیں حکومتی سطح پر کوئی اہمیت نہیں دی جاتی،لیکن ان کھیلوں کا ایک پس منظر ہوتا ہے، گہری وابستگی ہوتی ہے، جن کی وجہ سے یہ عوام میں صدیوں اپنی جڑیں مضبوط رکھتے ہیں ۔ زیادہ تر کھیل بزرگوں کے ایجاد کردہ ہیں، انہوں نے یہ کھیل اپنے بچوں کو سکھائے، ان کے بچوں نے اپنے بچوں کو، اس طرح دیکھا جائے تو یہ کھیل سینہ بہ سینہ آگے بڑھتے رہے اور ان کی مقبولیت آج بھی گائوں، دیہات او رچھوٹے شہروں میں، جہاں لوگ ، آج بھی اپنی تہذیب ، تاریخ سے جڑے ہیں پہلے دن کی طرح قائم و دائم ہے، البتہ شہروں میں لوگ انہیں بُھلا چکے ہیں۔ گلّی محلے کی سطح کے ان کھیلوں میں سے جو کھیل بہت مقبول ہوئے، ان میں پٹھوگرم، وانجو، گلّی ڈنڈا، کبڈی یا کوڈی، پہل دوج، لنگڑی پالا، کھوکھو، گلاشوٹ، وینی پکڑنا اور چھڑانا، اونچ نیچ، پنجہ لڑانا، رسی کودنا، گڑمی نہانا، کِکلی، قیدی قیدی، برف پانی، گھوڑی کھیلنا، دوڑ، پتا چور، نمک چور، کوڑاجمال شاہی نمایاں ہیں۔ گُلّی ڈنڈا یا گِلّی ڈنڈا کو بعض جگہوں پر بہت سے نام دیئے گئے ہیں ، جیسے تھل اور چولستان میں اسے ’’ڈیٹی ڈناں‘‘ یا ’’گبیٹی ڈناں‘‘ کہتے ہیں۔یہ کھیل بھی زمانۂ قدیم سے برصغیر پاک وہند کے گلی کوچوں، محلے محلے میں کھیلا جارہاہے۔ خاص طور پر دیہات میں تو بچوں اور نوجوانون کا پسندیدہ کھیل ماناجاتا ہے۔ البتہ شہری علاقوں میں جب سے فٹ بال، ہاکی او رکرکٹ مقبول ہوئی ، بچے اور نوجوانوں نے اسے دیس نکالا دے دیا۔ گُلّی ڈنڈا بھاگ دوڑ والا دل چسپ ورزشی کھیل ہے۔ اس کے لیے کھلے میدان کا ہونا ضروری ہے۔ کھیل دن کی روشنی میں کھیلا جاتا ہے۔ کھیلنے کے لیے ایک گُلّی اور ایک ڈنڈے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گُلّی لکڑی کے قریباً پانچ چھ انچ کے ایک ٹکڑے پر محیط ہوتی ہے، جس کا قطر دو، تین انچ کے قریب ہوتا ہے۔ گلی کے دونوں سرے تیز دھار تیشے یا دوسری چیز سے تراش کر نوک دار بنالیے جاتے ہیں، جب کہ ڈنڈا قریباً آدھا میٹر لمبا ہوتا ہے اور اس کا قطر ایک سے ڈیڑھ انچ ہوتا ہے۔ کھیل شروع کرنے سے پہلے کھیل کے میدان میں ایک چھوٹا سا نالی نما گڑھا کھودا جاتا ہے جس کی چوڑائی ڈیڑھ انچ اور لمبائی 3 سے 4 انچ ہوتی ہے۔، گڑھا گُلّی کی شکل سے ملتا جلتا ہے، گلی اس یگڑھے پر رکھ کر ڈنڈے کی مدد سے اُچھالی جاتی ہے۔ کھیل میں دویا دو سے زائد کھلاڑی حصّہ لے سکتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے اہل ہونے کا کوئی معیار مقرر نہیں، تاہم مضبوط جسم کا مالک ، زور دار ٹل لگانے او رگلی کو کیچ کرنے والے کھلاڑی کو سب اہمیت دیتے ہیں۔ اگر کھیل ٹیم کی صورت کھیلا جائے تو دونوں ٹیموں میں کھلاڑیوں کی تعداد برابر ہوتی ہے، مثلاً ایک طرف پانچ کھلاڑی ہیں، تو دوسری طرف بھی پانچ ہونے ضروری ہیں۔ ایک ٹیم جب کھیل شروع کرتی ہے تو اس کا پہلاکھلاڑی گُلّی کو گلی نما گڑھے میں رکھ کر ڈنڈے کی مدد سے زور سے اُچھالتا ہے۔ کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ گُلّی اُچھل کر دور جائی تاکہ مخالف کھلاڑی ڈنڈے کا دُرست نشانہ نہ لگاسکیں۔ گُلّی پھینکنے کے بعد گلی نما گڑھے پر ڈنڈا رکھ دیا جاتا ہے اور مخالف کھلاڑی گلی سے ڈنڈے کا نشانہ لے کر اس پر گلی مارتا ہے۔ گلی اگر ڈنڈے پر لگ جائے تو کھلاڑی آئوٹ ہوجاتا ہے او رپھر دو سرے کی باری آتی ہے، لیکن اگر گلی ڈنڈے پر نہ لگے تو پھر پہلی باری لینے والا کھلاڑی ڈنڈے سے ٹل لگا کر گلی کو گڑھے کے مقام سے دور پھینکتا ہے۔ اس کے پاس مارنے کے لیے تین شاٹس یا تین ٹل ہوتے ہیں۔ پہلا دوسرا ٹل ناکام ہوجائے تو تیسرا آخری ہوتا ہے۔یہ بھی نہ لگے تو کھلاڑی آئوٹ ہوجاتاہے اور اگر ٹل لگتے رہیں تو گلی پر ڈنڈا مار کر دور پھینکنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اگر مخالف کھلاڑی ٹل مارنے پر گُلّی کو کیچ کرلیں تو تب بھی کھلاڑی آئوٹ قرار پاتا ہے اور پھر دوسرا باری لیتا ہے۔ ٹل لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ کھلاڑی ڈنڈے کی مدد سے گُلّی کے نوک دار سرے پر ہلکی سی ضرب لگاتا ہے، جس سے گلی ہوا میں اُچھلتی ہے۔اب وہ کھلاڑی بڑی تیزی سے ہوا میں اُڑتی گلی کو زور سے ضرب لگا کر دور پھینکتا ہے۔گلی کتنی دور جاکر گرتی ہے، اس کا انحصار کھلاڑی کے بازوئوں کی طاقت اورلگائی گئی ضرب پر ہوتا ہے، جتنی مہارت اور قوت سے ضرب لگائی جائے، گلی اس قدر دور جاکر گرتی ہے۔ گائوں دیہات میں یہ ایک مقبول کھیل ہے اور بہت سے گائوں دیہات میں گلی ڈنڈا کلب بن گئے ہیں، جن کے دوسری ٹیموں سے مقابلے ہوتے ہیں۔ اس کھیل سے جسم مضبوط ہوتا ہے اور کھلاڑی چاق چوبند رہتا ہے،کیوں کہ کھلے میدان میں بھاگ دوڑ سے ایک طرح کی ورزش ہوتی ہے۔ یہ مسرت و شادمانی کا کھیل ہے، تمام کھلاڑی کھیل سے لُطف اٹھاتے ہیں، آپس میں ہلّاگلّاہوتا ہے اور سب دلی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ -
272.jpg
بہت اعلیٰ شراکت خالد بھائی!

بہت داد قبول فرمایے! (y):)
 
پنجاب کے دیہات میں کھیلا جانے والا مشہورترین کھیل "باندر کِلا" تو بھول گئے آپ لوگ

باندر کِلا کا نام تو پہلی بار سنا ہے فراز بھائی! جب فرصت ہو اس کا تعارف ضرور پیش کیجے گا۔

اور اس کے علاوہ ایک کھیل تھا جس کا نام معلوم نہیں، جس میں سب کھلاڑی اپنی جوتیاں جمع کرتے اور ایک دائرہ کی شکل بنائی جاتی ، دام دینے والا درمیان میں رسی لگا کر چاروں اطراف میں گھومتا اور کھلاڑی اس جگہ سے جوتے کھسکا نے کی کوشش کرتے، کوئی ایک جوتہ بھی نکل جاتا تو اس کے ذریعے دوسرے جوتوں پر وار کرکے مزید جوتے نکالے جاتے، دام والا اس وار کو روکتا۔
باندر کلا
407323-Namak-Mirchi-Club-Of-Pakwheels--------576324-238245326275080-139976392768641-342569-75737165-n.jpg
 

عبد الرحمن

لائبریرین
دل میں بھی پارٹیشن کردی ہے کیا؟ ادھربھی ایوان وسینٹ! :)
:):):)
بھنڈا کرنےجب نکلے ہوگے توقلفی شریف بن گئےہوگئے نہ!:D
ارے بھیا جیکٹ جرابیں وغیرہ سب پہن کر نکلتے تھے۔ :)
مجھ جھٹ نے تونام ہی پہلی دفعہ سنا:angel3:
پڑھ کراتنا مشکل لگ رہاہے،پریکٹیکل میں کتنا درد سرہوگا!:confused2:
ایسا نہیں کہتے برادرم! آپ تو بہت قیمتی ہیں ہمارے لیے۔ :bighug:
چلیں کبھی کھیلیں گے آپ کے ساتھ ایپل ایپل۔ :)
نسخہ کچھ خطرناک تجویز نہیں کیا؟:grin1:
ادھر کھیل کم اورتماشہ زیادہ ملےگا!:filmstrip:
اس سے بہتر کوئی نسخہ ملا نہیں نا!:sad:
 
گھوڑی کچی یا پکی ۔۔یا ۔۔۔ گھوڑی گھوڑی۔۔ یا ۔۔۔لمبی گھوڑی
یہ عموماً دیہات میں کھیلا جاتا تھا۔ ویسے یہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں کھیلا جاتا ہے
 

عبد الرحمن

لائبریرین
پالا، کمبل کوٹ وغیرہ بھی ہیں
اور اس کے علاوہ ایک کھیل تھا جس کا نام معلوم نہیں، جس میں سب کھلاڑی اپنی جوتیاں جمع کرتے اور ایک دائرہ کی شکل بنائی جاتی ، دام دینے والا درمیان میں رسی لگا کر چاروں اطراف میں گھومتا اور کھلاڑی اس جگہ سے جوتے کھسکا نے کی کوشش کرتے، کوئی ایک جوتہ بھی نکل جاتا تو اس کے ذریعے دوسرے جوتوں پر وار کرکے مزید جوتے نکالے جاتے، دام والا اس وار کو روکتا۔
پالا بھی کھیلا ہے۔ لیکن اب بالکل یاد نہیں کیسے کھیلتے تھے۔

جوتیوں والا کھیل بھی ایک دو مرتبہ کھیلا ہے۔ میرے خیال میں کافی رف گیم ہے یہ۔ :)
 
ارے بھیا جیکٹ جرابیں وغیرہ سب پہن کر نکلتے تھے۔ :)
مطبل فلو پوجی سسٹم تھا۔!:)
چلیں کبھی کھیلیں گے آپ کے ساتھ ایپل ایپل۔ :)
ضرور محترم! ہمیں بھی اس دن کا شدت سے انتظاررہے گا۔!
بس بچوں کی ہنسی برداشت کرنی پڑے گی!:D
اپیل فون اپیل مت کھیلانا ورنہ نقصان ہوجائےگا:laughing:
اس سے بہتر کوئی نسخہ ملا نہیں نا!:sad:
:hatoff: ویسے اتنا برا بھی نہیں! کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا توبہترہے۔
 

عبد الرحمن

لائبریرین
جوتیوں والا کھیل بھی ایک دو مرتبہ کھیلا ہے۔ میرے خیال میں کافی رف گیم ہے یہ۔ :)
ہم نے کھیلا نہیں لیکن اس قسم کا کھیل کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھا ضرور ہے ، نام کا پتا نہیں تھا۔
جب سارے جوتے نکل جاتے ہیں تو انھی سے دام دینے والے کی پٹائی بھی ہوتی ہے
clear.png
 
پالا بھی کھیلا ہے۔ لیکن اب بالکل یاد نہیں کیسے کھیلتے تھے
زمین پردولکیریں سیدھی کھینچی جاتی آخر تک،اور دو دو لکیریں کچھ کچھ فاصلے سے چوڑائی میں کھینچی جاتی تھیں،جو لمبی لکیر کو آر پار کرتی تھی،یہ چوڑی لکیریں جتنے ساتھی ہوتے اتنی ہی ہوتی، جس ٹیم کی باری ہوتی وہ چوڑی لکیروں کے مابین برجمان ہوجاتے اور دوسرے باہر درمیان میں لمبی لکیر میں ایک بندہ کھڑا ہوکر باہر کی ٹیم سے تالی مار کرکھیل کا آغاز کرتا۔۔۔۔۔۔۔باہر والی ٹیم اندر کے لوگوں کو چکما دے کر پھاٹک کوپارکرتےجاتے اور جب آخری بندہ بھی نکل جاتا تب جاکر پالا بنتا ہے۔
درمیان والے پولیس مین کو پورااختیار ہوتا ہے کہ وہ پورے میدان میں مٹرگشت کرتارہے جو گڑبڑکرےاس کوہاتھ لگا کرباہر کردے۔
 
زمین پردولکیریں سیدھی کھینچی جاتی آخر تک،اور دو دو لکیریں کچھ کچھ فاصلے سے چوڑائی میں کھینچی جاتی تھیں،جو لمبی لکیر کو آر پار کرتی تھی،یہ چوڑی لکیریں جتنے ساتھی ہوتے اتنی ہی ہوتی، جس ٹیم کی باری ہوتی وہ چوڑی لکیروں کے مابین برجمان ہوجاتے اور دوسرے باہر درمیان میں لمبی لکیر میں ایک بندہ کھڑا ہوکر باہر کی ٹیم سے تالی مار کرکھیل کا آغاز کرتا۔۔۔۔۔۔۔باہر والی ٹیم اندر کے لوگوں کو چکما دے کر پھاٹک کوپارکرتےجاتے اور جب آخری بندہ بھی نکل جاتا تب جاکر پالا بنتا ہے۔
درمیان والے پولیس مین کو پورااختیار ہوتا ہے کہ وہ پورے میدان میں مٹرگشت کرتارہے جو گڑبڑکرےاس کوہاتھ لگا کرباہر کردے۔
ہمارے ہاں اسے 'چرہ' کہا جاتا تھا
 
میں ایک ویڈیو ڈھونڈ رہا ہوں جس میں کسی یورپی ملک کے لڑکے لڑکیاں یہ گیم کھیل رہے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ جا کر کھیلیے گا
مل جائے تو شیئرکیجیے گا، شدت سے انتظاررہے گا۔
رہی ان کے ساتھ کھیلنے کی تواس کے لیے ویزہ بھی ڈھونڈنا پڑےگا! :)
ہمارے ہاں اسے 'چرہ' کہا جاتا تھا
زبردست ہمارے علم میں بھی اضافہ ہوا۔:thumbsup4:
 
Top