تجارت اور فکر آخرت

محمد اجمل خان نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 3, 2020

  1. محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان محفلین

    مراسلے:
    185
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    تجارت اور فکر آخرت

    کل رات فٹ پاتھ پر ایک شخص ٹوپی، تسبیح اور مسواک بیچ رہا تھا ۔
    میں نے اس سے ایک ٹوپی اور ایک تسبیح خریدا۔
    وائف بھی ساتھ تهیں، انہوں نے مسواک کی فرمائش کر دیں۔
    میں نے کہا : بھائی ایک مسواک بهی دے دو۔
    کہنے لگا : مسواک تو اچهے نہیں رہے۔
    پھراس نے ایک مسواک نکال کر دیا لیکن مسواک کی قیمت لینے سے انکار کرنے لگا۔

    اور میں سوچنے لگا کہ یہ تو دنیا کا امیر ترین شخص ہے جس کی کل سامانِ تجارت بس درجن بهر ٹوپی، تسبیح اور چند مسواک ہیں جس کی مالیت بمشکل ہزار دو ہزار روپے ہوگی لیکن دل اتنا بڑا ہے کہ جو مسواک اچھے نہیں وہ اس کی قیمت لینے کو تیار نہیں، دوسری طرف کڑوڑوں کی تجارت کرنے والے وہ تنگ دل تاجر ہیں جو مال کی ہوس میں ہر سڑا گلا مال کو اچھا کہہ کر بیچنے سے گریز نہیں کرتے، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور ہر طرح کی بددیانتی و بے ایمانی کرتے ہیں، جهوٹ پر جهوٹ بول کر حرام مال کماتے ہیں اور جمع کر کرکے رکھتے ہیں لیکن اس مال کی کثرت کے باوجود ان کا رزق اور دل دونوں ہی تنگ رہتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب اسی مال بنانے کی فکر و ہوس اور تنگ دلی کے ساتھ وہ تنگ و تاریک قبروں میں جا پہنچتے ہیں:

    أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2) سورة التكاثر
    ’’تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے) غافل کر رکھا ہے(1) یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم قبروں میں جا پہنچتے ہو (2)‘۔ ۔سورة التكاثر
    اور نبی اکرم ﷺ نے ایسے تاجروں کے انجام کے بارے میں فرمایا:
    ’’قیامت کے روز الله تعالٰی نہ ان (تاجروں) سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ کا عذاب ہوگا کیونکہ وہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے کاروبار کو فروغ دینے ہیں‘‘۔ (صحیح مسلم حدیث:293)

    افسوس کہ اتنی سخت وعید کے باوجود آج مسلمان تاجروں کی اکثریت جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ہی تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔ لیکن اللہ کی اس دنیا میں ایسے مسلمان تاجروں کی بھی کمی نہیں جو اپنی غربت یا امارت اور سرمائے کی کمی یا زیادتی کے باوجود خوفِ الٰہی سے معمور کشادہ دلی کے ساتھ (اللہ خیرالرازقین) سب سے بہتر رزق دینے والے اللہ پر توکل کرتے ہوئے صاف سُتھری تجارت کرتے ہیں۔ ناکارہ، گلا سڑا یا ملاوٹ شدہ مال کو اچھا مال کہہ کر نہیں بیچتے۔ تجارت میں جھوٹ، دھوکا اور فریب سے کام نہیں لیتے۔ ذخیرہ اندوزی سے قیمتوں میں ناجائز اضافے، بددیانتی، بے ایمانی اور حرام سے اپنی تجارت کو پاک رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اپنی خون پسینہ کی حلال کمائی میں سے حقداروں کا حق بھی ادا کرتے رہتے ہیں یعنی صدقات و خیرات اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ ایسے تاجروں کا نہ ہی رزق تنگ ہوتا ہے اور نہ ان کے دلوں میں کوئی تنگی آتی ہے۔

    جب یہ لوگ کسی کو دھوکا نہیں دیتے تو تجارت بھی انہیں دھوکے میں نہیں ڈالتی۔ ان کی نگاہیں ہر وقت اللہ کی رحمت پر لگی رہتی ہے۔ وہ تجارت سے زیادہ اپنی اخروی نجات کی فکر کرتے ہیں۔ اس لئے وہ حقوق اللہ کو تجارت پر فوقیت دیتے ہیں۔ جوں ہی اللہ کے حقوق کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو وہ تجارت کو چھوڑ کر پہلے اسے ادا کرتے ہیں۔

    یہی اوصاف تجار صاحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تھے، یہی اوصاف مسلمان تاجروں کے ہونی چاہئے، جسے اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے:

    رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّ۔هِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ (٣٧) لِيَجْزِيَهُمُ اللَّ۔هُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّ۔هُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (٣٨)سورة النور
    ’’وہ مرد جنہیں کوئی تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے، نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی (کیونکہ) وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور نگاہیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ (37) تاکہ اللہ ان کو ان کے بہترین اعمال کی بہترین جزا دے گا اور اپنے فضل سے مزید نوازے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے اسے بے حساب رزق عطا کرتا ہے (38)‘‘ سورة النور

    اللہ تعالٰی ایسے تاجروں کی رزق میں برکت ڈال دیتا ہے اور ان کا دل کشادہ کر دیتا ہے۔ ایسے تاجرغریب ہوں یا امیر لیکن ہر صورت میں دل کے امیر ہوتے ہیں۔ ان کا دل فراخ اور کشادہ ہوتا ہے اور ان شاء اللہ ان کی قبریں بھی فراخ اور کشادہ ہوں گی اور آخرت میں اللہ ان کو ان کے بہترین اعمال کی بہترین جزا دے گا اور اپنے فضل سے مزید نوازے گا۔

    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ’’ مسلمان صادق اور امین تاجر (کا حشر) قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا‘‘۔ (سلسله احاديث صحيحه: 1139)

    لیکن آخرت کی اس بہترین کامیابی کیلئے ہمیں اپنی تجارت کو قرآن و سنت کی روشنی میں بتائے گئے اصول و ضوابط کے مطابق انجام دینا ہوں گے جس کیلئے ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کی ان اصول کو سیکھیں، سمجھے اور ان کو اپنی تجارت میں لاگو (IMPLEMENT) کریں۔ آئیے اپنی تجارت کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا ہماری تجارت، دکانیں اور اقتصادی سرگرمیاں اسلامی اصول کے مطابق ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو اپنی آخرت کی فکر کرتے ہوئے انہیں درست کریں، جس کا آج وقت ہے، آنکھیں بند ہوتے ہی یہ وقت ختم ہو جائے گا۔

    آج جو لوگ حلال حرام کی پرواہ کئے بغیر صرف مال بنانے اور مال جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں، کاش! وہ اللہ تعالٰی کی وعید کو سمجھتے:

    أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2) سورة التكاثر
    ’’تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے) غافل کر رکھا ہے(1) یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم قبروں میں جا پہنچتے ہو (2)‘۔ ۔سورة التكاثر

    بس آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے ’’یقیناً، تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا (3) پھر (سن لو کہ) یقیناً، تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا (4) ہاں ہاں! اگر تم یقینی جاننا جانتے (تو ہرگز حرام مال کی ہوس نہ رکھتے) (5) تم ضرور دوزخ دیکھ کر رہو گے (6) پھر (سن لو کہ) ضرور یقین کی آنکھ سے اسے (دوزخ کو) دیکھو گے(7) پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (8)‘‘ سورة التكاثر

    اللہ تعالٰی ہمیں ایسے برے انجام سے محفوظ رکھے اور اپنی خاص رحمت سے ہمیں، ہماری ذریت اور تمام مسلمان تاجروں کو سچائی اور امانتدار کے ساتھ تجارت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں ہمیں انبیا‘ صدیقین اور شہداء میں شامل فرمائے۔ آمین
    تحریر : محمد_اجمل_خان
    ۔
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر