بشیر بدر تتلیوں‌ کا مجھے ٹوٹا ہوا پر لگتا ہے

تتلیوں‌کا مجھے ٹوٹا ہوا پر لگتا ہے
دل پہ وہ نام بھی لکھتے ہوئےڈر لگتا ہے

رات آئی تو ستاروں بھری چادر تانی
خوبصورت مجھے سورج کا سفر لگتا ہے

یہ بھی سوتے ہوئے بچے کی طرح ہنستا ہے
آگ میں ‌پھول فرشتوں‌کا ہنر لگتا ہے

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمین
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں‌ سر لگتا ہے

میں تیرے ساتھ ستاروں سے بھی گذر سکتا ہوں
کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے
 
Top